تازہ ترین
ہمیں اپنی مسجدوں اورمدرسوں کے لئے کسی سرکاری امدادکی ضرورت نہیں:مولانا ارشدمدنی

نئی دہلی،30اکتوبر(یو این آئی) عصری تعلیم کے ساتھ مذہبی تعلیم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے دارالعلوم دیوبند کے صدر المدرسین اورصدرجمعیۃعلماء ہند مولانا ارشدمدنی نے کہا کہ ہم عصری تعلیم کے ہرگزہرگز خلاف نہیں ہیں، ہم بھی چاہتے ہیں کہ ہماری قوم کے بچے انجینئر، سائنس داں، قانون داں اورڈاکٹربنیں یہ بات انہوں نے کل ہند رابطہ مدارس اسلامیہ کے اجلاس کے بعد آج یہاں میڈیاکے نمائندوں کے ساتھ بات چیت میں کہی۔
انہوں نے واضح لفظوں میں کہاکہ مسلم بچے بڑھ چڑھ کر مسابقتی امتحانات میں حصہ لیں اورکامیابی حاصل کریں، لیکن ہم اس کے ساتھ ساتھ یہ چاہتے ہیں کہ سب سے پہلے ہمارابچہ مذہب اوراس کے عقیدہ کو سیکھ لیں اس لئے کہ جس طرح قوم کو ڈاکٹر، قانون داں، بیرسٹراورانجینئرکی ضرورت ہے زندگی میں ہرجگہ اسی طرح ہماری قوم کو بہترسے بہتر مفتی اوربہترسے بہتر عالم دین کی ضرورت ہے جو مدارس سے ہی پوری ہوسکتی ہیں اورایک ہم ہی کو نہیں دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کوبھی مذہبی لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ ہم مدارس کے نظام کو آگے بڑھاتے ہیں۔
انہوں نے جنگ آزادی میں مدارس اسلامیہ بالخصوص دارالعلوم کے کردار اوراس کے قیام کے مقاصد کو تفصیل سے بیان کیا اورکہاکہ دارالعلوم کے مقاصدقیام میں صرف تعلیم نہیں بلکہ ملک کی آزادی بھی تھی اور اس کے لئے ارباب مدارس میں سربکف جدوجہد آزادی میں عملی کردارپیش کیاتاہم حصول آزادی کے بعد علماء کرام سرگرم سیاست سے بالکل الگ ہوگئے اورانہوں نے ملک وملت کی خدمت کے لئے ہی اپنی سرگرمیاں باقی رکھیں۔انہوں نے وضاحت کی کہ مذہبی شخصیات کے کندھے پر مذہب کی ذمہ داری ہے، مدارس میں امام، موذن، مفتی اورقاضی تیارہوتے ہیں جومسلمانوں کے مختلف مذہبی امورمیں خدمات انجام دیتے ہیں،بالکل اس طرح جس طرح برادران وطن کوشادی،بیاہ مرنے کے بعدچودھویں،چالیسویں اورمندروں میں پجاریوں کی ہوتی ہے۔
اس کے ساتھ ہی مولانا مدنی نے یہ بھی کہا کہ ہمیں اپنی مسجدوں اورمدرسوں کے لئے کسی سرکاری مددکی ضرورت نہیں اورنہ ہی مدارس کا الحاق حصول امدادکے لئے کسی سرکاری بورڈسے منظورہے،انہوں نے تاریخی حوالہ سے یہ بھی کہا کہ دارالعلوم دیوبند کے قیام کے وقت ہی یہ فیصلہ کیا گیاتھا کہ مذہب سے اوپر اٹھ کر انسانیت کی بنیادپر معاملات طے کئے جائیں گے، اسی وجہ سے پرانی روئدادسے پتہ چلتاہے کہ غیرمسلم حضرات بھی مدارس میں داخلہ لیتے تھے، اس لئے مدارس اسلامیہ کاوجود ملک کی مخالفت کے لئے نہیں اس کی تعمیروترقی کے لئے ہے، مدارس کا ڈیڑھ سوسالہ کرداراس کا گواہ ہے۔
مولانا مدنی نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ یوں بھی مدارس کے دروازے تو ہمیشہ سے سب کے لئے کھلے ہیں، ان کے اندرچھپانے جیسی کوئی چیز ہے ہی نہیں۔انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ مدرسوں میں خالص مذہبی تعلیم دی جاتی ہے، اوراس کا اختیارہمیں ملک کے آئین نے دیاہے، آئین میں ہمیں اپنے تعلیمی ادارے قائم کرنے اورانہیں چلانے کا مکمل حق بھی دیا ہے انہوں نے کہاکہ یہ الزام بے بنیادہے کہ مدارس میں قتل وقتال کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے اوراسلام کے سواکسی دوسرے کو جینے کا حق نہیں دینے کی تعلیم دی جاتی ہے، آپ کسی بھی مدرسے میں کسی بھی وقت جاسکتے ہیں وہاں مذہبی کتابوں اورتشنہ گان علوم کے علاوہ کچھ بھی نہیں ملے گا۔ تاریخی طورپریہ بات سچ ہے کہ یہ ہمارے علماء اوراکابرہی تھے جنہوں نے اس وقت ملک کو غلامی کی زنجیروں سے آزادکرانے کا خواب دیکھاجب پوری قوم سورہی تھی، اس کے لئے ہمارے علماء اوراکابرین نے قیدوبندکی صعوبیتیں ہی براداشت نہیں کیں بلکہ اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ بھی پیش کیا آج ہمارے انہی اکابرین کے ذریعہ لگائے گئے ان درختوں کو جڑسے کاٹ دینے کی سازشیں ہورہی ہیں، ان کی اولادوں کو غداراورملک دشمن قراردیاجارہاہے اوران اداروں کودہشت گردی کا اڈہ بتایاجارہاہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ لوگ جو کالجوں اوریونی ورسیٹیوں سے پڑھ کر نکلے ملک کی لاکھوں ہزارکروڑ کی دولت سمیٹ کر ملک سے فرارہوچکے ہیں، ملک کے عام شہری غربت وافلاس اورمہنگائی میں دب کر موت سے بدترزندگی بسرکررہے ہیں، اوریہ لوگ ملک کا اثاثہ لوٹ کر غیر ممالک میں عیش کررہے ہیں، کیا یہ دیش دروہی نہیں ہیں؟ اورکیا یہ پتہ لگانے کی کوشش نہیں ہوگی کہ ان میں کتنے مسلمان ہیں،؟ سچ تویہ ہے کہ ان کی گردنوں تک قانون کے ہاتھ اب تک نہیں پہنچ سکے ہیں۔
جموں و کشمیر
ایچ ڈی ایف سی بینک مالیاتی اسکینڈل: کرائم برانچ نے عدالت میں چارج شیٹ داخل کی
سرینگر،جموں و کشمیر پولیس کے ونگ ‘اکنامک آفنسز یونٹ’ (ای او ڈبلیو) نے شوپیاں میں ایچ ڈی ایف سی بینک کی شاخ میں ہونے والے ایک بڑے مالیاتی غبن اور دھوکہ دہی کے کیس میں کورٹ میں چارج شیٹ داخل کر دی ہے۔
حکام کے مطابق یہ چارج شیٹ شوپیاں کے جوڈیشل مجسٹریٹ فرسٹ کلاس کی عدالت میں جمع کرائی گئی ہے۔ اس ہائی پروفائل کیس میں مجموعی طور پر 11 ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے، جنہوں نے بینک میں بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگیاں کیں۔
یہ مقدمہ ای او ڈبلیو تھانے میں بھارتیہ نیائے سنہیتا (بی این ایس) اور انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت درج کیا گیا تھا۔مالیاتی گڑبڑ کی شکایات موصول ہونے پر پولیس ہیڈ کوارٹر نے کیس کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے اسے کرائم برانچ کے سپرد کیا تھا تاکہ گہرائی سے چھان بین کی جا سکے۔
تفتیش کے دوران ملوث پائے جانے والے افراد کو رواں برس 18 فروری کو گرفتار کیا گیا تھا، جو تب سے اب تک عدالتی تحویل (جوڈیشل ریمانڈ) میں ہیں۔کرائم برانچ کے ایک افسر نے تصدیق کی ہے کہ تمام ضروری شواہد اور بیانات قلمبند کرنے کے بعد تفتیش مکمل ہو چکی ہے، جس کے بعد اب 11 ملزمان کے خلاف چارج شیٹ عدالتی فیصلے کے لیے پیش کر دی گئی ہے۔
یواین آئی ۔م اع
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: سانبہ کے سرحدی علاقے سے زندہ مارٹر شیل برآمد، ناکارہ بنا دیا گیا
جموں، جموں و کشمیر پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ ( ایس او جی ) نے جمعرات کے روز ضلع سانبہ کے رام گڑھ سیکٹر میں بین الاقوامی سرحد کے قریب ایک فعال (زندہ) مارٹر شیل برآمد کر کے بڑی تباہی کا خطرہ ٹال دیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق، ایس او جی کی ٹیم نے رام گڑھ کے علاقے کوالپور دیوک میں تلاشی مہم (سرچ آپریشن) شروع کر رکھا تھا۔ اس دوران ایک زندہ مارٹر شیل پایا گیا جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا تھا۔
شیل کی موجودگی کی اطلاع ملتے ہی بم ڈسپوزل اسکواڈ (بی ڈی ایس) کو فوری طور پر موقع پر طلب کیا گیا۔ ماہرین کی ٹیم نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر تمام حفاظتی تدابیر اختیار کیں اور مارٹر شیل کو کامیابی کے ساتھ بحفاظت ناکارہ (ڈی فیوز) بنا دیا۔اس کارروائی کے بعد علاقے میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے مزید تلاشی لی گئی تاکہ عوامی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
یواین آئی ۔م اع
دنیا
جنگ بندی کے باوجود اسرائیل کے لبنان پر حملے جاری، مزید 13 افراد شہید ہوگئے
بیروت، اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کے باوجود لبنان پر حملے جاری ہیں جس میں مزید 13 افراد شہید ہوگئے ۔
اسرائیل نے جنگ بندی کے معاہدے کے بعد بدھ کو پہلی بار لبنان کے دارالحکومت بیروت پر حملہ کیا۔ رپورٹس کے مطابق یہ فضائی حملہ بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے داحیہ پر کیا گیا، جہاں حزب اللہ کا مرکز واقع ہے۔ سوشل میڈیا پر شیئر کی گئیں تصاویر میں بڑے پیمانے پر آگ اور کم از کم ایک عمارت کو شدید نقصان دکھایا گیا ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے ایک بیان میں کہا کہ انہوں نے خود اس حملے کی منظوری دی تھی، جس کا ہدف حزب اللہ کی ایلیٹ رضوان فورس کا ایک کمانڈر تھا۔ اس کے علاوہ اسرائیلی جنگی طیاروں نے جنوبی لبنان کے شہر سکسکیہ پر بمباری کی جس میں 5 افراد شہید اور 15 زخمی ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق بدھ کے روز اسرائیل نے 17 اپریل کو نافذ ہونے والی جنگ بندی کے بعد پہلی بار بیروت کے جنوبی مضافات پر بمباری کی، جس میں لبنان بھر میں کم از کم 13 افراد شہید ہوئے۔
ادھر اقوام متحدہ کے ادارے برائے انسانی امور کے رابطہ دفتر کے مطابق لبنان میں انسانی صورتحال “جنگ بندی کے باوجود انتہائی غیر مستحکم” ہے اور شہری مسلسل جنگ سے متاثر ہو رہے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2 مارچ سے اب تک لبنان میں 2,700 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ فضائی حملوں کے باعث ہلاکتوں کی تعداد روزانہ بڑھ رہی ہے۔
دوسری جانب حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے بدھ کے روز لبنان کے اندر داخل ہونے والی اسرائیلی افواج پر 17 حملے کیے۔ حزب اللہ کے بیان کے مطابق اسرائیلی فوجیوں اور فوجی گاڑیوں کو قنطرہ، البیاضہ، طیّبہ، نقرہ، رشاف اور عیتا الشعب میں ڈرون اور راکٹ حملوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر3 days agoجموں میں ہوٹل کے بیسمنٹ سے مشتبہ حالات میں نوجوان لڑکی کی لاش برآمد
دنیا1 week agoپوتن نے صدر ٹرمپ کو ایرانی جوہری پروگرام پر تجاویز دے دیں
دنیا5 days agoایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا یوم مزدور پر پیغام
دنیا1 week agoعالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ
دنیا6 days agoایران میں آپریشن ختم ہونے کے بعد تیل کی قیمتیں گِر جائیں گی، ٹرمپ
دنیا5 days agoہم کسی پاگل کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے نہیں دیں گے: ٹرمپ
دنیا3 days agoصدر ٹرمپ کے اعلان کے بعد خام تیل کی قیمتیں کم ہو گئیں
دنیا6 days agoامریکی وزیر دفاع کی کانگریس میں سخت تقریر، ایران سے جنگ میں اسلحہ کی قلت کا اعتراف
جموں و کشمیر1 week agoاردو زبان پر تنازع: التجا مفتی کا عمر عبداللہ سے سوال، “جو بی جے پی نے نہیں مٹایا، وہ آپ کیوں مٹا رہے ہیں
ہندوستان1 week agoگریٹ نکوبار پروجیکٹ پر راہل نے حکومت سے مانگا جواب
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز کو آبنائے ٹرمپ قرار دینے پر ایرانی وزیر خارجہ کا امریکی صدر کو جواب
ہندوستان1 week agoآپریشن سندور نے دنیا کو دہشت گردی کے خلاف ہندوستان کی عہد بستگی کا پیغام دیا: راج ناتھ













































































































