تازہ ترین
جانئے : جموں کشمیر میں نئی حد بندی معاملہ کیا ہے ؟

مشتاق شمیم ، بڈگام 
چناچہ حالیہ الیکشن مہم کے دوران امت شاہ این ڈی اے کے فرنٹ کمپینر رہ چکے ہیں۔آپ ہر جگہ اپنی چناوی ریلیوں جلسوں یہاں تک کہ پریس کانفرنسوں میں زور وشور سے دفعات (370) اور (35۔اے) کو آئین ہند سے حذف کرانے کا دعویٰ کرتے رہے بشرطیکہ بی جے پی اقتدار میں واپس آگئی تو۔اس دوران اپوزیشن پارٹیاں خاص طور سے کانگریس این سی اور پی ڈی پی امت شاہ کے اس دعوے کو مسترد کرتے رہے ۔کانگریس کے سینئر لیڈر غلام نبی آزاد نے ایک پریس کانفر نس میں یہاں تک کہہ دیا تھاکہ امت شاہ احمقوں کی دنیا میں رہتے ہیں۔مودی کیا دنیا کی کوئی بھی طاقت ریاست جموں وکشمیر کو آئین ہند کے تحت حاصل شدہ خصوصی پوزیشن کو ہٹانا تو دور اسکے ہاتھ تک نہیں لگا سکتی ہے۔ عمر عبدااللہ نے کہا جس دن دفعہ (370)کو آئین ہند سے ہٹایا گیا مانو اُسی دن جموںو کشمیر ریاست کا ہندوستان کے ساتھ جوڑا گیارشتہ خود بخودٹوٹ کے رہ جائیگا۔محبوبہ مفتی نے اس مدعے پر امت شاہ کو جواب دیتے ہوئے خبر دار کیا کہ شاہ کو ایسی بےکار باتیں کہنے سے اجتناب کردینا چاہئے جن باتوں سے اہلیان کشمیر کے دلوں میں موجود ہندوستان کے خلاف نفرت اور بیگانگی کی آگ کم ہونے کے بجائے بڑھتی ہی چلی جارہی ہے ۔ شاہ اپوزیشن پارٹیوں کے رد عمل پر کان نہ دھر تے ہوئے اپنی بات پر چٹان کی طرح ڈٹے رہے اور ہر ایک چناوی ریلی میں یہ بات پورے اعتماد کے ساتھ دہراتے رہے ۔
اب چناچہ بی جے پی دو تہائی اکثریت کے ساتھ ہندوستان کے اقتدار اعلیٰ پر دوبارہ قابض ہونے میں کامیاب ہوگئی اور امت شاہ ملک کے وزیر داخلہ بن گئے۔اُن کے سامنے اب مذکورہ بالا دفعات کو آئین ہند سے حذف کرنے کا معاملہ ایک چلینج کی صورت میں کھڑا ہوگیا ہے۔حالانکہ ان دفعات کو آئین ہند سے حذف کرنا امت شاہ کا صرف ایک کھوکھلاالیکشن نعرہ ہی نہیں تھابلکہ ایسا کرنا بی جے پی کے تنظیمی دستور میں تب سے سرفہرست رہا جب سے اس تنظیم کی بنیاد ڈاکٹر شیاما پرساد مکرجی نے بھارتیہ جن سنگ کی شکل میں 1952ءمیں ڈالی تھی۔اگرچہ2014ءکے عام چناﺅ میں بھی یہ مدعا بی جے پی کے الیکشن منشور میں سر فہرست رہا تھا لیکن نا معلوم وجوہات کی بناءپر سابقہ مودی سرکار ایوان پارلیمان میں اسکے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کی ہمت جُٹا نہیں پائی البتہ سرکار ھٰذا اپنے بعض سیاسی حواریوں اور پسر پروردہ سماجی تنظیموں کی وساطت سے دفعہ 35۔اے کو عدالت عالیہ میں بڑی شدت کے ساتھ چلینج کرواتی رہی حتاکہ اس معاملے پر آنریبل سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے اپنا حتمی فیصلہ بھی تیار کر رکھا ہوا ہے جس کو منظر عام پر لانے کیلئے بینچ ھٰذا موزون موقع و محل کے انتظار میں تیار بیٹھا ہے۔
بہر حال اب کی بار اس معاملے سے نپٹنے کیلئے مودی نے بھی اپنے وزیر خاص اور دست راست امت شاہ کو مکمل چھوٹ دیکے رکھی ہوئی ہے اور شاہ اس حوالے سے مودی کی امیدوں پر کھرا اُتر نے کیلئے ایک ایسی حکمت عملی تیار کرنے کی راہ پر گامزن ہوچکے ہیں جس راستے پر چل کر سانپ بھی مرے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے کے مصداق وہ اس معاملے کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے بغیرکسی شور و شرابے کے دفن کرنے میں کامیاب ہوسکیں۔ چونکہ ریاست جموں و کشمیرکوفی الوقت خصوصی درجہ حاصل ہے ۔یہاں پراپنا ایک آئین بھی نافذ العمل ہے ۔پارلیمنٹ ہاوس میں منظور ہوچکی کوئی بھی حتمی بل یا کوئی بھی ترمیمی مسودہ ریاست جموں و کشمیر میں لاگو نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس بل یا ترمیمی مسودے کو ریاستی قانون ساز اسمبلی توثیق نہیں کرتی۔ اس پیچیدگی اور ایسی ہی دوسری قسم کی آئینی وقانونی پیچیدگیوں سے نپٹنے کیلئے امت شاہ اپنی پہلی ہی فرصت میں جموں کشمیر ریاست کی طرف اپنی خاص توجہ مبذول کرچکے ہیں۔امورداخلہ کا قلمدان سنبھالتے ہی انہوں نے کشمیر ایشو کو لیکر صرف ایک ہفتے میںچار میٹنگیں لیں جو اس بات کا غماز ہے کہ شاہ ریاست جموں و کشمیر کے معاملات میں کتنی گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔
بہر کیف امت شاہ کا پلان جس کو عملی جامہ پہنانے کیلئے وہ اس وقت زبردست سرگرم عمل ہیں وہ یہ کہ ریاست کا اقتدار اعلیٰ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ہاتھ میں آجا نا چاہئے اور ریاست کا وزیر اعلیٰ اب کی بار جموں خطے سے تعلق رکھنے والا کوئی ہندو انتہا پسندلیڈر ہی منتخب ہوجانا چاہئے تاکہ ایوان اسمبلی میں آئینی حدود کے اندرہی دفعات (370) اور (35۔اے) کو آئین ہند سے حذف کرنے کا آرڈینینس پاس ہوکر مرکزی سرکار کے دربار اعلی میں پیش کرنے کی راہ ہموار ہوسکے۔چناچہ ریاست میں بی جے پی سرکار کا معرض وجود آنافی الحال مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن بھی لگ رہاہے کیونکہ وادی کشمیر کے (46)۔اسمبلی حلقوں میں سے بی جے پی کو کسی بھی حلقے پر کامیابی ملنے کے آثار دُور دُور تک کہیں نظر نہیں آرہے ہیں البتہ اس بات میں بھی دورائے نہیں کہ بی جے پی کی اتحادی جماعت پیپلز کانفرنس وادی میں اس مرتبہ چار پانچ نشستیں حاصل کرنے کی پوزیشن میں کھڑی دکھائی دے رہی ہے۔ لیکن اسکے باوجود بھی (44) اسیٹوں کا جادوئی آنکڑا پار کرنا امت شاہ کو مشکل نظر آرہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ انہوں نے جموں اور لداخ خطوں میں نئے سرے سے حد بندی کرانے کا سیاسی کارڑ کھیلنا شروع کردیا ۔امت شاہ کاخیال ہے کہ ان دو خطوں میں بی جے پی کی پوزیشن اس وقت مستحکم ہے اسلئے اگر یہاں پر چار پانچ نئے اسمبلی حلقے وجود میں آجاتے تو جادوئی آنکڑے تک پہنچنابھاجپا کیلئے آسان ہوسکے ۔اس کارڑ کو جواز بخشنے کیلئے بی جے پی دعویٰ کر رہی ہے کہ جموں اور لداخ خطے رقبہ کے لحاظ سے ریاست کے دوبڑے خطے ہیں اور ان دونوں خطوں کو ایوان اسمبلی میں اب تک بھر پور نمائندگی نہیں دی جاچکی ہے اسلئے وقت کا تقاضا یہی ہے کہ ان دونوں خطوں کے اسمبلی حلقوں کی تعداد میں مناسب اضافہ کرانے کی غرض سے نئے سرے سے حد بندی کرائی جائے۔ اس حوالے سے 7 جون کو نئی دلی میں وزیر اعظم نریندر مودی کی سرپرستی میں ایک اہم میٹنگ کا انعقاد ہوا جس میں وزیر داخلہ امت شاہ اور ریاستی گورنر ستیہ پال ملک کے علاوہ ملک کے بعض ماہرین قانون اور اعلیٰ افسران نے بھی شرکت کی۔میٹنگ میں اور باتوں کے علاوہ ریاست جموں و کشمیرمیں فاروق سرکار کی طرف سے2002ءمیں نئی حد بندی عمل میں لانے کے پروگرام پر 2026ءتک لگائی جاچکی پابندی کو ہٹانے اور نیا حد بندی کمیشن قائم کرانے پربھی غور و خوض کیا گیا۔ اس حوالے سے ریاست کے ایک نامور ماہر قانون اور رکن پارلیمان جسٹس (ر) حسنین مسعودی نے واضح کردیا کہ مرکزی سرکار اورریاستی گورنر انتظامیہ کے پاس ایسے اختیارات بلکل بھی نہیں ہیں کہ وہ کسی منتخبہ سرکار کی طرف سے لئے گئے کسی بھی فیصلے کو بدل سکیں۔
چناچہ مودی سرکار کا الزام ہے کہ شیخ محمد عبداللہ سے لیکر محبوبہ مفتی تک جتنے بھی وزیر اعلیٰ آج تک ریاست جموں و کشمیر میں منتخب ہوتے آئے وہ سب اپنے ذاتی سیاسی مقاصد اور مفاد ات کو ملحوظ نظر رکھ کرہمیشہ جموں اور لداخ خطوں کے ساتھ استحصالی پالیسی اختیار کر تے رہے۔اسی استحصالی پالیسی کو دوام بخشنے کیلئے فاروق سرکار نے 2002ءمیں ریاست میں نئے سرے سے حد بندی کرانے کے پروگرام پر 2026ءتک روک لگاکے رکھ دی ہے۔حالانکہ پنتھر پارٹی کے سربراہ پروفیسربھیم سنگھ نے فاروق سرکار کے اس فیصلے کو غیر آئینی قرار دیکر اس کو کالعدم کرانے کی غرض سے ریاستی ہائی کورٹ میں چلینج کرنے کی کوشش بھی کی تھی۔ جب ریاستی ہائی کورٹ نے پٹیشن ھٰذا کوشنوائی کیلئے ایڈمٹ کرنے سے انکار کردیا تب جاکے بھیم سنگھ یہ معاملہ لیکر سپریم کورٹ میں چلے گئے۔اگرچہ سپریم کورٹ میں اس ایشو پر کئی برس تک شنوائی ہوتی رہی تاہم 2010ءمیں عدالت نے پٹیشن ھٰذا کو سرے سے ہی خارج کردیا ۔ سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے فاروق سرکار کی طرف سے حد بندی کی عمل آوری پر روک لگانے کے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ 2001ءمیں مرکزی سرکار نے آئین ہندکی دفعات (82)اور( 170 )کے تحت ملک میں نئے سرے سے مردم شماری کرانے تک نئی حد بندی کی عمل آوری پر روک لگادی تھی۔مرکزی سرکار کی طرف سے لئے گئے اسی فیصلے کی فاروق سرکار نے جموں و کشمیر رپرزنٹیشن آف پیپلز ایکٹ (57)کے سیکشن (3)47 کے تحت توثیق کردی تھی کیونکہ مرکزی سرکار کے کسی بھی فیصلے کا اطلاق ریاست جموں و کشمیر میں تب تک نہیں ہوپا تا جب تک کہ ریاستی سرکار اسکی توثیق نہیں کرتی ہے۔ ادھر این سی اور پی ڈی پی کے ساتھ ساتھ محمد یوسف تاریگامی حکیم محمد یاسین غلام حسن میراور انجینئر رشید کا ماننا ہے کہ بھلے ہی کشمیر خطہ رقبے کے لحاظ سے چھوٹا ہے لیکن یہ خطہ آبادی کے لحاظ سے ریاست کا سب سے بڑا خطہ ہے اور اسمبلی و پارلیمانی نشستوں کا تعین رقبے کے اعتبار سے نہیں بلکہ آبادی کے تباسب سے ہی کیا جاتا ہے ۔حکیم محمد یاسین نے مودی سرکار کی طرف سے روا رکھی جارہی جارہانہ پالسیوں پر زبردست تشویش کا اظہار کیا ہے۔
میرا بھی یہی ماننا ہے کہ پارلیمانی و اسمبلی حلقوں کا تعین آبادی کے لحاظ سے ہی کیا جارہا ہے۔ہندوستان کی جملہ ریاستوں میں بھی آبادی کا تناسب مد نظر رکھتے ہی پارلیمانی و اسمبلی حلقوں کا تعین کیا جاچکا ہے۔چناچہ رقبے کے لحاظ سے راجستھان بھارت کی سب سے بڑی ریاست ہے جبکہ آبادی کے اعتبار سے اُتر پردیش ملک کی سب سے بڑی ریاست ہے۔راجستھان میں کل (28)پارلیمانی حلقے ہیں جبکہ اُتر پردیش میں پارلیمانی حلقوں کی تعداد (80 )ہے۔اس طرح سے یہاں یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ان ریاستوں میں پارلیمانی حلقوں کا تعین رقبہ نہیں بلکہ آبادی کو ملحوظ نظر رکھتے ہوئے کیا جاچکاہے۔
یہاں پر ریاست کے اسمبلی حلقوں کی حد بندی کے حوالے سے قارئین کرام کو واقف کرانا میں ضروری سمجھتا ہوں ۔ہندوستان کے ساتھ الحاق کے بعد صدر ریاست ڈاکٹر کرن سنگھ کی ہداہت پر شیخ محمد عبداللہ کی سربراہی والی سرکار نے اسمبلی سیگمنٹوں کا تعین عمل میں لانے کیلئے یکم مئی 1951ءکو(75) ممبران پر مشتمل ایک با اختیار کمیٹی تشکیل دی تھی۔کمیٹی کی سربراہی ریاستی وزیر اعظم شیخ محمد عبداللہ از خود کر رہے تھے۔ صدر موصوف کی ہدایت پر ہر ایک اسمبلی سیگمنٹ کو کم و بیش چالیس ہزار ووٹوں پر مشتمل رکھا گیا۔ اس طرح سے پہلی حد بندی کے مطابق ریاست جموں وکشمیر کیلئے (75) نشستیں قائم کی گئیں جن میں آبادی کا تناسب ملحوظ نظر رکھتے ہوئے کشمیر خطے کے حصے میں (43) جموں خطے کے حصے میں (30) جبکہ لداخ صوبہ کے حصے میں (2 ) حلقے آئے ۔ 1993ءکے دوران ریاست میں نئی حد بندی عمل میں لائی گئی جس دوران اسمبلی حلقوں کی تعداد (87) تک بڑھادی گئی۔اس نئی حد بندی میں صوبہ جموں کو مزید (7) حلقے ملے صوبہ کشمیر کو صرف(3) جبکہ صوبہ لداخ میں مزید (2) اسمبلی حلقوں کا اضافہ کیاگیا۔
یہاں ایک اوربات میں واضح کردینا چاہتا ہوں کہ اگر ریاست جموں کشمیر میں نئے سرے سے حد بندی کرانا ناگزیر بن چکا ہے تو تینوں صوبوں میں آبادی کے تناسب سے ہی یہ عمل شروع کردینا چاہئے نہ کہ صرف دو خطوں جموں اور لداخ میں۔اگر ایسا کیا گیا تو وادی کشمیر میں حالات بد سے بدتر ین ہونے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔یہاں کے بچوں کو تشدد کا راستہ اختیار کرنے کیلئے جواز مل سکتا ہے۔ یہاں کے علیحدگی پسند جماعتوں اور حریت پسند عوام کو آزاد ی کی جنگ جاری رکھنے کیلئے میدان ہموار ہوسکتا ہے۔ اسلئے طاقت کے نشے میں نریندر مودی اور امت شاہ کو کوئی ایسا قدم اُٹھانے سے گریز کردینا چاہئے جس سے خرمن امن کو آگ لگنے کا احتمال پیدا ہوسکے۔ان دونوں رہنماﺅں کو ریاست جموں و کشمیر کے حوالے سے کوئی بھی قدم اُٹھانے سے قبل سو بار سوچنا اپنے اوپر لازم کردینا چاہئے۔
رابطہ: mushtaqshameem47@gmail.com
نوٹ : مضمون نگار سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں .
دنیا
افزودہ یورینیئم کے ذخائر اب بھی ایرانی جوہری تنصیبات میں موجود ہیں: سربراہ آئی اے ای اے
ویانا، اقوام متحدہ کے جوہری نگراں ادارے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے سربراہ رافیل گروسی نے کہا ہے کہ ممکنہ طور پر ایران کے افزودہ یورینیئم کے ذخائر اب بھی اس کی جوہری تنصیبات میں موجود ہیں، تاہم صورتِ حال کی حتمی تصدیق کے لیے معائنہ کاروں کی دوبارہ رسائی ضروری ہے۔
انہوں نے روسی خبر رساں ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ مجموعی تاثر یہی ہے کہ مواد اب بھی وہیں موجود ہے۔
رافیل گروسی کے مطابق حتمی تصدیق کے لیے ضروری ہے کہ معائنہ کار دوبارہ تنصیبات کا دورہ کریں، معائنہ کریں اور اس بات کی تصدیق کریں کہ تمام مواد اپنی جگہ موجود ہے۔
انہوں نے بتایا ہے کہ ادارے نے اسرائیلی اور امریکی حملوں کے بعد تنصیبات تک رسائی ختم ہونے سے قبل افزودہ یورینیئم کی کسی بڑی نقل و حرکت کا مشاہدہ نہیں کیا۔
رافیل گروسی کے مطابق اگرچہ جوہری تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا ہے اور بعض مقامات تک رسائی بھی محدود ہو چکی ہے، تاہم ادارے کا ابتدائی اندازہ پہلے کے معائنے اور سیٹلائٹ تصاویر پر مبنی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات
تہران، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات ہوئی ہے۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق فیلڈ مارشل اور ایرانی وزیر خارجہ کی ملاقات میں شہید سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی ایران کے لیے خدمات پر خراج عقیدت پیش کیا گیا ہے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، شہید آیت اللہ خامنہ ای کی آخری رسومات کے لیے تہران میں موجود ہیں۔
اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف اور عاصم منیر نے تہران میں شہید ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے تعزیتی اجتماع میں شرکت کی اور شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کو خراج عقیدت پیش کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف، عاصم منیر اور وفد کے ارکان نے فاتحہ خوانی بھی کی۔
وزیراعظم، فیلڈمارشل اور وفد کے ارکان نے ایرانی صدر اور دیگر عہدیداروں سے تعزیت کی۔
وفد میں نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ و دیگر شریک تھے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
وزیر اعظم مودی پیر سے انڈونیشیا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے چھ روزہ دورے پر روانہ ہوں گے
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی پیر سے انڈونیشیا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے چھ روزہ دورے پر روانہ ہوں گے۔
وزارت خارجہ میں سکریٹری (مشرقی امور) رودریندر ٹنڈن نے جمعہ کو یہاں ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ مسٹر مودی 6 سے 11 جولائی تک ان تینوں ممالک کے دورے پر رہیں گے۔ وہ 6 سے 8 جولائی تک انڈونیشیا، 8 سے 10 جولائی تک آسٹریلیا اور 10 سے 11 جولائی تک نیوزی لینڈ کا دورہ کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ انڈونیشیا میں وزیر اعظم کی اہم مصروفیات دارالحکومت جکارتہ میں ہوں گی۔ بعد ازاں وہ ثقافتی دارالحکومت یوگیاکارتا بھی جائیں گے اور پرمبانن مندر کا بھی دورہ کریں گے۔
مسٹر ٹنڈن نے کہا کہ گزشتہ سال انڈونیشیا کے صدر کے دورۂ ہند کے بعد ہونے والے اس دورے کے دوران مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے دائرہ کار کو مزید وسعت دینے پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دفاعی شعبے میں تعاون پر بھی بات چیت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ملاکا میں استحکام اور سلامتی کے حوالے سے انڈونیشیا کا اہم کردار ہے۔
مسٹر ٹنڈن نے کہا کہ اپنے دورے کے دوسرے مرحلے میں مسٹر مودی آسٹریلیا جائیں گے، جہاں وہ آسٹریلیا کے وزیر اعظم کے ساتھ تیسرے ہند-آسٹریلیا سربراہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔ دونوں رہنما اہم معدنیات، سائبر سکیورٹی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون پر تبادلۂ خیال کریں گے۔
مسٹر مودی میلبورن میں ایک کھیلوں کے پروگرام میں بھی شرکت کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ دورے کے تیسرے اور آخری مرحلے میں وزیر اعظم نیوزی لینڈ جائیں گے، جہاں وہ اپنے ہم منصب کے ساتھ دوطرفہ مذاکرات کریں گے۔ گزشتہ چالیس برس سے زیادہ عرصے میں کسی ہندوستانی وزیر اعظم کا یہ پہلا دورۂ نیوزی لینڈ ہوگا۔ اس سے قبل سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی 1986 میں نیوزی لینڈ گئے تھے۔
پریس کانفرنس میں موجود حکام نے سوالوں کے جواب میں بتایا کہ آسٹریلیا کے دورے کے دوران ہندوستانی طلبہ کے ویزوں اور مختلف تعلیمی کورسز کی بڑھتی ہوئی فیسوں کے معاملے پر بھی بات چیت ہونے کا امکان ہے۔
وزیر اعظم تینوں ممالک میں مقیم ہندوستانی برادری کے افراد سے بھی ملاقات کریں گے، ان سے خطاب کریں گے اور مختلف تقریبات میں شرکت کریں گے۔
یواین آئی۔ م س
ہندوستان5 days agoکھرگے نے راجیہ سبھا رکن کے طور پر پھر سے حلف لیا
دنیا1 week agoایران مذاکرات میں غیر معمولی رعایتیں دینے پر مجبور ہوگیا ہے: ٹرمپ کا دعویٰ
دنیا1 week agoہوسکتا ہے کہ میں جلد ہی ایسی خبر دوں کہ ترکیہ خوش ہو جائے:ٹرمپ
دنیا5 days agoمجتبیٰ خامنہ ای کا امریکہ اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کی قانونی کارروائی کا حکم
جموں و کشمیر1 week ago“لیفٹیننٹ گورنر کی پارلیمانی کمیٹی سے اہم ملاقات؛ لداخ کے ترقیاتی اور ماحولیاتی چیلنجز پر تفصیلی بریفنگ
ہندوستان7 days agoآپریشن سندور میں وزیرِ دفاع کے بیان کے تناظر میں کہی جا رہی باتیں گمراہ کن اور غلط: وزارتِ دفاع
دنیا4 days agoٹرمپ کے دباؤ سے لبنان میں اسرائیلی فوجی حکمت عملی تبدیل ہوئی: یسرائیل کاٹز
جموں و کشمیر7 days agoآمدنی سے زیادہ اثاثوں کا معاملہ: انسداد بدعنوانی بیورو نے سابق ایڈمنسٹریٹو کلرک کے اثاثے کئے ضبط
دنیا1 week agoایران نے اسرائیلی فوجی طیاروں کیلئے سخت انتباہ جاری کردیا
دنیا1 week agoامن کے فروغ کیلئے پاکستان کی کوششیں تہذیبی و ثقافتی روایات کی عکاس ہیں: ایرانی صدر
ہندوستان5 days agoزمین گھپلے کے مبینہ معاملے پر کانگریس کا مدھیہ پردیش کے وزیرِ اعلیٰ سے استعفیٰ کا مطالبہ
دنیا2 days agoایران کی اقوام متحدہ کو اسرائیل کی جانب سے سپریم لیڈر کو قتل کی کھلی دھمکی پر وارننگ



































































































