جموں و کشمیر
کشمیر میں بھاری برف باری سے معمولات زندگی متاثر، فضائی اور زمینی رابطے منقطع

سری نگر،وادی کشمیر میں گزشتہ شب طوفانی ہواؤں کے بعد شروع ہونے والی بھاری برف باری نے پوری وادی کو ایک بار پھر سفید چادر میں لپیٹ لیا ہے جس کے نتیجے میں عام زندگی بری طرح متاثر ہو گئی ہے۔ مسلسل گرج چمک اور تیز ہواؤں کے ساتھ شروع ہونے والی اس برف باری نے نہ صرف سفر و آمدورفت کو محدود کر دیا ہے بلکہ کاروباری سرگرمیوں، تعلیمی نظام، بجلی کی سپلائی، مواصلاتی رابطوں اور روزمرہ معمولات کو بھی مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔
وادی کا زمینی و فضائی رابطہ مکمل طور پر منقطع ہو چکا ہے، قومی شاہراہ کے بند رہنے سے ہزاروں مسافر درماندہ ہیں اور سری نگر بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ایک بھی پرواز آپریٹ نہیں ہو سکی۔ رن وے پر برف کی موٹی تہہ اور مسلسل کم دِید کے باعث ایئرپورٹ حکام نے تمام فلائٹس منسوخ کرتے ہوئے مسافروں کو گھروں پر رہنے کا مشورہ دیا ہے۔
وادی کے بالائی علاقوں میں صورتحال زیادہ سنگین ہے جہاں کئی علاقوں میں برف کی گہرائی چار فٹ سے بھی زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے اور متعدد دیہات کا ضلع صدر مقامات سے رابطہ پوری طرح ٹوٹ گیا ہے۔ گلمرگ میں صبح نو بجے تک دو فٹ برف جمع ہو چکی تھی جبکہ وسطی کشمیر کے بڈگام ضلع کے پکھر پورہ اور چرارِ شریف میں دو سے چار فٹ، بیروہ میں قریب ایک فٹ اور ٹنگمرگ میں تقریباً دو فٹ برف ریکارڈ ہوئی۔ کپوارہ کے بالائی علاقوں میں بھی دو فٹ، ٹنگڈار میں تین فٹ اور کرناہ میں ایک فٹ برف جمع ہوئی تھی۔ ضلع بارہمولہ کے سوپور میں چھ انچ، پٹن اور ماگام میں پانچ انچ جبکہ جنوبی کشمیر کے پلوامہ، شوپیاں اور اننت ناگ اضلاع میں ڈیڑھ سے چار فٹ تک برف ریکارڈ کی گئی۔ سری نگر کے ڈاؤن ٹاؤن میں وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری تھا جبکہ اپ ٹاؤن علاقوں میں ایک انچ برف جمع ہوئی۔ سونہ مرگ میں چھ انچ تازہ برف نے پورے علاقے کو ایک حسین منظر میں بدل دیا ہے مگر یہاں بھی آمدورفت تقریباً ناممکن ہو چکی ہے۔
شدید برف باری نے وادی میں زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کیا ہے۔ بازاروں میں ویرانی چھائی ہوئی ہے، بیشتر دکانیں بند پڑی ہیں اور لوگ گھروں میں محصور ہو گئے ہیں۔ دیہی علاقوں میں دودھ، سبزی اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قلت پیدا ہو رہی ہے کیونکہ راستے بند ہونے سے سپلائی چین منقطع ہے۔ بارہمولہ، شوپیاں، ترال، گاندربل، کولگام اور بڈگام کے کئی علاقوں کے لوگوں نے مطلع کیا ہے کہ گلی کوچوں میں برف کی موٹی تہہ نے نہ صرف پیدل چلنا دشوار بنا دیا ہے بلکہ بیماروں کو اسپتالوں تک پہنچانا بھی مشکل ہو چکا ہے۔ متعدد مقامات پر ایمبولنسیں راستے میں پھنس گئیں جنہیں مقامی رضاکار اور پولیس اہلکاروں نے نکالا۔
بجلی کا نظام بھی شدید طور پر متاثر ہوا ہے۔ درجنوں فیڈرز بند پڑے ہیں اور کچھ علاقوں میں ٹرانسفارمر شدید برف باری کے سبب ناکارہ ہو گئے ہیں۔ موبائل انٹرنیٹ اور فون سروس بھی متاثر ہوئی ہے جس سے لوگ اپنے پیاروں سے رابطہ قائم کرنے میں دشواری محسوس کر رہے ہیں۔ محکمہ برقیات نے دعویٰ کیا ہے کہ عملہ مسلسل بحالی کے کاموں میں مصروف ہے مگر مسلسل برف باری اور منفی درجہ حرارت کے باعث کام میں سست روی ناگزیر ہے۔
انتظامیہ نے متعدد مقامات پر برف ہٹانے والی مشینیں تعینات کر رکھی ہیں مگر مقامی لوگوں کے مطابق اب تک صرف مرکزی سڑکوں سے ہی برف ہٹائی جا سکی ہے جبکہ اندرونی رابطہ سڑکیں مکمل طور پر غیر فعال ہیں۔ پولیس، ایس ڈی آر ایف اور مقامی نوجوان مختلف علاقوں میں مدد کے لئے سرگرم ہیں۔ متعدد خاندانوں کو شدید سردی کے سبب ہیٹر اور لکڑیوں کی قلت کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے جبکہ گیس کی فراہمی بھی متاثر ہوئی ہے۔
اگرچہ برف باری نے عام زندگی کو نڈھال کر دیا ہے، مگر کسان طبقے کے چہروں پر خوشی صاف جھلکتی ہے۔ باغبانی اور زرعی شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے کہا ہے کہ گزشتہ کئی ہفتوں سے خشک موسم کے بعد اس بھاری برف باری نے انہیں نئی امید دی ہے اور یہ برف آئندہ زرعی سیزن کے لئے انتہائی مفید ثابت ہوگی۔ سیاحتی مقامات پر ہوٹل مالکان بھی مطمئن ہیں کہ برف کی تازہ تہہ کے بعد گلمرگ، پاہلگام اور سونہ مرگ میں سیاحوں کی آمد میں اضافہ ہوگا جس سے کار و بار بہتر ہوگا۔
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران بھی برف باری اور بارشوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہ سکتا ہے جس کے باعث مزید مشکلات پیدا ہونے کا امکان ہے۔ درجہ حرارت میں مزید کمی متوقع ہے اور منفی درجہ حرارت کے سبب سڑکوں پر برفانی پھسلن میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ انتظامیہ نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ گھروں سے کم نکلیں، غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں متعلقہ محکموں سے رابطہ برقرار رکھیں۔
وادی کشمیر میں اس شدید برف باری نے جہاں مشکلات کا انبار کھڑا کر دیا ہے وہیں اس نے وادی کی قدرتی خوبصورتی کو بھی دوچند کر دیا ہے۔ لوگ کئی ہفتوں سے بھاری برف باری کی دعائیں کر رہے تھے اور اب جب برف نے زمین کو سفید چادر میں لپیٹ لیا ہے تو وادی کے سر سبز جنگلات، اونچے پہاڑ، گلی کوچے اور چھتیں سب کے سب ایک حسین منظر پیش کر رہے ہیں۔ تاہم ساتھ ہی یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلم ہے کہ جب تک سڑکیں مکمل طور پر بحال نہیں ہوتیں، بجلی پوری طرح ٹھیک نہیں ہوتی اور شاہراہ کھل نہیں جاتی، لوگوں کی مشکلات کم ہونے کے آثار کم ہی نظر آ رہے ہیں۔
یو این آئی، ارشید بٹ،
جموں و کشمیر
جے کے: ایل جی سنہا نے نوجوانوں سے اپنی انفرادیت اپنانے اور مکمل صلاحیتوں کو پہچاننے کی اپیل کی
سری نگر، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے آج نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ دوسروں کی نقل کرنے کے بجائے اپنی انفرادیت کو اپنائیں، کیونکہ دنیا کو ایسے نوجوانوں کی ضرورت ہے جو منفرد شخصیت کے حامل ہوں، اپنی مکمل صلاحیتوں کو پہچانیں اور آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بنیں۔
سری نگر میں قومی یوتھ فیسٹیول ’آروہن 2026‘ کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سنہا نے کہا کہ یہ پروگرام “اٹھو، چمکو اور فتح حاصل کرو” کے نئے وژن کی عکاسی کرتا ہے، جس کا مقصد 2047 تک ایک ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر ہے۔
انہوں نے کہاکہ “یہ پروگرام نوجوانوں کے لیے ‘اٹھو، چمکو اور فتح حاصل کرو’ کا نیا وژن پیش کرتا ہے، جو ایک مکمل فلسفے کی نمائندگی کرتا ہے، مستقبل کی راہ روشن کرتا ہے، ایک وعدہ ہے اور 2047 تک ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر کا ایک جرات مندانہ چیلنج بھی۔”
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ قومی یوتھ فیسٹیول اس بات کا بھی اعلان ہے کہ اب وقت نوجوانوں کا آ چکا ہے۔ انہوں نے کہاکہ “یوتھ فیسٹیول کے ‘ینگ لیڈرز ڈائیلاگ’ کے ذریعے ہم اس بنیاد اور فریم ورک کو تیار کر رہے ہیں جس پر ہندوستان کی شاندار وراثت کا اگلا باب قائم ہوگا۔”
انہوں نے کہا کہ تاریخ ان لوگوں نے نہیں بنائی جو غیر معمولی بننے کے لیے اجازت کا انتظار کرتے رہے۔ انہوں نے ’وکست جے کے ینگ لیڈرز ڈائیلاگ‘، ’ہیکاتھون‘ اور ’ثقافتی پروگرام‘ میں شریک نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ ایک ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر کے لیے خود کو وقف کریں، جس پر آنے والی نسلیں فخر کریں گی۔
انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی آواز کے بغیر حکمرانی کامیاب نہیں ہو سکتی، اور جامع حکمرانی کا مطلب یہ ہے کہ نوجوانوں کو ہر اہم شعبے میں جاری کاموں میں حقیقی شراکت داری دی جائے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہاکہ “ہر نوجوان لڑکے اور لڑکی میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ انہیں صرف مواقع اور خود پر یقین کی ضرورت ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ ہندوستان کے نوجوان اپنی راہیں خود بنائیں، نہ کہ پرانی راہوں پر چلیں، کیونکہ جدت اور اختراع ہمیشہ نئی راہوں سے جنم لیتی ہے۔ ہندوستان کو ایسے نوجوانوں کی ضرورت ہے جو پہلے سے بنے ہوئے سانچوں کو توڑنے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔”
یواین آئی۔ ظا
جموں و کشمیر
پی ڈی پی رہنما التجا مفتی نے عمر عبداللہ کے شراب سے متعلق بیان پر تنقید کی، جموں و کشمیر میں شراب بندی کا مطالبہ
سری نگر، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی رہنما التجا مفتی نے پیر کے روز وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے شراب نوشی سے متعلق بیان پر سخت تنقید کرتے ہوئے ان پر “غلط ثقافت” کو فروغ دینے اور مسلم اکثریتی خطے کے حساس معاملات کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا۔
وہ عمر عبداللہ کے اتوار کو گاندربل میں دیے گئے اس بیان پر ردعمل ظاہر کر رہی تھیں، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ کسی کو شراب پینے پر مجبور نہیں کیا جا رہا اور لوگ اپنی مرضی سے شراب کی دکانوں پر جاتے ہیں، جس کے بعد تنازع کھڑا ہو گیا۔
تاہم، پیر کی صبح عمر عبداللہ نے وضاحت دی کہ ان کے شراب کی دکانوں سے متعلق بیان کو سیاسی مخالفین “توڑ مروڑ” کر پیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شراب کی دکانیں صرف ان لوگوں کے لیے ہیں جن کے مذہب میں شراب نوشی کی اجازت ہے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پی ڈی پی کی التجا مفتی نے کہا کہ نیشنل کانفرنس حکومت نے 2024 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ریزرویشن، اردو زبان کے تحفظ، مفت بجلی اور روزگار جیسے اہم وعدوں پر بار بار “یو ٹرن” لیا ہے۔
عمر عبداللہ کے حالیہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے پہلے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو شراب پینے سے نہیں روک رہی، اور بعد میں عوامی تنقید کے بعد اپنے بیان کو نرم کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہاکہ “شراب کے بارے میں ان کی بات بالکل غیر منطقی تھی”، اور مزید کہا کہ اسی منطق کو منشیات فروش بھی اس جواز کے لیے استعمال کر سکتے ہیں کہ نوجوان اپنی مرضی سے منشیات لیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی انسدادِ منشیات مہم وزیر اعلیٰ کے بیان سے متصادم ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایک طرف حکومت مبینہ منشیات فروشوں کی جائیدادیں منہدم کر رہی ہے، اور دوسری طرف یہ کہہ رہی ہے کہ لوگوں کے نشہ آور اشیاء استعمال کرنے کی ذمہ داری حکومت کی نہیں۔
التجا مفتی نے مزید الزام لگایا کہ عمر عبداللہ نے اس بحث میں مذہب کو شامل کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر میں غیر مسلموں کے لیے شراب نوشی ممنوع نہیں ہے۔
انہوں نے کہاکہ “کوئی بھی مذہب نشہ آور اشیاء کو فروغ نہیں دیتا، چاہے وہ اسلام ہو، ہندو مذہب ہو یا سکھ مت”، اور دعویٰ کیا کہ تمام مذاہب میں شراب اور منشیات کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
سجاد لون کی راجیہ سبھا انتخابات اور سرکاری ملازمتوں کی آؤٹ سورسنگ کو لے کر این سی-پی ڈی پی پر تنقید
سری نگر، جموں و کشمیر پیپلز کانفرنس کے صدر سجاد لون نے پیر کے روز نیشنل کانفرنس (این سی) اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) دونوں پر ‘فکسڈ میچ’ کھیلنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اسی وجہ سے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) راجیہ سبھا کی ایک سیٹ جیتنے میں کامیاب رہی اور وہ بھی تب جب 2024 کے اسمبلی انتخابات میں ان دونوں جماعتوں نے بی جے پی مخالف ہونے کا ڈھونگ رچایا تھا۔
مسٹر لون نے آج ْپریس کانفرنس میں آر ٹی آئی کے ذریعے ہونے والے ان انکشافات کا ذکر کیا، جن میں راجیہ سبھا انتخابات کے دوران پولنگ ایجنٹ کی عدم موجودگی کی بات سامنے آئی تھی۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے ان بیانات پر بھی سوال اٹھائے جن میں انہوں نے پی ڈی پی کے طرزِ عمل کو بی جے پی کی جیت سے جوڑا تھا۔
مسٹر سجاد لون نے کہا کہ ’’ایجنٹ کا کام یہ ہوتا ہے کہ ممبر اسے اپنا ووٹ دکھائے اور پھر اسے بیلٹ باکس میں ڈالے۔ ایک آر ٹی آئی میں انکشاف ہوا ہے کہ انہوں نے کوئی ایجنٹ ہی نہیں رکھا تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ تینوں ممبران نے اپنی مرضی سے ووٹ ڈالے، کیونکہ وہاں جانچنے والا کوئی نہیں تھا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا تھا کہ آر ٹی آئی آنے کے بعد ہی انہیں اس معاملے کا علم ہوا۔ اس دعوے پر مسٹر لون نے سوال کیا کہ ’’کیا یہ سچ ہے کہ ایک موجودہ وزیر اعلیٰ کو آر ٹی آئی سے اس بات کا پتہ چلا؟ اسمبلی کے اسپیکر آپ کے ہیں۔ سیکریٹری آپ کی حکومت کے ماتحت ہیں۔ سکیورٹی گارڈز سے لے کر اعلیٰ حکام تک سب آپ کی حکومت نے تعینات کیے ہیں۔ کیا آپ کو آج تک یہ نہیں معلوم تھا کہ کوئی ایجنٹ نہیں رکھا گیا تھا؟‘‘
انہوں نے استدلال کیا کہ اسمبلی کے اعداد و شمار نے ہی اس ‘سیاسی ملی بھگت’ کا پول کھول دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بی جے پی کی تعداد اور ان کے اپنے ووٹوں کو ہٹا کر بھی باقی ایم ایل ایز کے پاس اتنے اعداد و شمار موجود تھے کہ وہ ووٹوں کی متوازن تقسیم کے ذریعے آسانی سے دونوں سیٹیں جیت سکتے تھے۔
انہوں نے پوچھا کہ ’’یہ آٹھ ووٹ کہاں سے آئے؟ اور ان آٹھ ووٹوں نے انہیں کیسے جتایا؟ کچھ نے اپنا ووٹ مسترد کر دیا اور کچھ نے بی جے پی کو ووٹ دیا۔” انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک فریق نے جان بوجھ کر ایجنٹ مقرر کرنے سے گریز کیا، جبکہ دوسرے فریق نے سہولت کے مطابق خاموشی اختیار کر لی۔
صحافیوں سے اپیل کرتے ہوئے مسٹر لون نے کہا کہ ’’انتخابات کے دوران آپ نے مجھ سے دن میں 20 بار پوچھا تھا کہ کیا میں بی جے پی کی ‘بی ٹیم’ ہوں۔ اب جا کر ان سے پوچھیے کہ بی جے پی کی اصل بی ٹیم کون ہے” انہوں نے یہ بھی کہا کہ انتخابی مہم کے دوران بی جے پی کے خلاف جو غم و غصہ دیکھا گیا تھا، وہ تب غائب تھا جب انہی پارٹیوں نے (ان کے بقول) بی جے پی کو جیت دلانے میں مدد کی۔
جاری۔ یو این آئی۔ م ع
جموں و کشمیر1 week agoجموں میں ہوٹل کے بیسمنٹ سے مشتبہ حالات میں نوجوان لڑکی کی لاش برآمد
دنیا4 days agoامریکی کانگریس میں پاکستان کے حق میں بڑی قرارداد منظور
ہندوستان7 days agoغیر آئینی طریقوں سے پارٹیوں کو توڑنا جمہوری ڈھانچے پر براہ راست حملہ ہے: بھگونت مان
دنیا1 week agoصدر ٹرمپ کے اعلان کے بعد خام تیل کی قیمتیں کم ہو گئیں
دنیا4 days agoامریکہ ایران جنگ ختم ہوگئی تب بھی تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا امکان جاری رہے گا
ہندوستان7 days agoوزیراعظم مودی نے یو اے ای میں ڈرون حملے کی مذمت کی، مغربی ایشیا میں سفارت کاری اور سمندری سلامتی کی حمایت کی
ہندوستان5 days agoآپریشن سندور نے درست اور فیصلہ کن کارروائی سے ہندستان کی سلامتی پالیسی میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا:سیتا رمن
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر پولیس نے سری نگر میں منشیات فروش کی غیر قانونی عمارت مسمار کر دی
دنیا1 week agoایرانی فوج کی آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو وارننگ
ہندوستان5 days agoراجناتھ سنگھ نے ‘آپریشن سندور’ کو قومی عزم اور تیاری کی مضبوط علامت قرار دیا
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر منڈلاتا امریکی طیارہ پراسرار طور پر اچانک آسمان سے غائب، کہاں گیا
ہندوستان7 days agoہندوستان نے فجیرہ حملے کی سخت مذمت کی، مسائل کے حل کے لیے سفارت کاری پر زور دیا










































































































