تازہ ترین
رواں سال وادی میں 128 نوجوان ہوئے جنگجوؤں کی صفوں میں شامل

خبر اردو :
وادی میں نوجوانوں کی پے در پے عسکری صفوں میں شمولیت نے گزشتہ برسوں کے ریکارڈ مات کردئے ہیں۔ سیکورٹی ایجنسیوں کے پاس اعداد و شمار کے مطابق سال رواں کے جنوری سے لے کر جولائی تک وادی میں نوجوانوں کی جنگجوؤں کی صفوں میں شمولیت میں تشویش ناک حد تک اضافہ ہوا ہے جس کے مطابق اس مدت کے دوران 128نوجوانوں نے مختلف عسکری تنظیموں میں شمولیت کرکے سیکورٹی ایجنسیوں کے لیے ایک چلینج چھوڑدیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق نوجوانوں کی سب سے زیادہ تعداد حزب المجاہدین ، لشکر طیبہ اور البدر میں بالترتیب شامل ہوئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایسے نوجوان جو حزب المجاہدین، لشکر طیبہ اور البدر نامی جنگجوؤں گروپوں میں شامل ہورہے ہیں ان کا تعلق زیادہ تر جنوبی کشمیر کے کولگام، اسلام آباد، پلوامہ اور شوپیان اضلاع سے ہیں ۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ عسکری صفوں میں شامل نوجوانوں کی 90فیصدی تعداد جنوبی کشمیر کے کولگام، اسلام آباد، پلوامہ اور شوپیان اضلاع سے ہیں جو کہ سیکورٹی ایجنسیوں کے لیے ایک چلینج سے کم نہیں ہے۔ وادی میں گزشتہ برسوں کے مقابلے میں امسال عسکری صفوں میں مقامی نوجوانوں کی شمولیت میں تشویش ناک حد تک اضافہ ہوا ہے جس کے مطابق نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد حزب المجاہدین، لشکر طیبہ اور البدر نامی عسکری تنظیموں میں شامل ہوئی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ وادی میں نوجوانوں کی جنگجوؤں کی صفوں میں اس قدر شمولیت پر سیکورٹی ایجنسیوں میں کافی تشویش پائی جارہی ہے جس کا سدباب ڈھونڈنے کے لیے سیکورٹی ایجنسیوں کے اعلیٰ حکام مل بیٹھ کر چلینجز سے نمٹنے کے لیے مختلف نوعیت کے منصوبے تشکیل دے رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ برسوں کے مقابلے میں امسال مقامی نوجوانوں کی ریکارڈ توڑ تعداد نے عسکری صفوں میں شمولیت کی ہے جس کے مطابق سال رواں کے جنوری تا جولائی 128نوجوانوں نے مختلف عسکری تنظیموں میں شمولیت اختیار کی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ سال رواں کے 7مہینوں کے دوران مقامی نوجوانوں کی ریکارڑ توڑ اضافے سے سال 2017کا ریکارڈ پس منظر میں چلایا گیا جس دوران یہاں 126نوجوانوں نے عسکری صفوں میں شمولیت اختیار کی تھی جو کہ سال 2010سے بڑی تعداد شمار کی جاتی تھی۔انہوں نے بتایا اگرچہ سیکورٹی ایجنسیوں نے مختلف اسکیوں کو بروئے کار لاکر نوجوانوں کو مین اسٹریم زمرے میں شامل کرنے کے لیے مختلف نوعیت کے پروگرام منعقد کئے تاہم اس کے باوجود یہاں نوجوانوں کی جانب سے عسکری صفوں میں شمولیت تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے جو کہ یہاں تعینات جملہ سیکورٹی ایجنسیوں کے لیے ایک بہت بڑا چلینج ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایسے نوجوان جو حزب المجاہدین، لشکر طیبہ اور البدر نامی جنگجوؤں گروپوں میں شامل ہورہے ہیں ان کا تعلق زیادہ تر جنوبی کشمیر کے کولگام، اسلام آباد، پلوامہ اور شوپیان اضلاع سے ہیں ۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ عسکری صفوں میں شامل نوجوانوں کی 90فیصدی تعداد جنوبی کشمیر کے کولگام، اسلام آباد، پلوامہ اور شوپیان اضلاع سے ہیں جو کہ سیکورٹی ایجنسیوں کے لیے ایک چلینج سے کم نہیں ہے۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ مہینوں کے دوران فوج اور جنگجوؤں کے درمیان مختلف نوعیت کے معرکوں میں 2درجن سے زائد ایسے جنگجوؤں کو جنگجو مخالف آپریشنوں کے دوران ہلاک کیا گیا جو جنگی مہارت سے بالکل ہی عاری تھے۔ انہوں نے بتایا کہ وادی میں جنگجوؤں کے اعداد و شمار پر گہرائی سے نظر رکھنے کے لیے محکمہ پولیس کی 2خصوصی شعبے کام کررہے ہیں جن میں آئی بی اور زونل پولیس شامل ہیں جوعلیحدہ اپنے متعلقہ علاقوں اور اضلاع میں جنگجوؤں سے متعلق ریکارڈ پر گہرائی سے نظر رکھتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جونہی کبھی کوئی نوجوان لاپتہ ہوتا ہے تو اس کے والدین اور رشتہ دار یا تو پولیس کے سامنے شکایت درج کرتے ہیں یا تو لاپتہ نوجوان کی ہتھیاروں سے لیس تصویر سوشل میڈیا پر تصویر وائرل ہوجاتی ہے جس کے بعد ہی آئی بی اور زونل پولیس علیحدہ علیحدہ کراس چک کرکے تمام حقائق کی روشنی میں واقعے کی تحقیقات کرتی ہے اور تب ہی کسی کو جنگجو قرار دیا جاتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ جنوبی کشمیر کے پلوامہ اور شوپیان میں امسال کے 7مہینوں کے دوران70نئے نوجوانوں نے عسکری صفوں میں شمولیت اختیار کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جنوبی کشمیر میں یکم اپریل کو ہوئی 2الگ الگ جھڑپوں جن میں حزب المجاہدین کا مقامی کمانڈر صدام پڈر اور کشمیر یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمد رفیع شامل ہیں، کے بعد یہاں نوجوانوں کا عسکریت کے تئیں رجحان بڑھتا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ پہاڑی ضلع شوپیان اور اسلام آباد میں 2الگ الگ جھڑپوں میں 11جنگجوؤں کو ہلاک کیا گیا جس کے بعد یہاں نوجوانوں کی ایک بڑی کھیپ عسکری صفوں میں شامل ہوئی۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ رواں سال کے دوران اب تک سیکورٹی ایجنسیوں نے مشترکہ طور پر وادی کے مختلف حصوں سمیت لائن آف کنٹرول پر بڑی تعداد میں جنگجوؤں کو جاں بحق کردیا لیکن اس کے باوجود مقامی نوجوانوں کا جنگجوؤں کی صفوں میں شمولیت کا رجحان مزید زور پکڑتا جارہا ہے جو کہ یہاں تعینات سیکورٹی ایجنسیوں کے لیے ایک تشویش ناک معاملہ ہے۔ انہوں نے بتایا اگر چہ سیکورٹی ایجنسیوں نے مقامی نوجوانوں کو عسکریت صفوں میں شمولیت سے روکنے اور انہیں مین اسٹریم کے دائرے میں لانے کے لیے مختلف نوعیت کی اسکیموں اور پروگرامات دردست لیے ہیں تاہم اس کے باوجود بھی وادی میں بالعموم اور جنوبی کشمیرمیں بالخصوص نوجوان آئے روز عسکری صفوں میں شامل ہورہے ہیں جو سیکورٹی ایجنسیوں کے لیے ایک تشویش ناک معاملہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مقامی نوجوانوں کی عسکری صفوں میں شمولیت سال 2016میں اُس وقت شروع ہوئی جب حزب المجاہدین کے مقامی کمانڈر برہان وانی کو سیکورٹی فورسز نے اسلام آباد کے بمڈورہ علاقے میں ایک آپریشن کے دوران جاں بحق کیا۔ انہوں نے بتایا کہ نوجوانوں کا زیادہ رجحان حزب المجاہدین کی طرف ہے جس کے بعد لشکر طیبہ کا نمبر آتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس عرصے کے دوران اظہر مسعود کی سربراہی والی تنظیم جیش محمد میں 25نئے نوجوانوں شامل ہوئے ہیں جبکہ اس دوران 9نوجوان البدر نامی عسکری تنظیم میں شامل ہوئے ہیں۔KNS
جموں و کشمیر
میرواعظ عمر فاروق کی قوم سے دردمندانہ اپیل “سماجی برائیوں کے خاتمے کے لیے اجتماعی خود احتسابی ضروری
سری نگر، کشمیر کے ممتاز مذہبی رہنما اور حریت کانفرنس کے چیئرمین میرواعظ عمر فاروق نے جمعہ کے روز مسلم معاشرے سے اجتماعی غور و فکر، خود احتسابی اور سماجی ذمہ داریوں کو بہتر طریقے سے نبھانے کی پرزور اپیل کی ہے۔
وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام کی تاریخی ‘جامع مسجد اچگام’ میں اسلامی سال کے آخری جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے میرواعظ نے کہا کہ یہ موقع انفرادی اور اجتماعی دونوں سطحوں پر گہرے غور و فکر اور خود احتسابی کا تقاضا کرتا ہے۔میرواعظ عمر فاروق نے اپنے خطبے میں وقت کی اہمیت اور ذمہ داریوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جیسے ہی ایک اور اسلامی سال اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے، لوگوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ کچھ لمحوں کے لیے رکیں اور وقت کے گزرنے، سال کے دوران ملنے والی نعمتوں، درپیش چیلنجوں اور اللہ اور معاشرے کے تئیں اپنی ذمہ داریوں پر غور کریں۔
اسلام میں ‘محاسبہ’ (خود احتسابی) کے تصور کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جس طرح افراد کو اپنے اعمال کا جائزہ لینے کی ترغیب دی گئی ہے، اسی طرح معاشروں کو بھی اپنی حالت اور سمت پر غور کرنا چاہیے۔ کمیونٹیز کو مسلسل یہ دیکھنا چاہیے کہ آیا وہ ایمان، ہمدردی، انصاف، دیانتداری اور باہمی احترام کی اقدار کے قریب آ رہی ہیں یا نہیں۔
کشمیر میں درپیش سماجی صورتحال کا تذکرہ کرتے ہوئے حریت چیئرمین نے کہا”گزشتہ برسوں کے دوران ہمارے معاشرے کو کئی چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔ بہت سے خاندانوں نے دکھ، غیر یقینی صورتحال اور مشکلات کا سامنا کیا ہے، جبکہ نوجوانوں کا ایک بڑا طبقہ اپنے مستقبل کے حوالے سے شدید فکر مند ہے۔”انہوں نے واضح کیا کہ ایک مضبوط معاشرہ صرف مادی ترقی سے نہیں بنتا، بلکہ اس کی بنیاد مضبوط خاندانی نظام، تعلیم یافتہ اور ذمہ دار نوجوان، غریب اور معاشی طور پر پسماندہ طبقات کی دیکھ بھال، اور انصاف و وقار کے مشترکہ عزم پر ہوتی ہے۔
میرواعظ نے معاشرے کی رہنمائی میں علمائے کرام، خطیبوں اور مبلغین کے اہم کردار اور ذمہ داری پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا مسجد کا منبر ایک مقدس امانت ہے اور اس کا استعمال ایمان، اخلاقی اصلاح، حکمت، ہمدردی اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے مذہبی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ فروعی اختلافات سے بالاتر ہوں اور ایسی بیان بازی سے پرہیز کریں جو مسلمانوں کے درمیان نفاق یا تقسیم کا باعث بنے۔
آخر میں اتحادِ امت کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے میرواعظ عمر فاروق نے کہا کہ ایسے وقت میں جب دنیا بھر میں امت مسلمہ کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے، مسلمانوں کو تقسیم کرنے والے اختلافات کے بجائے ان مشترکہ رشتوں پر توجہ دینے کی زیادہ ضرورت ہے جو انہیں ایک لڑی میں پروتے ہیں۔
یواین آئی ۔م اع
دنیا
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کل پاکستان آنے کا امکان
تہران، عرب ٹی وی کے ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کل پاکستان کا دورہ متوقع ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ جنیوا میں امریکہ ایران معاہدہ پاکستان کی موجودگی میں ہو گا۔
ذرائع کے مطابق امریکہ اور ایران کے وفود کی جنیوا میں ملاقات ممکن ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر پولیس کی امرناتھ یاترا سے قبل ننون بیس کیمپ میں موک ڈرل، سیکیورٹی تیاریوں کا جائزہ
سری نگر، ضلع اننت ناگ میں جموں و کشمیر پولیس نے مرکزی مسلح پولیس فورسز (سی اے پی ایف) اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر جمعہ کے روز پہلگام کے ننون بیس کیمپ میں ایک موک ڈرل کا انعقاد کیا، تاکہ آئندہ امرناتھ یاترا سے قبل سیکیورٹی تیاریوں اور ہنگامی ردِعمل کے نظام کا جائزہ لیا جا سکے۔
جنوبی کشمیر کے ہمالیائی علاقے میں واقع مقدس امرناتھ گپھا کی سالانہ یاترا 3 جولائی سے شروع ہو کر 28 اگست کو اختتام پذیر ہوگی۔
پولیس ترجمان کے مطابق اس مشق کا مقصد یاترا کے دوران ممکنہ ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے مختلف سیکیورٹی اور امدادی اداروں کی تیاری، باہمی رابطے اور ردِعمل کی صلاحیتوں کو جانچنا تھا۔
موک ڈرل میں مختلف ہنگامی صورتحال کی نقل تیار کی گئی، جس کے ذریعے شریک اداروں نے اپنی آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا اور ردِعمل کے طریقہ کار کو مزید مؤثر بنانے کی کوشش کی۔
اس مشق میں اننت ناگ پولیس، سی اے پی ایف، اسٹیٹ ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (ایس ڈی آر ایف)، فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز، محکمہ صحت اور دیگر متعلقہ اداروں کے اہلکاروں نے فعال طور پر حصہ لیا۔ مشق کے دوران فوری کارروائی، مؤثر مواصلاتی نظام، انخلا کے طریقہ کار، ہجوم کے انتظام اور مختلف اداروں کے درمیان ہم آہنگی پر خصوصی توجہ دی گئی۔
سینئر افسران نے مشق کی نگرانی کی اور شریک ٹیموں کی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر یاترا کے دوران تعینات تمام اداروں کے درمیان مزید بہتر رابطہ اور تیاری کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان5 days agoانڈیا اتحاد کی میٹنگ شروع، سونیا، کھرگے اور ممتا سمیت کئی اعلیٰ لیڈر شامل
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر میں منشیات کی تجارت کی ہر کڑی توڑ رہے ہیں: لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا
دنیا1 week agoایرانی سپریم لیڈر سے ملاقات باعث اعزاز ہوگی: صدر ٹرمپ
ہندوستان1 week agoمودی حکومت میں تعلیمی نظام ہوا تباہ، آکانکشا کی موت اسی ناکامی کا نتیجہ: راہل گاندھی
دنیا1 week agoامریکہ اب ایران کے خلاف دوبارہ جنگ نہیں کرےگا: ٹرمپ نے مشیروں کو آگاہ کردیا
دنیا7 days agoایران کے آبنائے ہرمز کی جانب ڈرون فائرنگ، امریکہ کا گورک اور جزیرہ قشم میں ریڈار پر حملہ
دنیا5 days agoجارحیت روکیں یا طاقت کے نئے توازن کے مرحلے میں داخل ہوں: علی اکبر ولایتی کا انتباہ
دنیا7 days agoایران کے پاس 21 سے 22فیصد میزائل باقی ہیں، معاہدے کے سوا اس کے پاس کوئی راستہ نہیں: ٹرمپ
ہندوستان1 week agoخوبصورت سیاحتی مقام کو کروڑوں درخت کاٹ کر برباد کیا جا رہا ہے: راہل گاندھی
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: شوپیاں کے دبجن علاقے میں کار سڑک سے پھسل گئی، 5 افراد زخمی
دنیا2 days agoامریکہ آج رات ایران پر بڑا حملہ کرے گا: امریکی وزیر جنگ
دنیا5 days agoامریکہ کی متضاد پالیسیوں اور مؤقف نے سفارتی راستے کو متاثر کیا: اسماعیل بقائی




































































































