جموں و کشمیر
سرینگر پولیس کی شہر بھر میں کیمیکل و کھاد کی دکانوں پر چھاپہ ماری

سری نگر ، سری نگر میں مجموعی سکیورٹی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پولیس نے پیر کے روز کیمیکل اور کھاد فروخت کرنے والی دکانوں کی ہمہ گیر اور باریک بینی سے جانچ کی۔ یہ خصوصی مہم شہر کے تقریباً تمام بڑے تھانوں—جس میں ہارون، لعل بازار، چنہ پورہ، راجباغ، آر ایم باغ، ایم آر گنج، صفاکدل، زڈی بل، حضرت بل، نگین، صدر اور خانیار—کی حدود شامل تھیں۔ پولیس حکام کے مطابق اس کارروائی کا بنیادی مقصد حساس کیمیکل اور کھاد کے کسی بھی ممکنہ غلط یا غیر قانونی استعمال کی روک تھام کرنا اور اس بات کو یقینی بنانا تھا کہ تمام ڈیلر اسٹاک اور خرید و فروخت کا ریکارڈ درست رکھیں اور قانونی ضوابط کی مکمل پاسداری کریں۔
کارروائی کے دوران پولیس ٹیموں نے ہر دکان پر موجود اسٹوریج کی کیفیت، لائسنس کی حالت، حساس مواد کی حفاظت، بڑی مقدار میں خریداری کرنے والوں کی شناخت اور دکانداروں کی جانب سے برقرار رکھے جانے والے ریکارڈ کا بغور جائزہ لیا۔ دکانداروں کو سختی سے ہدایت دی گئی کہ وہ ہر طرح کی خرید و فروخت کا شفاف ریکارڈ رکھیں، حساس مواد کو محفوظ طریقے سے ذخیرہ کریں اور کسی بھی مشکوک لین دین یا غیر معمولی سرگرمی کی فوری طور پر اطلاع پولیس کو فراہم کریں۔
پولیس نے بتایا کہ یہ کارروائیاں نہ صرف موجودہ سکیورٹی ماحول کو پیش نظر رکھ کر کی جا رہی ہیں بلکہ مستقبل میں بھی اس طرح کی جانچ کا سلسلہ باقاعدگی سے جاری رہے گا۔
سرکاری بیان میں کہا گیا کہ سرینگر پولیس شہریوں کی حفاظت اور شہر میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھا رہی ہے، اور اس حوالے سے کیمیکل اور کھاد کی دکانوں کی نگرانی ایک اہم حصہ ہے۔
سرینگر پولیس نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امن، تحفظ اور قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے اس طرح کے سخت اقدامات جاری رہیں گے اور تمام متعلقہ اداروں اور دکانداروں سے مکمل تعاون کی اپیل کی گئی ہے۔
یو این آئی۔ ارشید بٹ۔ایف اے
جموں و کشمیر
سرینگر میں محرم کے جلوس میں ہزاروں لوگ شامل ہوئے
سرینگر جموں و کشمیر کے سرینگر میں بدھ کو آٹھویں محرم کے روایتی جلوس میں ہزاروں لوگ شامل ہوئے۔
انتظامیہ نے سرینگر کے اہم علاقے سے سخت سکیورٹی انتظامات کے درمیان گزرنے والے اس جلوس کو مسلسل چوتھے سال اجازت دی ہے۔ جلوس آج صبح گرو بازار سے شروع ہو کر جہانگیر چوک اور مولانا آزاد روڈ سے ہوتے ہوئے ڈلگیٹ پہنچا۔
جلوس میں مذہبی بینر لیے ہوئے لوگ طے شدہ راستے پر آگے بڑھ رہے تھے اور پیغمبر محمد کے نواسے امام حسین کی یاد میں مرثیہ اور نوحہ پڑھ رہے تھے۔ زیادہ تر کالے کپڑے پہنے ہوئے لوگوں نے کربلا میں امام حسین اور ان کے ساتھیوں کی قربانی کو خراج عقیدت پیش کیا۔ حکام نے جلوس کے لیے سکیورٹی کے وسیع انتظامات کیے تھے۔ پولیس نے مرکزی مسلح پولیس فورسز اور ٹریفک پولیس کی مدد سے کئی سطحوں والی سکیورٹی کا انتظام کیا تھا، جس میں ڈرون سے نگرانی بھی شامل تھی۔ جلوس کے راستے پر ٹریفک روک دیا گیا تھا۔
سرینگر کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) سندیپ چکرورتی نے کہا کہ پولیس نے جلوس کے شروعاتی مقام سے لے کر آخری مقام تک کے انتظامات کی باریکی سے منصوبہ بندی کی ہے۔ انہوں نے کہا، “ہمارا واحد مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ جلوس پرامن اور باوقار طریقے سے ہو۔ اس کے لیے ہمیں پولیس اور سول انتظامیہ کے ساتھ عوام کے تعاون اور حمایت کی ضرورت ہے۔”
سول انتظامیہ اور پولیس کے افسران، نیز رضاکار کئی مقامات پر پانی پلاتے ہوئے اور جلوس میں شامل لوگوں کی مدد کرتے ہوئے دیکھے گئے۔
1990 کی دہائی کے اوائل میں دہشت گردی شروع ہونے کے بعد گرو بازار-ڈلگیٹ کا روایتی جلوس تین دہائیوں سے زیادہ عرصے تک بند رہا تھا، جسے 2023 میں پھر سے شروع کیا گیا۔ حکام نے اس ہفتے کے آخر میں ہونے والے 10ویں محرم کے جلوس کے لیے بھی وسیع انتظامات کا اعلان کیا ہے۔
یو این آئی۔ ایم جے
جموں و کشمیر
اسکمز اسپتال نے خاندان سے باہر کے عطیہ دہندہ کی مدد سے پہلا اسٹیم سیل ٹرانسپلانٹ انجام دیا
سری نگر، کشمیر کے شیرِ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (اسکمز) نے طب کے شعبے میں ایک بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے پہلی بار خاندان سے باہر ایک نامعلوم عطیہ دہندہ کے اسٹیم سیلز (خون بنانے والے خلیات) استعمال کرکے تین سالہ بچے کی جان بچا لی ہے۔ یہ بچہ قوتِ مدافعت (امیونٹی) کی ایک نہایت نایاب اور جان لیوا بیماری میں مبتلا تھا، اور اس منفرد علاج نے اسے نئی زندگی عطا کی ہے۔
اس کامیاب آپریشن کی سب سے خاص بات یہ رہی کہ بچے کی جان بچانے کے لیے اسٹیم سیلز عطیہ کرنے والا شخص ہندوستان میں نہیں بلکہ پولینڈ میں ملا۔ جب بچے کے والدین یا خاندان کے کسی فرد کے اسٹیم سیلز اس سے مطابقت نہیں رکھتے تھے تو بین الاقوامی اداروں کی مدد سے دنیا بھر میں تلاش شروع کی گئی، جس کے نتیجے میں پولینڈ میں موزوں عطیہ دہندہ مل گیا۔
اسپتال کے ڈائریکٹر پروفیسر ایم اشرف غنی نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ کامیابی جرمنی کے ادارے ڈی کے ایم ایس کے عالمی نیٹ ورک کی بدولت ممکن ہوئی، جو دنیا بھر میں بلڈ کینسر اور دیگر سنگین بیماریوں کے مریضوں کے لیے عطیہ دہندگان تلاش کرتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ “جب خاندان میں کوئی مناسب عطیہ دہندہ نہیں ملتا تو ہم پوری دنیا میں مریض کے خون سے مطابقت رکھنے والے فرد کی تلاش کرتے ہیں۔ پولینڈ میں عطیہ دہندہ ملنے کے بعد وہاں سے اسٹیم سیلز کو محفوظ طریقے سے ہوائی جہاز کے ذریعے اسکمز اسپتال کشمیر لایا گیا اور بچے کے جسم میں منتقل کیا گیا۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ ملک کے چند ہی اسپتالوں میں یہ پیچیدہ علاج دستیاب ہے۔ نجی اسپتالوں میں اس علاج پر 30 سے 40 لاکھ روپے تک خرچ آتا ہے، لیکن اسکمز اسپتال نے بچے کا تقریباً مفت علاج کیا، اور خاندان کو صرف چند ضروری ادویات کی قیمت ادا کرنی پڑی۔
اسپتال کے ڈائریکٹر کے مطابق، ٹرانسپلانٹ کے بعد بچہ مکمل طور پر صحت یاب ہو چکا ہے اور اسے اسپتال سے رخصت کر دیا گیا ہے۔
اس بڑی کامیابی کے بعد ڈاکٹروں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ بھی اسٹیم سیل عطیہ دہندہ کے طور پر اپنا نام درج کرائیں، کیونکہ یہ عمل مکمل طور پر محفوظ ہے اور اس کے ذریعے کسی کی جان بچائی جا سکتی ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر شہری مرکزیت پر مبنی بہتر طرزِ حکمرانی کا ماڈل بن چکا ہے: منوج سنہا
سری نگر، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے منگل کے روز کہا کہ یہ مرکز کے زیرِ انتظام علاقہ شہری مرکزیت پر مبنی بہتر طرزِ حکمرانی (گڈ گورننس) کا ایک مثالی نمونہ بن کر ابھرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں سال 2020 میں صرف 35 آن لائن خدمات دستیاب تھیں، وہیں 2023 تک ان کی تعداد بڑھ کر 1,100 سے زیادہ ہو گئی ہے۔
مرکزی وزارتِ پنچایتی راج اور جموں و کشمیر انتظامیہ کے اشتراک سے منعقدہ ایک علاقائی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے منوج سنہا نے کہا کہ حکومت نے “پیپل فرسٹ” کے نظریے کے تحت خدمات کی فراہمی کے نظام میں وسیع اصلاحات کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنچایتی راج اداروں کو حکمرانی اور ترقی کا اہم شراکت دار بنایا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ “بلاک دیوس” اور “بیک ٹو ولیج” جیسی مہمات کے ذریعے سرکاری خدمات اور ترقیاتی منصوبوں کو عوام کی دہلیز تک پہنچانے کی کوشش کی گئی، جس سے انتظامیہ اور شہریوں کے درمیان اعتماد کے رشتے کو مضبوطی ملی ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے بتایا کہ جموں و کشمیر میں 15 ہزار سے زائد کامن سروس سینٹرز کام کر رہے ہیں، جبکہ 4,290 پنچایتوں میں سے 4,211 اس نیٹ ورک سے منسلک ہیں، جو 98.16 فیصد کوریج کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے مختلف ریاستوں سے آئے ہوئے نمائندوں سے اپیل کی کہ وہ جموں و کشمیر کے خدمات ماڈل کا مطالعہ کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاستوں کے درمیان کامیاب تجربات اور اختراعات کے تبادلے سے نچلی سطح پر بہتر طرزِ حکمرانی کو مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان6 days ago‘اسلام آباد ایم او یو’ پر جے رام رمیش کا مرکز پر حملہ، کہا- مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو بڑا جھٹکا
دنیا1 week ago‘ٹرمپ کامعاہدہ ہمیں پابند نہیں کرتا’، اسرائیلی وزیر ایران امریکہ معاہدے پر سیخ پا
جموں و کشمیر1 week agoگاندربل ‘انکاؤنٹر’ کے مقتول کی لاش قبر سے نکال کر اہلِ خانہ کے حوالے
ہندوستان1 week agoسلوواکیہ میں مودی کا ہوا شاندار استقبال
دنیا1 week agoعین وقت پر امریکہ ایران امن معاہدے میں تاخیر اسرائیلی حملے کے سبب
تجزیہ1 week agoسبز توانائی اور موسمیاتی بحران
دنیا1 week agoایرانی آرمی چیف کا دفاعی طاقت مزید بڑھانے کا اعلان
دنیا7 days agoجی سیون ممالک کا امریکہ اور ایران امن معاہدے کی حمایت کا اعلان
ہندوستان7 days ago’جمہوریت کو نقصان پہنچانے کے لیے شاہ چلا رہے ہیں دھوکہ دہی پرمبنی مہم ‘: رمیش
تازہ ترین2 days agoٹرمپ کے بیان کے بعد ایران نے مذاکرات معطل کردیے، وفد واپس روانہ
تجزیہ1 week agoیہ التجا مفتی کون ہے
دنیا6 days agoایران کے ساتھ معاہدہ حتمی نہیں، اگر رویہ درست نہ رہا تو حملے دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں: ٹرمپ





































































































