دنیا
شمالی شام میں متحارب گروہوں کی جھڑپوں کے درمیان ڈرون حملے میں 8 افراد ہلاک

دمشق، ترکی کی حمایت یافتہ ملیشیہ کے کم از کم آٹھ ارکان اتوار کے روز اس وقت مارے گئے جب کردوں کی زیر قیادت سیریئن ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے ڈرون نے شمالی شام کے صوبہ حلب میں تشرین ڈیم کے نزدیک گاڑیوں اور بکتر بند مشینریوں کو نشانہ بنایا۔ ایک جنگی مانیٹر تنظیم نے یہ اطلاع دی۔
سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق ایس ڈی ایف اور ترک حمایت یافتہ ’سیرین نیشنل آرمی‘ کے درمیان جھڑپوں میں ایس ڈی ایف کے آٹھ جنگجو زخمی بھی ہوئے۔
دریں اثناء، ایس ڈی ایف نے دعویٰ کیا کہ لڑائی میں ترکی کے حمایت یافتہ درجنوں جنگجو مارے گئے اور ٹینکوں سمیت متعدد گاڑیاں تباہ ہو گئیں۔
12 دسمبر 2024 کے بعد سے، آبزرویٹری نے دونوں طرف سے کم از کم 440 ہلاکتوں کی اطلاع دی ہے، جن میں 44 شہری، 321 ترک حمایت یافتہ گروپوں کے جنگجو، اور SDF اور اتحادیوں کے 75 جنگجو شامل ہیں۔
ہلاکتوں میں یہ اضافہ ترک حمایت یافتہ گروپوں کے دباؤ میں متعدد شمالی علاقوں سے SDF کے جبری انخلاء کے بعد ہوا ہے۔
ترکی شامی کردش پیپلز پروٹیکشن یونٹس (YPG) کو ممنوعہ کردستان ورکرز پارٹی (PKK) کی ملحقہ شاخ سمجھتا ہے، جو SDF کا بنیادی حصہ ہے۔
PKK کو ترکی، امریکہ اور یورپی یونین کی طرف سے دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا ہے۔
یو این آئی۔ م ش۔
تازہ ترین
آئی اے ای اے کے انسپکٹرز ایران کی جوہری تنصیبات کا دورہ کریں گے: ٹرمپ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آئی اے ای اے کے انسپکٹرز مناسب وقت پر ایران کی جوہری تنصیبات کا دورہ کریں گے۔
پنسلوانیا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ جوہری پروگرام سے متعلق ایران کا مؤقف غلط ہے اوروہ بھی یہ جانتے ہیں ایران کے جوہری پروگرام کا 100فیصد جائزہ لیا جائے گا اگر ایران کو مصیبت چاہیے تو جوہری ہتھیار حاصل کرلے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں گر رہی ہیں جو 70 ڈالر فی بیرل پر آگئی ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا ہے کہ عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی آئی اے ای اے کو نشانہ بننے والی جوہری تنصیبات کے دورے کی اجازت دینے کا ارادہ نہیں۔ اسماعیل بقائی نے کہا کہ جوہری عدم پھیلاؤ معاہدے کے بحیثیت رکن ملک ایران موجودہ اور شفاف بین الاقوامی ضابطہ کار پر عمل کرے گا تاہم جوہری مراکز کے معائنے کے لیے آئی اے ای اے کے دوروں سے متعلق کوئی واضح شیڈول طے نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے بحال فنڈز کے استعمال کا طریقہ کار ملکی مفادات کے مطابق طے ہو گا جب کہ لبنان پر جنگ کا خاتمہ امریکاکے ساتھ ہونیوالی مفاہمتی یادداشت کی بنیادی شرط ہے۔ اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران کی میزائل طاقت امریکہ کے ساتھ ہونیوالے مذاکرات کا حصہ نہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
اقوامِ متحدہ آبنائے ہرمز میں پھنسے ملاحوں کو نکالے گا
لندن، اقوام متحدہ کی بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن (آئی ایم او) امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ کی وجہ سے خلیجی خطے میں پھنسے ہوئے 11,000 سے زیادہ ملاحوں کو نکالنے کی تیاری کر رہی ہے۔
آئی ایم او کے سیکرٹری جنرل آرسینیو ڈومینگیز نے کہا کہ ’بڑے پیمانے پر آپریشن‘ ایران، عمان، امریکہ، خطے کے دیگر ساحلی ممالک اور سمندری صنعت کے ساتھ مل کر کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا، ’’ہم نے ضروری حفاظتی ضمانتیں حاصل کر لی ہیں اور ان کارروائیوں کے لیے محفوظ بحری آمدورفت کے حالات کی مکمل تصدیق کر لی ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کے لیے گزشتہ ہفتے ایک عبوری معاہدے پر دستخط ہوئے تھے، تاہم مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی مختلف شقوں پر امریکہ اور ایران کے درمیان اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔
امریکہ کا مؤقف ہے کہ معاہدے میں یہ ضمانت شامل ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کا معائنہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کرے گی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’’ایران نے مستقبل میں طویل مدت تک اعلیٰ ترین سطح کے جوہری معائنوں پر مکمل رضامندی ظاہر کر دی ہے، جس سے ’جوہری دیانت داری‘ یقینی بنے گی۔‘‘
مسٹر ٹرمپ کی اس پوسٹ سے کچھ وقت پہلے ایران نے کہا تھا کہ گزشتہ برس امریکہ اور اسرائیل کی بمباری کا نشانہ بننے والے جوہری مراکز کا معائنہ اقوامِ متحدہ کی جوہری نگرانی کی ایجنسی نہیں کر سکے گی۔
اس کے جواب میں ایک امریکی عہدیدار نے کہا، ’’ ایرانیوں نے اپنے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کے باقیات کے مؤثر آئی اے ای اے معائنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ ایرانی حکومت جاپنے گھریلو لوگوں کے لئے جو کہنا چاہے کہہ سکتی ہے۔
ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے منگل کو پاکستان کے دورے کے دوران کہا کہ ایران “کسی بھی حالت میں اپنی دفاعی صلاحیتوں پر کسی کے ساتھ بات چیت نہیں کرے گا۔”
جاری یواین آئی۔الف الف
دنیا
ایران ایٹمی تنصیبات کے مکمل معائنے پر رضامند ہے، ٹرمپ کا دعویٰ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اپنی ایٹمی تنصیبات کے مکمل معائنے پر رضا مند ہے۔
ایک بیان میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ دوبارہ ناکہ بندی کی ضرورت پڑی تو امریکی بحری جہاز اپنی جگہ موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران اپنی ایٹمی تنصیبات کے مکمل معائنے پر رضامند ہے، اگر تہران راضی نہ ہوتا تو مزید بات چیت ہی نہ ہوتی۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایسا نہیں لگتا کہ دوبارہ ناکہ بندی کی ضرورت پڑے گی، بحال ایرانی اثاثے امریکہ کے زیر کنٹرول بینک اکاؤنٹس میں رکھےجائیں گئے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان6 days ago‘اسلام آباد ایم او یو’ پر جے رام رمیش کا مرکز پر حملہ، کہا- مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو بڑا جھٹکا
دنیا1 week ago‘ٹرمپ کامعاہدہ ہمیں پابند نہیں کرتا’، اسرائیلی وزیر ایران امریکہ معاہدے پر سیخ پا
جموں و کشمیر1 week agoگاندربل ‘انکاؤنٹر’ کے مقتول کی لاش قبر سے نکال کر اہلِ خانہ کے حوالے
دنیا1 week agoعین وقت پر امریکہ ایران امن معاہدے میں تاخیر اسرائیلی حملے کے سبب
ہندوستان1 week agoسلوواکیہ میں مودی کا ہوا شاندار استقبال
تجزیہ1 week agoسبز توانائی اور موسمیاتی بحران
دنیا7 days agoایرانی آرمی چیف کا دفاعی طاقت مزید بڑھانے کا اعلان
دنیا7 days agoجی سیون ممالک کا امریکہ اور ایران امن معاہدے کی حمایت کا اعلان
ہندوستان7 days ago’جمہوریت کو نقصان پہنچانے کے لیے شاہ چلا رہے ہیں دھوکہ دہی پرمبنی مہم ‘: رمیش
تازہ ترین2 days agoٹرمپ کے بیان کے بعد ایران نے مذاکرات معطل کردیے، وفد واپس روانہ
دنیا1 week agoامریکہ ایران معاہدے پر الیکٹرانک دستخط ٹرمپ وینس نے کئے
دنیا5 days agoامریکہ اور ایران کے درمیان آج ہونے والے مذاکرات منسوخ: سوئس وزارت خارجہ




































































































