جموں و کشمیر
لال قلعہ کار بم دھماکہ کیس: این آئی اے نے خود کش حملہ آور کے ایک اور اہم ساتھی کو سری نگر سے گرفتار کیا

سری نگر،لال قلعہ کے نزدیک پیش آئے کار بم دھماکہ معاملے کی تفتیش کو آگے بڑھاتے ہوئے قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے دھماکے میں ملوث دہشت گرد کے ایک اور اہم ساتھی کو گرفتار کر لیا ہے۔
این آئی اے کے مطابق جاسر بلال وانی عرف دانش، جو کشمیر سے تعلق رکھتا ہے، کو ایجنسی کی ایک خصوصی ٹیم نے سری نگر سے گرفتار کیا۔ یہ گرفتاری کیس زیر نمبر 21کے سلسلے میں عمل میں لائی گئی ہے۔
تحقیقات کے دوران این آئی اے نے انکشاف کیا ہے کہ ملزم جاسر نے دہشت گردانہ حملوں کے لیے ڈرون میں ترمیم کر کے تکنیکی مدد فراہم کی تھی اور وہ دھماکے سے قبل راکٹ تیار کرنے کی کوشش بھی کر رہا تھا۔
قومی تحقیقاتی ایجنسی کے مطابق جاسر بلال وانی، ضلع اننت ناگ کے قاضی گنڈ کا رہنے والا ہے اور دھماکہ کرنے والے دہشت گرد عمر النبی کا نہایت قریبی ساتھی تھا۔ دونوں نے مل کر حملے کی منصوبہ بندی کی اور دھماکہ خیز کارروائی کیلئے متعدد سازشیں تیار کیں۔
این آئی اے نے کہا کہ دھماکہ خیز سازش کی جڑ تک پہنچنے کے لیے مختلف پہلوؤں پر تحقیقات جاری ہیں۔ اینٹی ٹیرر ایجنسی کی متعدد ٹیمیں کئی ریاستوں میں چھاپے مار رہی ہیں تاکہ اس نیٹ ورک سے جڑے ہر شخص کی نشاندہی کی جا سکے۔
ایجنسی نے واضح کیا کہ لال قلعہ دھماکہ کیس ایک منظم اور خطرناک دہشت گردانہ سازش ہے اور اس کے تمام ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
یاد رہے کہ چند ہفتے قبل لال قلعہ کے قریب ایک کار دھماکے نے پوری دہلی کو ہلا کر رکھ دیا تھا جس میں 10 افراد جاں بحق اور 32 زخمی ہوئے تھے۔
حکام کے مطابق دھماکہ ایک بڑی، منظم دہشت گرد سازش کا حصہ تھا، جس کا مقصد دارالحکومت میں بڑے پیمانے پر افراتفری پیدا کرنا، شہری جانوں کو نقصان پہنچانا اور حکومتی اداروں کو چیلنج کرنا تھا۔
یو این آئی۔ ارشید بٹ
جموں و کشمیر
کٹھوعہ میں زائرین کی بس کھائی میں جا گری؛ کم از کم 20 عقیدت مند زخمی
جموں، جموں و کشمیر کے ضلع کٹھوعہ میں بلاو کے مقام پر بدھ کے روز ایک دردناک سڑک حادثہ پیش آیا، جہاں زائرین (عقیدت مندوں) سے بھری ایک مینی بس بے قابو ہو کر گہری کھائی میں جا گری۔ اس حادثے کے نتیجے میں کم از کم 20عقیدت مند شدید زخمی ہو گئے ہیں۔پولیس ذرائع کے مطابق، یہ مینی بس سانبہ سے بلاور میں واقع مشہور ‘سکرالا ماتا مندر’ کی طرف جا رہی تھی۔ بدھ کی صبح بلاور قصبے سے محض چند کلومیٹر پہلے ہی یہ بس حادثے کا شکار ہو گئی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، ڈرائیور گاڑی کی تیز رفتاری کے باعث اس پر سے اپنا کنٹرول کھو بیٹھا، جس کے نتیجے میں بس سڑک سے نیچے گہری کھائی میں جا گری۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی مقامی پولیس کی ٹیمیں فوراً جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور مقامی لوگوں کے ساتھ مل کر بڑے پیمانے پر بچاؤ اور امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔ پولیس حکام نے بتایا ہے کہ اس واقعے میں تقریباً 20 عقیدت مند زخمی ہوئے ہیں، جنہیں فوری طور پر ملبے سے نکال کر قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔پولیس نے حادثے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ دفعات کے تحت کیس درج کر لیا ہے اور حادثے کی وجوہات کی مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔
یواین آئی ۔م ا ع
جموں و کشمیر
سرینگر میں محرم کے جلوس میں ہزاروں لوگ شامل ہوئے
سرینگر جموں و کشمیر کے سرینگر میں بدھ کو آٹھویں محرم کے روایتی جلوس میں ہزاروں لوگ شامل ہوئے۔
انتظامیہ نے سرینگر کے اہم علاقے سے سخت سکیورٹی انتظامات کے درمیان گزرنے والے اس جلوس کو مسلسل چوتھے سال اجازت دی ہے۔ جلوس آج صبح گرو بازار سے شروع ہو کر جہانگیر چوک اور مولانا آزاد روڈ سے ہوتے ہوئے ڈلگیٹ پہنچا۔
جلوس میں مذہبی بینر لیے ہوئے لوگ طے شدہ راستے پر آگے بڑھ رہے تھے اور پیغمبر محمد کے نواسے امام حسین کی یاد میں مرثیہ اور نوحہ پڑھ رہے تھے۔ زیادہ تر کالے کپڑے پہنے ہوئے لوگوں نے کربلا میں امام حسین اور ان کے ساتھیوں کی قربانی کو خراج عقیدت پیش کیا۔ حکام نے جلوس کے لیے سکیورٹی کے وسیع انتظامات کیے تھے۔ پولیس نے مرکزی مسلح پولیس فورسز اور ٹریفک پولیس کی مدد سے کئی سطحوں والی سکیورٹی کا انتظام کیا تھا، جس میں ڈرون سے نگرانی بھی شامل تھی۔ جلوس کے راستے پر ٹریفک روک دیا گیا تھا۔
سرینگر کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) سندیپ چکرورتی نے کہا کہ پولیس نے جلوس کے شروعاتی مقام سے لے کر آخری مقام تک کے انتظامات کی باریکی سے منصوبہ بندی کی ہے۔ انہوں نے کہا، “ہمارا واحد مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ جلوس پرامن اور باوقار طریقے سے ہو۔ اس کے لیے ہمیں پولیس اور سول انتظامیہ کے ساتھ عوام کے تعاون اور حمایت کی ضرورت ہے۔”
سول انتظامیہ اور پولیس کے افسران، نیز رضاکار کئی مقامات پر پانی پلاتے ہوئے اور جلوس میں شامل لوگوں کی مدد کرتے ہوئے دیکھے گئے۔
1990 کی دہائی کے اوائل میں دہشت گردی شروع ہونے کے بعد گرو بازار-ڈلگیٹ کا روایتی جلوس تین دہائیوں سے زیادہ عرصے تک بند رہا تھا، جسے 2023 میں پھر سے شروع کیا گیا۔ حکام نے اس ہفتے کے آخر میں ہونے والے 10ویں محرم کے جلوس کے لیے بھی وسیع انتظامات کا اعلان کیا ہے۔
یو این آئی۔ ایم جے
جموں و کشمیر
اسکمز اسپتال نے خاندان سے باہر کے عطیہ دہندہ کی مدد سے پہلا اسٹیم سیل ٹرانسپلانٹ انجام دیا
سری نگر، کشمیر کے شیرِ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (اسکمز) نے طب کے شعبے میں ایک بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے پہلی بار خاندان سے باہر ایک نامعلوم عطیہ دہندہ کے اسٹیم سیلز (خون بنانے والے خلیات) استعمال کرکے تین سالہ بچے کی جان بچا لی ہے۔ یہ بچہ قوتِ مدافعت (امیونٹی) کی ایک نہایت نایاب اور جان لیوا بیماری میں مبتلا تھا، اور اس منفرد علاج نے اسے نئی زندگی عطا کی ہے۔
اس کامیاب آپریشن کی سب سے خاص بات یہ رہی کہ بچے کی جان بچانے کے لیے اسٹیم سیلز عطیہ کرنے والا شخص ہندوستان میں نہیں بلکہ پولینڈ میں ملا۔ جب بچے کے والدین یا خاندان کے کسی فرد کے اسٹیم سیلز اس سے مطابقت نہیں رکھتے تھے تو بین الاقوامی اداروں کی مدد سے دنیا بھر میں تلاش شروع کی گئی، جس کے نتیجے میں پولینڈ میں موزوں عطیہ دہندہ مل گیا۔
اسپتال کے ڈائریکٹر پروفیسر ایم اشرف غنی نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ کامیابی جرمنی کے ادارے ڈی کے ایم ایس کے عالمی نیٹ ورک کی بدولت ممکن ہوئی، جو دنیا بھر میں بلڈ کینسر اور دیگر سنگین بیماریوں کے مریضوں کے لیے عطیہ دہندگان تلاش کرتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ “جب خاندان میں کوئی مناسب عطیہ دہندہ نہیں ملتا تو ہم پوری دنیا میں مریض کے خون سے مطابقت رکھنے والے فرد کی تلاش کرتے ہیں۔ پولینڈ میں عطیہ دہندہ ملنے کے بعد وہاں سے اسٹیم سیلز کو محفوظ طریقے سے ہوائی جہاز کے ذریعے اسکمز اسپتال کشمیر لایا گیا اور بچے کے جسم میں منتقل کیا گیا۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ ملک کے چند ہی اسپتالوں میں یہ پیچیدہ علاج دستیاب ہے۔ نجی اسپتالوں میں اس علاج پر 30 سے 40 لاکھ روپے تک خرچ آتا ہے، لیکن اسکمز اسپتال نے بچے کا تقریباً مفت علاج کیا، اور خاندان کو صرف چند ضروری ادویات کی قیمت ادا کرنی پڑی۔
اسپتال کے ڈائریکٹر کے مطابق، ٹرانسپلانٹ کے بعد بچہ مکمل طور پر صحت یاب ہو چکا ہے اور اسے اسپتال سے رخصت کر دیا گیا ہے۔
اس بڑی کامیابی کے بعد ڈاکٹروں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ بھی اسٹیم سیل عطیہ دہندہ کے طور پر اپنا نام درج کرائیں، کیونکہ یہ عمل مکمل طور پر محفوظ ہے اور اس کے ذریعے کسی کی جان بچائی جا سکتی ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان6 days ago‘اسلام آباد ایم او یو’ پر جے رام رمیش کا مرکز پر حملہ، کہا- مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو بڑا جھٹکا
جموں و کشمیر1 week agoگاندربل ‘انکاؤنٹر’ کے مقتول کی لاش قبر سے نکال کر اہلِ خانہ کے حوالے
تازہ ترین2 days agoٹرمپ کے بیان کے بعد ایران نے مذاکرات معطل کردیے، وفد واپس روانہ
دنیا1 week agoایرانی آرمی چیف کا دفاعی طاقت مزید بڑھانے کا اعلان
دنیا1 week agoجی سیون ممالک کا امریکہ اور ایران امن معاہدے کی حمایت کا اعلان
ہندوستان1 week ago’جمہوریت کو نقصان پہنچانے کے لیے شاہ چلا رہے ہیں دھوکہ دہی پرمبنی مہم ‘: رمیش
دنیا6 days agoایران کے ساتھ معاہدہ حتمی نہیں، اگر رویہ درست نہ رہا تو حملے دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں: ٹرمپ
دنیا6 days agoاعلیٰ ترین قیادت کے دستخط سے معاہدے کی خلاف ورزی کی سیاسی قیمت زیادہ ہو گئی: اسماعیل بقائی
دنیا1 week agoمجھے حتمی معاہدہ پسند نہ آیا تو دوبارہ بمباری کی طرف واپس جا سکتے ہیں: ٹرمپ
دنیا1 week agoامریکہ ایران معاہدے پر الیکٹرانک دستخط ٹرمپ وینس نے کئے
دنیا5 days agoامریکہ اور ایران کے درمیان آج ہونے والے مذاکرات منسوخ: سوئس وزارت خارجہ
ہندوستان1 week ago‘ٹیلی گرام بین’ پر راہل کا مرکزی حکومت پر الزام، ”پیپر لیک مافیا پر نہیں، طالب علموں کے خلاف کارروائی کر رہی ہے حکومت“




































































































