دنیا
امریکہ نے ایران کے خلاف دوبارہ جنگ چھیڑی تو اسے مزید بڑے جھٹکے لگیں گے: عباس عراقچی
تہران، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بدھ کو خبردار کیا کہ اگر امریکہ نے بلا اشتعال ایک بار پھر ایران کے خلاف جارحانہ رویہ اختیار کیا تو تہران کے پاس امریکہ کو دینے کیلئے ”مزید کئی بڑے جھٹکے” تیار ہیں۔ انہوں نے اس سلسلے میں امریکی کانگریس کی ایک رپورٹ کا حوالہ بھی دیا، جس میں کئی ہفتوں تک جاری رہنے والے تنازع کے دوران امریکی فضائیہ کو ہونے والے بھاری نقصانات کا اعتراف کیا گیا ہے۔
عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ مستقبل میں ہونے والی کسی بھی دشمنانہ کارروائی کا جواب دینے کیلئے ایران امریکہ کے ساتھ سابقہ تصادم سے حاصل شدہ تجربات اور سبق سے فائدہ اٹھائے گا اور حملہ آوروں کو غیر متوقع جھٹکوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ امریکی اراکین کانگریس نے 40 روزہ فوجی مہم کے دوران ہونے والے بڑے پیمانے کے نقصانات کو تسلیم کرکے دراصل ایران کی فوجی صلاحیتوں کی توثیق کی ہے۔
عباس عراقچی نے امریکی کانگریس کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس تنازع کے دوران امریکی فوج نے کم از کم 42 طیارے کھوئے، جن سے ہونے والا تخمینی نقصان تقریباً 2.6 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی مسلح افواج دنیا کے جدید ترین ایف-35 لڑاکا طیارے کو مار گرانے والی پہلی فورس بن گئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف مشترکہ طور پر شروع کی گئی 40 روزہ فضائی بمباری مہم کے دوران امریکی فوج کے 42 طیارے یا تو تباہ ہوئے یا شدید نقصان کا شکار ہوئے۔
ان میں چار ایف-15 ای اسٹرائیک ایگل لڑاکا طیارے، ایک ایف-35 اے لائٹننگ-2، ایک اے-10 تھنڈربولٹ-2، ہوا میں ایندھن بھرنے والے سات کے سی-135 اسٹریٹو ٹینکر، ایک ای-3 سینٹری فضائی نگرانی طیارہ، دو ایم سی-130 جے کمانڈو-2 طیارے، ایک ایچ ایچ-60 ڈبلیو جولی گرین-2 ہیلی کاپٹر، 24 ایم کیو-9 ریپر ڈرون اور ایک ایم کیو-4 سی ٹرائٹن ڈرون شامل ہیں۔
امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر حملے شروع کیے تھے، جو 7 اپریل کو پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی نازک جنگ بندی کے بعد سے رکے ہوئے ہیں۔
ایران نے اس دوران خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والی عالمی تیل سپلائی پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی سمت اقدامات کیے۔
یہ تفصیلات 13 مئی کو جاری ہونے والی ”کانگریشنل ریسرچ سروس” کی رپورٹ میں سامنے آئیں، جس میں ”آپریشن ایپک فیوری” کے دوران ہونے والے نقصانات کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تباہ شدہ طیاروں کی طویل مدتی متبادل لاگت 7 ارب ڈالر سے زیادہ ہو سکتی ہے، کیونکہ بعض نظام اب فعال پیداوار میں نہیں ہیں اور ان کی پروڈکشن لائن دوبارہ شروع کرنا پڑ سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ای-3 سینٹری طیارے کے نقصان کے بعد پینٹاگون کو پہلے منسوخ کیا جا چکا ای-7 ویج ٹیل پروگرام دوبارہ شروع کرنا پڑ سکتا ہے، جس کی لاگت 2.5 ارب ڈالر سے زائد بتائی گئی ہے۔
اس دوران امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں پر پابندیاں سخت کر دیں، جس سے عالمی توانائی بازاروں میں بے چینی پیدا ہوئی اور امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اس صورتحال نے ڈونالڈ ٹرمپ پر سیاسی دباؤ مزید بڑھا دیا ہے۔
ڈونالڈ ٹرمپ نے منگل کو کہا کہ انہیں امید ہے کہ یہ تنازع ”بہت جلد” حل ہو جائے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ معاہدہ ہونے کے بعد تیل کی قیمتیں تیزی سے نیچے آ جائیں گی۔
ادھرایرانی صدر مسعود پزشکیان نے عزم ظاہر کیا ہے کہ ایران امریکہ کے بڑھتے دباؤ کے سامنے ہرگز نہیں جھکے گا۔
یواین آئی۔ م س
دنیا
اقوام متحدہ نے عباس عراقچی کو نیویارک اجلاس کے لیے مدعو کیا
تہران، ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کو اگلے ہفتے نیویارک میں ہونے والے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس کی تصدیق کی۔
ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق یہ دعوت عباس عراقچی کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں شرکت کیلئے دی گئی ہے۔
اس ماہ سلامتی کونسل کی صدارت چین کے پاس ہے۔
بین الاقوامی امن اور سلامتی کے موضوع پر یہ اجلاس منگل کو منعقد ہوگا۔
تاہم ابھی یہ طے نہیں ہوا ہے کہ عباس عراقچی اس اجلاس میں شرکت کریں گے یا نہیں۔
یواین آئی۔ م س
دنیا
آبنائے ہرمز دوبارہ کھولی جائے، سلامتی کونسل میں ایشیائی ممالک کو زیادہ نمائندگی ملنی چاہیے: اقوامِ متحدہ کے سربراہ
ٹوکیو، اقوامِ متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے گہرے ہوتے عالمی معاشی بحران پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے بدھ کے روز آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف سمندری آمد و رفت کی آزادی فوری طور پر بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔
انتونیو گوتریس نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں آج کی دنیا کے آبادیاتی اور جغرافیائی سیاسی حقائق کی عکاسی کے لیے ایشیائی ممالک کو مستقل رکنیت میں زیادہ نمائندگی دی جانا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا اس وقت تنازعات، موسمیاتی بحران اور بڑھتی ہوئی عدم مساوات کی وجہ سے شدید عدم استحکام کا شکار ہے۔ ان کے مطابق ایران جنگ کے اثرات نے عالمی معاشی صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے۔
گوتریس نے کہا، ’’مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے اور لوگوں کی معاشی مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں۔ مغربی ایشیا میں جاری تنازع نے حالات کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ توانائی، کھاد اور دیگر خام اشیاء کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔‘‘
خلیجی خطے میں بڑھتی کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف بحری جہاز رانی کی آزادی فوری طور پر بحال کی جانی چاہیے، جنگ بندی کی تمام خلاف ورزیوں کو ختم کیا جائے اور تنازع کے سیاسی حل کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ’’بڑھتا ہوا عدم اعتماد اور جغرافیائی سیاسی دوریاں‘‘ مؤثر عالمی حل کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکی ہیں۔ ان کے مطابق بعض ممالک بغیر کسی خوف کے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیاں کر رہے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے سلامتی کونسل اور عالمی مالیاتی نظام میں فوری اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی تقسیم عالمی استحکام اور کثیر جہتی اداروں کی مؤثریت کو کمزور کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پائیدار ترقیاتی اہداف، جو انسانیت اور دنیا کے بہتر مستقبل کا خاکہ ہیں، ان کے حصول کے لیے مزید مضبوط پیش رفت کی ضرورت ہے۔
گوتریس نے ترقی پذیر ممالک کی مدد کرنے والے کثیر جہتی ترقیاتی بینکوں کی محدود صلاحیت پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ غریب اور ترقی پذیر ممالک قرضوں کے بوجھ اور مالی وسائل کی شدید کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کی بہتر نمائندگی اور اقوامِ متحدہ کی ساکھ بڑھانے کے لیے سلامتی کونسل کی مستقل اور غیر مستقل دونوں قسم کی نشستوں میں توسیع ناگزیر ہے۔
انہوں نے عالمی مالیاتی اداروں میں وسیع اصلاحات اور ترقی پذیر ممالک کو زیادہ مؤثر مالی امداد فراہم کرنے کے لیے کثیر جہتی ترقیاتی بینکوں کی تنظیمِ نو کا بھی مطالبہ کیا۔
یو این آئی۔ اے ایم
دنیا
ایران شدید دباؤ میں ہے، ڈیل نہ ہوئی تو دوبارہ حملہ کرسکتے ہیں: ٹرمپ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ ایران معاہدہ کرنے کے لیے بے تاب ہے، جبکہ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر تہران کے ساتھ ڈیل نہ ہوئی تو امریکا دوبارہ فوجی کارروائی بھی کر سکتا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ ایران اس وقت شدید معاشی بحران اور داخلی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران میں عوام کی حالت انتہائی خراب ہے اور وہاں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ ان کے مطابق ایران موجودہ صورتحال کے باعث معاہدہ چاہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ کو ابھی صرف تین ماہ ہوئے ہیں، جن میں سے زیادہ وقت جنگ بندی میں گزرا ہے۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ آبنائے ہرمز کو بھی کھول دیا جائے گا، تاہم اس معاملے میں انہیں کوئی جلدی نہیں۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران کو ’’بری طرح تباہ‘‘ کر دیا گیا ہے اور آنے والے دنوں میں مزید پیش رفت دیکھی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ معاہدے کے معاملے میں جلد بازی نہیں کر رہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ماضی کی امریکی جنگوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ویتنام، افغانستان، عراق اور دیگر ممالک میں کئی کئی سال تک جنگیں لڑیں، جبکہ ایران جنگ میں امریکا نے صرف 13 جانیں گنوائیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ دیگر جنگوں میں امریکا کو لاکھوں جانوں کا نقصان اٹھانا پڑا تھا۔
ٹرمپ نے چین اور روس کے تعلقات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں چینی صدر شی جن پنگ اور روسی صدر ولادی میر پوتن کی ملاقات اچھی بات ہے، تاہم انہوں نے دعویٰ کیا کہ پوتن کی استقبالیہ تقریب اتنی شاندار نہیں تھی جتنی ان کی تھی۔
امریکی صدر نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے حوالے سے بھی کہا کہ ایران کے معاملے پر ان دونوں کا مشترکہ مؤقف ہے اور نیتن یاہو وہی کریں گے جو وہ کہیں گے۔
یواین آئی۔ م س
دنیا6 days agoٹرمپ اور شی جن پنگ کا آبنائے ہرمز کھلی رکھنے پر اتفاق
ہندوستان6 days agoعالمی بحران کے درمیان ہندوستان کا برکس اتحاد کا مطالبہ، پابندیوں اور دہشت گردی پر اظہارِ تشویش
دنیا6 days agoفرانسیسی صدر اور ایرانی اداکارہ سے متعلق نئی کتاب میں چونکا دینے والے دعوے
ہندوستان1 week agoبزرگوں، بیواؤں، معذوروں کے ساتھ ناانصافی کر رہی ہے حکومت : کھرگے
دنیا1 week agoایران کو ایٹمی ہتھیار نہیں بنانے دیں گے، معاشی دباؤ کی فکر نہیں: ڈونلڈ ٹرمپ
ہندوستان1 week agoمغربی بنگال میں بی جے پی حکومت بننے سے شہریوں کو آیوشمان بھارت کا فائدہ ملے گا: مودی
تازہ ترین1 week agoایران کی توجہ اب بھی پائیدار امن پر مرکوز لیکن کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے تیار : فاطمہ مہاجرانی
پاکستان1 week agoپاکستان اور چین کا ایران۔امریکہ کشیدگی کم کرنے پر زور، اسحق ڈار اور وانگ ای میں رابطہ
دنیا1 week agoایران کا جواب نامعقول، کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے: ٹرمپ
دنیا1 week agoایران نے امریکہ کے ساتھ بات چیت دوبارہ شروع کرنے کے لیے پانچ شرطیں رکھ دیں
دنیا6 days agoتائیوان معاملہ غلط سنبھالا گیا تو امریکہ اور چین تصادم کی طرف جا سکتے ہیں: شی جن پنگ
ہندوستان1 week agoپیپر لیک کی خبر کے بعد نیٹ 2026 کا امتحان منسوخ








































































































