اہم خبریں
پلہالن: نئی منزلوں کی طرف سرگرداں


تصویر: اشفاق وانی
مصنف: منظور پنڈت
سرینگر کے شمال میں بتیس کلو میٹر کے فاصلے پر بارہمولہ جانے والی سڑک کے دائیں طرف پلہالن واقع ہے۔
38 ہزار نفوس پر مشتمل پلہالن چھ پنچائت حلقوں پر مشتمل ہیں جسے سن2004میں مفتی محمد سعید کے وقت ”ماڈل ولیج“ کا درجہ دیا گیا۔گاؤں والوں کے مطابق ماڈل ولیج کے نام پر گاؤں کے باہر ایک عدد بورڈ لگایا گیا اور کچھ باہری سڑکوں کی مرمت کی گئی اور بس کچھ نہیں! البتہ 2010میں مژھل میں مبینہ طور پر فوج کے ہاتھوں ہلاک ہوئے نوجوانوں پرجب سارا کشمیر بپھر گیاتو پلہالن اس ایجی ٹیشن کا مرکز بن گیا اور یہ علاقہ سرخیوں میں آگیا۔ پلہالن میں 45دنوں تک کرفیو نافذ رہا۔یہ کشمیر میں کسی علاقے میں اْس وقت تک سب سے زیادہ دیر تک نافذکرفیو کا ریکارڈ ہے۔اس دوران روز پتھراؤ ہوتا تھا اور اْس کا جواب سکیورٹی فورسز آنسو گیس۔پیلٹ اور فائرنگ سے دیتی۔حالات بے حد خراب تھے۔
کرفیو ختم ہونے کے بعد جو بھی رپورٹر اس علاقے میں آیا ۔اْس نے وہاں جو کچھ دیکھا وہ بے حد ڈراؤنا تھا کوئی بھی چیز صحیح سلامت نہیں تھی۔گاؤں کے بیشتر نوجوان پیلٹ چھروں کا شکار ہوئے تھے۔بزرگ پریشانی میں مبتلا تھے حالات بد سے بد تر ہورہے تھے لوگوں میں بے انتہا غصہ تھا۔جو کبھی بھی پھٹ سکتا تھا۔
جلد ہی یہ موقع بھی ملا جب 2016میں برہان وانی کی موت کے بعد سارا کشمیر جل اٹھا۔برہان وانی کشمیر کی ملیٹنسی کا پوسٹر بوائے تھا۔ تب سے بھی پانچ سال بیت چکے ہیں۔ان سالوں میں پلہالن میں بہت کچھ بدل گیا ہے۔آج پلہالن کی تصویر مختلف رنگوں سے مزین ہیں اور تب سے جہلم سے کافی پانی بہہ چکا ہے۔سڑک کے ایک طرف کھیل کا میدان اس بات کا گواہ ہے کہ یہاں تبدیلی کی بہار آچکی ہے۔ سات سالہ ننھا ’حیان پرویز‘روز یہاں اپنے والد جوکہ مقامی اسکول میں اْستاد ہے کے ساتھ کرکٹ کی پریکٹس کے لئے آتے ہیں۔
اور جو بھی حیان کو کھیلتے دیکھتا ہے وہ اْس کے فٹ ورک،شارٹ سلیکشن اور انداز سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا ہے اور جب حیان خود اعتمادی سے کہتا ہے کہ اْسے بڑے ہو کر کرکٹر بننا ہے اور پلہالن کا نام روشن کرنا ہے تو امید کی کرن نظر آتی ہے۔ میدان کی دوسری طرف نوجوانوں کا ایک ٹولہ فٹ بال کھیلنے میں مصروف نظر آتا ہے جبکہ کچھ فاصلے پر کئی بیڈمنٹن کے کورٹ میں شارٹ کھیلنے کی مشق بہم پہونچارہے ہیں۔
اس میدان کی ساتھ والی سڑک کے کنارے لوگ اپنے اپنے کاموں میں مگن ہیں کوئی دھان کے کھیتوں میں کام کر رہا ہے۔تو کوئی سبزیوں کو پانی فراہم کررہا ہے کوئی ریڈی پر کھاد کھیتوں پر پہونچا رہا ہے دکاندار گراہک کے انتظار میں ہے۔ غرض گہماگہمی کا ماحول ہے جو کہ ایک نارمل گاؤں میں نظر آتا ہے ۔لیکن باہر سے نظر آنے والی خوبصورت تصویر کے پیچھے بہت کچھ ہے ستائیس سالہ پوسٹ گریجوٹ اور upscامتحان کی تیاری کررہے اشفاق احمد کہتے ہیں انہوں نے اپنی آنکھوں سے پلہالن کی بدلتی تصویریں دیکھی ہیں۔اْن کے مطابق پلہالن نے پچھلے دس سالوں میں بے انتہا مشکلات کا سامنا کیا۔
لیکن ہمیں مثبت سوچ کے ساتھ علاقے کے لوگوں کی ترقی کے لئے کام کرنا چاہئے۔یہاں پر نوجوانوں کو رہنمائی کی اشد ضرورت ہے اور بہتر زندگی کے حصول کے لئے ایک دوسرے کی مدد کرنی چاہئے۔اشفاق احمد سلجھے خیالات کے مالک نوجوان ہے وہ نوجوانوں کو منشیات کی لعنت سے بچانا چاہتے ہے اْن کے الفاظ میں ”ہم ایک نسل کو 1990 میں ملیٹنسی کی وجہ سے کھو چکے ہیں اب ہم ایک اور پود کو کھونے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔
اْن کے مطابق نوجوانوں کو کریئر،سپورٹس،پڑھائی اور کاروبار پر توجہ دینی چاہیے۔ اس کے باوجود کہ پلہالن بارہمولہ کا سب سے بڑا گاؤں ہے۔ اس کی کوئی سیاسی حیثیت نہیں ہے علاقہ میں سکیورٹی کے شعبے میں کام کرنے والے ایک افسر نے نام نہ بتانے کی شرط پر کہا کہ یہ علاقہ آج بھی ترقی سے کوسوں دور ہے اور مقامی انتظامیہ نے اسے نظر انداز کردیا۔ جس سے یہاں کے لوگ حکومت سے نااْمید ہوگئے اس نااْمیدی کا فائدہ علیدگی پسندوں نے اْٹھایا۔جگ ظاہر ہے کہ 1990 سے پہلے ہی اس علاقے میں جماعت اسلامی کا کافی اثررسوخ رہا ہے ۔سید صلاح الدین اور مقامی کارکن احسن ڈار نے جماعت اسلامی کے افکار اس علاقے میں پھیلایئے اور جب صلاح الدین عسکریت پسند بن کر پاکستانی انتظام والے کشمیر چلے گئے تب اْن کے نائب احسن ڈار نے پلہالن سے اپنی سرگرمیاں جاری رکھی اس کے نتیجے میں یہاں پر جماعت اسلامی کے خیالات کافی مقبول ہوئے۔
ایک طبقہ میں ابھی بھی اْن کے کاز سے ہمدردی ہے۔ یہ انہی خیالات کا نتیجہ تھا کی نوجواں روز سڑکوں پر نکل کر ’لا اینڈ آرڈر‘ کے حالات بگاڑتے ہیں۔ پلہالن ذراعت کے لحاظ سے بہتر حالت میں ہے ۔دھان کی کھیتی کے ساتھ ساتھ سبزیوں کی کاشت بھی بڑے پیمانے پر ہوتی ہے باغات سے علاقے کو مالی طور پر کافی فائدہ ملتا ہے پلہالن میں آبادی کا چالیس فیصد حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے اور ان میں سات سو گریجوٹ بھی شامل ہیں۔لوگوں کو گِلا ہے کہ انتظامیہ اْن کی مدد کے لئے آگے نہیں آرہی ہے اور انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا گیا ۔البتہ سکیورٹی ایجینسیوں اور مختلف حکومتی اداروں نے یہاں کے حالات کو بہتر بنانے کی کوششیں کیں ۔اور اس سلسلے میں ای۔ڈی۔آئی کی خدمات حاصل کی گئی جس نے یہاں کے نوجوان مردو زن کے لئے مختلف تربیتی کورسز کا اہتمام بھی کیا۔ایک چھوٹا موٹا فٹنس کلب بھی قائم کیا۔کھیل کے میدان کی بہتری کے لئے بھی کچھ کام کیا۔سڑکوں کی مرمت کی گئی۔
پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں کو مقامی نوجوانوں کو تنگ نہ کرنے کی ہدایت کی گئی لیکن مقامی نوجوانوں کی شکایت ہے کہ انتظامیہ اور اْن سے وابستہ ادارے ابھی بھی پلہالن سے بھید بھاؤ قائم رکھے ہوئے ہیں اور سکیورٹی کے نام پر لوگوں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ ابھی بھی جاری ہے جب پلہالن کے لوگ بدل گئے ہیں تو سکیورٹی ایجنسیز کو بھی بدلنے کی ضرورت ہے۔ لوگوں کوگِلا ہے کہ یہاں پر ترقی کے نام پر کچھ بھی نہیں ہو رہا ہے حکومت کی مختلف اسکیموں کا فائدہ یہاں کے لوگوں تک جان بوجھ کر نہیں پہونچایا جارہا ہے حتی کہ علاقے میں علاج و معالجے کے لئے اسپتال تک نہیں ہے۔ پولیس نے ہمارے نمایئندے کو بتایا کہ علاقے میں اب کوئی عسکریت پسند موجود نہیں ہے لیکن وہ ابھی بھی اس راستے کو استعمال کرتے ہیں۔کیونکہ لوگوں میں ابھی بھی ان کے لئے ہمدردی کا عنصر موجود ہے اْن کے مطابق پلہالن میں نوجوانوں کے آگے بڑھنے کے کافی مواقع موجود ہیں۔کئی سال پہلے پلہالن کے نوجوانوں نے Green and clean palhalan initiativeکے تحت ہزروں درخت لگاکر مثال قائم کی۔ اس گروپ نے علاقے کی سڑکوں،اسکولوں،گورنمنٹ اداروں کی صفائی پر توجہ مرکوز کی۔اْن کے اس جذبے کو وادی کے دوسرے حصوں میں بھی اپنایا گیا اور اْن کے کام کی عوامی حلقوں میں کافی سراہنا ہوئی اور پلہالن کے یہ نوجوان سبھی کے لئے ایک مثال بن گئے۔
آہستہ آہستہ ڈگر پر آنے والے پلہالن کی کہانی کوئی عام کہانی نہیں ہے یہ کہانی ہے لوگوں کے جوش و جذبے کی،بے پناہ جذبات کی، دکھ درد کی اور اس سب کو پیچھے چھوڑ کر ایک نیا پلہالن تعمیر کرنے کی۔جذبے جب صادق ہوں تو خوابوں کو تعبیر ملنے میں دیر نہیں لگتی۔
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا

بارہمولہ کے بوائز ہائر سیکنڈری اسکول میں جمعرات کے روز منشیات سے متعلق ایک بیداری پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ یہ پروگرام نشہ مکت بھارت ابھیان کے تحت سول ڈیفنس بارہمولہ کی جانب سے، ایس ڈی آر ایف/ڈیزاسٹر رسپانس ڈویژن بارہمولہ کے تعاون سے منعقد ہوا۔
اس پروگرام میں گیارہویں اور بارہویں جماعت کے طلبہ کی بڑی تعداد نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی، جو نوجوانوں میں منشیات کے استعمال اور اس کے نقصانات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی آگاہی اور تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔ پروگرام کا آغاز ایک تعارفی نشست سے ہوا جس میں مقامی اور قومی سطح پر منشیات کے بڑھتے رجحان، اہم خطراتی عوامل اور بروقت روک تھام کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔
ماہرین کی ٹیم میں ڈاکٹر بالی (ڈویژنل وارڈن، سول ڈیفنس بارہمولہ)، محترمہ روحیلا (سینئر سائیکالوجسٹ)، جناب عابد سلیم (کلینیکل سائیکالوجسٹ) اور جناب ایوب (سیکٹر وارڈن، سول ڈیفنس) شامل تھے۔ ان ماہرین نے طلبہ کو منشیات کے جسمانی، نفسیاتی اور سماجی اثرات سے آگاہ کیا اور بروقت بیداری اور احتیاطی تدابیر کی اہمیت پر زور دیا۔
اس پروگرام کا مقصد طلبہ کو منشیات کی بڑھتی ہوئی وبا کے خطرات سے آگاہ کرنا، انہیں معلومات سے بااختیار بنانا اور ایک منشیات سے پاک معاشرے کی تعمیر میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دینا تھا۔
اپنے بیان میں ڈاکٹر عنایت میر، چیف وارڈن سول ڈیفنس بارہمولہ، نے کہا کہ منشیات کی لت کو جو روایتی طور پر ایک صحت عامہ کا مسئلہ سمجھا جاتا تھا، اب ایک سنجیدہ سماجی، تزویراتی اور قومی سلامتی کے چیلنج کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر سرحدی اور حساس علاقوں میں ابھرتے رجحانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ منشیات کا پھیلاؤ محض اتفاقی نہیں بلکہ ایک منظم حکمت عملی کے تحت معاشروں کو اندر سے کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جو ہائبرڈ جنگ کا حصہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ منشیات کے منظرنامے میں تبدیلی فردی مسئلے سے بڑھ کر اجتماعی کمزوری کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ نوجوانوں کی صلاحیتوں کا زوال، سماجی ڈھانچے کی کمزوری اور انسانی کمزوریوں کا استعمال اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ معاشرتی استحکام کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس تناظر میں منشیات کا پھیلاؤ ایک ایسا ہتھیار بن چکا ہے جو کم نظر آتا ہے مگر اس کے اثرات انتہائی گہرے ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر میر نے زور دیا کہ منشیات کی لت کو صرف طبی مسئلہ سمجھنے کے بجائے ایک سماجی اور تزویراتی خطرہ سمجھا جائے جس کے لیے فوری اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قوم کی طاقت صرف اس کی سرحدوں میں نہیں بلکہ اس کے معاشرے کی صحت، مضبوطی اور یکجہتی میں ہوتی ہے۔ نوجوانوں کا تحفظ، سماجی ہم آہنگی کا فروغ اور منشیات کے نیٹ ورکس کا خاتمہ قومی سلامتی کے اہم تقاضے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ خاموش وبا ایک مستقل خطرے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
پروگرام کے اختتام پر طلبہ اور ماہرین کے درمیان ایک باہمی تبادلہ خیال ہوا، جس میں اجتماعی ذمہ داری، باشعور فیصلے اور نوجوانوں کی فعال شرکت کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
اہم خبریں
عالمی توانائی بحران کے خدشات کے باوجود دہلی کے گردواروں میں لنگر کی روایت جاری

امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور عالمی توانائی بحران کے باعث شہر میں کُکنگ گیس کی قلت کے خدشات بڑھنے کے باوجود دہلی کے گردواروں نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کے لنگر خانے چوبیس گھنٹے جاری رہیں گے اور صدیوں پرانی لنگر کی روایت کسی بھی صورت میں متاثر نہیں ہونے دی جائے گی۔
قومی دارالحکومت کے اہم گردواروں، جن میں گردوارہ رکاب گنج صاحب، گردوارہ بنگلا صاحب اور گردوارہ سیس گنج صاحب شامل ہیں، کے کمیونٹی کچن ہر ہفتے تقریباً 40 ہزار افراد کو کھانا فراہم کرتے ہیں جبکہ ہفتے کے آخر میں یہ تعداد ایک لاکھ سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ ان گردواروں کی انتظامیہ اور رضاکاروں نے فیصلہ کیا ہے کہ لنگر سیوا مسلسل جاری رکھی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے گیس کے استعمال میں احتیاط، پائپ لائن گیس کی فراہمی اور ہنگامی منصوبہ بندی جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ کوئی بھی زائر بھوکا واپس نہ جائے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کمرشل ایل پی جی سلنڈروں کی کمی کے باعث شہر کے کئی ہوٹل اور ریستوران اپنے کام بند کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں جبکہ متعدد دیگر بندش کے دہانے پر ہیں۔
خبر رساں ایجنسی یو این آئی (UNI) سے بات کرتے ہوئے گردوارہ حکام نے یقین دلایا کہ سپلائی میں مشکلات کے باوجود لنگر میں کھانے کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے گی۔
گردوارہ انتظامیہ کے رکن ہرمیّت سنگھ کالکا نے بتایا کہ گردواروں کے کچن پائپ نیچرل گیس (PNG) کی پائپ لائن سے منسلک ہیں، اس لیے فی الحال ایندھن کی کوئی فوری کمی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا:
“جب کووڈ-19 کے دوران پوری دنیا بند تھی، تب بھی ہم نے تمام انتظامات سنبھالے اور اس وقت بھی لنگر سیوا چوبیس گھنٹے جاری رکھی۔ مارچ کے آخر اور اپریل میں ہمارے دو بڑے پروگرام بھی طے ہیں جن میں بیساخی بھی شامل ہے۔”
کالکا نے مزید بتایا کہ اگرچہ کچن پائپ نیچرل گیس پر چل رہے ہیں، لیکن احتیاط کے طور پر کمرشل گیس سلنڈروں کا ذخیرہ بھی رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا:
“تمام انتظامات کے باوجود ہم نے سیواداروں کو ہدایت دی ہے کہ وسائل کا ضیاع نہ ہو۔ ہم ہر چیز کو بہتر طریقے سے سنبھال رہے ہیں اور ابھی تک کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔”
احتیاطی اقدام کے طور پر گردوارہ انتظامیہ نے وزارتِ پٹرولیم و قدرتی گیس کو بھی خط لکھا ہے تاکہ گیس سلنڈروں کی فراہمی بلا تعطل جاری رکھی جا سکے اور لنگر سیوا میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کے نام لکھے گئے خط میں کالکا نے کہا کہ دہلی سکھ گردوارہ مینجمنٹ کمیٹی کے زیر انتظام تمام تاریخی گردواروں میں روزانہ عقیدت مندوں کو لنگر پیش کیا جاتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے:
“دنیا میں موجودہ جنگی صورتحال کے باعث گیس ایجنسیوں کی جانب سے سلنڈروں کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے جس سے گردواروں میں لنگر کی تقسیم متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔”
انہوں نے وزارت سے اپیل کی کہ ڈی ایس جی ایم سی (DSGMC) کو گیس سلنڈروں کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ تاریخی گردواروں میں لنگر کی روایت بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہ سکے۔
(مصنف: پرویندر سندھو)
تازہ ترین
خامنہ ای کی مبینہ شہادت: کشمیر میں ریلیاں، ایم ایم یو کی مکمل ہڑتال کی کال

سری نگر، یکم مارچ: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی مبینہ شہادت کے بعد اتوار کو وادی کشمیر کے مختلف علاقوں میں اسرائیل مخالف مظاہرے پھوٹ پڑے۔ شیعہ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے اور ایران میں مبینہ مشترکہ امریکا–اسرائیل حملے کے خلاف احتجاج کیا۔

سری نگر کے تاریخی گھنٹہ گھر کے سامنے بڑی تعداد میں مظاہرین جمع ہوئے۔ شرکاء نے آیت اللہ خامنہ ای کی تصاویر، ایرانی پرچم اور سرخ، سیاہ و زرد بینرز اٹھا رکھے تھے۔ مرد و خواتین نے امریکا اور اسرائیل مخالف نعرے بازی کی اور ایران کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
اسی طرح سونہ وار میں اقوامِ متحدہ کے دفتر کے باہر بھی احتجاجی دھرنا دیا گیا۔ بدگام اور سری نگر کے دیگر شیعہ اکثریتی علاقوں میں بھی اسی نوعیت کی ریلیاں نکالی گئیں۔
مقررین نے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای، جو 1980 کی دہائی میں سری نگر کا دورہ کر چکے تھے، کشمیر کے شیعہ مسلمانوں میں خاص احترام رکھتے تھے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق حملے میں ان کے اہلِ خانہ بھی جاں بحق ہوئے۔
صدر نیشنل کانفرنس اور سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے واقعے کو خطے کے امن کے لیے تشویشناک قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے بردباری کی اپیل کی۔

وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر عمر عبداللہ نے ایران کی صورتحال پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے عوام سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا:
“ہمیں یقینی بنانا ہوگا کہ جموں و کشمیر میں سوگ منانے والوں کو پُرامن انداز میں غم منانے دیا جائے۔ پولیس اور انتظامیہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور طاقت یا غیر ضروری پابندیوں سے گریز کریں۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ جموں و کشمیر حکومت، حکومتِ ہند کی وزارتِ خارجہ کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ ایران میں مقیم کشمیری شہریوں اور طلبہ کی سلامتی یقینی بنائی جا سکے۔
چیف آف پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے “تاریخ کا افسوسناک اور شرمناک موڑ” قرار دیا اور انصاف کے حق میں آواز اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

آل جموں و کشمیر شیعہ ایسوسی ایشن نے اپنے بیان میں خامنہ ای کے اہلِ خانہ کی وفات پر تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ “یہ نقصان گہرا ہے مگر ہمارا عزم مضبوط ہے۔”
کشمیر کے میرواعظ اور مذہبی رہنما میرواعظ عمر فاروق نے اتوار کو اس واقعے پر گہرے صدمے اور غم و غصے کا اظہار کیا اور اسے مسلم دنیا کو ہلا دینے والا سانحہ قرار دیا۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام مبینہ قتل، ایران کے خلاف جاری کارروائیوں اور میناب میں معصوم طالبات کے مبینہ قتل کی مذمت کرتے ہیں۔
“ہم اس بربریت پر انتہائی رنجیدہ اور مشتعل ہیں۔ اس غم کی گھڑی میں ہمارے دل ایران کے ثابت قدم عوام کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ اللہ مظلوموں کو طاقت دے، شہداء کے درجات بلند کرے اور ذمہ داران کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لائے۔”

میرواعظ نے اسے مسلم اُمہ کے اتحاد کا لمحہ قرار دیتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ اختلافات سے بالاتر ہو کر یکجہتی اور پُرامن احتجاج کا مظاہرہ کریں۔
اسی دوران متحدہ مجلس علماء (ایم ایم یو) نے پیر کے روز مکمل ہڑتال کی کال دی ہے۔ میرواعظ نے عوام سے اپیل کی کہ ہڑتال کو نظم و ضبط اور مکمل پُرامن انداز میں منایا جائے تاکہ اجتماعی احتجاج اور یکجہتی کا مؤثر اظہار ہو سکے۔
“ہڑتال کی کال کو منظم اور غیر پُرتشدد طریقے سے منایا جائے تاکہ اجتماعی احتجاج اور یکجہتی درج ہو سکے۔”
حساس صورتحال کے پیش نظر ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نالین پربھات اور آئی جی پی کشمیر وی کے بردی نے مختلف علاقوں کا دورہ کر کے سیکورٹی کا جائزہ لیا۔
پولیس کے مطابق اضافی نفری تعینات کی گئی ہے، سی سی ٹی وی نگرانی بڑھائی گئی ہے اور مشترکہ کنٹرول روم سے مسلسل مانیٹرنگ جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ احتجاج مجموعی طور پر پُرامن رہے اور شہریوں کے جذبات کا احترام کیا جائے گا، تاہم قانون و نظم برقرار رکھنا اولین ترجیح ہے۔
حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ افواہوں سے گریز کریں اور امن و امان کو برقرار رکھنے میں انتظامیہ کا ساتھ دیں۔

جموں و کشمیر1 week agoجنوبی کشمیر میں سراج العلوم مدرسے پر این آئی اے کے چھاپے
دنیا3 days agoایران کا دو ممالک کو آبنائے ہرمز پر خصوصی سہولت دینے کا اعلان
ہندوستان1 week agoسپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کی گئی ہے جس میں ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ کی سرگرمیوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا
دنیا3 days agoایران معاہدے پر ڈونلڈ ٹرمپ کا حتمی فیصلہ مؤخر: امریکی اخبار کا دعویٰ
دنیا4 days agoمعاہدے پر ابھی تک حتمی اتفاق نہیں ہوا: وینس
ہندوستان1 week agoپٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے پر کانگریس نے حکومت پر بولاحملہ ، “مہنگائی مین” کا دیا تمغہ
دنیا1 week agoجس طرح بھی ممکن ہو آبنائے ہرمز نے کھلنا ہی ہے، امریکی وزیر خارجہ
جموں و کشمیر1 week agoگلمرگ کی مشہور گونڈولا کیبل کار سروس ایک ہفتے کے لیے بند
دنیا3 days agoٹرمپ کا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان
دنیا4 days agoامریکہ اسرائیل کے تمام جرائم میں شریک ہے: ترجمان ایرانی دفترِ خارجہ
ہندوستان1 week agoایندھن کی قیمتوں پر کھڑگے کا مودی حکومت پر حملہ، ہر روز ہو رہی ہے عوام کی جیب پر ڈکیتی
دنیا1 week agoمکمل طور پر اسرائیلی انخلاء ایک قومی ترجیح ہے:لبنانی صدر



































































































