جموں و کشمیر
وادی کشمیر کے کئی علاقوں میں امتناعی احکامات نافذ، متحدہ مجلس علما کی کال پر مکمل ہڑتال
سری نگر،ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے خلاف ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے خدشے کے پیش نظر وادی کشمیر میں پیر کے روز سخت ترین حفاظتی انتظامات نافذ کئے گئے۔ انتظامیہ نے سری نگر کے متعدد حساس علاقوں میں امتناعی احکامات جاری کرتے ہوئے شہر کے قلب لال چوک اور گھنٹہ گھر کی طرف جانے والی تمام شاہراہوں کو کانٹے دار تاروں اور ٹن کی چادروں سے مکمل طور پر سیل کر دیا۔ پولیس اور سیکورٹی فورسز نے صبح سویرے ہی علاقے کو گھیرے میں لے لیا تھا اور کسی بھی شخص یا گاڑی کو گھنٹہ گھر کے نزدیک آنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
شہر خاص (ڈاؤن ٹاؤن) سری نگر میں بھی سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کی گئی۔ حساس مقامات، امام بارگاہوں، چوکوں اور اہم سڑکوں پر چاک و چوبند دستے تعینات رہے۔ اگرچہ لوگوں کی عام نقل و حرکت پر باضابطہ پابندی نہیں تھی، تاہم فورسز کی موجودگی کے باعث لوگوں نے گھروں میں ہی رہنے کو ترجیح دی۔ انتظامیہ نے یہ اقدامات اس خدشے کے پیش نظر کئے کہ ایران میں پیش آئے سانحہ کے بعد وادی میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ہو سکتے ہیں۔
شیعہ اکثریتی علاقوں، جن میں حسن آباد، زڈی بل، علمگری بازار اور بڈگام ضلع کے کئی علاقے شامل ہیں میں بھی فورسز کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔ کمانڈو دستے اور موبائل بنکرز جگہ جگہ دکھائی دے رہے تھے۔ پولیس کی جانب سے گشت میں بھی نمایاں اضافہ کیا گیا تاکہ کسی بھی ممکنہ احتجاج کو قبل از وقت ہی ناکام بنایا جا سکے۔
ادھر متحدہ مجلس علما کی ہڑتال کال کے پیش نظر وادی بھر میں مکمل بند کا اثر دیکھنے کو ملا۔ سری نگر کے بیشتر بازاروں، لال چوک، ریڈ کراس روڈ، بٹہ مالو، کرن نگر، حول اور قمرواری میں دکانیں مکمل طور پر بند رہیں جب کہ ٹرانسپورٹ بھی معمول سے کہیں کم تھا۔ جنوبی کشمیر کے تمام بڑے اضلاع،اننت ناگ، کولگام، شوپیاں اور پلوامہ میں مکمل ہڑتال رہی۔ قصبوں، بازاروں اور مارکیٹوں میں مکمل خاموشی رہی اور صرف چند نجی گاڑیاں سڑکوں پر آتی جاتی نظر آئیں۔
اسی طرح شمالی کشمیر کے بارہمولہ، سوپور، پٹن، بانڈی پورہ اور کپواڑہ میں بھی ہڑتال کا گہرا اثر دیکھا گیا۔ بڈگام، چاڈورہ، خانصاہب اور گاندربل میں بھی کاروباری سرگرمیاں پوری طرح مفلوج رہیں۔ کئی علاقوں میں لوگوں نے گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کیا جبکہ مساجد اور امام بارگاہوں میں غم و سوگ کی فضا برقرار رہی۔
انتظامیہ کے مطابق یہ اقدامات مکمل طور پر احتیاطی نوعیت کے تھے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
پولیس کے ایک سینئر افسر نے یو این آئی کو بتایا:’پیر کے روز وادی کے تمام اضلاع میں حالات مکمل طور پر پرامن رہے۔
کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ البتہ حفاظتی نقطۂ نظر سے فورسز کی تعیناتی میں اضافہ کیا گیا ہے اور صورتحال کا لمحہ بہ لمحہ جائزہ لیا جا رہا ہے۔‘
یو این آئی۔ ارشید بٹ
جموں و کشمیر
ایل جی نے کھلاڑیوں سے ’نشہ مکت جموں و کشمیر ابھیان‘ کے سفیر بننے کی اپیل کی
سری نگر، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے پیر کے روز کھلاڑیوں سے اپیل کی کہ وہ ’’نشہ مکت جموں و کشمیر ابھیان‘‘ کے سفیر بنیں اور نوجوانوں کو منشیات سے دور رہنے اور کھیلوں کو اپنانے کی ترغیب دیں۔
لیفٹیننٹ گورنر کشمیر یونیورسٹی میں آل انڈیا انٹر یونیورسٹی ووشو چیمپئن شپ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔
اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ انتظامیہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں مضبوط اسپورٹس کلچر کے فروغ کے لیے پرعزم ہے، تاکہ ہر طالب علم کو صحت مند اور فعال طرزِ زندگی اپنانے کے مساوی مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ آل انڈیا انٹر یونیورسٹی ووشو چیمپئن شپ صرف ایک کھیلوں کا مقابلہ نہیں بلکہ ’’ایک بھارت، شریشٹھ بھارت‘‘ کے جذبے کی جیتا جاگتا مظہر ہے، جو تنوع میں اتحاد، نظم و ضبط، بہترین کارکردگی اور قومی یکجہتی کو فروغ دیتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ“یہ چیمپئن شپ ہمیں اس کھیل کی اصل روح کو زندہ رکھنے کی ذمہ داری بھی دیتی ہے، جو محض مقابلے سے بالاتر ہو کر ہمیں اعلیٰ انسانی اقدار سے جوڑتی ہے۔ کشمیر یونیورسٹی میں ہونے والی یہ چیمپئن شپ نہ صرف مقابلوں کی شاندار کارکردگی بلکہ دوستی کے رشتوں، رکاوٹوں کو توڑنے اور ایک متحد، پُرعزم اور ہمدرد ہندوستانی خاندان کے احساس کو تازہ کرنے کے لیے یاد رکھی جائے۔”
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ووشو کا سخت نظم و ضبط نوجوانوں کی مضبوطی اور استقامت کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ چیمپئن شپ ثقافتی تبادلے کا ایک پلیٹ فارم ہے جہاں حریف دوست بن جاتے ہیں اور اساتذہ ملک کے مستقبل کی رہنمائی کرتے ہیں۔
انہوں نے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ اپنے موبائل فون سے مختصر ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر شیئر کریں تاکہ منشیات کے خلاف بیداری پھیلائی جا سکے اور دوسروں کو مثبت طرزِ زندگی اپنانے کی ترغیب دی جا سکے۔
یواین آئی۔ ظا
جموں و کشمیر
اے سی بی نے غیر قانونی تعمیرات کیس میں ایس ایم سی اہلکاروں سمیت 11 کے خلاف چارج شیٹ داخل کی
سری نگر، جموں و کشمیر انسداد بدعنوانی بیورو (اے سی بی) نے مبینہ غیر قانونی تعمیرات کے ایک معاملے میں سری نگر میونسپل کارپوریشن (ایس ایم سی) کے چار اہلکاروں سمیت 11 ملزمان کے خلاف چارج شیٹ داخل کر دی ہے، حکام نے پیر کے روز یہ اطلاع دی۔
یہ چارج شیٹ ایڈیشنل اسپیشل جج، انسداد بدعنوانی، سری نگر کی عدالت میں پیش کی گئی، جو 2020 میں درج ایف آئی آر کے سلسلے میں ہے، جسے جموں و کشمیر انسداد بدعنوانی ایکٹ اور آر پی سی کی دفعہ 120-بی کے تحت درج کیا گیا تھا۔
یہ معاملہ جواہر نگر، گونی خان، ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ اور وزیر باغ میں بغیر مناسب اجازت کے چھ غیر قانونی عمارتوں کی تعمیر سے متعلق ہے، جو مبینہ طور پر ایس ایم سی اہلکاروں کی ملی بھگت سے کی گئی۔
اے سی بی کے مطابق زبانی اور دستاویزی شواہد پر مبنی تحقیقات میں الزامات ثابت ہوئے ہیں اور اہلکاروں اور فائدہ اٹھانے والوں کے درمیان سازش کی تصدیق ہوئی ہے۔
حکومت سے قانونی اجازت حاصل کرنے کے بعد چارج شیٹ عدالت میں دائر کی گئی ہے تاکہ عدالتی کارروائی آگے بڑھ سکے۔
اس معاملے کی اگلی سماعت 16 جون کو مقرر کی گئی ہے۔
یواین آئی۔ ظا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر پولیس نے سری نگر میں منشیات فروش کی غیر قانونی عمارت مسمار کر دی
سری نگر، ’’نشہ مکت جموں و کشمیر ابھیان‘‘ کے تحت جاری مہم میں سخت کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے پیر کے روز سری نگر میں ایک عادی منشیات فروش کی غیر قانونی طور پر تعمیر شدہ رہائشی عمارت کو منہدم کر دیا، حکام نے بتایاکہ ’’پولیس کے مطابق ملزم محمد عرفان شیخ عرف ’اف‘، پامپوش کالونی، پلپورہ نورباغ کا رہائشی ہے اور وہ منشیات کے معاملات میں ملوث ایک معروف مجرم ہے، جس کے خلاف 2024 اور 2021 میں پولیس اسٹیشن صفاکدل اور سنگم میں این ڈی پی ایس کے تحت کئی مقدمات درج ہیں۔ ‘‘
تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ مذکورہ عمارت غیر قانونی طور پر اس زمین پر تعمیر کی گئی تھی جو منشیات کی اسمگلنگ سے حاصل ہونے والی آمدنی سے خریدی اور ترقی دی گئی تھی۔
پولیس نے بتایا کہ یہ تعمیرات قانونی اجازت کے بغیر کی گئی تھیں، جو محصولات کے قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ مزید یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ملزم کے قریبی ساتھی اور خاندان کے افراد بھی وادی بھر میں مختلف این ڈی پی ایس مقدمات میں ملوث ہیں، جو ایک وسیع نیٹ ورک کی نشاندہی کرتا ہے۔
مصدقہ اطلاعات اور قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد متعلقہ حکام کے تعاون سے یہ انہدامی کارروائی قانون کے مطابق انجام دی گئی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ایک واضح پیغام ہے کہ منشیات کی کمائی سے بنائی گئی جائیدادوں کو بخشا نہیں جائے گا اور اس غیر قانونی کاروبار میں ملوث افراد کو سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
پولیس نے منشیات کے خلاف اپنی زیرو ٹالرنس پالیسی کو دہراتے ہوئے کہا کہ وہ اس کے پورے نیٹ ورک، بشمول مالی اور لاجسٹک نظام، کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر کے لیے ترقی کا بڑا تحفہ؛ شیوراج سنگھ چوہان نے 3566 کروڑ روپے کے سڑک منصوبوں کی منظوری دے دی
دنیا1 week agoآپ حملہ آور کا پیغام پڑھ رہی ہیں، آپ کو شرم آنی چاہیے: ٹرمپ
جموں و کشمیر7 days agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کا زراعت میں فوری اصلاحات اور کسانوں کے تحفظ کا مطالبہ
دنیا5 days agoپوتن نے صدر ٹرمپ کو ایرانی جوہری پروگرام پر تجاویز دے دیں
دنیا1 week agoامریکہ سے مذاکرات میں پاکستان اہم ثالث ہے: ایرانی وزیرخارجہ
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز کی دوبارہ بحالی کیلئے ایران کی نئی شرط
دنیا3 days agoایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا یوم مزدور پر پیغام
دنیا7 days agoصدر ٹرمپ نے امریکی انتخابات کو دھاندلی زدہ اور دنیا کے لیے مذاق قرار دے دیا
دنیا1 week agoجنگیں چھیڑنے والے انسانیت کے پُرامن مستقبل کو چھین رہے ہیں: پوپ لیو
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز سے گزرنے کی ایرانی فیس دنیا کے لیے ناقابل برداشت ہوگئی
جموں و کشمیر19 hours agoجموں میں ہوٹل کے بیسمنٹ سے مشتبہ حالات میں نوجوان لڑکی کی لاش برآمد
دنیا7 days agoعالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ











































































































