تازہ ترین
من کی بات| ہندوستان کی تاریخ چیلنجز سے پْر، دوستی نبھانااور چیلنج دینا بھی جانتا ہے:وزیر اعظم

آنکھ اٹھاک دیکھنے والوں کو ملا جواب
سرینگر: وزیر اعظم ہندنریندر مودی نے ہند۔چین سرحدی کشیدگی وتناؤ پر کہا ہے کہ ہندوستانی سرزمین پر آنکھ اٹھاکر دیکھنے والوں کو ملا زبردست جواب ملا ہے۔انہوں نے کہاکہ ہندوستان دوستی نبھانا جانتا ہے تو آنکھ میں آنکھ ڈال کر چیلنج دینا بھی جانتا ہے۔
کشمیر نیوز سروس مانیٹر نگ ڈیسک کے مطابق وزیر اعظم ہندنریندر مودی نے اتوار کو ’من کی بات’پروگرام کے ذریعہ ملک کے لوگوں کو خطاب کیا۔ انہوں نے اس دوران مشرقی لداخ میں ہندوستان اور چینی فوج کے درمیان ہوئے پْرتشدد جھڑپ کے بعد پہلی بار ذکر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی سرزمین پر آنکھ اٹھاکر دیکھنے والوں کو ملا زبردست جواب ملا ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے لداخ میں چینی فوج کے کئی ہندوستانی فوجیوں کے پْرتشدد جھڑک کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان دوستی نبھانا جانتا ہے تو آنکھ میں آنکھ ڈال کر چیلنج دینا بھی جانتا ہے۔وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ ملک میں ان لاک کا عمل شروع ہوگیا ہے، لیکن اس دوران مزید محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ اس دوران ماسک پہننا اور دو گز کی دوری بنانا بہت ضروری ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ لاک ڈاون سے زیادہ ان لاک میں محتاط رہنے کی ضرورت ہے تبھی کورونا سے اپنے آپ کو اور اہل خانہ کو انفیکشن سے بچایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کورونا بحران کے دوران آپ ماسک نہیں پہنتے ہں تو آپ فیملی کو بحران میں ڈالتے ہیں۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے یہ بھی کہا کہ چیلنج آتا رہتا ہے۔ ایک سال میں ایک چیلنج آئے یا پھر 50 چیلنج۔ اس سے سال کبھی خراب نہیں ہوتا۔ ہندوستان کی تاریخ چیلنجز سے پْر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری ہر کوشش اسی سمت میں ہونی چاہئے، جس سے سرحدوں کی حفاظت کے لئے ملک کی طاقت میں اضافہ ہو، ملک مزید بااختیار بنے، ملک خود منحصر بنے، یہی ہمارے شہیدوں کو سچی خراجعقیدت بھی ہوگی۔
وزیر اعظم مودی نے کہا کہ، کورونا کے دور میں ہمیں بیماریوں سے بچ کر رہنا ہے۔ آیوردک ادویات، کاڑھا، گرم پانی، ان سب کا استعمال کرتے رہئے اور صحتمند رہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ کورونا کو شکست دینے کے ساتھ ساتھ، معیشت کو بھی مستحکم بنانا ہے اور اسی تسلسل میں لاک ڈاؤن سے زیادہ ’ان لاک‘ میں احتیاط برتنا ضروری ہے۔انہوں کہا’کورونا کے بحران کے دوران، ملک لاک ڈاؤن سے باہر آگیا ہے۔
اب ہم ا’ن لاک‘ کے دور میں ہیں، ان لاک کے اس وقت میں، دو چیزوں کا خیال رکھنا ہوگا۔ کورونا کو شکست دینا اور معیشت کو مضبوط بنانا‘۔وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ ہمیں لاک ڈاؤن سے زیادہ اب ’ان لاک’میں چوکس (محتاط) رہنا ہوگا، آپ کا ہوشیار ہونا آپ کو کورونا سے بچائے گا۔ ہمیشہ یاد رکھیں کہ اگر آپ ماسک نہیں پہنتے، دو گز کی دوری پر عمل نہیں کرتے ہیں، یا دیگر احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کرتے ہیں تو آپ اپنے آپ کو اور دوسروں کو بھی خطرہ میں ڈال رہے ہیں۔ خاص طور پر، گھر کے بچوں اور بزرگوں کو، لہذا، میں تمام ملک کے باشندوں سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ غفلت میں نہ رہیں، اپنا اور دوسروں کا بھی خیال رکھیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ان لاک کے دور میں اس طرح کی بہت ساری چیزیں ان لاک ہو رہی ہیں، جس میں ہندوستان کئی دہائیوں سے بندھا ہوا تھا۔ ہمارا کان کنی کا شعبہ برسوں سے لاک ڈاؤن میں تھا۔ تجارتی نیلامی کی منظوری کے فیصلے نے صورتحال کو یکسر بدل دیا ہے۔ کچھ دن پہلے خلائی شعبے میں تاریخی بہتری لائی گئی تھی۔ ان اصلاحات کے ذریعہ، یہ خطہ، جو برسوں سے لاک ڈاؤن کے تحت رہا، نے آزادی حاصل کرلی۔
اس سے نہ صرف خود انحصار کرنے والی ہندوستان کی مہم کو تقویت ملے گی بلکہ ملک میں بھی ٹکنالوجی میں ترقی ہوگی۔وزیر اعظم نریندر مودی نے مزید کہا کہ زراعت میں، بہت ساری چیزیں کئی دہائیوں سے لاک ڈاؤن میں پھنس گئیں۔ اب یہ شعبہ بھی کھل گیا ہے۔ اس سے کسانوں کو اپنی فصل کو کہیں بھی بیچنے کی آزادی مل گئی ہے۔ وہیں دوسری طرف، انہیں بھی زیادہ سے زیادہ قرض ملا ہے، بہت سارے سیکٹر ایسے ہیں جہاں ان تمام بحرانوں کے درمیان، تاریخی فیصلے کرنا، ترقی کی نئی راہیں کھول رہا ہے۔
جموں و کشمیر
عمر نے ریاست کا درجہ بحال کرنے کے حوالے سے احتجاجی مظاہرے کے لئے انڈیا اتحاد سے حمایت طلب کی
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ نے قومی دارالحکومت میں اپوزیشن جماعتوں کے ‘انڈیا’ اتحاد کے رہنماؤں سے ملاقات کرکے ریاست کا درجہ بحال کرنے کے حوالے سے احتجاجی مظاہرے کے لیے حمایت طلب کی ہے۔
مسٹر عبداللہ نے پیر کے روز نئی دہلی میں منعقدہ انڈیا اتحاد کی میٹنگ میں یہ معاملہ اٹھایا اور اتحاد کے شراکت داروں سے قومی دارالحکومت میں ہونے والے پارٹی کے مجوزہ احتجاج میں شریک ہونے کی درخواست کی۔ انڈیا اتحاد کی اس میٹنگ میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی سربراہ محبوبہ مفتی نے بھی شرکت کی۔
نیشنل کانفرنس نے یہاں ایک بیان میں کہا، ’’آج ہونے والی انڈیا اتحاد کی میٹنگ میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے تمام شرکاء سے کہا کہ جب ہم ریاستی درجہ کی بحالی کے لیے دہلی میں احتجاج کرنے آئیں گے تو وہ جموں کسمیر نیشنل کانفرنس کے ساتھ جڑیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اس سلسلے میں تمام رہنماؤں کو الگ الگ خطوط بھی ارسال کریں گے۔‘‘
یواین آئی۔الف الف
دنیا
اختلافات کے برعکس ترک-ہند تعلقات اچھے ہونے چاہیئے:فیدان
انقرہ، ترک وزیر خارجہ خاقان فیدان نے ترکیہ اور ہندوستان کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے پر زور دیا ہے اور یہ دلیل دی ہے کہ پاکستان کے ساتھ انقرہ کے قریبی تعلقات کی وجہ سے پیدا ہونے والے اختلافات کو ان دونوں علاقائی طاقتوں کے درمیان تعاون کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔
پچھلے ہفتے سنگاپور میں چھٹے ‘آئی آئی ایس ایس رافلز م لیکچر سے خطاب کرتے ہوئے فیدان نے کہا کہ ترکیہ اور ہندوستان کے درمیان کوئی بڑے دوطرفہ تنازعات نہیں ہیں اور دونوں کے پاس مثبت تعلقات برقرار رکھنے کی مضبوط وجوہات موجود ہیں۔
لیکچر کے بعد سوال و جواب کے ایک سیشن میں فیدان نے کہا کہ ہم واقعی ہندوستان کے ساتھ بہترین تعلقات قائم کرنا چاہتے ہیں۔ ہندوستان کے ساتھ ہماری کوئی سرحد نہیں ہے اور نہ ہی ہندوستان کے ساتھ ہمارا کوئی حل طلب دوطرفہ مسئلہ ہے۔
” انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ترکیہ اور ہندوستان کی کوئی آپسی جنگی تاریخ نہیں ہے بلکہ اس کے بجائے ان کے پاس اچھے تعلقات رکھنے کی ہر بہترین وجہ موجود ہے۔
ترک وزیر خارجہ نے پاکستان کے ساتھ انقرہ کے دیرینہ تعلقات کا دفاع کیا اور انہیں تاریخی یکجہتی پر مبنی قرار دیا، جبکہ اس بات پر زور دیا کہ ان تعلقات کو نئی دہلی کے ساتھ تعاون میں رکاوٹ کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
فیدان نے کہا کہ ترکیہ واحد ملک نہیں ہے جس کے پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اور بعض مخصوص مسائل پر پاکستان کے ساتھ تاریخی یکجہتی موجود ہے۔
واضح رہے کہ تعلقات میں یہ مشکل موڑ مئی 2025 میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان چار روزہ جنگ کے بعد آیا تھا۔
نئی دہلی نے اس بحران کے دوران ہندوستانی حملوں کی ترک مذمت اور پاکستان کے لیے حمایت کے اظہار پر اعتراض اٹھایا تھا۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ ترکیہ ان پہلے ممالک میں شامل تھا جس نے 22 اپریل 2025 کو ہندوستان کے کشمیر کے علاقے پہلگام میں شہریوں پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے کی مذمت کی تھی جس کے بعد یہ جنگ شروع ہوئی تھی۔
ترک وزارت خارجہ نے اسی دن ایک بیان جاری کرتے ہوئے اسے ایک “گھناؤنا حملہ” قرار دیا تھا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران نے اسرائیل پر حملے روکنے کا اعلان کردیا
تہران، ایرانی خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر نے اسرائیل کے خلاف مسلح افواج کی کارروائیاں روکنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ لبنان کے مظلوم عوام کی حمایت میں صہیونی حکومت کو دردناک جواب دے دیا گیا ہے۔
خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ایرانی مسلح افواج نے جنوبی لبنان اور بیروت کے جنوبی علاقے الضاحیہ پر اسرائیلی حملوں اور مبینہ جارحیت کا جواب دے دیا ہے، جس کے بعد فوجی کارروائیاں روک دی گئی ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل اور اس کے حامیوں کو اس جواب سے سبق سیکھنا چاہیے، تاہم اگر جارحیت اور اشتعال انگیز کارروائیاں جاری رہیں تو پہلے سے زیادہ شدید اور تباہ کن اقدامات کیے جائیں گے۔
اس سے قبل پاسداران انقلاب نے گزشتہ روز شمالی اسرائیل میں واقع اسرائیلی ایئر بیس پر بیلسٹک میزائل حملوں کی ذمہ داری قبول کی گئی تھی۔
ایرانی پاسداران انقلاب گارڈز کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی نیوتم ایئر بیس، تل انوف پر حملے کیے ہیں، اسرائیلی ایئر بیس پر حملے ایران میں ریڈار مقامات کو نشانہ بنانے کے جواب میں کیے گئے، کسی بھی صورتِ حال اور تمام محاذوں پر وسیع آپریشنز کے لیے تیار ہیں۔
خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹرز کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے کہا کہ ایرانی مسلح افواج نے مقبوضہ علاقوں میں اہم اور حساس اہداف کے خلاف کامیاب کارروائیاں کیں، جن کے نتیجے میں دشمن کو بھاری اور مہنگا نقصان اٹھانا پڑا۔
انہوں نے امریکہ اور اسرائیل کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور خطے کی مزاحمتی قوتیں کسی بھی دباؤ یا دھمکی کے سامنے سر نہیں جھکائیں گی، اور اگر جارحیت جاری رہی تو اس کا زیادہ سخت جواب دیا جائے گا۔
ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ 8 اپریل کو ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان نافذ ہونے والی جنگ بندی تمام محاذوں پر جنگ بندی سے مشروط تھی، جبکہ اسرائیل پر لبنان میں کارروائیاں جاری ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا1 week agoایران نے صدر پزشکیان کے استعفی کی خبروں کی تردید کی
جموں و کشمیر6 days agoسری نگر: نیشنل کانفرنس اور حمایتی آزاد ارکانِ اسمبلی کا سرپرازنگ اجلاس، اہم فیصلے متوقع
ہندوستان5 days agoمودی حکومت میں تعلیمی نظام ہوا تباہ، آکانکشا کی موت اسی ناکامی کا نتیجہ: راہل گاندھی
دنیا4 days agoایرانی سپریم لیڈر سے ملاقات باعث اعزاز ہوگی: صدر ٹرمپ
دنیا3 days agoایران کے پاس 21 سے 22فیصد میزائل باقی ہیں، معاہدے کے سوا اس کے پاس کوئی راستہ نہیں: ٹرمپ
دنیا7 days agoجنگ بندی کے دوران ایرانی فوجی صلاحیتوں میں اضافہ ہوا: پاسدارانِ انقلاب
کھیل6 days agoعاقب نبی اور ذیشان انصاری سمیت چھ کھلاڑی بطور نیٹ بولرز ہندوستانی ٹیم میں شامل
دنیا7 days agoلبنان پر حملے بند نہ ہوئے تو سنگین نتائج ہوں گے: ابراہیم عزیزی
جموں و کشمیر3 days agoجموں و کشمیر میں منشیات کی تجارت کی ہر کڑی توڑ رہے ہیں: لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا
دنیا1 week agoہرمزگان کمیونیکیشن ٹاور پر حملے کے بعد ایران کے کویت میں امریکی فوجی اڈے پر حملے میں 7 افراد زخمی
دنیا5 days agoامریکہ اب ایران کے خلاف دوبارہ جنگ نہیں کرےگا: ٹرمپ نے مشیروں کو آگاہ کردیا
دنیا1 week agoواضح نتیجے تک مذاکرات سے متعلق رائے نہیں دی جاسکتی، عراقچی







































































































