Connect with us

تجزیہ

اسلام اور تلوار کا بیانیہ: حقیقت یا مفروضہ

Published

on

شمس آغاز

اسلام کی تاریخ کے حوالے سے سب سے زیادہ دہرایا جانے والا اور متنازعہ دعویٰ یہ ہے کہ اسلام ’’تلوار کے زور پر پھیلا‘‘۔ یہ جملہ محض ایک تاریخی بیان نہیں بلکہ ایک بیانیہ ہے جسے مختلف ادوار میں مختلف سیاسی، فکری اور تہذیبی مقاصد کے تحت استعمال کیا گیا۔ اس تصور کی سچائی جانچنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم تاریخ کو سادہ نعروں کے بجائے پیچیدہ سماجی، سیاسی اور ثقافتی عمل کے طور پر دیکھیں۔ مذہب کا پھیلاؤ کبھی بھی ایک واحد سبب سے نہیں ہوتا، بلکہ متعدد عوامل مل کر اس عمل کو تشکیل دیتے ہیں۔

ابتدائی اسلامی دور میں عرب معاشرہ قبائلی ساخت رکھتا تھا جہاں سیاسی طاقت اور مذہبی شناخت اکثر ایک دوسرے سے جڑی ہوتی تھی۔ اسلام کے ظہور کے بعد عرب میں سیاسی اتحاد پیدا ہوا جس کے نتیجے میں ریاستی توسیع ہوئی۔ یہ توسیع فوجی فتوحات کے ذریعے بھی ہوئی، جیسا کہ اس دور کی دیگر سلطنتوں  بازنطینی اور ساسانی میں ہوتا تھا۔ تاہم فتوحات کو براہ راست مذہبی جبر کے مترادف قرار دینا تاریخی لحاظ سے درست نہیں، کیونکہ سیاسی اقتدار کا قیام اور مذہبی تبدیلی دو مختلف عمل ہوتے ہیں۔

تاریخی شواہد بتاتے ہیں کہ شام، مصر اور عراق جیسے علاقوں میں مسلم حکومت قائم ہونے کے بعد بھی صدیوں تک بڑی غیر مسلم آبادی موجود رہی۔ اگر جبری تبدیلی مذہب عمومی پالیسی ہوتی تو چند دہائیوں میں مذہبی نقشہ مکمل طور پر بدل جانا چاہیے تھا، جو کہ نہیں ہوا۔ مصر میں عیسائی آبادی صدیوں تک اکثریت میں رہی، اسی طرح شام اور عراق میں بھی مذہبی تنوع برقرار رہا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام کی قبولیت ایک تدریجی سماجی عمل تھا۔

اسلام کے پھیلاؤ میں تجارت نے انتہائی اہم کردار ادا کیا۔ عرب اور بعد میں مسلم تاجر افریقہ کے ساحلی علاقوں، وسطی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا تک پہنچے۔ انڈونیشیا، جو آج دنیا کی سب سے بڑی مسلم آبادی رکھتا ہے، وہاں اسلام کسی بڑی فوجی فتح کے ذریعے نہیں بلکہ تاجروں اور صوفیا کے ذریعے پھیلا۔ یہی صورت حال ملائیشیا اور مشرقی افریقہ کے کئی علاقوں میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ تاجروں کی دیانت داری، معاہداتی اخلاقیات اور سماجی تعلقات نے اسلام کو ایک قابلِ قبول متبادل کے طور پر پیش کیا۔

برصغیر میں اسلام کے پھیلاؤ کو سمجھنے کے لیے صوفی تحریک کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ صوفیاء نے مقامی زبانوں میں گفتگو کی، مذہب کو سخت قانونی ڈھانچے کے بجائے روحانی تجربے کے طور پر پیش کیا اور سماجی مساوات کا تصور دیا۔ ذات پات کے سخت نظام میں یہ پیغام بہت سے لوگوں کے لیے کشش رکھتا تھا۔ خانقاہیں صرف مذہبی مراکز نہیں تھیں بلکہ وہ سماجی بہبود، تعلیم و تربیت، روحانی رہنمائی اور ثقافتی تبادلے کے فعال مراکز بھی تھیں، جہاں ہر طبقے، نسل اور پیشے سے تعلق رکھنے والے افراد کو یکساں اہمیت دی جاتی تھی۔ صوفیاء کے اخلاق، محبت، خدمتِ خلق، برداشت اور انسان دوستی پر مبنی طرزِ عمل نے لوگوں کے دل جیتے اور اسلام کو ایک نرم، جامع اور انسان دوست دین کے طور پر متعارف کروایا۔ اس طرح اسلام کا پھیلاؤ ایک تدریجی، پرامن اور معاشرتی تعامل کے ذریعے ممکن ہوا۔

اسلامی فکر میں مذہبی آزادی کا اصول بھی اہم ہے۔ قرآن کی آیت “لا اکراہ فی الدین” کو اکثر علماء اس بات کی دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں کہ ایمان کا تعلق ذاتی یقین سے ہے نہ کہ جبر سے۔ تاریخی طور پر مختلف مسلم ریاستوں میں غیر مسلموں کو اپنے مذہب پر عمل کی اجازت دی گئی، اگرچہ ان کی قانونی و سماجی حیثیت ایک الگ بحث کا موضوع ہے۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مذہبی تبدیلی کو ریاستی جبر کی مستقل پالیسی کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔

استعماری دور میں اسلام تلوار سے پھیلا کا بیانیہ زیادہ مضبوط ہوا۔ یورپی استعماری طاقتوں نے اسے مسلم معاشروں کو جنگجو یا توسیع پسندثابت کرنے کے لیے استعمال کیا۔ اس بیانیے نے علمی مباحث کو بھی متاثر کیا۔ تاہم بیسویں صدی کے بعد کی تحقیق خاص طور پر سماجی تاریخ نے اس تصور کو چیلنج کیا اور دکھایا کہ مذہب کی قبولیت زیادہ تر سماجی نیٹ ورکس، معاشی مواقع اور ثقافتی میل جول کے ذریعے ہوتی ہے۔

مذہبی تبدیلی کے نفسیاتی اور سماجی پہلو بھی اہم ہیں۔ لوگ عموماً اس مذہب کو قبول کرتے ہیں جو انہیں شناخت، برابری، تحفظ یا روحانی معنی فراہم کرے۔ اسلام نے کئی معاشروں میں مساوات، خیرات کے نظام، برادری کے تصور اور اخلاقی ضابطے کے ذریعے یہ احساس فراہم کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام وہاں بھی پھیلا جہاں مسلم سیاسی طاقت موجود نہیں تھی یا ختم ہو گئی تھی۔

مثال کے طور پر وسطی ایشیا میں منگول دور کے بعد اسلام مضبوط ہوا، حالانکہ ابتدائی منگول حکمران مسلمان نہیں تھے۔ اسی طرح افریقہ کے کئی علاقوں میں مقامی حکمرانوں اور تاجروں کے ذریعے اسلام پھیلا۔ یہ مثالیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ مذہب کا پھیلاؤ طاقت کے بجائے سماجی عمل سے زیادہ وابستہ ہوتا ہے۔

یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ “تلوار” کا استعارہ اکثر علامتی طور پر استعمال ہوتا ہے۔ بعض اوقات اس سے مراد سیاسی طاقت، ریاستی سرپرستی یا سماجی فائدے ہوتے ہیں، نہ کہ براہ راست جبر۔ جب کوئی مذہب ریاستی سطح پر نمایاں ہوتا ہے تو اس کے ماننے والوں کو معاشی یا انتظامی مواقع مل سکتے ہیں، جو بالواسطہ مذہبی تبدیلی کو متاثر کرتے ہیں۔ لیکن اسے جبری تبدیلی کہنا سادہ کاری ہے۔

جدید دور میں اس بحث کی اہمیت اس لیے بھی ہے کیونکہ مذہب اور تشدد کے تعلق کو سیاسی مباحث میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اگر تاریخ کو یک رخا انداز میں پیش کیا جائے تو وہ تعصب کو تقویت دے سکتی ہے۔ ایک متوازن تاریخی نقطۂ نظر نہ صرف علمی طور پر درست ہے بلکہ سماجی ہم آہنگی کے لیے بھی ضروری ہے۔

یہ کہا جا سکتا ہے کہ اسلام کے پھیلاؤ کو صرف تلوار کے تصور سے جوڑنا تاریخی حقیقت کی پیچیدگی کو نظر انداز کرنا ہے۔ فتوحات ایک عنصر ضرور تھیں، لیکن دعوت، تجارت، صوفی تحریک، سماجی انصاف، ثقافتی تعامل اور مقامی حالات زیادہ اہم اور دیرپا عوامل ثابت ہوئے۔ مذہب کی قبولیت ایک تدریجی عمل ہے جو دل، ذہن اور معاشرتی تجربے سے جڑا ہوتا ہے۔

اس لیے ’’اسلام تلوار کے زور سے پھیلا‘‘ کا عمومی دعویٰ ایک سادہ مفروضہ ہے، جبکہ تاریخی شواہد ایک زیادہ متوازن، جامع اور پیچیدہ تصویر پیش کرتے ہیں۔ علمی دیانت، تحقیقی روشنی اور حقیقت پسندی کا تقاضا یہی ہے کہ ہم تاریخ کو نعروں، عمومی رائے یا سطحی تاثرات کے بجائے مفصل شواہد، مختلف تناظر، سماجی و ثقافتی عوامل، اقتصادی حالات اور مقامی تنوع کے ساتھ سمجھیں۔ اس طرح ہم محض کسی ایک پہلو پر انحصار کیے بغیر، تاریخ کے حقیقی اور گہرے عمل کو دیکھ سکتے ہیں، جس میں انسانی رویوں، معاشرتی تعلقات، تجارتی روابط، سیاسی حالات اور مذہبی اثرات سب ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ اس طرح کا علمی نقطہ نظر نہ صرف تاریخی درستگی کو یقینی بناتا ہے بلکہ مختلف تہذیبوں اور معاشروں کی پیچیدگی کو بھی اجاگر کرتا ہے، اور ہمیں ماضی کے بارے میں زیادہ متوازن اور معتبر فہم فراہم کرتا ہے۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

تازہ ترین

یاسین ملک کی مشکلات میں مزید اضافہ، 36 سال پرانے سرلا بھٹ قتل کیس میں نئی چارج شیٹ

Published

on

جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ، یعنی جے کے ایل ایف، کے چیئرمین یاسین ملک کی مشکلات کم ہونے کا نام نہیں لے رہیں۔ ایک طرف وہ پہلے ہی نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں دہشت گردی کی مالی معاونت اور علیحدگی پسند سرگرمیوں سے متعلق مقدمے میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں، تو دوسری جانب اب 36 سال پرانے کشمیری پنڈت نرس سرلا بھٹ قتل کیس میں بھی ان کے خلاف ایک نئی چارج شیٹ داخل کر دی گئی ہے۔

جموں و کشمیر پولیس کی اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی، یعنی ایس آئی اے، نے 737 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ عدالت میں پیش کرتے ہوئے یاسین ملک سمیت پانچ افراد کو سرلا بھٹ کے اغوا، تشدد اور قتل کی سازش میں ملوث قرار دیا ہے۔ ایس آئی اے کا دعویٰ ہے کہ اس کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ سرلا بھٹ کا قتل کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں تھا بلکہ یہ جے کے ایل ایف کی قیادت میں انجام دی گئی ایک منظم دہشت گردانہ سازش کا حصہ تھا۔

تحقیقات کے مطابق سرلا بھٹ، جو اس وقت شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، یعنی سکمز میں بطور نرس خدمات انجام دے رہی تھیں، 18 اپریل 1990 کو مبینہ طور پر اسپتال سے اغوا کی گئیں۔ ایس آئی اے کے مطابق انہیں سری نگر کے مالباغ اور عمر کالونی کے علاقے میں لے جایا گیا، جہاں ان پر مبینہ طور پر شدید جسمانی تشدد کیا گیا اور بعد ازاں خودکار ہتھیاروں سے گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا۔ ان کی لاش پانچ روز بعد برآمد ہوئی، جس کے ساتھ ایک پرچی بھی ملی تھی جس میں انہیں مبینہ طور پر “مخبر” قرار دیا گیا تھا۔

چارج شیٹ میں یاسین ملک کے علاوہ خورشید احمد چلو، عبد الحمید شیخ، محمد یوسف صوفی عرف ادریس اور غلام محمد ٹپلو کے نام بھی شامل کیے گئے ہیں۔ ان میں سے تین افراد عبد الحمید شیخ، محمد یوسف صوفی اور غلام محمد ٹپلو کی وفات ہو چکی ہے، جبکہ خورشید احمد چلو مفرور ہے اور ایس آئی اے کے مطابق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں موجود ہے۔ ایجنسی نے اس کے خلاف قانونی کارروائی اور اشتہاری کارروائی بھی شروع کر دی ہے۔

ایس آئی اے نے اس مقدمے میں اغوا، قتل، مجرمانہ سازش، شواہد مٹانے، ٹاڈا ایکٹ اور آرمز ایکٹ سمیت مختلف دفعات کے تحت الزامات عائد کیے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس چارج شیٹ میں زبانی، دستاویزی، فرانزک، بیلسٹک، طبی اور الیکٹرانک شواہد شامل کیے گئے ہیں، جنہیں کئی دہائیوں پر محیط تحقیقات کے بعد مرتب کیا گیا ہے۔

جموں و کشمیر پولیس نے اس پیش رفت کو دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں ایک تاریخی سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ چارج شیٹ اس بات کا واضح پیغام ہے کہ دہشت گردی سے متعلق جرائم میں وقت گزر جانا کسی بھی ملزم کے لیے قانونی تحفظ نہیں بن سکتا۔ پولیس کے مطابق چاہے کئی دہائیاں ہی کیوں نہ گزر جائیں، ایسے جرائم کے ذمہ دار افراد کو قانون کے کٹہرے میں لانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔

سرلا بھٹ اس وقت صرف 27 برس کی تھیں اور ان چند کشمیری پنڈت خاندانوں میں شامل تھیں جنہوں نے 1990 میں عسکریت پسندی کے آغاز کے باوجود وادی کشمیر نہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ان کا قتل بعد میں کشمیر میں دہشت گردی کے ابتدائی اور نمایاں واقعات میں شمار کیا گیا۔

یاسین ملک اس وقت بھی کئی دیگر اہم مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ مئی 2022 میں این آئی اے کی خصوصی عدالت نے انہیں دہشت گردی کی مالی معاونت، حکومت ہند کے خلاف سازش اور دیگر الزامات میں مجرم قرار دیتے ہوئے دو مرتبہ عمر قید اور متعدد دیگر سزائیں سنائی تھیں۔ وہ 2019 سے تہاڑ جیل میں بند ہیں، جبکہ این آئی اے دہلی ہائی کورٹ میں ان کی سزا کو سزائے موت میں تبدیل کرنے کی اپیل بھی کر چکی ہے، جس پر کارروائی جاری ہے۔

اس کے علاوہ یاسین ملک 1989 میں اس وقت کے مرکزی وزیر داخلہ مفتی محمد سعید کی صاحبزادی روبیہ سعید کے اغوا کے مقدمے اور 1990 میں بھارتی فضائیہ کے اہلکاروں پر حملے کے مقدمے میں بھی بطور ملزم نامزد ہیں۔

سرلا بھٹ قتل کیس میں 36 برس بعد دائر ہونے والی یہ چارج شیٹ ایک ایسے مقدمے میں اہم پیش رفت تصور کی جا رہی ہے جو طویل عرصے سے انصاف کا منتظر تھا۔ اب تمام نظریں عدالت پر ہیں، جہاں اس مقدمے میں پیش کیے گئے شواہد اور دلائل کی بنیاد پر آئندہ قانونی کارروائی آگے بڑھے گی۔

Continue Reading

تجزیہ

یورپ میں ریکارڈ توڑ گرمی کی لہر: اسباب، تباہ کاریاں اور مستقبل کا لائحہ عمل

Published

on

خصوصی مضمون: ظفر اقبال

اکیسویں صدی میں کرہ ارض کو درپیش سب سے بڑا اور سنگین ترین چیلنج ‘موسمیاتی تبدیلی’ (کلائمیٹ چینج) اور ‘عالمی حدت’ (گلوبل وارمنگ) ہے حالیہ برسوں میں اس کے اثرات محض سائنسی رپورٹس اور کانفرنسوں تک محدود نہیں رہے بلکہ اب یہ انسانی زندگیوں، معیشتوں اور ماحولیاتی نظاموں پر براہِ راست اثر انداز ہو رہے ہیں اس کی تازہ ترین اور ہولناک ترین مثال یورپ میں آنے والی حالیہ شدید ترین ہیٹ ویو ہے، جس نے ماضی کے تمام ریکارڈز کو توڑ دیے ہیں۔ جرمنی، اٹلی، فرانس، ڈنمارک اور سلوواکیہ جیسے ممالک، جو تاریخی طور پر معتدل یا سرد موسم کے لیے جانے جاتے تھے، اس وقت تپتے ہوئے صحراؤں کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ درجہ حرارت چالیس ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر جانا اور رات کے وقت بھی گرمی کی شدت برقرار رہنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ زمین کا موسمیاتی نظام مکمل طور پر بگڑ چکا ہے۔

مغربی یورپ سے شروع ہونے والا یہ شدید موسمی نظام اب مشرق کی طرف پھیل چکا ہے اور اس کی شدت میں روزبروز اضافہ ہو رہا ہے۔ مختلف یورپی ممالک میں اس ہیٹ ویو نے جو تباہی مچائی ہے، اس کی تفصیلات درج ذیل ہیں: جرمنی، جو اپنی صنعتی ترقی اور بہترین انفراسٹرکچر کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے، اس وقت شدید موسمی حالات کا سامنا کر رہا ہے۔

جرمن قومی موسمیاتی سروس (ڈی ڈبلیو ڈی) کے مطابق ملک بھر میں اوسط درجہ حرارت 36ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ چکا ہے جبکہ کئی مقامات پر اس کے 42ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کے قوی امکانات ہیں۔

فرانس کی سرحد کے قریب واقع شہر ساربروکن میں درجہ حرارت 41.3 سینٹی گریڈ تک ریکارڈ کیا گیا، جو جرمنی کی تاریخ کے گرم ترین درجہ حرارت کے بالکل قریب ہے۔ جرمن حکام نے تقریباً پورے ملک کے لیے شدید گرمی کی ریڈ وارننگ جاری کی ہے۔ شہروں میں پانی کی کھپت میں بے پناہ اضافے کے باعث عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ پانی بچائیں تاکہ پانی کی فراہمی کا نظام مفلوج نہ ہو۔

اٹلی بھی اس ہیٹ ویو کی زد میں بری طرح آچکا ہے۔ روم، میلان اور فلورنس جیسے تاریخی شہروں میں درجہ حرارت مسلسل 40ڈگری سینٹی گریڈسے اوپر برقرار ہے۔ سیاحوں اور مقامی آبادی کے لیے گھروں سے نکلنا محال ہو چکا ہے اور ہسپتالوں میں ہیٹ اسٹروک کے مریضوں کا تانتا بندھ گیا ہے۔

اس ہیٹ ویو کی سب سے حیران کن اور تشویشناک بات یہ ہے کہ اس نے اسکینڈینیوین ممالک (Scandinavia) کو بھی نہیں بخشا۔ ڈنمارک کے موسمیاتی ادارے کے مطابق اوڈینس (Odense) کے شمالی علاقے میں درجہ حرارت 36.6 سینٹی گریڈریکارڈ کیا گیا۔ 1874ء میں جب سے ڈنمارک میں موسم کا باقاعدہ ریکارڈ رکھنا شروع کیا گیا ہے، گزشتہ 150 سے زائد سالوں میں یہ وہاں کا گرم ترین دن ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ گرمی کی لہریں اب قطب شمالی کے قریبی علاقوں تک کا رخ کر رہی ہیں۔

فرانس اس ہیٹ ویو کا ابتدائی ہدف بنا جہاں درجہ حرارت 40ڈگری سینٹی گریڈسے تجاوز کرنے کے باعث درجنوں افراد، بالخصوص نوجوان اور بوڑھے، لقمہ اجل بن گئے۔ فرانسیسی حکومت کو ہنگامی اقدامات کے تحت اسکولوں کو معطل کرنا پڑا، بیرونی تقریبات ملتوی کرنی پڑیں اور پبلک مقامات پر الکحل کے استعمال پر پابندی عائد کرنی پڑی کیونکہ الکحل جسم میں پانی کی کمی (Dehydration) کو تیز کرتی ہے۔

موسمیاتی نظام جیسے ہی مشرق کی طرف منتقل ہوا، اس نے نئے ریکارڈ بنانا شروع کر دیے۔ سلوواکیہ میں جمعہ کی رات تاریخ کی گرم ترین رات ریکارڈ کی گئی، جہاں درجہ حرارت 26.3سے نیچے نہیں گرا۔ رات کے وقت اس قدر زیادہ درجہ حرارت انسانی جسم کو ٹھنڈا ہونے اور آرام کرنے کا موقع نہیں دیتا، جو صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ ماہرین کے مطابق اب یہ لہر پولینڈ کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں مزید ریکارڈ ٹوٹنے کا خدشہ ہے۔

سائنسدانوں اور ماہرینِ موسمیات کا اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ یورپ میں آنے والی یہ حالیہ گرمی کی لہر کوئی قدرتی واقعہ نہیں ہے۔ عالمی ماحولیاتی سائنسدانوں کے مطابق انسانوں کی پیدا کردہ موسمیاتی تبدیلی کے بغیر اس نوعیت کی شدید ہیٹ ویو کا آنا تقریباً ناممکن تھا۔’

صنعتی انقلاب کے بعد سے انسانوں نے فوسل فیول (کوئلہ، تیل، اور گیس) کے بے تحاشہ استعمال، جنگلات کی کٹائی اور زہریلی گیسوں کے اخراج کے ذریعے فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دیگر گرین ہاؤس گیسوں کی مقدار کو اس حد تک بڑھا دیا ہے کہ زمین نے سورج کی گرمی کو اپنے اندر قید کرنا شروع کر دیا ہے۔

سائنسی ڈیٹا سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی سرگرمیوں نے اس ہفتے رات کے وقت کے درجہ حرارت کو دو دہائیوں (20 سال) پہلے کے مقابلے میں 100گنا زیادہ شدید بنا دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب راتیں بھی ٹھنڈی نہیں رہیں، جو کہ گلوبل وارمنگ کا ایک بھیانک رخ ہے۔

شدید گرمی کی یہ لہر محض تھرمامیٹر کے پارہ بڑھنے تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کے اثرات انسانی زندگی اور ملکی نظام کے ہر شعبے پر مرتب ہو رہے ہیں۔

ہمارا جسم ایک خاص حد تک گرمی برداشت کرنے کے لیے بنا ہے۔ جب درجہ حرارت مسلسل چالیس ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر رہتا ہے تو انسانی جسم کا درجہ حرارت کو کنٹرول کرنے کا نظام فیل ہو جاتا ہے۔

فرانس سمیت دیگر ممالک میں درجنوں اموات ہو چکی ہیں۔ بوڑھے، بچے اور وہ لوگ جو دل یا سانس کی بیماریوں میں مبتلا ہیں، اس کا سب سے پہلا شکار بنتے ہیں۔ شدید گرمی کی وجہ سے لوگ نیند کی کمی اور مسلسل شدید گرمی کے ماحول میں رہنے سے انسانی رویوں میں چڑچڑاپن اور ذہنی تناؤ بڑھ جاتا ہے۔

یورپی ممالک کا بنیادی ڈھانچہ تاریخی طور پر سرد موسم کے لحاظ سے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ گھروں اور پبلک ٹرانسپورٹ میں ایئر کنڈیشننگ (اے سی)کا نظام اس سطح پر موجود نہیں ہے جیسا کہ ایشیا یا مشرقِ وسطیٰ میں ہوتا ہے۔

شدید گرمی کی وجہ سے لوہے کی پٹریوں کے پھیلنے اور مڑنے کا خطرہ ہوتا ہے، جس کی وجہ سے یورپ بھر میں ٹرینوں کی رفتار کم کر دی گئی ہے یا سفر منسوخ کر دیا گیا ہے۔ فرانس اور جرمنی میں نیوکلیئر پاور پلانٹس کو ٹھنڈا کرنے کے لیے دریاؤں کا پانی استعمال کیا جاتا ہے۔ دریاؤں کا پانی پہلے ہی گرم ہونے کی وجہ سے ان پاور پلانٹس کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت متاثر ہوئی ہے، جبکہ دوسری طرف ایئر کنڈیشنرز اور پنکھوں کے استعمال کی وجہ سے بجلی کی طلب ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہے۔

کئی ممالک میں بیرونی کاموں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، تعمیراتی کام روک دیے گئے ہیں اور اسکولوں کو بند کرنا پڑا ہے۔ اس سے روزمرہ کی معاشی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔ سیاحت، جو کہ اٹلی اور فرانس کی معیشت کا ایک بڑا ستون ہے، اس ہیٹ ویو کے باعث بری طرح متاثر ہو رہی ہے کیونکہ سیاح شدید دھوپ میں باہر نکلنے سے قاصر ہیں۔

ڈونر ویٹر کے ماہرِ موسمیات کارسٹن برانڈٹ سمیت دیگر عالمی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ صورتحال عارضی نہیں ہے۔

اگر عالمی سطح پر کاربن کے اخراج کو فوری طور پر کم نہ کیا گیا توجو ہیٹ ویو پہلے صدی میں ایک بار آتی تھی، وہ اب ہر دو سے تین سال بعد آیا کرے گی۔یورپ کا موسم بتدریج نیم صحرائی (Semi-arid) شکل اختیار کر سکتا ہے، جہاں گرمیاں طویل اور خشک، جبکہ سردیاں انتہائی مختصر ہوں گی اورزراعت کا نظام تباہ ہو جائے گا، کیونکہ فصلوں کو اگنے کے لیے معتدل درجہ حرارت کی ضرورت ہوتی ہے۔

اس عالمی تباہی سے نمٹنے کے لیے دنیا کو ہنگامی بنیادوں پر دوہرا لائحہ عمل اپنانا ہو گا۔فوسل فیول کا استعمال فوری طور پر ترک کر کے شمسی اور ہائیڈروجن توانائی کی طرف منتقلی۔ جنگلات کا تحفظ اور شجرکاری مہم۔ یورپی شہروں کے بنیادی ڈھانچے کو گرم موسم کے مطابق ڈھالنا۔ عمارتوں کو ‘گرین روفس’ (Green Roofs) اور انسولیشن کے ذریعے ٹھنڈا رکھنا۔

جرمنی، اٹلی اور ڈنمارک میں ریکارڈ توڑنے والی یہ ہیٹ ویو قدرت کی طرف سے ایک انتباہ ہے۔ یہ اس حقیقت کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کوئی مستقبل کا خطرہ نہیں بلکہ یہ ہمارے حال میں موجود ایک تلخ حقیقت بن چکی ہے۔ اگر اب بھی دنیا کے امیر اور صنعتی ممالک نے پیرس ماحولیاتی معاہدے (Paris Agreement) پر عمل کرتے ہوئے عالمی درجہ حرارت کے اضافے کو محدود کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات نہ کیے تو آنے والی نسلوں کے لیے یہ زمین رہنے کے قابل نہیں رہے گی۔ اب وقت تقریروں کا نہیں بلکہ عملی اور انقلابی اقدامات کا ہے۔

(یواین آئی)

Continue Reading

تجزیہ

ہیٹ ویوز اور اوزون: ہندوستان میں دل اور پھیپھڑوں کی بیماریوں سے بڑھتی ہوئی اموات کا سنگین بحران

Published

on

خصوصی مضمون: ظفر اقبال

موسمیاتی تبدیلی اکیسویں صدی کا سب سے بڑا عالمی چیلنج بن چکی ہے, دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت، شدید موسمی واقعات، خشک سالی، سیلاب اور گرمی کی لہروں نے انسانی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو متاثر کیا ہے, ہندوستان جو دنیا کی سب سے بڑی آبادی والے ممالک میں شامل ہے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا سامنا کرنے والے ممالک کی صفِ اول میں کھڑا ہے, حالیہ برسوں میں ملک کے مختلف علاقوں میں شدید گرمی کی لہروں کی تعداد، شدت اور دورانیہ میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ فضائی آلودگی، خصوصاً سطحی اوزون ایک خاموش مگر مہلک خطرے کے طور پر ابھر رہی ہے۔

12 جون کو نیچر پورٹ فولیو کے جریدے ’این پی جے کلین ائر‘ میں شائع ہونے والی ایک جائزہ تحقیق نے ایک نہایت اہم اور تشویشناک حقیقت کو اجاگر کیا ہے۔ اس تحقیق کے مطابق ہندوستان میں گرمی کی لہروں کے دوران سطحی اوزون کی مقدار خطرناک حد تک بڑھ جاتی ہے، جس کے نتیجے میں دل اور پھیپھڑوں کی بیماریوں سے ہونے والی اموات میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔ مطالعے کے مطابق 2024 کے دوران ہیٹ ویو کے دنوں میں تقریباً 830 اضافی اموات ریکارڈ ہوئیں، جن کا تعلق گرمی اور اوزون کے مشترکہ اثرات سے تھا۔

یہ تحقیق اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اور فضائی آلودگی الگ الگ مسائل نہیں بلکہ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے بحران ہیں جو انسانی صحت کے لیے دوہرا خطرہ پیدا کر رہے ہیں۔

عام طور پر جب اوزون کا ذکر ہوتا ہے تو لوگوں کے ذہن میں فضا کی بالائی تہہ میں موجود اوزون کی حفاظتی پرت آتی ہے، جو سورج کی نقصان دہ بالائے بنفشی شعاعوں کو زمین تک پہنچنے سے روکتی ہے۔ تاہم سطحی اوزون اس سے بالکل مختلف ہے۔

سطحی اوزون ایک ثانوی فضائی آلودگی ہے جو براہ راست خارج نہیں ہوتی بلکہ مختلف آلودہ گیسوں کے باہمی کیمیائی تعامل سے بنتی ہے۔ گاڑیوں، صنعتی کارخانوں، بجلی گھروں اور دیگر ذرائع سے خارج ہونے والے نائٹروجن آکسائیڈز اور غیر مستحکم نامیاتی مرکبات سورج کی روشنی اور زیادہ درجہ حرارت کی موجودگی میں اوزون پیدا کرتے ہیں۔

اسی وجہ سے گرم اور دھوپ والے دنوں میں اوزون کی سطح زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ جب گرمی کی لہریں آتی ہیں تو درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ اوزون کی تشکیل کے عمل کو مزید تیز کر دیتا ہے۔

تحقیق کے مطابق شمالی ہندوستان میں گرمی کی لہروں کے دوران اوزون کی سطح 85 سے 110 مائیکروگرام فی مکعب میٹر تک پہنچ جاتی ہے، جبکہ عالمی ادارہ صحت کی محفوظ حد 100 مائیکروگرام فی مکعب میٹر مقرر کی گئی ہے۔

یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ہیٹ ویو کے دوران اوزون کی مقدار محفوظ سطح سے کہیں زیادہ ہو جاتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ گرمی کی لہر ختم ہونے کے تقریباً تین سے چار دن بعد اوزون کی سطح دوبارہ کم ہونا شروع ہو جاتی ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ شدید گرمی اوزون کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔

ہندوستان کے شمالی علاقوں خصوصاً دہلی، پنجاب، ہریانہ، اتر پردیش اور راجستھان میں گرمی کی شدت زیادہ ہونے کے باعث اوزون کی سطح بھی زیادہ ریکارڈ کی گئی۔ تاہم مطالعے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ملک کا کوئی خطہ ایسا نہیں جہاں اوزون کی سطح عالمی ادارہ صحت کی سفارش کردہ حد سے نیچے رہی ہو۔

سطحی اوزون کو دنیا کے خطرناک ترین فضائی آلودگی پھیلانے والے عناصر میں شمار کیا جاتا ہے۔ جب انسان آلودہ ہوا میں سانس لیتا ہے تو اوزون براہ راست پھیپھڑوں اور نظامِ تنفس کو متاثر کرتی ہے۔

اس کے فوری اثرات میں شامل ہیں: سانس لینے میں دشواری، کھانسی اور گلے میں جلن، سینے میں درد، دمہ کی شدت میں اضافہ اور پھیپھڑوں کی کارکردگی میں کمی

تاہم اس کے طویل مدتی اثرات کہیں زیادہ خطرناک ہیں۔ مسلسل اوزون کی نمائش دل کی بیماریوں، فالج، دائمی پھیپھڑوں کی بیماریوں اور قبل از وقت اموات کے خطرات کو بڑھا دیتی ہے۔تحقیق سے واضح ہوا ہے کہ اوزون صرف پھیپھڑوں ہی نہیں بلکہ قلبی نظام کو بھی متاثر کرتی ہے۔ یہ خون کی نالیوں میں سوزش پیدا کرتی ہے، جس سے دل پر اضافی دباؤ پڑتا ہے اور دل کے دورے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

اسکیمک دل کی بیماری (Ischemic Heart Disease) دنیا بھر میں اموات کی سب سے بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔ یہ بیماری اس وقت پیدا ہوتی ہے جب دل کو خون فراہم کرنے والی شریانیں تنگ یا بند ہو جاتی ہیں۔

مطالعے کے مطابق 2024 میں ہیٹ ویو کے دوران اوزون کے بڑھنے سے تقریباً 26,500 اموات اسکیمک دل کی بیماری اور سی او پی ڈی سے منسلک پائی گئیں۔ ان میں سے تقریباً 490 اضافی اموات صرف دل کی بیماریوں کے سبب واقع ہوئیں۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ گرمی اور فضائی آلودگی کا امتزاج دل کے مریضوں کے لیے نہایت خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ بزرگ افراد، ہائی بلڈ پریشر کے مریض، ذیابیطس کے شکار افراد اور پہلے سے دل کے امراض میں مبتلا لوگ اس خطرے کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔

دائمی رکاوٹ پلمونری بیماری (Chronic Obstructive Pulmonary Disease (COPD) ایک سنگین بیماری ہے جس میں پھیپھڑوں کی ہوا کی نالیاں تنگ ہو جاتی ہیں اور مریض کو سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے۔اوزون پھیپھڑوں میں سوزش پیدا کرتی ہے اور سی او پی ڈی کے مریضوں کی حالت مزید خراب کر دیتی ہے۔ تحقیق کے مطابق گرمی کی لہروں کے دوران سی او پی ڈی سے متعلق تقریباً 342 اضافی اموات ریکارڈ کی گئیں۔ یہ اعداد و شمار اس حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ فضائی آلودگی صرف ایک ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سنگین صحت عامہ کا بحران ہے۔

گرمی کی لہروں میں اضافہ محض اتفاق نہیں بلکہ موسمیاتی تبدیلی کا براہ راست نتیجہ ہے۔ عالمی سطح پر درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے شدید گرمی کے واقعات زیادہ بار اور زیادہ شدت کے ساتھ رونما ہو رہے ہیں۔ہندوستان میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران گرمی کی لہروں کی تعداد میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ایسے حالات اوزون کی تشکیل کے لیے مثالی ماحول فراہم کرتے ہیں۔یعنی ایک طرف موسمیاتی تبدیلی درجہ حرارت بڑھا رہی ہے اور دوسری طرف یہی درجہ حرارت فضائی آلودگی کو مزید مہلک بنا رہا ہے۔ اس طرح دونوں عوامل مل کر انسانی صحت پر تباہ کن اثرات مرتب کر رہے ہیں۔

بڑے شہروں میں صورتحال نسبتاً زیادہ تشویشناک ہے۔ دہلی، ممبئی، کولکاتا، چنئی، بنگلورو اور حیدرآباد جیسے شہروں میں گاڑیوں کی بڑھتی تعداد، صنعتی سرگرمیاں اور شہری پھیلاؤ فضائی آلودگی کو بڑھا رہے ہیں۔شہری علاقوں میں ‘اربن ہیٹ آئی لینڈ’ کا اثر بھی پایا جاتا ہے، جس کے تحت کنکریٹ کی عمارتیں اور سڑکیں گرمی کو جذب کرکے درجہ حرارت کو مزید بڑھا دیتی ہیں۔ نتیجتاً اوزون کی تشکیل میں اضافہ ہوتا ہے۔

اسی لیے شہری آبادیوں کو دوہرے خطرے کا سامنا ہے: شدید گرمی اور بلند اوزون۔

ہیٹ ویوز اور اوزون کی بڑھتی ہوئی سطح صرف صحت ہی کو متاثر نہیں کرتیں بلکہ ان کے وسیع معاشی اثرات بھی ہوتے ہیں۔ ہسپتالوں پر دباؤ بڑھتا ہے، صحت کے اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے، مزدوروں کی پیداواری صلاحیت کم ہو جاتی ہے، معیشت کو اربوں روپے کا نقصان پہنچتا ہے اور کم آمدنی والے طبقات سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

غریب خاندان اکثر ایئر کنڈیشننگ، صاف رہائش اور معیاری طبی سہولیات سے محروم ہوتے ہیں، اس لیے وہ ان خطرات کا زیادہ شکار بنتے ہیں۔

اس بحران سے نمٹنے کے لیے جامع حکمت عملی ناگزیر ہے۔ سب سے پہلے فضائی آلودگی کے بنیادی ذرائع کو کم کرنا ہوگا۔اس مقصد کے لیے:گاڑیوں سے خارج ہونے والے دھوئیں میں کمی لائی جائے، صاف توانائی کے ذرائع کو فروغ دیا جائے، صنعتی اخراج پر سخت نگرانی کی جائے، قابلِ تجدید توانائی میں سرمایہ کاری بڑھائی جائے اور شہری منصوبہ بندی میں سبز علاقوں کا اضافہ کیا جائے۔

اس کے ساتھ ساتھ ہیٹ ایکشن پلانز کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ شدید گرمی کے دوران حساس آبادیوں کو بروقت تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

’این پی جے کلین ائر‘ میں شائع ہونے والی یہ تحقیق ہندوستان میں موسمیاتی تبدیلی اور فضائی آلودگی کے باہمی تعلق کو سمجھنے میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ مطالعہ واضح کرتا ہے کہ گرمی کی لہریں صرف براہِ راست گرمی سے متعلق بیماریوں کا باعث نہیں بنتیں بلکہ اوزون کی سطح میں اضافے کے ذریعے دل اور پھیپھڑوں کی بیماریوں سے اموات میں بھی اضافہ کرتی ہیں۔

2024 کے دوران تقریباً 830 اضافی اموات کا تخمینہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہیٹ ویوز اور اوزون کا امتزاج ایک خاموش مگر سنگین عوامی صحت کا بحران بن چکا ہے۔ مزید برآں، اوزون سے منسلک تقریباً 26,500 اموات اس مسئلے کی وسعت کو ظاہر کرتی ہیں۔

اگر بروقت اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو موسمیاتی تبدیلی کے باعث بڑھتی ہوئی گرمی کی لہریں مستقبل میں مزید جانیں لے سکتی ہیں۔ لہٰذا حکومت، سائنسی اداروں، صحت ماہرین اور عوام کو مشترکہ طور پر ایسے اقدامات کرنے ہوں گے جو نہ صرف فضائی آلودگی کو کم کریں بلکہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے مقابلے کے لیے معاشرے کو زیادہ مضبوط اور محفوظ بنائیں۔ یہی راستہ انسانی صحت، ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔

(یواین آئی)

Continue Reading
Advertisement
دنیا10 hours ago

افزودہ یورینیئم کے ذخائر اب بھی ایرانی جوہری تنصیبات میں موجود ہیں: سربراہ آئی اے ای اے

دنیا11 hours ago

فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات

ہندوستان11 hours ago

وزیر اعظم مودی پیر سے انڈونیشیا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے چھ روزہ دورے پر روانہ ہوں گے

ہندوستان12 hours ago

سندھ طاس معاہدہ: پاکستان کو ہندوستان کا کرارا جواب، دہشت گردی کی حمایت بند کرنی ہوگی

جموں و کشمیر12 hours ago

آکاشوانی سری نگر نے خصوصی شری امرناتھ جی یاترا 2026 نشریات کا افتتاح کیا

دنیا12 hours ago

فیلڈ مارشل عاصم منیر شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں شرکت کے لئے تہران پہنچ گئے

دنیا14 hours ago

جنگ بندی معاہدے پر عمل نہ ہونے پر ایران جواب دے گا: قالیباف

دنیا14 hours ago

خامنہ ای کے جنازے میں حملہ ہوا تو نتائج سنگین ہوں گے، ایران کی اسرائیل اور امریکہ وارننگ

دنیا16 hours ago

فرانس میں شدید گرمی، ایک ہفتے میں 2 ہزار سے زائد اموات

جموں و کشمیر17 hours ago

ای او ڈبلیو نے بیرونِ ملک ملازمت دلانے کے نام پر دھوکہ دہی کرنے والے تعلیمی مشیر کے خلاف چارج شیٹ داخل کی

دنیا18 hours ago

ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے قائم مقام کمانڈر احمد واحدی پہلی بار منظرعام پر آگئے

دنیا18 hours ago

شہید سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے آخری رسومات کا آغاز، جسد خاکی تہران پہنچا دیا گیا

پاکستان19 hours ago

بلوچستان میں خوفناک حادثہ، مسافر بس کھائی میں گرنے سے 39 افراد جاں بحق

دنیا21 hours ago

وینیزویلا میں آئے تباہ کن زلزلے کے آٹھ دن بعد ملبے میں دبے ایک شخص کو زندہ نکالا گیا

جموں و کشمیر21 hours ago

جموں کشمیر: سخت سکیورٹی اور مذہبی جوش و خروش کے بیچ امرناتھ یاترا شروع

دنیا1 day ago

ایران کا امریکہ کو دوبارہ انتباہ، آبنائے ہرمز میں مداخلت پر فوری جواب کی دھمکی

ہندوستان1 day ago

سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے پر سال بھر پروگرام منعقد کریں گے ہندوستان اور جاپان

ہندوستان1 day ago

جاپان کی ‘موگامی’ پیشکش: اسٹریٹجک موقع یا مقامی بحری منصوبوں سے توجہ ہٹانے کی کوششَ

جموں و کشمیر1 day ago

مذاکرات ہی واحد راستہ: جموں کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی ہند۔پاک امن عمل کی پرزور حمایت

جموں و کشمیر1 day ago

ریاست کا درجہ بحال ہونے تک عمر کابینہ میں شامل نہیں ہوگی کانگریس: طارق کرّا

دنیا2 days ago

عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں امریکہ ایران جنگ سے پہلے کی سطح پر آگئیں

دنیا2 days ago

ایران کی ’آئی اے ای اے‘ کو جوہری تنصیبات تک رسائی دینے کی تردید

دنیا2 days ago

آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ سے قبل ایران کا امریکا اور اسرائیل کو انتباہ

دنیا2 days ago

امریکہ اور ایران کے مابین غیر براہ راست مذاکرات میں مثبت پیشرفت ہوئی ہے:قطر

دنیا2 days ago

آبنائے ہرمز کا انتظام ایران کے اختیار میں ہے، سینٹکام کے نہیں: ایرانی نائب وزیر خارجہ

ہندوستان2 days ago

موہن یادو پر لگے گھوٹالوں کے الزامات پر بی جے پی کی خاموشی تشویشناک: کانگریس

ہندوستان2 days ago

کھرگے نے شمال مشرق میں تباہ کن سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ کی صورتحال پر دکھ کا اظہار کیا

دنیا2 days ago

امریکہ نے مقبوضہ بیت المقدس میں مستقل سفارتخانہ تعمیر کرنے کیلئے معاہدے پر دستخط کردیے

دنیا2 days ago

ایران کی اقوام متحدہ کو اسرائیل کی جانب سے سپریم لیڈر کو قتل کی کھلی دھمکی پر وارننگ

دنیا2 days ago

دوحہ میں امریکہ ایران بالواسطہ مذاکرات کی تفصیلات سامنے آ گئیں

دنیا2 days ago

سوئٹزرلینڈ مذاکرات کے نتائج کی باقر قالیباف نے تفصیلات بتادیں

جموں و کشمیر2 days ago

سِنہا نے 4,822 یاتریوں کے پہلے قافلے کو بابا برفانی کی مقدس گپھا کے لیے روانہ کیا

جموں و کشمیر2 days ago

جعلی سرٹیفکیٹس کی بنیاد پر نوکری پانے کے معاملے میں چار لوگوں کے خلاف چارج شیٹ

دنیا2 days ago

وینیزویلا زلزلے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 1943 ہوئی، 10500 سے زیادہ زخمی

جموں و کشمیر2 days ago

کشمیر کے انسپکٹر جنرل پولیس نے امرناتھ یاترا کے پیش نظر سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا

ہندوستان2 days ago

ہندوستان اور پاکستان کے کئی سرکردہ شخصیات کی مودی اور شریف سے بات چیت اور سفارتی تعلقات بحال کرنے کی اپیل

دنیا2 days ago

ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیں گے، ضرورت پڑی تو پھر حملہ کریں گے: نیتن یاہو

دنیا2 days ago

مفاہمتی یادداشت میں طے شدہ شرائط پوری ہونے تک ایران مزید مذاکرات میں شامل نہیں ہوگا: قالیباف

دنیا2 days ago

ایرانی سپریم لیڈر کی اپنے والد آیت اللہ خامنہ ای کے جنازے میں شرکت پر تذبذب برقرار

جموں و کشمیر3 days ago

جموں و کشمیر: سائبر فراڈ میں استعمال ہونے والے ‘میول اکاؤنٹس’ چلانے والوں کے خلاف مقدمہ درج

جموں و کشمیر3 days ago

ڈوڈہ کے بھلیسہ میں بادل پھٹنے سے اچانک سیلاب، شاہراہوں پر ٹریفک معطل

ہندوستان3 days ago

کمرشیل ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں میں کمی

ہندوستان3 days ago

وزیر اعظم نے ‘چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ڈے’ اور ‘ڈاکٹرز ڈے’ پر مبارکباد دی، ‘وکست بھارت’ کی تعمیر میں ان کے کردار کو سراہا

ہندوستان3 days ago

بی جے پی نے بھگوان رام کے نام کا صرف سیاسی استعمال کیا: کیجریوال

دنیا3 days ago

پیدائشی شہریت کیس کے فیصلے پر ٹرمپ نے خاموشی توڑ دی

دنیا3 days ago

نیتن یاہو نے جنوبی لبنان سے اسرائیلی فوج کے انخلا سے صاف انکار کردیا

دنیا3 days ago

کامیاب مذاکرات کی صورت میں ایران مستقل طور پر تبدیل ہو جائے گا: جے ڈی وینس

دنیا3 days ago

پابندیاں ختم، تیل کی فروخت کی رقم براہ راست بینک میں وصول کر رہے ہیں: باقر قالیباف

دنیا3 days ago

’صہیونی حکومت غزہ سے توجہ ہٹانے کیلئے ترکیہ کےخلاف پروپیگنڈا کر رہی ہے: اردوان

جموں و کشمیر3 days ago

سری نگر میں کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر کی غیر منقولہ جائیداد ضبط

جموں و کشمیر5 months ago

ورلڈ کپ کی گونج، کشمیری ولو کے بیٹس کی مانگ میں زبردست اضافہ

اداریہ4 years ago

یوکرین کے خلاف روس کا رویہ تشویشناک : برطانیہ

ہندوستان3 months ago

مغربی ایشیا کے بحران کے باعث عالمی بینک نے مالی سال 27 کے لیے ہندوستان کی شرح نمو کم کر کے 6.6 فیصد کر دی

جموں و کشمیر4 months ago

“وادی کشمیر میں اسرائیل اور امریکہ مخالف احتجاجی مظاہروں کی لہر”

تازہ ترین4 months ago

خامنہ ای کی مبینہ شہادت: کشمیر میں ریلیاں، ایم ایم یو کی مکمل ہڑتال کی کال

اہم خبریں4 years ago

عید کی آمد کے ساتھ ہی لوگوں کی کثیر تعداد بازاروں میں دھیکنے کو مل رہی ے۔ کھچ مناظر ان تصاویر میں

جموں و کشمیر5 months ago

ڈیلی ویجروں کا بحران

تازہ ترین4 years ago

عید کی آمد پر سرینگر کے مختلف بازاروں میں خرید و فروخت کے کھچ مناظر

جموں و کشمیر3 months ago

جموں جناح، علامہ اقبال اور سر سید احمد خان سے نفرت کیوں کرتا ہے؟

تازہ ترین5 months ago

لمبرداروں اور چوکیداروں کا مسائل کے حل کے لیے حکومت کو میمورنڈم

تازہ ترین5 months ago

وضاحت | وحید الرحمن پرّا کے ’’جموں و کشمیر کا مفاہمت، صدمے سے شفا اور وقار بل، 2026‘‘ کی تشریح

تازہ ترین5 months ago

پاکستان نے سخت مقابلے میں نیدرلینڈز کو تین وکٹوں سے شکست دی

اہم خبریں5 months ago

وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے بجٹ 2026-27 پیش کرنے کے بعد میڈیا سے خطاب کیا

تجزیہ7 months ago

دہشت گردی کے بھولے ہوئے متاثرین

تازہ ترین4 years ago

کشمیری کسان شہتوت کی کاشتکاروں کرتے ہوئے۔

ہندوستان2 months ago

غیر آئینی طریقوں سے پارٹیوں کو توڑنا جمہوری ڈھانچے پر براہ راست حملہ ہے: بھگونت مان

دنیا4 months ago

پاکستانی فوج کا افغانستان کے خلاف فضائی آپریشن شروع

کھیل5 months ago

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026: آئی سی سی کے موقف کی بی سی سی آئی نے بھی تائید کر دی

تازہ ترین5 months ago

لوک سبھا کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی

اداریہ4 years ago

بی جے پی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کررہی ہے،کمیشن میں شکایت درج کرائیں گے:اکھلیش

تازہ ترین5 months ago

کشمیری کسانوں کے لیے بڑی پیش رفت، جدید ٹیکنالوجی کا آغاز

تازہ ترین5 months ago

مرکزی بجٹ خود کفیل، مضبوط اور عالمی سطح پر مسابقتی ہندوستان کے وزیراعظم مودی کے عزم کے مطابق ہے: کھنڈیلوال

کھیل3 months ago

آئی پی ایل 2026 چنئی سپر کنگز نے پنجاب کو دیا 209 رنز کا ہدف

اہم خبریں5 months ago

جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں سجاد غنی لون کی دھواں دار تقریر

دنیا5 months ago

واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ نے کھلبلی مچا دی، خلیجی اتحادیوں کا ٹرمپ کو ممکنہ تباہی سے خبردار

تازہ ترین5 months ago

ڈنمارک میں اسرائیلی سفارت خانے کے قریب گرینڈ دھماکہ کے ملزم دو سویڈش شہریوں کو جیل

کھیل4 months ago

تاریخ رقم: جموں و کشمیر نے پہلی بار رانجی ٹرافی کا خطاب اپنے سر سجایا

جموں و کشمیر4 months ago

کشمیر میں نئی ریلوے لائنوں کا سروے مکمل، حکومت کا زمین مالکان کو مکمل معاوضہ دینے کا یقین

ہندوستان5 months ago

صدر کے خطاب میں ترقی یافتہ ہندوستان کے اہداف نمایاں: سونووال

تجزیہ7 months ago

کشمیر میں بجلی نرخوں میں اضافہ عوام پر سیدھا وار

اداریہ4 years ago

ممبئی سیریل بلاسٹ کا ملزم یو اے ای میں گرفتار

تازہ ترین6 months ago

امکان کی سیاست اور مفتی محمد سعید کا نظریہ

دنیا4 months ago

ایرانی میزائل کی 10 انٹرسیپٹرز کو چکمہ دیکر ہدف کو نشانہ بنانے کی ویڈیو وائرل

جموں و کشمیر2 months ago

پہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی

تازہ ترین3 years ago

شیلاء رشید کا سفر موقعہ پرستی یا دوگلا پن

دنیا4 months ago

خامنہ ای کی شہادت کے بعد امام خمینی کے پوتے حسن خمینی توجہ کا مرکز

تازہ ترین8 months ago

ستائیسویں ترمیم: پاکستان کی فوج کس طرح قانون کے ذریعے آئین پر اثرانداز ہو رہی ہے

اہم خبریں6 years ago

اس صدی کے آخر تک برفانی ریچھ دنیا سے مٹ جائیں گے

جموں و کشمیر5 months ago

کشمیر میں اگلے 36 گھنٹوں کے دوران ہلکے برف و باراں کا امکان

تصاویر6 years ago

مصر میں فرعونوں کے دور کے درجنوں تابوتوں کی سنسنی خیز دریافت

جموں و کشمیر5 months ago

زعفران پیداوار میں کمی کا دعویٰ غلط؛ 3715 ہیکٹیر رقبہ برقرار: حکومت

تازہ ترین5 months ago

سری لنکا کی پاکستان سے ہندوستان ٹی20 میچ کے بائیکاٹ پر نظرِ ثانی کی اپیل

دنیا4 months ago

ٹرمپ کے مشیر کی امریکہ کو ایران جنگ سے نکلنے کی تجویز پیش

تصاویر6 years ago

ٹک ٹاک اپنے عالمی توسیعی پروگرام کے لیے تین ہزار انجینئرز بھرتی کرے گا

تازہ ترین3 years ago

چھیڑ چھاڑ کا سامنا کرنے والی خواتین ہم سے رابطہ کریں۔

تازہ ترین2 years ago

متحدہ عرب امارات کا ہندو مندر اور نریندر مودی کی لوک سبھا الیکشن مہم

جموں و کشمیر2 years ago

چین، امریکہ پاکستان کو بھارت کے خلاف مدد کررہا ے/ انٹرویو

تازہ ترین5 months ago

امت شاہ کا تین روزہ دورہ جموں و کشمیر:سیاسی ملاقاتیں اور اعلیٰ سطحی سکیورٹی میٹنگیں ایجنڈے میں شامل

کھیل5 months ago

ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: میچ کے بائیکاٹ پر آئی سی سی کا قانون کیا کہتا ہے

دنیا4 months ago

امریکہ اور اسرائیل کا ایران پر جنگ کے آغاز کے بعد سب سے بڑا حملہ

جموں و کشمیر2 months ago

پہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی

جموں و کشمیر3 months ago

جموں و کشمیر میں نئی انتظامی ڈویژنز کی تجویز: چناب اور پیر پنجال کی وضاحت

جموں و کشمیر4 months ago

“وادی کشمیر میں اسرائیل اور امریکہ مخالف احتجاجی مظاہروں کی لہر”

جموں و کشمیر5 months ago

ڈیلی ویجروں کا بحران

تازہ ترین5 months ago

ایس ایم ایچ ایس اسپتال کے باہر غیر قانونی پارکنگ

تازہ ترین5 months ago

کشمیری کسانوں کے لیے بڑی پیش رفت، جدید ٹیکنالوجی کا آغاز

جموں و کشمیر5 months ago

ورلڈ کپ کی گونج، کشمیری ولو کے بیٹس کی مانگ میں زبردست اضافہ

اہم خبریں5 months ago

وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے بجٹ 2026-27 پیش کرنے کے بعد میڈیا سے خطاب کیا

اہم خبریں5 months ago

جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں سجاد غنی لون کی دھواں دار تقریر

تازہ ترین5 months ago

وضاحت | وحید الرحمن پرّا کے ’’جموں و کشمیر کا مفاہمت، صدمے سے شفا اور وقار بل، 2026‘‘ کی تشریح

جموں و کشمیر8 months ago

لیفٹنٹ گورنر نے کیا گورنمنٹ کوٹھی باغ گرلز ہائر سیکنڈری اسکول سری نگر میںDREAMا سکول پروجیکٹ کا افتتاح

جموں و کشمیر2 years ago

جموں وکشمیر کے صحت شعبے میں اہم اصلاحات لاے جارہے ے

تجزیہ2 years ago

پاکستان میں سیاسی بحران اور بینلاقوامی میڈیا کی کوریج

تازہ ترین2 years ago

8 فروری 2024 کے الیکشنز اور 1971 کے الیکشنز میں یکسانیت اور ملک کا تقسیم

تازہ ترین2 years ago

کشمیر میں عیسایت اور مسیحاؤں کے سماجی کام

تازہ ترین2 years ago

متحدہ عرب امارات کا ہندو مندر اور نریندر مودی کی لوک سبھا الیکشن مہم

تازہ ترین2 years ago

جموں وکشمیر میں الیکشنز کو کیوں التواء میں ڈالا گیا ؟

جموں و کشمیر2 years ago

بیگ کی واپسی اور پی ڈی پی کا مستقبل

تازہ ترین3 years ago

شیلاء رشید کا سفر موقعہ پرستی یا دوگلا پن

جموں و کشمیر3 years ago

جی ٹونٹی اجلاس: کشمیر میں ہڑتال قصہ پارینہ، یہاں کے لوگوں نے ہڑتالی کلچر کو مسترد کیا:مرکزی وزیر مملکت

تازہ ترین3 years ago

سری نگر جموں شاہراہ پر ٹریفک کی آمدورفت بحال

تازہ ترین3 years ago

جموں وکشمیر میں کووڈ کی نئی لہر سے بچے متاثر، یومیہ ایک سے دو کیس رپورٹ

تازہ ترین3 years ago

کپواڑہ میں کمسن بچی کے قتل کے الزام میں باپ گرفتار: ایس ایس پی کپواڑہ

تازہ ترین3 years ago

کشمیر میں رک رک کر بارشوں کا سلسلہ جاری، باغ مالکان سے باغوں کی دو پاشی نہ کرنے کی تاکید

تازہ ترین3 years ago

جائیداد ٹیکس کا فیصلہ سرکار کا ہے ہمیں اس پر عملدرآمد کرانا ہے: جی ایم سی میئر

جموں و کشمیر3 years ago

راہل گاندھی کی نا اہلی کے خلاف جموں وکشمیر میں کانگریس کا احتجاج

تازہ ترین3 years ago

کپوارہ میں ایل او سی کے نزدیک ماتا شاردا مندر کا کھل جانا ایک خوش آئند بات ہے: محبوبہ مفتی

تازہ ترین3 years ago

کشمیر: شدید زلزلے کے دوران اپنے جانوں کی پرواہ کئے بغیر ڈاکٹروں اور دیگر عملے نے خاتون کا کامیاب آپریشن کیا

تازہ ترین3 years ago

منصوبہ بند سازش کے تحت بٹہ مالو بس اسٹینڈ کو دوسری جگہ منتقل کیا گیا، رونقیں دوبارہ واپس لوٹ آئیں گی: رویندر رینا

تازہ ترین3 years ago

فرضی پی ایم او عہدیدار معاملہ: یہ انٹلی جنس کی ناکامی نہیں بلکہ فیلڈ افسر کی لاپرواہی ہے: اے ڈی جی پی کشمیر

تازہ ترین3 years ago

کشمیر اس قدر خوبصورت کہ جہاں کیمرہ رکھا جائے گا وہ فلم شوٹنگ کے لئے بہتر جگہ: بالی ووڈ ادا کار عمران خان

جموں و کشمیر3 years ago

Video ایڈیشنل ڈائریکٹر پی ایم او معاملہ:تحقیقات کے لئے سہہ رکنی ٹیم تشکیل: پولیس

جموں و کشمیر3 years ago

|Video رام بن میں ٹرک دریائے چناب میں جا گرا، بچاؤ آپریشن جاری

تازہ ترین3 years ago

تازہ ترین3 years ago

جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات کے انعقاد کے لئے قومی سیاسی جماعتوں اور الیکشن کمیشن آف انڈیا کے ساتھ ملاقی ہونگے: فاروق عبداللہ

تازہ ترین3 years ago

ویڈیو| ٹیولپ گریڈن کے بلوم کے پیچھے موجود ہیروز کو جانیں۔

جموں و کشمیر3 years ago

کشمیر سے ایم بی اے پاس آؤٹ نے غیر ملکی نسلوں کے ساتھ منفرد پولٹری فارم قائم کیا

تازہ ترین3 years ago

سری نگر کے مائسمہ میں آتشزدگی، تین دکان خاکستر

تازہ ترین3 years ago

پراپرٹی ٹیکس کے خلاف چیمبر آف کامرس نے 11مارچ کو جموں بندھ کی کال دی

تازہ ترین3 years ago

حبیبی کچن سڑک کے کنارے ایک شاہانہ ریستوراں

جموں و کشمیر3 years ago

مختلف اسامیوں کے امیدواروں کا سری نگر میں ایپ ٹک کمپنی کے خلاف احتجاج

تازہ ترین3 years ago

ڈل جھیل پر پرندوں کا جنگل سیاحوں کی توجہ کا نیا مرکز

تازہ ترین3 years ago

راہل مشتاق: غیر ملکی نسل کے مرغوں کا پالٹری فارم قائم کرنے والا نوجوان

تازہ ترین3 years ago

چھیڑ چھاڑ کا سامنا کرنے والی خواتین ہم سے رابطہ کریں۔

تازہ ترین3 years ago

شالیمار زرعی یونیورسٹی میں میلہ, ایک لاکھ لوگوں نے شمولیت اختیار کی

تازہ ترین3 years ago

ہندوستان-اٹلی نے اسٹریٹجک پارٹنرشپ کا اعلان کیا۔

تازہ ترین3 years ago

جائیداد ٹیکس کے خلاف جموں میں تاجروں کا احتجاج

تازہ ترین3 years ago

این آئی اے نے سری نگر میں العمر کے چیف مشتاق زرگر کے مکان کو قرق کر دیا

تازہ ترین3 years ago

سری نگر کے بٹہ مالو علاقے میں گاڑی کی ٹکر سے پولیس اہلکار کی رائفل سے اچانک گولی نکلی

تازہ ترین3 years ago

کشمیر میں طویل سرمائی تعطیلات کے بعد اسکول دوبارہ کھل گئے

Advertisement

Trending