تازہ ترین
بارہمولہ میں شراب کی بوتلیں ضبط

ایک شخص گاڑی سمیت گرفتار:پولیس
سرینگر: شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں پولیس نے ایک گاڑی سے شراب کی بوتلیں ضبط کر لی ہے۔اس دوران پولیس نے گاڑی ضب کر کے ایک شخص کی گرفتاری عمل میں لائی ہے۔
کشمیر نیوز سروس(کے این ایس) کے مطابق شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں پولیس نے بدھ کے روز ایک شخص کو گرفتار کرکے اس کے قبضے سے بھاری مقدار میں شراب کی بوتلیں برآمد کیں۔پولیس نے بتایا کہ بارہمولہ کے کرلہار میں ناکا چیکنگ کے دوران پولیس نے ایک نجی گاڑی نمبرJK02As/4308 کو روک کر اس کی تلاشی لی۔
اس موقعہ پر گاڑی سے بھاری مقدار میں شراب کی گئی۔پولیس نے اس سلسلے میں ایک شخص کو گرفتارکرلیا۔پولیس نے گرفتار شدہ کی شناخت سید طفازور حسین ساکن گنگل اوڑی کے طور کرکے معاملہ درج کرلیا۔
دنیا
امریکی اشارہ ملتے ہی ایران کے خلاف جنگ اور نئے سپریم لیڈر کو نشانہ بنائیں گے: اسرائیل
تل ابیب، اسرائیل نے امریکہ کی طرف سے اشارہ ملتے ہی ایران پر دوبارہ حملے شروع کرنے اور نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کو نشانہ بنانے کا اعلان کر دیا۔
ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے ایک سکیورٹی جائزے کیلیے منعقدہ اجلاس کے دوران کہا کہ ایران کے خلاف دوبارہ جنگ شروع کرنے کیلیے تیار ہیں، نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای اور ایرانی توانائی کے مراکز کو نشانہ بنانے کیلیے امریکہ کی جانب سے گرین سگنل کا انتظار ہے۔
اسرائیل کاٹز نے کہا کہ اسرائیلی دفاعی افواج دفاع اور حملے دونوں کیلیے تیار ہیں اور اہداف کا تعین کر لیا گیا ہے۔ ’امریکہ کی جانب سے گرین سگنل کے منتظر ہیں تاکہ سب سے پہلے خامنہ ای خاندان کا خاتمہ کیا جا سکے جو اسرائیل کے خلاف تباہی کے منصوبے کا محرک ہے اور ایرانی حکومت کی قیادت کے جانشینوں کو ختم کیا جا سکے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران کے مرکزی توانائی اور بجلی کے مراکز کو اڑا کر اور قومی معاشی ڈھانچے کو تباہ کر کے اسے تاریکی اور پتھر کے دور میں واپس دھکیل دیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس بار حملہ مختلف اور مہلک ہوگا اور انتہائی حساس مقامات پر تباہ کن ضربیں لگائی جائیں گی، یہ ان بڑے حملوں کے تسلسل میں ہوگا جو ایرانی حکومت پہلے ہی برداشت کر چکی ہے جس سے اس کی بنیادیں ہل جائیں گی اور وہ منہدم ہو جائے گی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
پہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی

اپریل 2025 کے بائیسرن حملے کے بعد سیاحت میں نمایاں کمی
پہلگام، 23 اپریل — وادی کشمیر کا خوبصورت سیاحتی مقام پہلگام، جو عام طور پر موسمِ بہار میں سیاحوں سے بھرا رہتا تھا، اس سال ایک غیر معمولی خاموشی کا شکار ہے۔ 22 اپریل 2025 کو یہاں کے مشہور سیاحتی مقام بائیسرن میں ہونے والے حملے کے بعد سیاحوں کی آمد میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جس کے باعث سڑکیں سنسان، ہوٹل آدھے خالی، اور سیاحت پر انحصار کرنے والے سیکڑوں افراد شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔
واضح رہے کہ 22 اپریل 2025 کو ہونے والے دہشت گردانہ حملے میں 26 افراد جان بحق ہوئے تھے، جن میں زیادہ تر غیر مقامی سیاح شامل تھے۔
پہلگام کے دورے کے دوران مقامی سیاحتی شعبے کی ایک تشویشناک تصویر سامنے آئی۔ وہ پرکشش سڑکیں، جو عام طور پر سیاحوں کی گاڑیوں اور ہلچل سے بھرے بازاروں سے جانی جاتی تھیں، اب بڑی حد تک ویران اور مایوس کن نظر آ رہی تھیں۔ ہوٹل مالکان نے نہ ہونے کے برابر بکنگ کی اطلاع دی، ٹیکسی اڈوں پر زیادہ تر گاڑیاں خالی کھڑی تھیں، جبکہ گھوڑوں کے مالکان اور چلانے والے بے چینی سے گاہکوں کا انتظار کر رہے تھے۔
بہت سے مقامی افراد کے لیے سیاحت محض ایک موسمی کاروبار نہیں بلکہ ان کی زندگی کا سہارا ہے۔
انہی میں گھوڑا بان عبداللہ بھی شامل ہے، جو گھوڑا اڈے کے قریب خاموشی سے بیٹھا گاہکوں کا منتظر تھا، مگر کوئی آتا دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ بڑے خاندان کی کفالت اور شادی کی عمر کو پہنچتی بیٹیوں کے باعث وہ شدید فکرمند دکھائی دیا۔
“اس موسم میں سیاح بہت کم ہیں۔ ہم انہی چند مہینوں میں کام کر کے سال بھر کے اخراجات پورے کرتے ہیں۔ اگر سیاح نہیں آئیں گے تو ہم شادیوں، تعلیم اور گھریلو اخراجات کیسے چلائیں گے؟” اس نے سوال اٹھایا۔
اس کی پریشانی وادی میں پیدا ہونے والے وسیع تر بحران کی عکاسی کرتی ہے۔
گاڑی چلانے والے محمد شفیع اور غلام محمد بھی دیگر ڈرائیوروں کی طرح اڈے پر بے بسی سے انتظار کرتے نظر آئے۔ ان کی گاڑیاں کئی دنوں سے بغیر کسی بکنگ کے کھڑی ہیں۔
محمد شفیع نے کہا، “ہمارے ذمے قرضے اور ماہانہ قسطیں ہیں۔ سیاحوں کے بغیر ہر گزرتا دن ہمارے لیے مزید پریشانی کا باعث بنتا ہے۔ باہر کے لوگ سمجھتے ہیں کہ حالات معمول پر ہیں، مگر زمینی حقیقت مختلف ہے۔”
غلام محمد نے بھی اسی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بہت سے ڈرائیور اب ایندھن اور دیکھ بھال کے اخراجات پورے کرنے کے لیے بھی جدوجہد کر رہے ہیں۔
مایوس کن ماحول کے باوجود چند سیاح بھی نظر آئے۔ ایک چھوٹے گروپ کو گھوڑوں کی سواری سے لطف اندوز ہوتے دیکھا گیا، جو امید کی ایک جھلک پیش کر رہا تھا۔
کیرالہ سے آئے ایک سیاح نے کہا کہ وہ اور ان کی اہلیہ کشمیر میں خود کو محفوظ محسوس کرتے ہیں اور سیکورٹی اہلکاروں کی کوششوں کو سراہتے ہیں۔
“ہم یہاں محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔ حفاظتی انتظامات اچھے ہیں اور مقامی لوگ خوش آمدید کہتے ہیں۔ تاہم اس بار موسم کافی سخت رہا ہے۔ اپریل میں غیر معمولی بارش اور سردی ہماری توقع سے کہیں زیادہ ہے،” انہوں نے کہا۔
ان کی اہلیہ نے بھی اس بات سے اتفاق کیا کہ اگرچہ حفاظتی خدشات قابو میں ہیں، لیکن غیر موسمی بارش نے ان کے سفری منصوبوں کو متاثر کیا ہے۔
سیاحت سے وابستہ افراد کا ماننا ہے کہ صرف حفاظتی خدشات ہی نہیں بلکہ دیگر عوامل بھی سیاحوں کی کم آمد کا سبب بنے ہیں۔
ایک مقامی ہوٹل مالک گورپریہ کور نے بتایا کہ حکومت نے سیاحت کو بحال کرنے کے لیے سرمائی اور بیساکھی تہواروں کا انعقاد کیا، تاہم ان کا اثر محدود رہا۔
انہوں نے کہا، “تہوار توجہ ضرور حاصل کرتے ہیں، مگر ایسے واقعات کے بعد لوگ سفر کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔ اعتماد بحال ہونے میں وقت لگتا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ کشمیر میں طبی سیاحت کے بے پناہ امکانات موجود ہیں، جو ابھی تک پوری طرح استعمال نہیں کیے گئے۔
“ہماری آب و ہوا اور قدرتی خوبصورتی کے ساتھ، اگر صحت کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنایا جائے تو کشمیر صحت مند سیاحت کا ایک اہم مرکز بن سکتا ہے۔ ہمیں سیاحت کے شعبے کو مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے،” انہوں نے کہا۔
مقامی دکاندار عبدالمجید نے بائیسرن اور چندن واری جیسے اہم مقامات کی بندش کو سیاحوں کی کمی کی بڑی وجہ قرار دیا۔
“جب اہم سیاحتی مقامات بند ہوں تو لوگ کم ہی آتے ہیں۔ دکانوں میں گاہک نہیں ہوتے، رہنماؤں کے پاس کام نہیں ہوتا، اور گھوڑا مالکان بیکار بیٹھے رہتے ہیں—یعنی ہر کوئی متاثر ہوتا ہے،” انہوں نے کہا۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ حفاظتی جائزے کے بعد ان مقامات کو دوبارہ کھولا جائے۔
“ہم حفاظتی اقدامات کی اہمیت کو سمجھتے ہیں، مگر مکمل بندش سے سب سے زیادہ نقصان غریب لوگوں کو ہوتا ہے۔ حکومت کو متوازن حل تلاش کرنا چاہیے۔”
ادھر حکام کا کہنا ہے کہ کشمیر میں حالات معمول پر اور قابو میں ہیں۔ حفاظتی انتظامات کو مزید مضبوط بنایا گیا ہے اور سیاحوں کا اعتماد بحال کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
تاہم، پہلگام کی زمینی حقیقت ایک مختلف کہانی بیان کرتی ہے۔
کشمیر میں سیاحت، خاص طور پر پہلگام جیسے علاقوں میں، نہایت حساس شعبہ ہے۔ ایک واقعہ بھی ہزاروں خاندانوں کے لیے طویل معاشی مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔
یہاں کے لوگوں کے لیے سیاحت صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ اسکول فیس، شادی کے اخراجات، قرض کی ادائیگی اور روزمرہ ضروریات سے جڑی ہوئی ہے۔
جیسے جیسے سیاحتی موسم آگے بڑھ رہا ہے، مقامی لوگ امید کر رہے ہیں کہ سیاح دوبارہ واپس آئیں گے۔
لیکن فی الحال پہلگام میں خاموشی کسی بھی سرکاری یقین دہانی سے زیادہ بلند آواز میں سنائی دے رہی ہے۔
جب تک اعتماد مکمل طور پر بحال نہیں ہوتا، خالی سڑکیں اور پریشان چہرے اس جنتِ بے نظیر میں بگڑتے ہوئے حالات کی اصل قیمت بیان کرتے رہیں گے۔
دنیا
اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی میں تین ہفتوں کی توسیع
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو اعلان کیا ہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی میں تین ہفتوں کی توسیع کر دی گئی ہے۔ یہ فیصلہ وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں صدر ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو، اسرائیل کے لیے امریکی سفیر مائیک ہکابی، لبنان کے لیے امریکی سفیر مشیل عیسیٰ اور اسرائیل و لبنان کے کئی اعلیٰ سطح کے نمائندوں کے درمیان ہونے والی ایک ملاقات میں کیا گیا۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اس حوالے سے بتایا کہ “ملاقات بہت کامیاب رہی۔”
انہوں نے کہا کہ امریکہ لبنان کے ساتھ مل کر کام کرے گا تاکہ اسے حزب اللہ سے محفوظ رہنے میں مدد دی جا سکے۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ مستقبل قریب میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور لبنانی صدر جوزف عون کی میزبانی کے منتظر ہیں، تاہم انہوں نے اس ملاقات کے لیے کسی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا۔
یو این آئی۔ ایم جے
دنیا7 days agoدشمن ایرانی قوم کو جھکانے کی حسرت اپنے ساتھ قبر میں لے جائیں گے: ایرانی آرمی چیف
جموں و کشمیر1 week agoجموں کشمیر: کالج پکنک پر جا رہی 20 سالہ لڑکی بس سے گر کر ہلاک
دنیا4 days agoمیناب اسکول کے شہید بچوں کے والدین کا پوپ لیو کو خط
دنیا7 days agoٹرمپ کا دماغی توازن ٹھیک نہیں، عہدے کے قابل نہیں رہے:س یاسمین انصاری
جموں و کشمیر1 week agoبارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا
دنیا7 days agoضرورت پڑنے پر طاقت کا استعمال کیا جائے گا، پیٹ ہیگسی
دنیا7 days agoاسرائیل پر قدرت کا قہر، شہد کی مکھیوں کے جھنڈ کا حملہ
دنیا1 week agoاسرائیل کا ایران و لبنان میں جنگ جاری رکھنے کا اعلان، فوج مکمل تیاری کے ساتھ ہائی الرٹ پر : اہداف تیار
دنیا1 week agoامریکی سینیٹ نے ایران پر مزید حملوں کی اجازت کی قرارداد مسترد کردی
دنیا1 week ago’’اگر میں امریکہ کا صدر نہ ہوتا تو دنیا ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتی‘‘
دنیا3 days agoایرانی یورینیم کی بازیابی طویل اور مشکل ہوگی: ٹرمپ
جموں و کشمیر3 days agoایک سال بعد بھی بائیسرن چراگاہ بدستور بند








































































































