دنیا
امریکی وزیرِ توانائی نے آبنائے ہرمز سے امریکی آئل ٹینکر گزرنے سے متعلق اپنی ‘ایکس’ پوسٹ ڈیلیٹ کردی
واشنگٹن، امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے آبنائے ہرمز سے امریکی فوج کی مدد سے آئل ٹینکر گزرنے کی’ایکس‘پرپوسٹ شیئر کرکے ڈیلیٹ کردی۔
تفصیلات کے مطابق آبنائے ہرمز سے امریکی فوج کی حفاظت میں آئل ٹینکر گزارنے کے معاملے پر عالمی سطح پر ایک نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔
یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب امریکی وزیرِ توانائی کرس رائٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر ایک پوسٹ ڈالی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ امریکی فوج کی مدد سے آبنائے ہرمز سے ایک آئل ٹینکر بحفاظت گزار لیا گیا ہے۔
تاہم، حیران کن طور پر تھوڑی ہی دیر بعد امریکی وزیر نے مذکورہ پوسٹ ڈیلیٹ کر دی۔
اس ابہام میں اس وقت مزید اضافہ ہوا جب ایک دوسرے امریکی اہلکار نے خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ امریکی فوج کی جانب سے ایسا کوئی ٹینکر نہیں گزارا گیا۔
دوسری جانب، ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے بھی ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے کہ امریکی فوج کوئی جہاز آبنائے ہرمز سے گزارنے میں کامیاب ہوئی ہے۔
تہران کا کہنا ہے کہ خطے کی صورتحال پر ان کی گہری نظر ہے اور امریکی دعووں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔
اس وقت عالمی مبصرین اس تضاد کو امریکی انتظامیہ کے اندرونی رابطوں کی کمی یا کسی ممکنہ حساس فوجی آپریشن کی ناکامی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران کا آبنائے ہرمز کے لیے نیا بحری میکانزم نافذ کرنے کا اعلان
تہران، ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کے لیے باضابطہ طور پر ایک نیا میکانزم شروع کر دیا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کے لیے باضابطہ طور پر ایک نیا میکانزم شروع کر دیا ہے۔ نئے قواعد و ضوابط کے تحت اب آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام بحری جہازوں کو باقاعدہ اجازت نامہ حاصل کرنا ہو گا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جہازوں کو گزرنے کی اجازت حاصل کرنے کے لیے مخصوص ہدایات پر سختی سے عمل کرنا ہو گا اور اس حوالے سے تمام متعلقہ جہازوں کو ای میل کے ذریعے نئے قواعد سے آگاہ کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ ایران نے پہلے ہی اسرائیل اور امریکہ سے منسلک بحری جہازوں پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔
مزید برآں، ایرانی پارلیمنٹ میں ایک تجویز زیرِ غور ہے جس کے تحت دشمن ممالک کے جہازوں اور غیر مسلح تجارتی جہازوں پر ٹیکس عائد کیا جا سکتا ہے۔ ان نئے قوانین میں اسرائیل سے منسلک کسی بھی بحری جہاز کے داخلے پر مکمل پابندی کی تجویز بھی شامل ہے تاکہ خطے میں ایرانی مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
عباس عراقچی کی سعودی ہم منصب فیصل بن فرحان سے ٹیلیفونک گفتگو
تہران، ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے سعودی ہم منصب فیصل بن فرحان سے ٹیلی فونک گفتگو کی ہے۔
دونوں رہنماؤں کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی میں کمی، سفارت کاری اور علاقائی تعاون جاری رہنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ اس سے پہلے ایک بیان میں سعودی وزارتِ خارجہ نے خطے میں حالیہ فوجی کشیدگی پر اظہارِ تشویش کیا تھا اور فریقین سے کشیدگی کم کرنے اور تحمل سے کام لینے کی اپیل بھی کی تھی۔
سعودی وزارتِ خارجہ کا کہنا تھا کہ سعودی عرب پاکستان کی ثالثی اورسفارتی کوششوں کی حمایت کرتا ہے، یہ صورتِ حال نہ خطے اور نہ ہی دنیا کے مفاد میں ہے۔ سعودی وزارتِ خارجہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ مسئلے کا ایسا سیاسی حل تلاش کیا جائے جس سے خطے کو مزید کشیدگی اور عدم استحکام سے بچایا جا سکے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
امریکہ کی 14 نکاتی امن تجاویز کا جائزہ لے رہے ہیں: ایران
تہران، ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ امریکہ کی 14 نکاتی امن تجاویز کا جائزہ لے رہے ہیں۔
واضح رہے کہ امریکی حکام اور وائٹ ہاؤس کے قریبی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے باقاعدہ خاتمے اور ایٹمی مذاکرات کے نئے فریم ورک پر اتفاق کے لیے ایک صفحے کی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) تیار کر لی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق فریقین اس وقت معاہدے کے اتنے قریب ہیں جتنا جنگ کے آغاز سے اب تک کبھی نہیں رہے تھے۔ امریکی خبر رساں ادارے ایگزیوس کی رپورٹ کے مطابق امریکس کو اگلے 48 گھنٹوں میں ایران کی جانب سے چند اہم نکات پر حتمی جواب کا انتظار ہے، اگرچہ ابھی کسی دستاویز پر دستخط نہیں ہوئے، لیکن صدر ٹرمپ کے قریبی مشیر جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف ایرانی حکام سے براہِ راست اور ثالثوں کے ذریعے مسلسل رابطے میں ہیں۔
معاہدے کے بعد 30 دنوں کے اندر اسلام آباد یا جنیوا میں تفصیلی مذاکرات ہوں گے جن میں پابندیوں کے خاتمے اور ایٹمی پروگرام پر حتمی بحث ہو گی۔
اس 30 روزہ مدت کے دوران ایران کی جانب سے جہاز رانی پر پابندیاں اور امریکہ کا بحری محاصرہ بتدریج ختم کر دیا جائے گا،
ایران 12 سے 15 سال تک یورینیئم کی افزودگی روکنے پر غور کر رہا ہے، جبکہ امریکہ 20 سال کا مطالبہ کر رہا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے لیے ترقی کا بڑا تحفہ؛ شیوراج سنگھ چوہان نے 3566 کروڑ روپے کے سڑک منصوبوں کی منظوری دے دی
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کا زراعت میں فوری اصلاحات اور کسانوں کے تحفظ کا مطالبہ
دنیا1 week agoصدر ٹرمپ نے امریکی انتخابات کو دھاندلی زدہ اور دنیا کے لیے مذاق قرار دے دیا
جموں و کشمیر2 days agoجموں میں ہوٹل کے بیسمنٹ سے مشتبہ حالات میں نوجوان لڑکی کی لاش برآمد
دنیا6 days agoپوتن نے صدر ٹرمپ کو ایرانی جوہری پروگرام پر تجاویز دے دیں
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز سے گزرنے کی ایرانی فیس دنیا کے لیے ناقابل برداشت ہوگئی
دنیا4 days agoایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا یوم مزدور پر پیغام
دنیا1 week agoعالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ
جموں و کشمیر1 week agoاردو زبان پر تنازع: التجا مفتی کا عمر عبداللہ سے سوال، “جو بی جے پی نے نہیں مٹایا، وہ آپ کیوں مٹا رہے ہیں
ہندوستان1 week agoگریٹ نکوبار پروجیکٹ پر راہل نے حکومت سے مانگا جواب
دنیا5 days agoامریکی وزیر دفاع کی کانگریس میں سخت تقریر، ایران سے جنگ میں اسلحہ کی قلت کا اعتراف
دنیا5 days agoآبنائے ہرمز کو آبنائے ٹرمپ قرار دینے پر ایرانی وزیر خارجہ کا امریکی صدر کو جواب










































































































