تازہ ترین
کشمیر میں عیسایت اور مسیحاؤں کے سماجی کام

فلسطین اور اسرائیل کے ساتھ ساتھ اگر کوئی جگہ دنیا میں ے جہاں پر مزاہب پروان چھڈے ے تو وہ کشمیر ے۔ اس کی تاریخ پر نظر ڈالی جاے تو آپکو پتا چلے گا کہ دنیا کے تین بڈے مزاہب یہاں پر پروان چھڈے ے جن میں ہندواعظم، بدھمت اور اب اسلام ے۔
یہ سرزمین ان مزاہب کو پھیلانے اور اپنانے کے لے کافی زرخیز رہ چکی ے۔ لیکن اس کے باوجود یہاں پر عیسایت کو لوگوں نے قبول کیوں نہیں کیا باوجود اسکے کہ یورپ سے آے ہوے عیسایوں نے یہاں آکر کافی سارے سماجی کاموں میں حصہ لیااور ایسا انفراسٹرکچر تیار کیا جسے آج تک لوگ فایدہ اٹھا رہے ے۔ ان سب چیزوں پر ہم آج بات کرینگے اور آپکو یہ بھی بتاینگے کہ پہلی بار کب اور کونسے عیسائیوں نے کشمیر کی سرزمین پر قدم رکھا اور آخر یہ یہاں پر عیسایت کو پھیلانے میں ناکام کیوں ہوے۔
1854 میں پہلی بار کرشچن مشینری کے لوگوں نے کشمیر کی سرزمین پر اپنا قدم رکھا جب ریٹائرڈ کرنل مارٹن پشاور سے اور روبوٹ کلرک دو مزید پنجابی عیسائیوں کے ساتھ کشمیر وارد ہوے۔ اور اسکے بعد پھر کرشچن برادری سے مزید لوگ 1862 میں کشمیٖر آے۔ تاہم کرشچن مشینری کا پرمیننٹ مشن 1864 میں کشمیر میں شروع ہوا جس کی شروعات کے ساتھ ہی مہاراجہ رنبیر سنگھ نے گورنر جنرل لارڈ ڈلہوزی سے ایک آرڈر پاس کروایا جس کے تحت تمام ان سیاحوں کو جو یورپ سے تعلق رکھتے ے کو انتباہ کیا گیا کہ وہ سردیاں شروع ہوتے ہی کشمیر کو چھوڈ دے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کے لے چار مخصوص راستوں کو منتخب کیا گیا جہاں سے وہ کشمیر کے اندر داخل ہوسکتے تھے۔
مہاراجہ کو ان لوگوں پر پہلے سے ہی شک تھا کہ ان کا کشمیر میں آنا جانا کسی نہ کسی طرح سے مشینری کام کے ساتھ منسلک ے۔ اگر چہ ان کے تعلقات انگریزوں کے ساتھ بہتر تھے تاہم وہ بلکل بھی اس بات سے خوش نہیں تھے کہ ان یورپی لوگوں کا آنا جانا کشمیر میں رے۔ اسی لے انہوں نے ان کی آمد پر ان کے گھومنے اور کام کاج پر اپنی سیکورٹی اور انٹلیجنس کے لوگوں کو تعینات کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ کشمیر میں رکنے کے لے شہر سے باہر کھچہ مخصوص جگے رکھی گی اور انتباہ کیا گیا کہ وہ مقامی لوگوں سے ملنے جلنے سے گریز کرے۔
اسی پابندی کی وجی سے کشمیٖر میں ہاوسبوٹز کا قیام بھی آیا۔ اس پر میں نے ایک تفصیلی ویڈیو بنائی ے جس کا لنک آپکو ڈیسکرپشن میں ملے گا۔
مشینری سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے بھی برصغیر میں عیسائیت کو پھیلانے کے لے کشمیر کا چناو اس کی جغرافیہ اور لوگوں کی معاشی حالات کو دھیک کر کیا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ کشمیر میں پڈاو رکھ کر یہ آسانی سے پورے برصغیر میں اپنے مزہب کو پھیلا سکتے ےاور کشمیر کے لوگ جو لا چاری، غربت اور بنیادی سہولیات کے مارے ہوئے ے کو مفت میڈیکل فیسلٹیز، تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کرکے یہ آسانی سے عیسایت کو قبول کرینگے۔ اور یہ اندازہ ان کا کی نہ کی سچ بھی نکلا۔ مور کرافٹ جب انویسی صدی کے آغاز میں کشمیر آگے تو انہوں نے اپنی کتاب میں لکھا، میں مطمئن ہو پورے برصغیر میں کشمیر جییسی جگہ کی نہیں مل سکتی ے جہاں سے عیسایت کا پرچار موثر انداز میں کیا جاسکتا ے۔
اگر چہ مہاراجہ زاتی طور پر کشمیر میں مشینری مشن کے خلاف تھے تاہم مقامی لوگوں نے ان کے ساتھ تعلق خود بخود بھڈانا شروع کیا۔ حکومت کی بندشوں کے باوجود مشینری کے لوگوں نے 1864 میں پہلا مکان سرینگر میں فرنچ شوال مرچنٹس کے زریعے کرایا پر لیا۔ اس گھر میں جب روبوٹ کلرک اور اور ان کی اہلیہ داخل ہونے لگے تو لگبگ 1500 لوگوں کا ہجوم اکھٹا ہوگیا اور اس مکان کو نظر آتش کر نے لگے اور پھر اس مکان پر پھتر بازی بھی کردی گی۔ لیکن ہار نہ ماننے والے روبوٹ نے اسی سال سرینگر میں کرشچن مشینری اسکول کو قایم کیا , سرکار نے پولیس کے زریعے لوگوں کو دھمکی دی کہ اگر کوئی بچہ اس اسکول میں داخلہ لے رہا ے تو اس کے والدین کو گلگت کی طرف جلاوطن کیا جاے گا۔ اسی سال کے می مہینے میں روبوٹ کلرک نے ایک ڈسپنسری سری نگر میں قایم کی۔ اس ڈسپنسری پر سرکار کی بندشوں کے باوجود لوگ قطاروں میں نظر آنے لگے ۔ اس بنیادی ڈھانچے کو قایم کرنے کے بعد مشینری کے لوگوں نے راحت کی سانس لی اور اپنی سرگرمیاں مختلف سطح پر شروع کردی۔ مشینری کی طرف سے تعلیم اور طبعی سہولیات لوگوں کو مفت فراہم کر نے کے بعد انہوں نے کشمیریوں کے دلوں میں اپنی جگہ بنالی۔ تاہم مہاراجہ کے لےیہ چیز پریشانی کا باعث بننے لگی جسکی وجہ سے سرکار نے پہلی ڈسپنسری عام لوگوں کے لے 1870 میں کھول دی۔
مشینری کی مقبولیت بھڈتی گی اور مہاراجہ بھی اپنی مجبوریوں کی وجہ سے ان کے ساتھ اب تھوڈا نرمی اختیار کرنے لگا اور 1874 میں مشن اسپتال کے لے رستم گھڈی میں جگہ کا انتخاب کرکے ایک اسپتال بنایا گیا جسے درگجن ہوسپٹل کے نام سے پھر جانا جاتا تھا اسکے علاوہ ان کی سروسز کو دیکھ کر سالانہ وظیفہ اور تمام سہولیات اس اسپتال کو مہاراجہ کی طرف سے ملنی شروع ہوگی۔
1864 تک کشمیر میں چار لوگوں نے عیسائیت کو قبول کیا تھا جن میں سے ایک کو اسکول میں ٹیچر کے طور پر تعینات بھی کیا گیا۔ سی ایم ایس اسکول کے قایم کرنے کے بعد اس کے پرنسپل ٹینڈل بسکو نے ایک سوشل ورکرز سٹوڈنٹس کاڈر کی تشکیل دی جو اسکول اور شہر کی سڈکوں ، کوچو اور عوامی جگہوں کی والنٹری بنیادوں پر صاف صفائی کا کام کیا کرتے تھے۔ ہندو برادری کے لوگ یہ دیکھ کر آگ بگولہ ہوگئے اور ٹنڈل بسکو پر الزام لگایا گیا کہ یہ برہمن زاتی کے بچوں کو گندے کام کرنے پر مجبور کررہا ے جو سراسر توحین ے۔ اس کے تو ڈ کے لے سرکار نے ایک ہندو اسکول بلکل اس کے سامنے کھڈاکیا ۔ یہ اسکول انی بیسنت نے قایم کیا جو تھیوسپکل سوسائٹی آف انڈیا کی صدر تھی۔ اس اسکول کے قایم ہونے کے بعد صرف پندرہ دنوں میں 300 طلباء نے سی ایم ایس کو چھوڈ دیا لیکن بسکو نے ہمت نہ ہاری اور کچھ وقت کے بعد یہ تمام بچے اس اسکول میں داخلہ کے لے واپس آگے۔ اس دوران اس اسکول میں ایک طلباء نے یہاں پر عیسایت قبول کی جس کا نام سایمل بکال رکھا گیا۔ جب یہ خبر لوگوں تک پہنچ گی تو سینکڑوں لوگوں نے ڈی ایم ایس اسکول کا محاصرہ کیا اور کہا کہ مزہب تبدیل کر نے پر اس نوجوان کو ان کے حوالے کیا جاے تاہم نہ انہوں نے ہار مان لی اور نہ ہی اسکول اتھارٹی نے انہیں لوگوں کے حوالے کیا۔
بےشمار خدمات اور ماڈرن ایجوکیشن کی بنیاد رکھنے کے باوجود مشینری کے لوگ کشمیر میں عیسائیت کو پوری طرح سے پھیلانے میں ناکام رہے ۔ مہاراجہ رنبیر سنگھ اور مقامی مزہبی ادارے جس میں ہندو اور مسلمانان شامل ے نے جی توڈ کوشش کی کہ مشینری کا مشن کشمیر میں ناکام رہے۔ ہندو سبھا اور مسلم انجمنوں کا قیام بھی اسی لے عمل میں لایا گیا۔ اور تمام ان ہندوں اور مسلمانوں کو جنہوں نے عیسائیت قبول کہ تھی کو اپنی برادری کے لوگوں نے پرازیکوٹ کیا جسے عام لوگوں نے ان مشینری اداروں سے دوری بنانا شروع کردیا۔
اس سب کے باوجود اگر کشمیر کی معیشت کی بات کرے تو یورپی ممالک سے آنے والے لوگوں کا اس پر کافی اثر پڈا اور سرینگر شہر میں رہنے والے لوگوں نے بھی اپنے دکانوں اور کاروباری اداروں کے نام عیسایت اور یورپی نام رکھنا شروع کردیا جسے یہ عیسای لوگ ان اداروں پر جاکر خریداری کرنا پسند کرتے تھے ۔ ان ناموں میں ابھی بھی بہت ساری مشہور دکانیں سرینگر میں موجود ے۔ جیسا کہ Suffering mosses, Sunshine Ally, Anemeda, Buckingham Palace وغیرہ جیے شامل ے۔
جموں و کشمیر
کٹھوعہ ادھم پور میں ترقی فائلوں سے زمین پر منتقل ہوگئی ہے: جتیندر سنگھ
جموں، مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ کٹھوعہ- ادھم پور لوک سبھا حلقہ میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران ترقی فائلوں سے زمین پر منتقل ہوئی ہے۔
لوک سبھا میں مسلسل تیسری بار اس حلقے کی نمائندگی کرتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے یو این آئی کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں کہا، “اس حلقہ میں ترقی کا انداز، جس میں پانچ اضلاع شامل ہیں: کٹھوعہ، ادھم پور، ڈوڈہ، کشتواڑ اور رام بن، گزشتہ دس برسوں میں مکمل طور پر بدل گیا ہے۔ ہم اب وعدوں سے آگے بڑھ کر ترقیاتی کاموں کی طرف بڑھ چکے ہیں۔”
خطے میں اس تبدیلی اور بنیادی ڈھانچے کی پیش رفت پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے کہا، “کٹھوعہ-ادھم پور حلقہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ کس طرح مضبوط سیاسی عزم، سائنسی طریقے اور بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری ایک مشکل جغرافیائی خطے کی تقدیر کو بدل سکتی ہے اور اسے مواقع اور ترقی کے مرکز میں تبدیل کر سکتی ہے۔”
وزیرموصوف نے کہا کہ اس تبدیلی کی سب سے بڑی علامت جموں سری نگر ہائی وے پر ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی ٹنل ہے جس کا افتتاح وزیر اعظم نریندر مودی نے کیا تھا۔ مزید برآں، آئندہ کٹرہ-دہلی ایکسپریس وے سے سفر کے وقت کو پانچ سے چھ گھنٹے تک کم کرنے کی امید ہے، جبکہ بارڈر روڈز آرگنائزیشن (بی آر او) نے پورے خطے میں 200 سے زیادہ پل تعمیر کیے ہیں۔
مسٹر سنگھ نے کہا کہ ادھم پور میں 190 کروڑ روپے کے دیویکا ریور فرنٹ پروجیکٹ نے مقدس دیویکا ندی کے کناروں کو جدید شہری شکل دی ہے۔ بسوہلی میں دریائے راوی کے اوپر مشہور کیبل سے بنے اٹل سیٹو اور کٹھوعہ میں کڈیان-گنڈیال پل نے اس خطے میں سفر کو بہت سہولت فراہم کی ہے۔
ریلوے کنکٹی وٹی پر بات کرتے ہوئے مسٹر سنگھ نے کہا، “دنیا کے سب سے اونچے ریلوے پل، چناب ریل برج کی تعمیر اور ادھم پور اور کٹھوعہ کے راستے کٹرہ اور دہلی کے درمیان دو وندے بھارت ٹرینوں کے آغاز سے ریل رابطہ نئی بلندیوں پر پہنچ گیا ہے۔”
مزید برآں، مسٹر سنگھ نے کہا کہ ادھم پور ریلوے اسٹیشن کا نام شہید تشار مہاجن کے نام پر رکھا گیا ہے۔ شمالی ہندوستان کا پہلا صنعتی بایو ٹیک پارک کٹھوعہ میں قائم کیا گیا ہے اور سی ایس آئی آر-انڈین انسٹی ٹیوٹ آف انٹیگریٹیو میڈیسن کے ذریعہ قائم کردہ “بایو نیسٹ انکیوبیٹر، گٹھی، کٹھوعہ میں اختراعات کو فروغ دے رہا ہے۔ کٹھوعہ میں “آرکڈ بایو فارما” کا سنگ بنیاد رکھنا عالمی سطح پر فارماسیوٹیکل سیکٹر میں ایک بڑی چھلانگ کی نمائندگی کرتا ہے۔
مرکزی وزیر نےکہاا کہ وزیر اعظم نے اپنے “من کی بات” پروگرام میں خوشبو مشن کے تحت ڈوڈہ میں “جامنی انقلاب” (لیوینڈر کی کاشت) کا بھی ذکر کیا۔ اس مشن نے کسانوں کو سائنس سے جوڑ دیا، جس سے لیوینڈر کی کاشت کے ذریعے مقامی معیشت میں مکمل تبدیلی آئی۔
ڈاکٹر سنگھ نے یہ بھی کہا کہ ادھم پور کے منٹلائی میں بین الاقوامی یوگا سنٹر کی تعمیر، مانسر جھیل کو سودیش درشن اسکیم میں شامل کرنا اور کشتواڑ میں مچیل یاترا میں سہولیات کی بہتری سبھی طبقوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے ڈیزائن کیے گئے اقدامات کو ظاہر کرتی ہے۔
وزیر نے کہا، “راشٹریہ اوچتر شکشا ابھیان (آر یو ایس اے) کے تحت پاڈر کے پہاڑی علاقے میں ایک ڈگری کالج کے افتتاح نے اعلیٰ تعلیم کو دور دراز کے علاقوں تک پہنچایا ہے۔ محض ضلع کشتواڑ میں پکل ڈل، کیرو، کوار، دول ہستی اور رتلے ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ بجلی کی حفاظت فراہم کریں گے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کریں گے۔”
ڈاکٹر سنگھ نے یہ بھی بتایا کہ صرف پچھلے ایک سال میں خطے میں 21 بڑے منصوبے مکمل کیے گئے ہیں۔ ان میں ڈوڈہ، کشتواڑ اور ادھم پور کے لیے نیشنل ہائی وے 244 کے تحت منظور شدہ تقریباً 9,800 کروڑ روپے کے سرنگ پروجیکٹ شامل ہیں۔ چترگلا ٹنل، ادھم پور ہوائی اڈے کا آپریشنلائزیشن اور کشتواڑ کو اڑان اسکیم میں شامل کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ فضائی خدمات اب پہاڑی علاقوں تک پہنچ رہی ہیں۔
ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ گزشتہ سال کے بادل پھٹنے کے سانحے کے بعد حساس علاقوں جیسے مچیل اور پیڈر میں حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں۔ یہاں زلزلہ آبزرویٹری میں خودکار موسمی اسٹیشن نصب کیے گئے ہیں، اور ڈوڈہ کے لیے ایک ڈوپلر ویدر رڈار تجویز کیا گیا ہے۔
سڑک کنیکٹی وٹی پر وزیر نے کہا، “1000 کروڑ روپے سے زیادہ کے پردھان منتری گرام سڑک یوجنا کے پروجیکٹوں کا افتتاح یا آغاز کیا گیا ہے۔ مزید برآں، ہیراگر کے سیلاب سے متاثرہ سرحدی دیہاتوں کے لیے ایک نینو ٹیکنالوجی پر مبنی واٹر فلٹریشن پلانٹ یہ ظاہر کرتا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اب آخری میل تک پہنچ رہی ہے۔”
ڈاکٹر سنگھ نے نوٹ کیا کہ کٹھوعہ-ادھم پور پارلیمانی حلقہ میں گزشتہ ایک سال کے دوران کئی اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ ان میں ممبر آف پارلیمنٹ (ایم پی ایل اے ڈی) کے فنڈز سے آئی سی یو ایمبولینس، پینے کے پانی کے لیے ہینڈ پمپ، ڈوڈہ میں کھیل کے میدانوں میں سولر لائٹس، کٹھوعہ شہر میں ایک کثیر المنزلہ پارکنگ کمپلیکس، شہید نائک وکیل سنگھ جسروٹیا کے نام سے منسوب لڑکیوں کا اسکول، بلاور میں منصف کورٹ، اور رام کوٹ میں ایک کیندریہ ودیالیہ شامل ہیں۔
وزیر نے کہا، “اس خطے کی ترقی عوام کو ذہن میں رکھ کر کی جا رہی ہے تاکہ ڈوڈہ یا کشتواڑ کے سب سے دور دراز گاؤں بھی ملک کی ترقی کی کہانی سے جڑے ہوئے محسوس کر سکیں۔”
مسٹر سنگھ نے مزید کہا، “وزیر اعظم نے واضح طور پر کہا ہے کہ تمام سرکاری اسکیموں اور ترقیاتی کاموں کے فائدے قطار میں کھڑے آخری شخص تک پہنچنے چاہئیں اور اس ویژن کے ساتھ ہم اس خطے کو مزید مضبوط اور مستقبل میں ایک ماڈل حلقہ بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔”
یو این آئی۔ ظ ا۔ م الف
جموں و کشمیر
‘جس کی لاٹھی اس کی بھینس”کی سیاست دنیا کو عدم استحکام کی طرف دھکیل رہی ہے: میر واعظ
سری نگر، کشمیر کے سرکردہ عالم دین اور حریت چیئرمین میر واعظ عمر فاروق نے پیر کو کہا کہ عالمی سطح پر چل رہی ”جس کی لاٹھی اس کی بھینس”کی سیاست دنیا کو عدم استحکام اور خطرے کی طرف دھکیل رہی ہے، جس کی وجہ سے لوگوں کا اقوام متحدہ سمیت تمام بین الاقوامی اداروں سے مسلسل اعتماد اٹھتا جا رہا ہے۔
رواں سال فروری میں امریکی اسرائیلی حملوں میں جاں بحق ہونے والے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے بمینہ میں آغا سید ہادی الموسوی کی جانب سے نکالی گئی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے میرواعظ نے انہیں عالمی مسلم برادری کی عظیم شخصیت قرار دیا جو مظلوموں بالخصوص مظلوموں اور بے آواز لوگوں کے لیے مسلسل کھڑے رہے۔
میرواعظ نے کہا کہ بین الاقوامی قوانین اور انسانی اقدار کی خلاف ورزی کر کے کبھی بھی حقیقی معنوں میں کوئی جنگ نہیں جیتی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ “افسوس کی بات ہے کہ ”جس کی لاٹھی اس کی بھینس”کی بین الاقوامی سیاست پوری دنیا کو عدم استحکام اور خطرے کی طرف دھکیل رہی ہے۔ اس کی وجہ سے لوگوں کا اقوام متحدہ سمیت بین الاقوامی اداروں سے تیزی سے اعتماد اٹھتا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی قوانین اور انسانی اقدار کی خلاف ورزی کر کے کوئی بھی جنگ حقیقی معنوں میں نہیں جیتی جا سکتی۔”
کشمیری عوام کے لیے آیت اللہ خامنہ ای کی محبت کو یاد کرتے ہوئے میرواعظ نے کشمیر کے اپنے تاریخی دورے اور مرحوم میرواعظ مولوی محمد فاروق کے ساتھ تاریخی جامع مسجد میں نماز جمعہ ادا کرنے کو یاد کیا۔ انہوں نے مسلم اتحاد کو فروغ دینے میں مرحوم رہنما کے کردار کی تعریف کی۔
کشمیر کی شناخت اور ثقافت پر بات کرتے ہوئے میرواعظ نے خطے کی منفرد زبان اور روایات کو محفوظ رکھنے کی فوری ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اس وقت سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔
اردو کے حوالے سے خدشات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ اس زبان کو صرف اس لیے مذہبی نظر سے دیکھا جا رہا ہے کہ یہ بنیادی طور پر مسلمان بولتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “تمام زبانیں احترام اور پہچان کی مستحق ہیں اور زبانوں کو سیاسی بنانا یا فرقہ وارانہ بنانا انتہائی بدقسمتی اور معاشرے کی جامع ثقافتی اقدار کے لیے نقصان دہ ہے۔”
میرواعظ نے کہا کہ متحدہ مجلس عمل (ایم ایم یو) کے بینر تلے مسلم دنیا کے تمام مکاتب فکر کے درمیان فرقہ وارانہ اتحاد، باہمی احترام اور بھائی چارے کو فروغ دینے کی کوششیں جاری رکھیں گی۔ انہوں نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ ان لوگوں کے خلاف ہوشیار رہیں، جو کمیونٹی کے اندر تفرقہ اور فرقہ وارانہ تفریق کو فروغ دیتے ہیں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔ م الف
ہندوستان
انتخابات کے بعد مہنگائی بڑھاکر غریبوں کوچوٹ پہنچاتےہیں مودی :کھرگے
نئی دہلی ،کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے وزیراعظم نریندر مودی پر سیدھا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ وہ الیکشن تک مہنگائی اور قیمتوں سے جڑی حقیقی صورتحال چھپاتے ہیں اور الیکشن ختم ہوتے ہی غریبوں کو نقصان پہنچانے والے فیصلے کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے مسلسل مہنگائی بڑھ رہی ہے اور اس کا سب سے زیادہ خمیازہ ملک کے غریب اور عام لوگوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔
مسٹر کھرگے نے سوشل میڈیا ایکس پر پیر کو لکھا کہ اگر وزیراعظم مودی الیکشن سے پہلے پٹرول و ڈیزل سمیت دیگر ضروری اشیاء کی قیمتیں بڑھاتے تو بی جے پی کو اس کا بڑا سیاسی نقصان اٹھانا پڑتا۔ اسی وجہ سے حکومت نے الیکشن تک تمام باتوں کو ملک سے چھپا کر رکھا لیکن الیکشن ختم ہوتے ہی قیمتوں میں اضافہ کر دیا۔ کانگریس صدر نے کہا کہ بی جے پی حکومت اور مسٹر مودی میں دوراندیشی کی کمی ہے اور ان کی حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے مسلسل مہنگائی بڑھ رہی ہے، جس سے غریبوں کو وہ ضروری چیزیں بھی نہیں مل پا رہی ہیں، جن کے وہ حقدار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اس مسئلے کو نمایاں طور پر اٹھائے گی۔
یواین آئی۔ایف اے
ہندوستان1 week agoجموں و کشمیر میں چونے کے پتھر کے بلاکس کی نیلامی کل سے شروع ہوگی
دنیا4 days agoٹرمپ اور شی جن پنگ کا آبنائے ہرمز کھلی رکھنے پر اتفاق
دنیا4 days agoفرانسیسی صدر اور ایرانی اداکارہ سے متعلق نئی کتاب میں چونکا دینے والے دعوے
تازہ ترین1 week agoآبنائے ہرمز میں مداخلت آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے: ایران کی یورپ کو تنبیہ
ہندوستان5 days agoبزرگوں، بیواؤں، معذوروں کے ساتھ ناانصافی کر رہی ہے حکومت : کھرگے
دنیا1 week agoٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی تجاویز مسترد، ایرانی حکومت کا سخت ردعمل سامنے آگیا
ہندوستان4 days agoعالمی بحران کے درمیان ہندوستان کا برکس اتحاد کا مطالبہ، پابندیوں اور دہشت گردی پر اظہارِ تشویش
دنیا5 days agoایران کو ایٹمی ہتھیار نہیں بنانے دیں گے، معاشی دباؤ کی فکر نہیں: ڈونلڈ ٹرمپ
دنیا1 week agoٹرمپ نے جنگ کے خاتمے کی امریکی پیشکش پر ایران کے ردعمل کو ‘مکمل طور پر ناقابل قبول’ قرار دیا
جموں و کشمیر1 week agoشاہ کے ساتھ میٹنگ میں ریاستی درجہ کی بحالی، ریزرویشن اور کام کاج کے قوانین سے جڑے مسائل اٹھاؤں گا: عمر عبداللہ
ہندوستان6 days agoمغربی بنگال میں بی جے پی حکومت بننے سے شہریوں کو آیوشمان بھارت کا فائدہ ملے گا: مودی
تازہ ترین6 days agoایران کی توجہ اب بھی پائیدار امن پر مرکوز لیکن کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے تیار : فاطمہ مہاجرانی







































































































