جموں و کشمیر
سرینگر ثقافتی ہم آہنگی ،قدیم تاریخ اور تنوع کے اتحاد کی گواہی کے طور پر کھڑا ہے:تنویر صادق

سری نگرجموں وکشمیر نیشنل کانفرنس کے ترجمان اعلیٰ اور ایم ایل اے زیڈی بل تنویر صادق نے سری لنکا کی راجدھانی کولمبو میں Strong Citiesکانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پائیدار ترقی کے ساتھ شہری ترقی کو متوازن کرنے کی ضرورت،نوجوانوں کو متاثر کرنے والے منشیات کے استعمال سے نمٹنے کے لئے علاقائی تعاون اورہجرت اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لئے جامع پالیسیوں پر زور دیا۔
ثقافتی ورثے اور قدرتی ماحولیاتی نظام کے تحفظ کی وکالت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مضبوط شہروں کے لئے ایک ماڈل کے طور پر سرینگر کے کمیونٹی سے چلنے والے حل کی کہانیاں شیئر کیں اورسیلاب، وبائی امراض اور بحرانوں کے دوران سرینگر کی اُبھرنے کی قوت کو اجاگر کیا۔کانفرنس کی میزبانی سٹرانگ سٹیز نیٹ ورک میںمنعقد ہوئی۔
تنویر صادق نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ میں ہندوستان کے سب سے شمالی علاقے، ہمالیہ کی گود میں واقع جموں اور کشمیر سے آتا ہوں، میرا شہر، سرینگر، جسے اکثر ”زمین پر جنت“ کہا جاتا ہے، جو دلکش مناظر اور گہرے ثقافتی ورثے کا امتزاج ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک طرف پہاڑوں اور دوسری طرف مشہور ڈل جھیل، سرینگر میں شنکراچاریہ مندر، حضرت بل کی درگاہ ، اور زیارت مخدوم صاحبؒ جیسے تاریخی مقامات کا گھر ہے۔ یہ شہر، ثقافتی ہم آہنگی کی اپنی قدیم تاریخ کے ساتھ، تنوع کے درمیان اتحاد کی گواہی کے طور پر کھڑا ہے۔سرینگر نے اپنے حصے کی خوبصورتی اور گہرے چیلنجوں کا مشاہدہ کیا ہے۔ 2014 کا سیلاب ہو یا COVID19 کی وبا، اس کے لوگوں کی چیلنجوں سے اُبھرنے کی قوت قابل ذکر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تباہ کن سیلاب کے دوران، اُس وقت کے وزیر اعلیٰ نے ایک عارضی دفتر قائم کیا، جس میں روزانہ دو میٹنگیں ہوتی تھیں۔ ایک صبح حکمت عملی بنانے کے لئے اور دوسری شام کو پیش رفت کا جائزہ لینے کے لئے۔ہزاروں شہریوں نے رضاکارانہ طور پر امدادی کارروائیوں، خوراک فراہم کرنے اور ضرورت مندوں کی مدد کی۔ یہ وہ لمحہ تھا جس نے واقعی ہمارے سماج کے اٹوٹ جذبے کو ظاہر کیا۔
اسی طرح، COVID-19 وبائی امراض کے دوران، سرینگر کے لوگ ایک بار پھر اکٹھے ہوئے۔ سماجی امدادی سرگرمیاں منظم کیں، ضروری سامان تقسیم کیا اور فرنٹ لائن کارکنوں کی مدد کی۔ یہ اجتماعی لچک ہمیشہ سے ہمارے شہر کی پہچان رہی ہے ، ایک ایسا شہر جو انسانیت اور یکجہتی کی طاقت پر یقین رکھتا ہے۔پھر بھی، ہماری لچک کے درمیان، کچھ کہانیاں ہمیں پریشان کرتی رہتی ہیں۔
آج ہمیں درپیش سب سے زیادہ خطرناک چیلنجوں میں سے ایک ہے منشیات کے استعمال میں زبردست اضافہ ہے۔ سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جموں و کشمیر میں 15لاکھ سے زیادہ لوگ منشیات کی لت سے متاثر ہیں ، جو حیران کن اور خوفناک اعدادوشمار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ بحران خاندانوں کو پھاڑ رہا ہے اور ہمارے معاشرے کے سماجی تانے بانے کو خطرہ بنا رہا ہے۔تاہم، کمیونٹیز ایک بار پھر آگے بڑھ رہی ہیں، بیداری کی مہمات، بحالی کی مہمات، اور نوجوانوں کی شمولیت کے پروگراموں کو منظم کر رہی ہیں۔ لیکن مسئلہ کا پیمانہ ایک مضبوط، مربوط جواب کا مطالبہ کرتا ہے، جس میں مقامی حکام، سول سوسائٹی اور علاقائی تعاون شامل ہو۔
ان چیلنجوں کے باوجود سرینگر کی صلاحیت بے مثال ہے۔ اس کی عالمی شہرت یافتہ جھیلوں ، ڈل، نگین، انچارسر، اور خوشحالسر سے لے کر اس کے ثقافتی اور تعمیراتی ورثے تک، سرینگر پائیدار اور جامع شہری ترقی کے لئے ایک ماڈل بننے کے لئے تیار ہے۔
یو این آئی، ارشید بٹ
جموں و کشمیر
پٹن بارہمولہ میں ثقافتی میلہ ہندوستان کے متنوع ثقافتی ورثے کی عکاسی کرتا ہے
سرینگر، پٹن، بارہمولہ میں جمعرات کو “شامِ شفقت” کے عنوان سے ایک رنگا رنگ ثقافتی میلہ منعقد کیا گیا، جس میں ہندوستان کے بھرپور اور متنوع ثقافتی ورثے کا جشن منایا گیا۔
سرکاری بیان کے مطابق اس میلے کا مشترکہ طور پر نارتھ زون کلچرل سینٹر، وزارتِ ثقافت، حکومتِ ہند، اور ہندوستانی فوج نے انعقاد کیا۔ اس موقع پر پنجاب، راجستھان، گجرات، مہاراشٹر، منی پور اور اڈیشہ کے معروف فنکاروں نے اپنی شاندار پرفارمنس کے ذریعے حاضرین کو محظوظ کیا اور ہندوستان کی لوک روایات کی گہرائی اور تنوع کو اجاگر کیا۔
پورے دن جاری رہنے والے اس پروگرام میں لوک رقص، روایتی موسیقی اور ملک کے مختلف علاقوں کی ثقافتی جھلکیاں پیش کی گئیں۔ ہر پرفارمنس نے اپنے علاقے کی منفرد ثقافتی شناخت کو نمایاں کیا، جبکہ مجموعی طور پر “اتحاد میں تنوع” کے ہندوستانی تصور کی عکاسی کی۔
فنکاروں کی پُرجوش پیشکشوں نے جشن کا سماں باندھ دیا اور حاضرین میں حب الوطنی اور قومی فخر کے جذبات کو فروغ دیا۔
منتظمین کے مطابق اس میلے کا مقصد ہندوستان کے ثقافتی ورثے کو محفوظ، فروغ اور مقبول بنانا تھا، ساتھ ہی شمالی کشمیر کے نوجوانوں اور ملک کے دیگر حصوں کے درمیان ثقافتی روابط کو مضبوط کرنا بھی اس کا اہم ہدف تھا۔
اس تقریب میں شمالی کشمیر کے طلبہ اور سول سوسائٹی کے ارکان نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ حاضرین نے بھرپور تالیوں کے ذریعے اس اقدام اور اس کے ثقافتی یکجہتی اور قومی اتحاد کے پیغام کو سراہا۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
شاہ پور کنڈی منصوبہ جموں و کشمیر اور پنجاب کے سرحدی اضلاع کی تقدیر بدل دے گا: ڈاکٹر جتیندر سنگھ
جموں، مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے جمعرات کو کہا کہ شاہ پور کنڈی منصوبہ جموں و کشمیر اور پنجاب کے سرحدی اضلاع میں آبپاشی کی سہولیات اور زرعی ترقی کو فروغ دے کر ان علاقوں کی تقدیر بدلنے والا ہے۔
ڈاکٹر سنگھ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہاکہ “یہ بات واضح ہے کہ شاہ پور کنڈی منصوبہ بہتر آبپاشی اور زرعی ترقی کے ذریعے جموں و کشمیر اور پنجاب کے سرحدی اضلاع میں انقلابی تبدیلی لائے گا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ یہ منصوبہ اب تقریباً مکمل ہو چکا ہے اور اس کی تکمیل علاقے کے عوام کی کئی دہائیوں پرانی خواہش کی تکمیل ہے۔
انہوں نے لکھا کہ ضلع کٹھوعہ کی سرحد پر واقع شاہ پور کنڈی قومی منصوبہ ایک اہم داستان رکھتا ہے۔ 1960 کے معاہدۂ سندھ طاس کے بعد ہندوستان کے حصے میں تین دریا راوی، بیاس اور ستلج آئے تھے، جن میں دریائے راوی سب سے بڑا تھا۔
1970 کی دہائی کے آخر میں دریائے راوی پر ایک قومی منصوبے کا تصور پیش کیا گیا تاکہ ہندوستان کے حصے کا پانی پاکستان میں بہنے کے بجائے ہندوستان کے اندر استعمال کیا جا سکے۔
ڈاکٹر سنگھ نے مزید کہا کہ 1984 میں اس منصوبے کا سنگِ بنیاد اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے رکھا تھا، لیکن چند ماہ بعد ان کے قتل کے بعد یہ منصوبہ پس منظر میں چلا گیا اور بعد کی مرکزی و ریاستی حکومتوں نے بھی اس پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی۔
انہوں نے کہا کہ تقریباً تین دہائیوں بعد، جب 2014 میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت اقتدار میں آئی تو اس منصوبے کو دوبارہ شروع کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ جموں و کشمیر اور پنجاب کے چیف سیکریٹریوں کو اس عمل میں شامل کیا گیا، نئے دستاویزات تیار کیے گئے اور فروری 2019 میں جموں میں ایک عوامی جلسے کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی نے اس منصوبے کی بحالی کا اعلان کیا۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
سونمرگ میں محبوبہ مفتی کی امرناتھ یاترا کی کامیابی کے لیے اجتماعی کوششوں کی اپیل
سرینگر، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعرات کو کشمیری عوام سے اپیل کی کہ وہ سالانہ امرناتھ یاترا پر آنے والے یاتریوں کا گرمجوشی اور مہمان نوازی سے استقبال کریں۔
انہوں نے کہا کہ یہ یاترا کشمیر اور ملک کے دیگر حصوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے کا ایک اہم موقع فراہم کرتی ہے۔
ضلع گاندربل کے سونمرگ کے دورے کے دوران محبوبہ مفتی نے مقامی متعلقہ فریقوں سے ملاقات کی اور یاترا کے دوران درپیش مسائل اور چیلنجز کے بارے میں ان کے تحفظات سنے۔
انہوں نے پہلگام میں دیے گئے اپنے سابقہ پیغام کو دہراتے ہوئے کہا کہ یاترا کی حفاظت اور اس کے پُرامن انعقاد کو یقینی بنانا صرف سیکیورٹی اداروں کی ذمہ داری نہیں ہے۔
انہوں نے کہاکہ “امرناتھ یاترا کی حفاظت صرف سیکیورٹی ایجنسیوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ کشمیر کے عوام کی اجتماعی ذمہ داری بھی ہے۔”
پی ڈی پی سربراہ نے تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ہر یاتری کشمیر میں اپنے قیام کے دوران خود کو خوش آمدید، باعزت اور محفوظ محسوس کرے۔
انہوں نے کہاکہ “ہمیں یہ یقینی بنانا چاہیے کہ ہر زائر کشمیر کی مہمان نوازی، محبت اور انسان دوستی کا سفیر بن کر اپنے گھر واپس جائے۔”
محبوبہ مفتی نے یاترا کو ملک کے مختلف علاقوں کے لوگوں کے درمیان ایک پل قرار دیتے ہوئے کہاکہ “یہ یاترا ہمیں پورے بھارت کے لوگوں سے جڑنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ ہماری مہمان نوازی، شفقت اور ہمدردی ہی تعصب اور بداعتمادی کا بہترین جواب ہونی چاہیے۔”
انہوں نے کہا کہ سالانہ یاترا کشمیریوں کو یہ موقع فراہم کرتی ہے کہ وہ بقائے باہمی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی ان روایات کو اجاگر کریں جو طویل عرصے سے اس خطے کی شناخت رہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہاکہ “کشمیر آنے والا ہر زائر یہاں سے ہمارے اقدار، ہمارے عقیدے اور ہمارے لوگوں کے بارے میں بہتر فہم لے کر جائے۔ یہ ہمارے لیے اسلام اور کشمیر کی حقیقی روح کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کا موقع ہے۔”
امرناتھ یاترا 3 جولائی سے پہلگام اور بالتال کے دو راستوں سے شروع ہونے والی ہے، جس کے لیے انتظامیہ اور سیکیورٹی اداروں کی جانب سے وسیع پیمانے پر تیاریاں کی جا رہی ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر5 days agoاین سی ایل ٹی نے سراج العلوم کے لیے عبوری لیکویڈیٹر مقرر کر دیا، اثاثے منجمد
ہندوستان5 days agoفضائیہ کا مال بردار طیارہ حادثے کا شکار، پانچ اہلکار شہید
دنیا1 week agoامریکہ آج رات ایران پر بڑا حملہ کرے گا: امریکی وزیر جنگ
دنیا1 week agoامریکہ کے ساتھ پائیدار معاہدہ دھمکیوں، دباؤ یا طاقت کے استعمال سے ممکن نہیں: ایرانی سفیر
دنیا5 days agoامریکہ نے ایران کے جوہری مواد پر قبضے کیلئے زمینی کارروائی کا منصوبہ بنالیا تھا تاہم ٹرمپ پیچھے ہٹ گئے: امریکی میڈیا
دنیا6 days agoایران معاہدے سے متعلق ٹرمپ کے مؤقف پر نیتن یاہو کا ردِعمل سامنے آگیا
جموں و کشمیر5 days agoشمالی کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریب پی او جے کے کا 19 سالہ نوجوان گرفتار
دنیا3 days agoتاریخی ڈیل مکمل، امریکہ اور ایران نے جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کردی
دنیا1 week agoجے ڈی وینس بھی ایران ڈیل سے متعلق ٹرمپ کا بیان ماننے پر تیار نہیں
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز میں امریکی افواج اور پاسداران انقلاب کے درمیان جھڑپیں: ایرانی خبر رساں ایجنسی
دنیا1 week agoپاکستان کا افغانستان پر حملہ، 11 بچوں سمیت 13 افراد ہلاک
دنیا3 days ago‘ٹرمپ کامعاہدہ ہمیں پابند نہیں کرتا’، اسرائیلی وزیر ایران امریکہ معاہدے پر سیخ پا


































































































