جموں و کشمیر
کشمیر اور باقی ملک کے درمیان خلیج کو پاٹنا حکومت کی اولین ترجیح ہے: راجناتھ سنگھ

جموں، وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کا کہنا ہے کہ کشمیر اور باقی ملک کے درمیان خلیج کو ختم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان زیر قبضہ کشمیر کے بغیر جموں وکشمیر نامکمل ہے جن کے ساتھ مذہب کے نام پر امتیازی سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ سابق فوجیوں نے ملک کی حفاظت کے لئے ہر جنگ میں ہمیشہ دشمن کے دانت کھٹے کئے ہیں۔
وزیر دفاع نے ان باتوں کا اظہار منگل کے روز اکھنور کے ٹانڈہ آرٹلری بریگیڈ میں فوج کی شمالی کمان کے زیر اہتمام سابق فوجیوں کے اعزاز میں منعقدہ نویں ویٹرنز ڈے تقریب سے خطاب کے دوران کیا۔انہوں نے تقریب میں شریک سابق فوجیوں کی طرف مخاطب ہو کر کہا: ‘میرے لئے یہ خوشی کی بات ہے کہ میں آج ویٹرنز ڈے کے موقع آپ سب کے درمیان موجود ہوں، میں یہاں موجود ہمارے سابق فوجیوں، آپ تمام ساتھیوں اور آپ کے خاندان کے اراکین کو مکر سنکرانتی کی بہت بہت مبارکباد پیش کرتا ہوں’۔ان کا کہنا تھا: ‘ہماری حکومت کی سب سے بڑی ترجیح کشمیر اور باقی ملک کے درمیان خلیج کو ختم کرنا ہے’۔
راجناتھ سنگھ نے کہا کہ 2025 کا یہ سال 1965 کی پاک – بھارت جنگ کا ڈائمنڈ جوبلی سال ہے جو اکھنور میں 1965 کی بہت اہم جنگ تھی۔انہوں نے کہا: ‘سال 1965 کی جنگ میں فتح بھارتی افواج کی بہادری اور قربانیوں کا نتیجہ تھی تاریخ پر نظر ڈالیں تو پاکستان بھارت سے ہر جنگ ہار چکا ہے چاہئے وہ سال 1948 میں قبائلی حملہ ہو، سال 1965 کی جنگ ہو، سال 1971 کی جنگ ہو یا 1999 میں کرگل کی محدود جنگ ہو، ہر جنگ میں پاکستان کو شکست سے دوچار ہونا پڑا ہے’۔ان کا کہنا تھا: ‘پاکستان 1965 سے غیر قانونی دراندازی اور دہشت گردی کو ہوا دینے کا کام کر رہا ہے اس کی امید یہ رہی ہے کہ جموں و کشمیر کی مسلم آبادی پاکستانی فوج کے ساتھ کھڑی ہوگی لیکن نہ تو یہاں کے لوگوں نے 1965 میں پاکستان کا ساتھ دیا اور نہ ہی دہشت گردی کے اس دور میں ساتھ دیا’۔
وزیر دفاع نے کہا کہ اس کے باوجود پاکستان نے آج تک دہشت گردی ترک نہیں کی۔انہوں نے کہا: ‘ آج بھی اسی فیصد سے زیادہ دہشت گرد پاکستان سے بھارت آتے ہیں سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی 1965 میں ہی ختم ہو چکی ہوتی اگر اس وقت کی حکومت میدان جنگ میں حاصل ہونے والے کئی سٹریٹیجک فوائد کو مذاکرات کی میز پر نہ لاتی’۔ان کا کہنا تھا: ‘ 1965 کی جنگ میں بھارتی افواج حاجی پیر پر ترنگا لہرانے میں کامیاب ہوگئیں لیکن اسے مذاکرات کی میز پر چھوڑ دیا گیاایسا نہ ہوتا تو دہشت گردوں کی دراندازی کے راستے فوری بند ہو چکے ہوتے’۔
مسٹر سنگھ نے کہا کہ جموں و کشمیر سے دفعہ 370 کو ختم کر کے دہشت گردی کا خاتمہ شروع کر دیا گیا ہے جس کے نتیجے میں یہاں کے حالات کافی حد تک بدل چکے ہیں۔انہوں نے کہا: ‘جموں و کشمیر پاکستان زیر قبضہ کشمیر کے بغیر نامکمل ہے اور پاکستان زیر قبضہ کشمیر ہندوستان کا تاج ہے جو پاکستان کے لیے غیر ملکی علاقے سے زیادہ کچھ نہیں ہے’۔ان کا کہنا تھا: ‘پاکستان زیر قبضہ کشمیر میں رہنے والے لوگوں کو باوقار زندگی سے محروم رکھا جا رہا ہے اور پاکستان کے حکمران مذہب کے نام پر انہیں بھارت کے خلاف بھڑکانے اور گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں’۔
وزیر دفاع نے کہا: ‘پاکستان زیر قبضہ کشمیر کی زمین کو دہشت گردی کے خطرناک کاروبار کو چلانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے دہشت گردوں کے تربیتی کیمپ اب بھی وہاں چل رہے ہیں سرحد سے ملحقہ علاقوں میں لانچ پیڈز بنائے گئے ہیں بھارتی حکومت سب کچھ جانتی ہے اور پاکستان کو انہیں ختم کرنا ہو گا’۔ان کا کہنا تھا کہ فوجی جوان قربانیاں دے کر قوم کو دہشت گردی سے محفوظ رکھ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سابق فوجیوں نے ملک کی حفاظت کے لئے جنگ کے دوران دشمن کو ہمیشہ شکست دی ہے۔
یو این آئی ایم افضل
جموں و کشمیر
امرناتھ یاترا: جموں و کشمیر پولیس کا جموں شہر میں کرایہ داروں کی تصدیق کا عمل شروع
جموں، جولائی سے شروع ہونے والی سالانہ شری امرناتھ یاترا کے پیشِ نظر، جموں و کشمیر پولیس نے جموں شہر، بالخصوص بھگوتی نگر میں واقع ‘یاتری نواس’ کے قریبی علاقوں میں کرایہ داروں کی بڑے پیمانے پر تصدیق کا عمل شروع کر دیا ہے۔سرکاری ذرائع نے بدھ کے روز بتایا کہ 3 جولائی سے یاترا کے آغاز کے پیشِ نظر سیکورٹی فورسز نے حفاظتی اقدامات کو انتہائی سخت کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں جموں پولیس شہر میں رہنے والے تمام کرایہ داروں کا ایک مکمل ڈیٹا بیس تیار کر رہی ہے، جس میں یاتری نواس کے گردونواح میں رہنے والے افراد پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔یاترا شروع ہونے سے پہلے، حساس علاقوں، یاتریوں کے ٹھہرنے کے مقامات، بڑی مارکیٹوں، لنگر خانوں اور شری امرناتھ یاتری نواس (جو کہ یاتریوں کا بنیادی بیس اسٹیشن ہے) کے ارد گرد کرایہ داروں کی تصدیق کے لیے ایک خصوصی مہم چلائی جا رہی ہے۔
بھگوتی نگر کے علاقے میں پولیس کی ٹیمیں گھر گھر جا کر کرایہ داروں کی معلومات اکٹھی کر رہی ہیں۔ اس مہم کے تحت کرایہ داروں کے نام، فون نمبر، شناختی دستاویزات (جیسے آدھار کارڈ کی تفصیلات) اور ان کے ممکنہ مجرمانہ ریکارڈ کی معلومات جمع کی جا رہی ہیں۔سرکاری ذرائع کے مطابق، جموں پولیس نے تمام اسٹیشن ہاؤس آفیسرز کو سخت ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ 30 جون 2026 تک اپنے اپنے دائرہ اختیار میں 100 فیصد کرایہ داروں کی تصدیق کے عمل کو ہر حال میں یقینی بنائیں۔دراصل، امرناتھ یاترا کے آغاز سے قبل جموں پولیس کرایہ داروں کا ایک جامع ڈیٹا بیس بنانا چاہتی ہے تاکہ علاقے میں رہنے والے کسی بھی قسم کے سماج دشمن یا ملک دشمن عناصر کی بروقت شناخت کی جا سکے۔
یواین آئی ۔م ا ع
جموں و کشمیر
کٹھوعہ میں زائرین کی بس کھائی میں جا گری؛ کم از کم 20 عقیدت مند زخمی
جموں، جموں و کشمیر کے ضلع کٹھوعہ میں بلاو کے مقام پر بدھ کے روز ایک دردناک سڑک حادثہ پیش آیا، جہاں زائرین (عقیدت مندوں) سے بھری ایک مینی بس بے قابو ہو کر گہری کھائی میں جا گری۔ اس حادثے کے نتیجے میں کم از کم 20عقیدت مند شدید زخمی ہو گئے ہیں۔پولیس ذرائع کے مطابق، یہ مینی بس سانبہ سے بلاور میں واقع مشہور ‘سکرالا ماتا مندر’ کی طرف جا رہی تھی۔ بدھ کی صبح بلاور قصبے سے محض چند کلومیٹر پہلے ہی یہ بس حادثے کا شکار ہو گئی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، ڈرائیور گاڑی کی تیز رفتاری کے باعث اس پر سے اپنا کنٹرول کھو بیٹھا، جس کے نتیجے میں بس سڑک سے نیچے گہری کھائی میں جا گری۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی مقامی پولیس کی ٹیمیں فوراً جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور مقامی لوگوں کے ساتھ مل کر بڑے پیمانے پر بچاؤ اور امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔ پولیس حکام نے بتایا ہے کہ اس واقعے میں تقریباً 20 عقیدت مند زخمی ہوئے ہیں، جنہیں فوری طور پر ملبے سے نکال کر قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔پولیس نے حادثے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ دفعات کے تحت کیس درج کر لیا ہے اور حادثے کی وجوہات کی مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔
یواین آئی ۔م ا ع
جموں و کشمیر
سرینگر میں محرم کے جلوس میں ہزاروں لوگ شامل ہوئے
سرینگر جموں و کشمیر کے سرینگر میں بدھ کو آٹھویں محرم کے روایتی جلوس میں ہزاروں لوگ شامل ہوئے۔
انتظامیہ نے سرینگر کے اہم علاقے سے سخت سکیورٹی انتظامات کے درمیان گزرنے والے اس جلوس کو مسلسل چوتھے سال اجازت دی ہے۔ جلوس آج صبح گرو بازار سے شروع ہو کر جہانگیر چوک اور مولانا آزاد روڈ سے ہوتے ہوئے ڈلگیٹ پہنچا۔
جلوس میں مذہبی بینر لیے ہوئے لوگ طے شدہ راستے پر آگے بڑھ رہے تھے اور پیغمبر محمد کے نواسے امام حسین کی یاد میں مرثیہ اور نوحہ پڑھ رہے تھے۔ زیادہ تر کالے کپڑے پہنے ہوئے لوگوں نے کربلا میں امام حسین اور ان کے ساتھیوں کی قربانی کو خراج عقیدت پیش کیا۔ حکام نے جلوس کے لیے سکیورٹی کے وسیع انتظامات کیے تھے۔ پولیس نے مرکزی مسلح پولیس فورسز اور ٹریفک پولیس کی مدد سے کئی سطحوں والی سکیورٹی کا انتظام کیا تھا، جس میں ڈرون سے نگرانی بھی شامل تھی۔ جلوس کے راستے پر ٹریفک روک دیا گیا تھا۔
سرینگر کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) سندیپ چکرورتی نے کہا کہ پولیس نے جلوس کے شروعاتی مقام سے لے کر آخری مقام تک کے انتظامات کی باریکی سے منصوبہ بندی کی ہے۔ انہوں نے کہا، “ہمارا واحد مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ جلوس پرامن اور باوقار طریقے سے ہو۔ اس کے لیے ہمیں پولیس اور سول انتظامیہ کے ساتھ عوام کے تعاون اور حمایت کی ضرورت ہے۔”
سول انتظامیہ اور پولیس کے افسران، نیز رضاکار کئی مقامات پر پانی پلاتے ہوئے اور جلوس میں شامل لوگوں کی مدد کرتے ہوئے دیکھے گئے۔
1990 کی دہائی کے اوائل میں دہشت گردی شروع ہونے کے بعد گرو بازار-ڈلگیٹ کا روایتی جلوس تین دہائیوں سے زیادہ عرصے تک بند رہا تھا، جسے 2023 میں پھر سے شروع کیا گیا۔ حکام نے اس ہفتے کے آخر میں ہونے والے 10ویں محرم کے جلوس کے لیے بھی وسیع انتظامات کا اعلان کیا ہے۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان7 days ago‘اسلام آباد ایم او یو’ پر جے رام رمیش کا مرکز پر حملہ، کہا- مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو بڑا جھٹکا
جموں و کشمیر1 week agoگاندربل ‘انکاؤنٹر’ کے مقتول کی لاش قبر سے نکال کر اہلِ خانہ کے حوالے
تازہ ترین3 days agoٹرمپ کے بیان کے بعد ایران نے مذاکرات معطل کردیے، وفد واپس روانہ
ہندوستان1 week ago’جمہوریت کو نقصان پہنچانے کے لیے شاہ چلا رہے ہیں دھوکہ دہی پرمبنی مہم ‘: رمیش
دنیا1 week agoایرانی آرمی چیف کا دفاعی طاقت مزید بڑھانے کا اعلان
دنیا1 week agoجی سیون ممالک کا امریکہ اور ایران امن معاہدے کی حمایت کا اعلان
ہندوستان1 week ago‘ٹیلی گرام بین’ پر راہل کا مرکزی حکومت پر الزام، ”پیپر لیک مافیا پر نہیں، طالب علموں کے خلاف کارروائی کر رہی ہے حکومت“
دنیا7 days agoایران کے ساتھ معاہدہ حتمی نہیں، اگر رویہ درست نہ رہا تو حملے دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں: ٹرمپ
دنیا1 week agoمجھے حتمی معاہدہ پسند نہ آیا تو دوبارہ بمباری کی طرف واپس جا سکتے ہیں: ٹرمپ
دنیا6 days agoامریکہ اور ایران کے درمیان آج ہونے والے مذاکرات منسوخ: سوئس وزارت خارجہ
دنیا6 days agoاعلیٰ ترین قیادت کے دستخط سے معاہدے کی خلاف ورزی کی سیاسی قیمت زیادہ ہو گئی: اسماعیل بقائی
دنیا1 week agoامریکہ ایران معاہدے پر الیکٹرانک دستخط ٹرمپ وینس نے کئے




































































































