تازہ ترین
ویڈیو: وادی میں فورسز کی اضافی تعیناتی ؛آخر کیوں ؟

دنیا
جنگ ہو یا جنگ بندی، ایران اور حزب اللہ ایک ہیں:باقر قالیباف
تہران، ایران کے اسپیکر باقر قالیباف نے حزب اللہ کی بہادری اور مزاحمتی اتحاد کی یکجہتی کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے بدھ کے روز کہا کہ لبنان میں جنگ بندی ’’عظیم حزب اللہ اور محورِ مزاحمت کے اتحاد‘‘ کا نتیجہ ہوگی۔
قالیباف نے کہا کہ امریکہ کو ’’معاہدے کی پاسداری کرنی چاہیے‘‘، ان کا اشارہ ایران کے اس مؤقف کی طرف تھا کہ لبنان میں جنگ بندی گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں ہونے والے امن مذاکرات سے قبل واشنگٹن اور تہران کے درمیان ابتدائی معاہدے کا حصہ تھی۔
ایران نے کہا تھا کہ اگر جنگ بندی نہ ہوئی تو وہ مذاکرات میں حصہ نہیں لے گا، تاہم اس کے باوجود اس نے اعلیٰ سطح پر شرکت کی، جس کی قیادت خود قالیباف نے کی۔ اور اب وہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے ایک اور دور کی تیاری کر رہے ہیں۔
قالیباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا ’’چاہے جنگ ہو یا جنگ بندی ایران، حزب اللہ، حماس، یمن کے حوثی اور عراقی ملیشیا ایک ہی روح کی مانند ہیں۔‘‘
انھوں نے امریکہ سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ وہ ’’اسرائیل فرسٹ‘‘ کی پالیسی کی ’’غلطی‘‘ سے دست بردار ہو جائے۔ دریں اثنا، لبنان میں ایرانی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ نے آج صبح اسرائیل پر راکٹ حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ٹیلی گرام پر جاری بیان میں حزب اللہ نے بتایا مقامی وقت کے مطابق صبح 8 بج کر 45 منٹ پر اسرائیل کے شمالی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ علاقے لبنان کی سرحد کے قریب واقع ہیں۔
حزب اللہ نے مزید کہا یہ کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک ہمارے ملک اور ہمارے عوام کے خلاف اسرائیلی امریکی جارحیت بند نہیں ہو جاتی۔ اسرائیل کی جانب سے اس بیان پر تاحال کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔ دوسری طرف جنوبی لبنان میں امدادی کارکنوں پر اسرائیل کے تین مرحلوں پر مشتمل (ٹرپل ٹیپ) حملے میں 4 افراد ہلاک جب کہ متعدد دیگر زخمی ہو گئے۔ میفدون کے علاقے میں پیرامیڈکس اپنے زخمی ساتھیوں کو طبی امداد فراہم کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ اسی دوران اسرائیل کے لگاتار تین حملوں نے انھیں اور ان کی ایمبولینسوں کو نشانہ بنا لیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
دنیا کے لیے قابل بھروسہ سپلائی چین کو یقینی بنائیں گے ہندوستان اور آسٹریا: مودی
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ آسٹریا کے چانسلر کرسچین اسٹاکر کے دورہ ہند سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبے میں نئی توانائی آئے گی اور مختلف شعبوں میں آسٹریا کی مہارت اور ہندوستان کی رفتار و وسعت دنیا کے لیے قابل بھروسہ سپلائی چین کو یقینی بنائے گی دونوں ممالک دفاع، سیمی کنڈکٹر، کوانٹم اور بایو ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بھی اپنی شراکت داری کو مضبوط کریں گے۔ ہندوستان اور آسٹریا نے تعلیم کے شعبے میں تعاون کے لیے ایک مفاہمت نامہ پر دستخط کیے ہیں اور مائگریشن اینڈ موبلٹی ایگریمنٹ کو نرسنگ کے شعبے میں بھی آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ دونوں ممالک نے نوجوانوں کے تبادلے کے پروگرام کے تحت ہالی ڈے پروگرام شروع کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔
جناب مودی نے دورہ ہند پر آئے ہوئے جناب اسٹاکر کے ساتھ بات چیت کے بعد جمعرات کو یہاں مشترکہ پریس بیان میں کہا کہ ہندوستان-آسٹریا شراکت داری کو اختراع اور مستقبل کی ضروریات پر مبنی بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کا پختہ یقین ہے کہ فوجی تصادم سے مسائل کا حل ممکن نہیں اور ہم یوکرین اور مغربی ایشیا میں مستقل امن کے حامی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان اور آسٹریا دونوں ہی عالمی اداروں میں اصلاحات کے پرزور حامی ہیں اور دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہماری مشترکہ عہد بستگی ہے۔
جاری ۔ یواین آئی ۔ایف اے
ہندوستان
سپریم کورٹ نے لازمی ووٹنگ کے مطالبے والی عرضی خارج کر دی؛ کہا- شہریوں کو ووٹ دینے کے لیے مجبور نہیں کر سکتے
نئی دہلی، سپریم کورٹ نے جمعرات کو لازمی ووٹنگ نافذ کرنے کی ہدایت دینے کے مطالبے والی ایک مفاد عامہ کی عرضی کو خارج کر دیا عرضی گزار نے کہا تھا کہ جو لوگ ووٹ دینے سے انکار کرتے ہیں، انہیں سرکاری سہولیات سے محروم کر دینا چاہیے اور ان کے خلاف تعزیری کارروائی ہونی چاہیے عدالت نے اس پر سخت رخ اختیار کرتے ہوئے واضح کیا کہ انتخابات میں شرکت کو جابرانہ یا زبردستی کے اقدامات سے نافذ نہیں کیا جا سکتا۔
چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیہ باگچی اور جسٹس وپل پنچولی کی بنچ نے سماعت کے دوران کہا کہ جمہوریت میں شہریوں سے حق رائے دہی کے استعمال کی توقع کی جاتی ہے، لیکن کسی شخص کو ووٹ دینے کے لیے مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ عرضی گزار کے وکیل نے مشورہ دیا تھا کہ عدالت الیکشن کمیشن کو لازمی ووٹنگ کے لیے رہنما خطوط بنانے اور بغیر کسی معقول وجہ کے ووٹ نہ دینے والوں پر پابندی لگانے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت دے۔ اس پر چیف جسٹس نے تبصرہ کیا کہ حق رائے دہی کے بارے میں عوامی بیداری کی مہم چلائی جانی چاہیے، لیکن ہم اس کے لیے مجبور نہیں کر سکتے۔
عدالت نے عرضی کو خارج کرتے ہوئے کہا کہ اٹھائے گئے مسائل پالیسی سازی کے دائرے میں آتے ہیں اور ان پر متعلقہ قانون ساز اور انتظامی حکام (پارلیمنٹ اور حکومت) کے ذریعے غور کیا جانا ہی سب سے بہتر ہے۔ بنچ نے دہرایا کہ ووٹ دینا ایک آئینی حق اور جمہوری فریضہ ہے، لیکن اسے کسی پرمسلط نہیں جا سکتا۔
یواین آئی ۔ایف اے
جموں و کشمیر5 days agoلداخ کو آخرکار آدھار میں علیحدہ شناخت مل گئی، ‘ریاست’ کے خانے میں جموں و کشمیر کی جگہ لے لی
دنیا1 week agoمجتبیٰ خامنہ ای کی صحت سے متعلق تشویشناک دعویٰ، قیادت پر سوالات اٹھنے لگے
دنیا1 week agoایران میں کریک ڈاؤن تیز، مخالفین کے سہولت کاروں کے خلاف فوری فیصلوں کی ہدایت
ہندوستان7 days agoمغربی ایشیا کے بحران کے باعث عالمی بینک نے مالی سال 27 کے لیے ہندوستان کی شرح نمو کم کر کے 6.6 فیصد کر دی
دنیا1 week agoدنیا ایران کو آبنائے ہرمز عبور کرنے کے لیے ادائیگی قبول نہیں کرے گی: متسوتاکس
ہندوستان1 week agoہندوستان نے ایران میں مقیم اپنے شہریوں کو فوری طور پر ملک چھوڑنے کا مشورہ دیا
ہندوستان1 week agoہندوستان نے مغربی ایشیا میں جنگ بندی کا خیر مقدم کیا، مستقل امن کی اپیل
جموں و کشمیر1 week agoمنشیات کے کیس میں ملوث ہونے پر جموں و کشمیر میں خاتون پولیس اہلکار ملازمت سے برطرف
دنیا7 days agoایران کی پہلی 10 نکاتی تجویز مسترد، نئی تجاویز پر ایران اور پاکستان سے بات چیت ہورہی ہے: جے ڈی وینس
جموں و کشمیر3 days agoسوپور اسکول میں بدعنوانی کے الزامات، لیکچرر معطل
جموں و کشمیر1 week agoایل جی نے 11 اپریل سے شروع ہونے والی 100 روزہ ‘نشہ مکت جموں و کشمیر ‘ مہم کی تیاریوں کا جائزہ لیا
دنیا1 week agoایران سے دوبارہ جنگ کیلئے تیار ہیں: نیتن یاہو











































































































