تازہ ترین
ہم ہر موضوع پر پارلیمنٹ میں بحث کرنے کو تیار: وزیر داخلہ امیت شاہ

’1962 سے آج تک ہو جائے دو دو ہاتھ‘
خبراردو
سرینگر: مشرقی لداخ میں ہند۔چین سرحد ی کشیدگی وتناؤ،20اہلکاروں کی ہلاکت اور دیگر امور پر بات کرتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے اپوزیشن پر جوابی حملہ کیا۔انہوں نے کہا ’ہم ہر موضوع پر پارلیمنٹ میں بحث کر نے کو تیار ہیں جبکہ1962سے آج تک دو دو ہاتھ ہوجائے‘۔
کشمیر نیوز سروس مانیٹر نگ ڈیسک کے مطابق مشرقی لداخ کی گلوان وادی میں 15 جون کی رات ہندوستان اور چین کے فوجیوں کے درمیان ہوئے پْرتشدد جھڑپ میں ہلاک ہوئے 20 ہندوستانی فوجیوں کی قربانی پر کانگریس مسلسل مرکزی حکومت پر حملہ آور ہے۔ کانگریس کے سبھی الزامات کا جواب دیتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا ہے کہ میں واضح کردینا چاہتا ہوں کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان دونوں جنگ جیت رہا ہے۔
امت شاہ نے کہا کہ ہندوستان کورونا کی جنگ کے ساتھ ہی مشرقی لداخ میں اصل کنٹرول لائن (ایل اے سی) پر بڑھتی کشیدگی کی جنگ بھی جلد جیتے گا۔نیوز ایجنسی اے این آئی کو دیئے انٹرویو میں وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا، ہم ہر موضوع پر پارلیمنٹ میں بحث کرنے کو تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ چلنے والا ہے اور اگر کسی کو سرحدی تنازعہ پر بحث کرنی ہے تو آئیے، ہم بحث کریں گے۔1962 سے آج تک دو دو ہاتھ ہوجائے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی بحث سے نہیں ڈرتا ہے، لیکن جب ملک کے جوان جدوجہد کر رہے ہیں، حکومت اسٹینڈ لے کر کوئی ٹھوس قدم اٹھا رہی ہے، اس وقت ایسا کوئی بھی بیان نہیں دینا چاہئے جس سے پاکستان اور چین کو خوشی ملے۔
وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ ہندوستانی حکومت کورونا وائرس کے خلاف اچھی لڑائی لڑ رہی ہے۔ان کا کہناتھا ’میں راہل گاندھی کو کسی بھی طرح کا کوئی مشورہ نہیں دے سکتا،راہل گاندھی کو مشورہ دینے کا کام ان کی پارٹی کا ہے،کچھ لوگ ’تجسس’میں ہیں، وہ صحیح چیزوں کو بھی غلط دیکھتے ہیں،ہندوستان نے کورونا کے خلاف بہترین جدوجہد کی اور ہمارے اعدادوشمار دنیا کے مقابلے میں بہت بہتر ہیں‘۔امت شاہ نے کہا کہ مرکزی حکومت ہندوستان مخالف پروپیگنڈہ سے لڑنے کے اہل ہیں، لیکن یہ دیکھ کر کافی دکھ ہوتا ہے کہ اتنی بڑی پارٹی کے سابق صدر ایسی اوچھی سیاست کرتے ہیں۔
امت شاہ نے سرینڈر مودی والے ٹوئٹ کا ذکر کرتے ہوئے کہا، کانگریس اور راہل گاندھی کو خود اس بارے میں سوچنے کی ضرورت ہے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ ہندوستان میں راہل گاندھی کی طرف کی جا رہی بات کو پاکستان اور چین کے لوگ ہیش ٹیگ بناکر استعمال کر رہے ہیں۔ کانگریس پارٹی کو اس بارے میں بھی سوچنا چاہئے کہ ان کی پارٹی کے لیڈر کا بیان چین اور پاکستان کو بڑھاوا دیتا ہے۔ وہ بھی ایسے وقت میں جب بحران کو وقت ہو۔
دنیا
آبنائے ہرمز پر ہمارا مکمل کنٹرول ہے: ٹرمپ کا دعویٰ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز پر امریکہ کا مکمل کنٹرول ہے اور یہ اُس وقت تک برقرار رہے گا جب تک کہ ایران کوئی معاہدہ کرنے پر آمادہ نہیں ہو جاتا۔
امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا کہ ایران مشکل دور سے گزر رہا ہے کیونکہ انہیں معلوم ہی نہیں کہ ان کا لیڈر کون ہے؟ ایرانی انتہا پسند جنگ کے میدان میں بُری طرح شکست کھا چکے ہیں اور آپس میں جھگڑ رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے لکھا کہ ایران میں اعتدال پسند کسی طور اعتدال پسند نہیں، ایران میں اعتدال پسندوں کی عزت بڑھ رہی ہے اور یہ پاگل پن ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز پر ہمارا مکمل کنٹرول ہے، امریکی بحریہ کی اجازت کے بغیر اس آبی گزرگاہ سے کوئی جہاز نہ آ سکتا ہے اور نہ جا سکتا ہے، یہ مکمل بند ہے جب تک ایران معاہدہ کرنے کے قابل نہ ہو جائے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز ایرانی پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز میں دو بحری جہازوں کو اپنی تحویل میں لیا تھا اور بعد میں کارروائی کی ویڈیو بھی جاری کی تھی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب نے تین بحری جہازوں پر حملہ کیا تھا جن میں سے دو کو قبضے میں لے کر ایرانی ساحل کی جانب منتقل کر دیا تھا۔ اس نے کارروائی کی ویڈیو جاری کی تھی جس میں مسلح نقاب پوش اہلکار ہیلی کاپٹر کے ذریعے کارگو جہاز کے ڈیک پر اترتے اور کنٹرول حاصل کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
ایران کی جانب سے کیے گئے دعووں کے مطابق قبضے میں لیے گئے جہازوں میں سے ایک کی شناخت ایم ایس سی فرانسسکا کے نام سے ہوئی ہے جس پر پاناما کا پرچم لہرایا گیا تھا۔ پاسداران انقلاب کا کہنا تھا کہ مذکورہ جہاز اسرائیل کی ملکیت ہے جو آبنائے ہرمز سے خلیج عمان کی جانب جا رہا تھا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے کی بات چیت تعمیری: ہندوستان
نئی دہلی، وزارت خارجہ نے جمعرات کو کہا کہ ہندوستان اور امریکہ نے مجوزہ دوطرفہ تجارتی معاہدے (بی ٹی اے) پر مذاکرات تیز کر دیے ہیں۔ یہ “تعمیری” بات چیت واشنگٹن میں ہو رہی ہے جس کا مقصد ایک متوازن اور مستقبل پر مبنی معاہدہ کرنا ہے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ مذاکرات کا محور باہمی خدشات اور ترجیحات کا حل تلاش کرنا ہے، ساتھ ہی 2030 تک 500 ارب ڈالر کے دوطرفہ تجارتی ہدف کو حاصل کرنے کی سمت میں بھی کام کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا، “ہندوستان سے ایک ٹیم دوطرفہ تجارتی معاہدے پر مذاکرات کے لیے واشنگٹن گئی ہے۔ یہ مذاکرات تعمیری ہیں۔ دونوں فریق ایک متوازن، باہمی طور پر فائدہ مند اور مستقبل پر مبنی تجارتی معاہدے کی سمت میں کام کر رہے ہیں، جس میں ایک دوسرے کے تحفظات اور ترجیحات کو مدنظر رکھا جا رہا ہے، اور 2030 تک 500 ارب ڈالر کے تجارتی ہدف کو حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔”
ہندوستان میں امریکہ کے سفیر سرجیو گور نے بھی ایک دن پہلے تصدیق کی تھی کہ ہندوستانی تجارتی وفد اس ہفتے امریکہ میں ہے اور انہوں نے ان مذاکرات کو معاہدے کو حتمی شکل دینے کی سمت میں “ایک بڑا قدم” قرار دیا۔ سوشل میڈیا پر انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے لیے سود مند ثابت ہوگا۔ ہندوستان کے 12 رکنی وفد کی قیادت محکمہ تجارت کے ایڈیشنل سکریٹری اور چیف مذاکرات کار درپن جین کر رہے ہیں۔ اس وفد میں تجارت، کسٹم اور وزارت خارجہ کے حکام بھی شامل ہیں۔یہ بات چیت عالمی ٹیرف ڈھانچے میں تبدیلیوں اور مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی سے جڑی توانائی کی مارکیٹ کی عدم استحکام کے درمیان ہو رہی ہے۔
یواین آئی ۔ایف اے
ہندوستان
ٹرمپ کے مبینہ توہین آمیز تبصرے پر مودی کا ردعمل ضروری ہے: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے وزیر اعظم نریندر مودی پر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے مبینہ توہین آمیز بیان کے معاملے پر خاموشی اختیار کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ دباؤ کی اس کوشش پر ردعمل دینے کے لیے مسٹر مودی کو وقت نکالنا چاہیے۔
مسٹر کھرگے نے جمعرات کو سوشل میڈیا ‘ایکس’ پر کہا کہ مسٹر مودی کے دوست ‘نمستے ٹرمپ’ نے ہندوستان کے خلاف مبینہ طور پر قابل اعتراض اور توہین آمیز الفاظ استعمال کرتے ہوئے تبصرہ کیا ہے، لیکن مسٹر مودی نے اب تک اس پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان کی جانب سے اس سلسلے میں خاموشی اختیار کرنے والے بیان کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے اس معاملے پر حکومت کے موقف پر بھی سوال اٹھائے اور کہا کہ امریکہ کی ترقی میں ہندوستانیوں کا رول اہم رہا ہے، لہٰذا اس معاملے کو امریکی حکومت کے سامنے اعلیٰ سطح پر اٹھایا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ مسٹر ٹرمپ کے پاکستان-امریکہ تجارتی معاہدے کے ڈھانچے، ‘آپریشن سندور’ کے دوران ثالثی کے دعوے، ‘برکس ختم ہو چکا ہے’ جیسے بیانات کے ساتھ ساتھ ہندوستان پر 50 فیصد ٹیرف لگانے جیسے معاملے پر حکومت کا خاموشی اختیار کرنے کا رویہ ملک کے مفاد میں نہیں رہا ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ انہیں لگتا ہے کہ مسٹر مودی کو اپنے مصروف انتخابی شیڈول کے درمیان 140 کروڑ ہم وطنوں کے اعزاز میں امریکی صدر کے مبینہ توہین آمیز بیان اور دباؤ ڈالنے کی کوشش پر ردعمل دینے کے لیے وقت نکالنا چاہیے۔
یو این آئی۔ این یو۔
دنیا7 days agoدشمن ایرانی قوم کو جھکانے کی حسرت اپنے ساتھ قبر میں لے جائیں گے: ایرانی آرمی چیف
جموں و کشمیر1 week agoجموں کشمیر: کالج پکنک پر جا رہی 20 سالہ لڑکی بس سے گر کر ہلاک
دنیا4 days agoمیناب اسکول کے شہید بچوں کے والدین کا پوپ لیو کو خط
جموں و کشمیر7 days agoبارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا
دنیا7 days agoٹرمپ کا دماغی توازن ٹھیک نہیں، عہدے کے قابل نہیں رہے:س یاسمین انصاری
دنیا7 days agoضرورت پڑنے پر طاقت کا استعمال کیا جائے گا، پیٹ ہیگسی
دنیا7 days agoاسرائیل پر قدرت کا قہر، شہد کی مکھیوں کے جھنڈ کا حملہ
دنیا1 week agoاسرائیل کا ایران و لبنان میں جنگ جاری رکھنے کا اعلان، فوج مکمل تیاری کے ساتھ ہائی الرٹ پر : اہداف تیار
دنیا1 week agoامریکی سینیٹ نے ایران پر مزید حملوں کی اجازت کی قرارداد مسترد کردی
دنیا1 week ago’’اگر میں امریکہ کا صدر نہ ہوتا تو دنیا ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتی‘‘
دنیا3 days agoایرانی یورینیم کی بازیابی طویل اور مشکل ہوگی: ٹرمپ
جموں و کشمیر4 days agoجموں و کشمیر: ادھم پور میں سڑک حادثے میں 16 افراد ہلاک، متعدد زخمی










































































































