ہندوستان
ہند–یورپی یونین تعلقات: یومِ جمہوریہ پر فوجی طاقت کا مظاہرہ، دفاعی شراکت داری پر زور

از:جینت رائے چودھری
نئی دہلی، اکیسویں صدی کی کثیر قطبی عالمی نظام کی حقیقت کے درمیان ہندوستان نے پیر کے روز اپنی فوجی طاقت کا بھرپور مظاہرہ کیا اس موقع پر ممکنہ نئے سلامتی شراکت دار، یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا اور یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لیئن بھی موجود تھیں۔
ایک جانب جہاں ہندوستان اور یورپی یونین (ای یو) طویل عرصے سے زیرِ التوا آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) کو حتمی شکل دینے کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں، وہیں دوسری جانب دونوں فریق اس ہفتے ایک ’سلامتی اور دفاعی شراکت داری‘ کے ذریعے تعاون کو مضبوط بنانے پر بھی غور کر رہے ہیں۔ اس تجارتی معاہدے میں ہندوستان کی جانب سے درآمد کی جانے والی مہنگی کاروں پر کسٹم ڈیوٹی میں نمایاں کمی شامل ہو سکتی ہے۔
اعلیٰ افسران کے مطابق دونوں فریق سمندری سلامتی (خصوصاً ہند-بحرالکاہل خطے میں)، اسلحہ کی تخفیف، خلا، دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں اور سائبر خطرات سے نمٹنے کے لیے قریبی تعاون پر کام کر رہے ہیں۔ یورپی یونین میں ہندوستان کی سابق سفیر بھاسوتی مکھرجی نے کہا کہ “یورپی یونین اب ہندوستان کو نئے عالمی نظام میں ایک قیمتی شراکت دار کے طور پر دیکھتا ہے۔”
تجارتی محاذ پر ایک عہدیدار نے تصدیق کی کہ 15 ہزار یورو (تقریباً 16 لاکھ روپے) سے زائد قیمت والی پیٹرول اور ڈیزل کاروں پر ڈیوٹی کو موجودہ 70 سے 110 فیصد سے کم کرکے نصف کرنے پر اتفاق ہو سکتا ہے۔ تاہم، ہندوستان کی ابھرتی ہوئی الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت کے تحفظ کے لیے بیٹری سے چلنے والی گاڑیوں کو پانچ برس تک اس معاہدے سے باہر رکھا جائے گا۔
پیر کے روز 77ویں یومِ جمہوریہ کی پریڈ میں ہندوستان کی فوجی اختراعات، جیسے ’سوریہ استر‘ میزائل لانچر اور مقامی طور پر تیار کردہ ’جولٹ‘ ڈرون کی نمائش کی گئی، جس کے دیدار مسٹر کوسٹا اور محترمہ وان ڈیر لیئن نے صدر دروپدی مرمو اور وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ کئے۔
محترمہ مکھرجی نے کہا کہ آج کی دنیا میں صرف ’سافٹ پاور‘ کام نہیں کرتی، اسی لیے یورپ اب اپنی فوجی صلاحیتوں میں اضافے پر توجہ دے رہا ہے۔ یوکرین جنگ اور امریکہ کی سلامتی کی ضمانتوں پر اٹھتے سوالات کے درمیان، ہندوستان اب یورپ کے لیے محض اسلحہ خریدنے والا ملک نہیں رہا بلکہ گولہ بارود کا ایک اہم سپلائر بن کر ابھرا ہے۔ سن 2022 سے 2024 کے درمیان ہندوستان کی دفاعی برآمدات 13 کروڑ 50 لاکھ ڈالر سے تجاوز کر گئیں۔
ٹاٹا، ریلائنس اور بھارت فورج جیسی ہندوستانی کمپنیوں نے ڈسالٹ اور ایئربس جیسے یورپی صنعتی اداروں کے ساتھ شراکت داری قائم کی ہے۔ دونوں فریق بحیرۂ احمر میں سمندری قزاقی کے خلاف کارروائیوں اور سمندری گشت میں بھی تعاون کر رہے ہیں۔ افسران کا خیال ہے کہ چونکہ امریکہ اب مستقل سلامتی گارنٹی فراہم نہیں کرسکتا، اس لیے یورپی ممالک کو بحرِ ہند اور بحرالکاہل خطے میں اپنی موجودگی میں اضافہ کرنا ہوگا۔ سلامتی کے محاذ پر، یورپی یونین چاہتا ہے کہ ’یوروپول‘ اور ہندوستان کی ’سی بی آئی‘ کے درمیان تعاون مزید مضبوط ہو۔ اس کے ساتھ ہی دونوں فریق ایک ’اطلاعاتی سلامتی معاہدے‘ پر دستخط کے خواہاں ہیں، جس سے خفیہ معلومات کے تبادلے میں آسانی پیدا ہوسکے اور مستقبل میں ہندوستان کی شمولیت میں یورپی یونین کی دفاعی پہلوں میں اضافہ ہو سکے۔
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
‘ٹیلی گرام بین’ پر راہل کا مرکزی حکومت پر الزام، ”پیپر لیک مافیا پر نہیں، طالب علموں کے خلاف کارروائی کر رہی ہے حکومت“
نئی دہلی، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے مبینہ ’ٹیلی گرام بین‘ کے تعلق سے مرکزی حکومت پر الزام لگایا ہے کہ پیپر لیک روکنے کے نام پر حکومت اصل قصورواروں کے بجائے طالب علموں کو نشانہ بنا رہی ہے مسٹر گاندھی نے کہا کہ لاکھوں طالب علم برسوں سے ٹیلی گرام کا استعمال پڑھائی، نوٹس، ٹیسٹ سیریز، مباحثہ اور مسابقتی امتحانات کی تیاری کے لیے کرتے ہیں۔ ایسے میں اس سہولت کو بند کرنا پیپر لیک کا حل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ حکومت چور کو پکڑنے کے بجائے متاثرہ کے گھر پر تالا لگا رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ قدم نہ تو مؤثر ہے اور نہ ہی پیپر لیک روکنے کا مستقل علاج۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر اس سے بھی مسئلے کا حل نہیں ہوا تو کیا اگلی پابندی واٹس ایپ پر لگائی جائے گی
کانگریس لیڈر نے کہا کہ امتحان کے دوران طالب علموں کی سخت تلاشی، جیبیں کاٹ کر جانچ اور سوالناموں کو فضائیہ (ایئرفورس) سے بھیجنے جیسے اقدامات محض دکھاوا ہیں۔ ان کے مطابق، حکومت پیپر لیک کے اصل مسئلے پر کارروائی کرنے سے بچ رہی ہے، جبکہ پیپر لیک مافیا نوجوانوں کے مستقبل سے لگاتار کھلواڑ کر رہا ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی سے اپیل کی کہ دکھاوٹی اقدامات کے بجائے پیپر لیک مافیا پر سخت کارروائی کی جائے، طالب علموں پر نہیں۔ مسٹر گاندھی نے انتباہ دیا کہ اگر نوجوانوں کی آواز نہیں سنی گئی تو ملک کا نوجوان اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کرنا جانتے ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
’جمہوریت کو نقصان پہنچانے کے لیے شاہ چلا رہے ہیں دھوکہ دہی پرمبنی مہم ‘: رمیش
نئی دہلی، کانگریس پارٹی کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ پر اپوزیشن کو نشانہ بنانے اور ہندوستانی جمہوریت کو کمزور کرنے کا الزام لگایا ہے۔
مسٹر رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ کے ذریعے بدھ کو کہا، ”وزیر داخلہ امت شاہ 17 اپریل 2026 کو لوک سبھا میں حد بندی بلوں کو پاس نہیں کرا پانے کے بعد اپنی ”بے عزتی“ کی تلافی کرنے کے لیے لگاتار اپوزیشن پر حملے کر رہے ہیں۔“
مسٹر رمیش نے الزام لگایا کہ وزیر داخلہ کی طرف سے دیئے جانے والے لالچ کے باعث ایسے کئی لیڈر بی جے پی میں شامل ہو رہے ہیں، جو محض دو سال پہلے مضبوط بی جے پی مخالف ایجنڈے پر منتخب ہوئے تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان لیڈروں کو دیے جا رہے لالچ ”حیران کن“ ہیں۔
کانگریس لیڈر نے کہا کہ وزیر داخلہ ایک ” تنگ ذہنی اور دھوکہ دہی پرمبنی مہم“ چلا رہے ہیں، جو مختلف وسائل سے لیس ہیں اور مبینہ طور پر الگ الگ افراد کی ضروریات کے مطابق منصوبے بنارہے ہیں اورلالچ دے رہے ہیں ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس مہم میں اخلاقیات کی تمام حدیں پار کی جا رہی ہیں لیکن بالاخر یہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوگی۔
یو این آئی اف اے
ہندوستان
سلوواکیہ میں مودی کا ہوا شاندار استقبال
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کو سلوواکیہ کے دورے پر پہنچنے پر کہا کہ اس دورے سے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کی نئی راہیں کھلیں گی اور بڑھتی ہوئی شراکت داری مزید گہری ہوگی مسٹر مودی نے سلوواکیہ کے دارالحکومت پہنچنے کے فوراً بعد کہا کہ یہ دورہ دوطرفہ تعلقات کو بہتر بنانے اور مختلف شعبوں میں تعاون کو آگے بڑھانے کا ایک اہم موقع ہے۔ انہوں نے سلوواکیہ کے صدر پیٹر پیلیگرینی اور وزیر اعظم رابرٹ فیکو کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں کے بارے میں بھی اپنی دلچسپی کا اظہار کیا۔ وزیر اعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر ایک پوسٹ میں کہا، “براتیسلاوا پہنچ گیا ہوں۔ یہ دورہ ہند-سلوواکیہ تعلقات کو گہرا کرنے اور تعاون کی نئی راہیں تلاش کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ صدر پیلیگرینی اور وزیر اعظم فیکو کے ساتھ نتیجہ خیز ملاقاتوں کی امید ہے۔”
وہاں پہنچنے پر وزیر اعظم کا رسمی استقبال کیا گیا، جس میں سلوواکیہ کی صدیوں پرانی روایت کے مطابق انہیں بریڈ اور نمک پیش کیا گیا۔ یہ منفرد روایت مہمان نوازی، خیر سگالی اور دوستی کی علامت مانی جاتی ہے۔ مسٹر مودی نے اس استقبال کے لیے شکریہ ادا کیا اور کہا، “براتیسلاوا میں استقبال کے دوران بریڈ اور نمک پیش کرنے کی روایتی رسم دیکھنے کو ملی۔
یہ سلوواکیہ کے بھرپور ثقافتی ورثے اور وہاں کے لوگوں کی خیر سگالی و دوستی کے جذبے کی عکاسی کرتا ہے۔”
اس دورے کے دوران سلوواکیہ کی لوک روایات کو ظاہر کرنے والا ایک ثقافتی پروگرام بھی منعقد کیا گیا۔ وزیر اعظم نے میاوا علاقے کے لوک گروپ ‘کوپانیسیارک’ کی ایک دلکش پیشکش دیکھی۔ انہوں نے کسی ملک کی تاریخ اور شناخت کو برقرار رکھنے میں روایتی فنون کے کردار کی ستائش کی۔ وزیر اعظم نے کہا، “سلوواکیہ کے میاوا علاقے کے کوپانیسیارک گروپ کی ایک بہترین پیشکش دیکھی۔ اس طرح کی لوک روایات اپنی ثقافت اور تاریخ کو سنبھال کر رکھنے میں مدد کرتی ہیں۔”
براتیسلاوا میں مسٹر مودی کا استقبال کرنے کے لیے ہندوستانی برادری کے لوگ بھی بڑی تعداد میں جمع ہوئے، جو دونوں ممالک کے درمیان مضبوط ہوتے باہمی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے اس پُرجوش استقبال کے لیے غیر مقیم ہندوستانیوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ کمیونٹی کی یہ محبت ہندوستان اور سلوواکیہ کو جوڑنے والے مضبوط تعلقات کو اجاگر کرتی ہے۔ مسٹر مودی نے کہا، “میں ہندوستانی برادری کے لوگوں کی اس محبت اور گرمجوشی کے لیے ان کا شکر گزار ہوں۔
ایسے جذبات ہمارے لوگوں کو جوڑنے والے مضبوط تعلقات کو ظاہر کرتے ہیں اور ہند-سلوواکیہ کی دوستی کو مزید مضبوط کرتے ہیں۔”
وزیر اعظم کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ہندوستان بدلتے ہوئے عالمی اور معاشی حالات کے درمیان وسطی اور مشرقی یورپی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو بڑھانا چاہتا ہے۔ یورپی یونین اور نیٹو کا رکن سلوواکیہ، تجارت، سرمایہ کاری، مینوفیکچرنگ، دفاعی تعاون، اختراع، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور آمدورفت جیسے شعبوں میں ہندوستان کا ایک اہم شراکت دار بن کر ابھرا ہے۔
صدر پیلیگرینی اور وزیر اعظم فیکو کے ساتھ مسٹر مودی کی ملاقاتوں میں معاشی تعاون بڑھانے، صنعتی شراکت داری کو مضبوط کرنے، تکنیکی تعاون میں بہتری لانے اور ثقافتی و تعلیمی تبادلوں کو فروغ دینے پر توجہ مرکوز ہونے کی امید ہے۔
اس کے ساتھ ہی دونوں ممالک کے درمیان باہمی دلچسپی کے علاقائی اور عالمی مسائل پر بھی تبادلہ خیال کا امکان ہے۔
ہندوستان اور سلوواکیہ کے درمیان دہائیوں سے دوستانہ سفارتی تعلقات رہے ہیں اور حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارت بڑھی ہے، جبکہ ہندوستانی کمپنیوں نے سلوواکیہ میں اپنی موجودگی مضبوط کی ہے، خاص طور پر آٹوموبائل، انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں۔ وہیں سلوواکیہ کی کمپنیوں نے بھی ہندوستان کی بڑھتی ہوئی معیشت اور مینوفیکچرنگ سیکٹر میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔
براتیسلاوا کا یہ دورہ مسٹر مودی کے وسیع یورپی سفارتی رابطے کا حصہ ہے۔ امید ہے کہ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی بات چیت، معاشی تعاون اور عوامی رابطوں کو مضبوط بنا کر ہند-سلوواکیہ تعلقات کو ایک نئی رفتار دے گا۔
یو این آئی ایف اے
جموں و کشمیر4 days agoاین سی ایل ٹی نے سراج العلوم کے لیے عبوری لیکویڈیٹر مقرر کر دیا، اثاثے منجمد
دنیا6 days agoامریکہ کے ساتھ پائیدار معاہدہ دھمکیوں، دباؤ یا طاقت کے استعمال سے ممکن نہیں: ایرانی سفیر
دنیا6 days agoامریکہ آج رات ایران پر بڑا حملہ کرے گا: امریکی وزیر جنگ
دنیا1 week agoجارحیت روکیں یا طاقت کے نئے توازن کے مرحلے میں داخل ہوں: علی اکبر ولایتی کا انتباہ
ہندوستان4 days agoفضائیہ کا مال بردار طیارہ حادثے کا شکار، پانچ اہلکار شہید
دنیا1 week agoاسرائیل کے موقف سے قطع نظر امریکہ ایران جوہری معاہدے پر آگے بڑھے گا: وینس
دنیا1 week agoامریکی فوج کا اپاچی ہیلی کاپٹر آبنائے ہرمز کے قریب گر کر تباہ
دنیا1 week agoجے ڈی وینس بھی ایران ڈیل سے متعلق ٹرمپ کا بیان ماننے پر تیار نہیں
دنیا5 days agoایران معاہدے سے متعلق ٹرمپ کے مؤقف پر نیتن یاہو کا ردِعمل سامنے آگیا
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز میں امریکی افواج اور پاسداران انقلاب کے درمیان جھڑپیں: ایرانی خبر رساں ایجنسی
دنیا1 week agoپاکستان کا افغانستان پر حملہ، 11 بچوں سمیت 13 افراد ہلاک
دنیا4 days agoامریکہ نے ایران کے جوہری مواد پر قبضے کیلئے زمینی کارروائی کا منصوبہ بنالیا تھا تاہم ٹرمپ پیچھے ہٹ گئے: امریکی میڈیا





































































































