ہندوستان
والد کی یاد میں کیپٹن سمیرا بٹّر کی یومِ جمہوریہ پریڈ میں متاثرکن قیادت

نئی دہلی، اس سال یومِ جمہوریہ کی پریڈ میں مارچنگ دستے کی قیادت فوج کی کیپٹن سمیرا بُٹر نے سنبھالی اس دوران انہوں نے اپنی یادوں، ذاتی صدمات اور فرض کے تئیں غیر متزلزل عزم کا مظاہرہ کیا ‘کرتویہ پتھ’ پر 77 ویں یومِ جمہوریہ کے موقع پر منعقدہ پریڈ میں ‘انٹیگریٹڈ آپریشنز سینٹر’ دستے کی کمان کیپٹن سمیرا بٹر کے ہاتھ میں تھی، جس میں انہوں نے فوج کے اعلیٰ ترین نصب العین ‘سیوا پرمو دھرم’ کی عملی تصویر پیش کی۔ چوتھی نسل کی فوجی افسر کیپٹن بٹر نے حال ہی میں اپنے والد ریٹائرڈ کرنل سربجیت سنگھ بٹّر کے انتقال کےغم کے سائے میں اس پریڈ میں شرکت کی۔
ذاتی صدمے کے باوجود کیپٹن سمیرا بٹّر نے قیادت کی ذمہ داری سنبھالنے کا فیصلہ کیا۔ اس اعزاز کے ملنے پر انہوں نے کہا کہ ‘اس یومِ جمہوریہ پریڈ میں دستہ کمانڈر بننا میرے والد کے لیے میری خراجِ عقیدت ہے۔’
یو این آئی سے گفتگو میں کیپٹن بٹّر نے کہا کہ ملک کے لیے فرض شناسی ان کی رگوں میں رچی بسی ہے۔ وہ 19 پنجاب رجمنٹ کے مہاویر چکر یافتہ ریٹائرڈ بریگیڈیئر سمپورن سنگھ بٹّر کی پوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ‘میں بچپن سے ہی فوج میں جانے کا خواب دیکھتی تھی۔
آپریشن سندور کی کامیابی کو وقف جھانکی کی کمان سنبھالنا کسی بھی افسر کے لیے ایک اعزاز اور خواب کی تکمیل ہے۔ کیپٹن بٹّر نے کہا کہ ‘انٹیگریٹڈ آپریشنل سینٹر کی جھانکی آپریشن سندور کی کامیابی کی عکاس ہے۔ یہ ہماری مشترکہ سوچ، تیاریوں اور دیسی صلاحیتوں کو ظاہر کرتی ہے اور خود کفیل ہندوستانی فوج کی حقیقی علامت ہے۔’
ٰیو این آئی۔ م ع
ہندوستان
مغربی بنگال میں بی جے پی حکومت بننے سے شہریوں کو آیوشمان بھارت کا فائدہ ملے گا: مودی
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کو کہا کہ مغربی بنگال میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت بننے کے بعد اب ریاست کے لوگوں کو آیوشمان بھارت صحت بیمہ اسکیم کا فائدہ مل سکے گا انہوں نے زور دے کر کہا کہ نئی ’ڈبل انجن حکومت‘ مرکزی فلاحی پروگراموں کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنائے گی مسٹر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا، “مغربی بنگال کے میرے بھائیوں اور بہنوں کی فلاح اولین ترجیح ہے۔ مجھے بہت خوشی ہے کہ ریاست کے لوگوں کو آیوشمان بھارت تک رسائی حاصل ہوگی، جو دنیا کی سب سے بڑی صحت کی دیکھ بھال کی اسکیم ہے اور معیاری اور سستی طبی خدمات کو یقینی بناتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ڈبل انجن حکومت مرکزی اسکیموں کی بلا رکاوٹ فراہمی کو یقینی بنائے گی۔”
وزیر اعظم کا یہ بیان مغربی بنگال میں بی جے پی کی جانب سے باضابطہ طور پر اقتدار سنبھالنے کے بعد سامنے آیا ہے۔ ریاست میں ترنمول کانگریس کی 15 سالہ حکومت ختم ہو گئی اور سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی قیادت والی حکومت اقتدار سے باہر ہو گئی۔ بی جے پی نے آیوشمان بھارت کے نفاذ اور مرکز کے ساتھ بہتر تال میل کو اپنے انتخابی مہم کا اہم موضوع بنایا تھا اور سابقہ ترنمول حکومت پر سیاسی وجوہات کی بنا پر کئی مرکزی اسکیموں کو روکنے کا الزام عائد کیا تھا۔
آیوشمان بھارت، جسے سرکاری طور پر پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا کہا جاتا ہے، معاشی طور پر کمزور خاندانوں کوسیکنڈری اور ٹرٹیری اسپتالوں میں بھرتی ہونے کے لئے فی خاندان پانچ لاکھ روپے تک سالانہ صحت بیمہ کوریج فراہم کرتی ہے۔ ترنمول حکومت کے دوران مغربی بنگال اس اسکیم سے باہر رہا تھا اور اس کی جگہ اپنی صحت بیمہ اسکیم ’سواستھیہ ساتھی‘ چلا رہا تھا، جسے محترمہ بنرجی حکومت نے ایک زیادہ جامع متبادل کے طور پر پیش کیا تھا۔
یواین آئی۔الف الف
ہندوستان
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ اب سیاسی شعبدہ بازی کے بجائے اقتصادی جوڑ توڑ کا معاملہ
جینت رائے چودھری
نئی دہلی ہندوستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ہونے والا اضافہ اب سیاسی کرتب دکھانے کے بجائے معاشی جوڑ توڑ کا معاملہ زیادہ بن گیا ہے گزشتہ کئی مہینوں سے دباؤ آہستہ آہستہ بڑھ رہا ہے اور اس کے پیچھے ایک بڑی وجہ خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ہیں ماہرین کا خیال ہے کہ اگر مغربی ایشیا میں جنگ نہ بھی ہو، تب بھی 2026 میں خام تیل کی قیمتیں 95 سے 105 ڈالر فی بیرل کے درمیان رہ سکتی ہیں۔ یہ گزشتہ سال کے 65-70 ڈالر کے اوسط کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔
ریزرو بینک نے اس سال کے لیے خام تیل کی قیمت 85 ڈالر رہنے کا تخمینہ لگایا تھا، لیکن گزشتہ ماہ ہندوستان کو اوسطاً 114.48 ڈالر فی بیرل کی قیمت پر تیل خریدنا پڑا۔ ماہرین کے مطابق اس سال کی پہلی ششماہی میں قیمتیں 100 ڈالر سے نیچے آنے کی امید بہت کم ہے۔
ہندوستان اپنی ضرورت کا 85 فیصد سے زیادہ خام تیل بیرون ملک سے درآمدکرتا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں ہر 10 ڈالر کے اضافے سے ہندوستان کے درآمدی بل پر تقریباً 1.5 سے 2 ارب ڈالر کا اضافی بوجھ پڑتا ہے۔ حکومت نے گزشتہ ماہ پیٹرول اور ڈیزل پر ایکسائز ڈیوٹی (پیداواری محصول) میں 10 روپے کی کٹوتی کی تھی تاکہ قیمتیں نہ بڑھیں، لیکن یہ ریلیف زیادہ عرصے تک برقرار نہیں رہ سکتا کیونکہ تیل کمپنیاں پہلے ہی بھاری نقصان میں چل رہی ہیں۔
دانشوروں کا کہنا ہے کہ انتخابات ختم ہونے کے بعد اب تیل کی قیمتوں میں تبدیلی کو روکنا مشکل ہوگا، کیونکہ نہ تو کمپنیاں اتنا نقصان برداشت کر سکتی ہیں اور نہ ہی حکومت اپنے بجٹ سے اس کی تلافی کر سکتی ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی اس خطرے کو بھانپتے ہوئے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری چیزوں کی درآمد کم کریں اور توانائی کی بچت کریں۔ انہوں نے سونے کی خریداری ایک سال تک کے لیے روکنے کی اپیل کی ہے۔ ہندوستانیوں کو سونے سے اس قدر لگاؤ ہے کہ گزشتہ سال ہندوستان نے اس کی درآمد پر تقریباً 72 ارب ڈالر خرچ کر دیے۔
سونا ہندوستانیوں کے لیے صرف زیور نہیں بلکہ بچت کا ایک ذریعہ بھی ہے۔ ریزرو بینک بھی اپنے سونے کے ذخائر میں تیزی سے اضافہ کر رہا ہے، جو مارچ 2026 تک 880 ٹن تک پہنچ گیا ہے۔ اب ہندوستان کے کل غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر میں سونے کا حصہ بڑھ کر تقریباً 16.7 فیصد ہو گیا ہے۔
مجموعی طور پر ہندوستان کے سامنے دو بڑے چیلنجز ہیں- تیل اور سونا۔ تیل خریدنے میں غیر ملکی کرنسی خرچ ہوتی ہے اور سونے کی درآمد میں وہ بچائی جا سکتی ہے۔ مزید برآں، ڈالر کی مضبوطی نے مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ ایک سال پہلے جو ڈالر 85.41 روپے کا تھا، وہ اب 95.24 روپے پر پہنچ گیا ہے اور جلد ہی اس کے 100 روپے تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔
یواین آئی۔ایف اے
ہندوستان
ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی کوئی کمی نہیں، عوام گھبراہٹ میں خریداری سے گریز کریں: راج ناتھ سنگھ
نئی دہلی وزیر اعظم نریندر مودی کی توانائی کے تحفظ کی اپیل پر اپوزیشن جماعتوں کی تنقید کے درمیان وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے واضح کیا ہے کہ ملک میں کسی بھی پٹرولیم مصنوعات کی کوئی کمی نہیں ہے اور عوام کو گھبراہٹ میں خریداری سے بچنا چاہیے۔
مسٹر سنگھ نے پیر کے روز یہاں مغربی ایشیا کے بحران کے حوالے سے تشکیل دیے گئے وزراء کے غیر رسمی گروپ کی پانچویں میٹنگ کی صدارت کی۔ میٹنگ میں تنازع کی تازہ صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور ہندوستان کی تیاریوں کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ عوام پر اس کے اثرات کو کم سے کم کرنے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ میٹنگ کے بعد جناب سنگھ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں تمام ضروری اشیاء کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے حکومت کی کوششوں کی ستائش کی۔ انہوں نے عوام سے پرسکون رہنے کی اپیل کی اور کہا کہ سپلائی چین میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ کو روکنے کے لیے تمام ٹھوس اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
وزراء کے گروپ کو بتایا گیا کہ ملک میں ضروری اشیاء وافر مقدار میں دستیاب ہیں اور موجودہ بچت کے اقدامات صرف طویل مدتی صلاحیت سازی کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں تاکہ بحران کے طویل ہونے کی صورت میں اس سے نمٹا جا سکے۔ یہ بھی کہا گیا کہ سپلائی کا انتظام اطمینان بخش ہے اور لوگوں کو ایندھن یا دیگر اشیاء کی ضرورت سے زیادہ خریداری کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
وزیر دفاع نے زور دے کر کہا کہ موجودہ حالات میں ہندوستان کی ترجیح توانائی کی فراہمی کو بلا تعطل برقرار رکھنا، معاشی استحکام کو یقینی بنانا اور سمندری تجارتی راستوں کی حفاظت کرنا ہے۔ انہوں نے تمام متعلقہ فریقوں کو ہر صورتحال سے نمٹنے کے لیے چوکس رہنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ مغربی ایشیا کی صورتحال کو محض ایک الگ واقعے کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے، کیونکہ عالمی سطح پر جڑے ہوئے ماحول میں کسی بھی قسم کا بین الاقوامی بحران براہ راست یا بالواسطہ تمام ممالک کو متاثر کرتا ہے۔
مسٹر سنگھ نے حکام کو ہدایت دی کہ وزیر اعظم کی اپیل کو زمینی سطح پر نافذ کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔ وزیر اعظم نے عوام سے میٹرو اور عوامی ٹرانسپورٹ کے استعمال، کار پولنگ اپنانے، غیر ضروری غیر ملکی دوروں سے بچنے، گھریلو سیاحت کو فروغ دینے اور ایک سال تک غیر ضروری سونے کی خریداری سے گریز کرنے کی اپیل کی تھی، تاکہ پٹرول اور ڈیزل کی کھپت کم ہو اور غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر محفوظ رہیں۔
وزراء کے گروپ کو مطلع کیا گیا کہ جہاں دنیا کے دیگر ممالک نے گھریلو کھپت میں بھاری کٹوتی کے لیے ہنگامی اقدامات کیے ہیں، وہیں ہندوستان میں کسی بھی پٹرولیم مصنوعات کی کوئی کمی نہیں ہے۔ ہندوستان کے پاس 60 دن کا خام تیل، 60 دن کی قدرتی گیس اور 45 دن کا ایل پی جی ذخیرہ دستیاب ہے۔ غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر 703 ارب ڈالر کی اطمینان بخش سطح پر ہیں۔ ہندوستان دنیا کا تیسرا بڑا تیل صاف کرنے والا ملک ہے اور پٹرولیم مصنوعات کا چوتھا بڑا برآمد کنندہ ہے، جو 150 سے زائد ممالک کو برآمدات کر رہا ہے۔ تاہم، بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں مسلسل اونچی سطح پر رہنے کی وجہ سے ملک کو بھاری لاگت برداشت کرنی پڑ رہی ہے، جسے ایندھن کی بچت سے کم کیا جا سکتا ہے۔
گروپ کو بتایا گیا کہ ہندوستان ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں عالمی عدم استحکام کے باوجود تنازع شروع ہونے کے 70 دن بعد بھی پٹرولیم قیمتیں مستحکم ہیں۔ کئی ممالک میں قیمتیں 30 سے 70 فیصد تک بڑھ چکی ہیں۔ ہندوستان کی تیل کمپنیاں روزانہ تقریباً 1000 کروڑ روپے کا نقصان برداشت کر رہی ہیں تاکہ عالمی قیمتوں کا بوجھ ہندوستانی شہریوں پر نہ پڑے۔ لہٰذا، کسی بھی قسم کی تشویش کی ضرورت نہیں ہے اور شہریوں کو پٹرول پمپوں پر بھیڑ لگانے کی حاجت نہیں ہے۔
میٹنگ میں جے پی نڈا، ہردیپ سنگھ پوری، اشونی ویشنو، کرن ریجیجو، کے آر موہن نائیڈو، سربانند سونووال اور ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے شرکت کی۔
یواین آئی۔ایف اے
جموں و کشمیر1 week agoجموں میں ہوٹل کے بیسمنٹ سے مشتبہ حالات میں نوجوان لڑکی کی لاش برآمد
دنیا4 days agoامریکی کانگریس میں پاکستان کے حق میں بڑی قرارداد منظور
ہندوستان7 days agoغیر آئینی طریقوں سے پارٹیوں کو توڑنا جمہوری ڈھانچے پر براہ راست حملہ ہے: بھگونت مان
دنیا1 week agoصدر ٹرمپ کے اعلان کے بعد خام تیل کی قیمتیں کم ہو گئیں
دنیا4 days agoامریکہ ایران جنگ ختم ہوگئی تب بھی تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا امکان جاری رہے گا
ہندوستان5 days agoآپریشن سندور نے درست اور فیصلہ کن کارروائی سے ہندستان کی سلامتی پالیسی میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا:سیتا رمن
ہندوستان7 days agoوزیراعظم مودی نے یو اے ای میں ڈرون حملے کی مذمت کی، مغربی ایشیا میں سفارت کاری اور سمندری سلامتی کی حمایت کی
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر پولیس نے سری نگر میں منشیات فروش کی غیر قانونی عمارت مسمار کر دی
دنیا1 week agoایرانی فوج کی آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو وارننگ
ہندوستان5 days agoراجناتھ سنگھ نے ‘آپریشن سندور’ کو قومی عزم اور تیاری کی مضبوط علامت قرار دیا
ہندوستان7 days agoہندوستان نے فجیرہ حملے کی سخت مذمت کی، مسائل کے حل کے لیے سفارت کاری پر زور دیا
ہندوستان1 week agoرجحانات میں بنگال اور تامل ناڈو میں بڑا الٹ پھیر، آسام میں این ڈی اے تو کیرالہ میں کانگریس فرنٹ کو اکثریت











































































































