تازہ ترین
عالمگیر وبا : 16اور17جون کو وزیر اعظم کریں گے وزرائے اعلیٰ سے تبادلہ خیال

سرینگر:ہندوستان میں عالمگیر وبا کورونا وائرس مسلسل اپنی گرفت مضبوط کرتی جارہی ہے جبکہ مثبت معاملات اور اموات میں متواتر اضافہ ہورہا ہے۔اس درمیان 16اور17جون کو وزیر اعظم ہند نریندر مودی وزرائے اعلیٰ اور مرکزی زیر انتظام خطوں کے سربراہان سے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے وبا سے نمٹنے کے بارے میں تبادلہ خیال کریں گے۔
کشمیر نیوز سروس مانیٹر نگ ڈیسک کے مطابق ہندوستان میں کورونا وائرس وبا مسلسل بڑھتی ہی جارہی ہے۔ ہر دن کورونا متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ ایسے میں وزیر اعظم نریندر مودی ملک میں کورونا وائرس کی صورتحال پر وزرائے اعلی کے ساتھ تبادلہ خیال کیلئے16 اور17 جون کو پھر میٹنگ کریں گے۔ ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ یہ میٹنگ ہوگی۔
وزیر اعظم دفتر نے بھی اس کی تصدیق کردی ہے۔ویڈیو کانفرنس کے ذریعے ہونے والی بات چیت کا پروگرام دیتے ہوئے اس ٹوئٹ میں یہ بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم کس دن کس ریاست کے وزیراعلیٰ سے بات چیت کریں گے۔
وزیر اعظم نریندر مودی 16 جون کی شام 3 بجے پنجاب، آسام، کیرالہ، اتراکھنڈ، جھارکھنڈ، چھتیس گڑھ، تری پورہ، ہماچل پردیش، چنڈی گڑھ، گوا، منی پور، ناگالینڈ، لداخ، پڈوچیری، اروناچل پردیش، میگھالیہ، میزورم، انڈومان اور نکوبار، دادر نگر حویلی اور دمن دیپ اور سکم و لکشدیپ کے وزرائے اعلی سے بات چیت کریں گے۔
اس کے بعد وزیر اعظم نریندرمودی17 جون کی شام3 بجے مہاراشٹر، تمل ناڈو، دہلی، گجرات، راجستھان، اترپردیش، مدھیہ پردیش، مغربی بنگال، کرناٹک، بہار، آندھرا پردیش، ہریانہ، جموں و کشمیر، تلنگانہ اور اوڈیسہ کے وزرائے اعلی اور لیفٹیننٹ گورنروں کے ساتھ میٹنگ کریں گے اور ریاستوں میں کورونا کی صورتحال پر تبادلہ خیال کریں گے۔
قابل ذکر ہے کہ اس سے پہلے29 مئی کو کورونا کے خلاف لاگو لاک ڈاون پر وزیر اعظم نریندرمودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے ریاستوں کے وزرائے اعلی کے ساتھ میٹنگ کی تھی۔ اس کے بعد لاک ڈاون میں سلسلہ وار طریقہ سے راحت دینے کیلئے ’ان لاک‘کی شروعات کی گئی تھی۔
دنیا
حقیقی مذاکرات میں بنیادی رکاوٹیں وعدوں کی خلاف ورزی، ناکہ بندی اور دھمکیاں ہیں: ایرانی صدر
تہران، ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہےکہ ایران نے ہمیشہ مکالمے اور معاہدے کا خیرمقدم کیا اور اب بھی کرتا ہے۔
ایک بیان میں مسعود پزشکیان نے کہا کہ حقیقی مذاکرات میں بنیادی رکاوٹیں وعدوں کی خلاف ورزی، ناکہ بندی اور دھمکیاں ہیں۔
ٹرمپ کا نام لیے بغیر ان پر تنقید کرتے ہوئے ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ دنیا آپ کی مسلسل منافقانہ بیان بازی، دعوؤں اور عمل کے درمیان تضادات کو دیکھ رہی ہے جب کہ ایران نے ہمیشہ مکالمے اور معاہدے کا خیرمقدم کیا اور اب بھی کرتا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ مکمل جنگ بندی اسی صورت قابلِ قبول ہے جب سمندری ناکہ بندی نہ ہو، مکمل جنگ بندی اسی صورت میں معنی رکھتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنگ بندی کی خلاف ورزی سمندری ناکہ بندی اور عالمی معیشت کو یرغمال بنانے جیسے اقدامات سے نہ کی جائے، جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی کی صورت میں آبنائےہرمزکودوبارہ کھولنا ناممکن ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ڈیموکریٹ سینیٹر چک شومر نے ایران سے جنگ کے فوری خاتمے کا مطالبہ کردیا
واشنگٹن، ڈیموکریٹ سینیٹر چک شومر نے امریکی صدر ٹرمپ پر شدید تنقید کرتے ہوئے فوری طور پر ایران جنگ کے خاتمے کا مطالبہ کر دیا۔
سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر جاری بیان میں چک شومر نے کہا کہ ہمیں ٹرمپ کی جنگ کو فوری طور پر ختم کرنا ہوگا کیونکہ یہ تباہ کن جنگ جتنی دیر جاری رہے گی، حالات اتنے ہی خراب ہوتے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ یہ تباہ کن جنگ دن بہ دن بڑھتی جارہی ہے اور ہم گہرائی سے مزید گہرائی کی طرف دھنستے جارہے ہیں۔ چک شومر نے ٹرمپ کو ٹیگ کرتے ہوئے کہا کہ اس جنگ کے باعث امریکہ کی معیشت، عسکری تیاری اور قومی سلامتی پہلے سے کہیں زیادہ کمزور ہو چکی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
اسرائیل لبنان مذاکرات آج متوقع، حزب اللّٰہ کی امریکی ثالثی قبول کرنے کا امکان
واشنگٹن، اسرائیل اور لبنان کے درمیان آج واشنگٹن میں مذاکرات کا ایک اور دور متوقع ہے، جہاں لبنانی حکام جنگ بندی میں ایک ماہ کی توسیع کی درخواست کریں گے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق موجودہ جنگ بندی چند روز میں ختم ہونے والی ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ میں ایک نامعلوم حزب اللّٰہ عہدیدار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ تنظیم جاری مذاکراتی عمل کے تحت امریکہ کی ثالثی میں بالواسطہ مذاکرات قبول کرنے پر آمادہ ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیرِ خارجہ گدعون ساعر نے بدھ کے روز کہا ہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان کوئی سنجیدہ اختلافات نہیں، تاہم انہوں نے حزب اللّٰہ کو امن اور معمول کے تعلقات کی راہ میں رکاوٹ قرار دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق 10 روزہ جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی افواج لبنان میں حملے جاری رکھے ہوئے ہیں، جن کے نتیجے میں اموات ہو رہی ہیں، ایک لبنانی صحافی امل خلیل بھی حملے میں جاں بحق ہوئیں جبکہ زیرِ قبضہ علاقوں میں لبنانی گھروں کو بھی مسمار کیا جا رہا ہے۔ لبنانی حکام کے مطابق مارچ کے اوائل سے جاری اس جنگ میں اب تک کم از کم 2454 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا6 days agoدشمن ایرانی قوم کو جھکانے کی حسرت اپنے ساتھ قبر میں لے جائیں گے: ایرانی آرمی چیف
جموں و کشمیر7 days agoجموں کشمیر: کالج پکنک پر جا رہی 20 سالہ لڑکی بس سے گر کر ہلاک
دنیا3 days agoمیناب اسکول کے شہید بچوں کے والدین کا پوپ لیو کو خط
جموں و کشمیر6 days agoبارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا
دنیا6 days agoٹرمپ کا دماغی توازن ٹھیک نہیں، عہدے کے قابل نہیں رہے:س یاسمین انصاری
دنیا6 days agoاسرائیل پر قدرت کا قہر، شہد کی مکھیوں کے جھنڈ کا حملہ
دنیا6 days agoضرورت پڑنے پر طاقت کا استعمال کیا جائے گا، پیٹ ہیگسی
دنیا1 week agoامریکی سینیٹ نے ایران پر مزید حملوں کی اجازت کی قرارداد مسترد کردی
دنیا1 week ago’’اگر میں امریکہ کا صدر نہ ہوتا تو دنیا ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتی‘‘
دنیا1 week agoاسرائیل کا ایران و لبنان میں جنگ جاری رکھنے کا اعلان، فوج مکمل تیاری کے ساتھ ہائی الرٹ پر : اہداف تیار
دنیا2 days agoایرانی یورینیم کی بازیابی طویل اور مشکل ہوگی: ٹرمپ
جموں و کشمیر3 days agoجموں و کشمیر: ادھم پور میں سڑک حادثے میں 16 افراد ہلاک، متعدد زخمی












































































































