اہم خبریں
ندائے حق: ہماری مساجد کیسی ہونی چاہئیں!…اسد مرزا

اسد مرزا
اسلام میں مسجد انسان کے لئے روئے زمین پر ایک ایسا مقدس مقام ہے جہاں وہ عبادت کرسکتا ہے۔ مسجد ایک عربی لفظ ہے جس کا مطلب سجدہ کا مقام ہے۔ مسلمانوں کے لئے یہ لازمی ہے کہ وہ دن میں 5 وقت اور جمعہ کے علاوہ عیدالفطر اور عیدالاضحی کو مقامی یا شہر کی مسجد میں جمع ہوں۔ اس کو سماجی رابطوں اور اجتماعات کے لئے بھی ایک مقام کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔
اس لئے مسجد کو ایک ایسے مقام پر ہونا چاہیے جہاں سب کو رسائی حاصل کرنے میں آسانی ہو۔ بستی میں ایک ایسے مقام پر تعمیر کی جائے کہ اندرونی طور پر سب کو قریب رکھے اور اور بیرونی دنیا سے بھی اس کا رابطہ قائم رہے۔ تاہم مسلمانوں کو خاص طور سے ہندوستان جیسے سیکولر ملک میں مقامی مسجد کو ایک ایسے مرکز میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے جہاں برادری سے متعلق مختلف مسائل پر غوروخوض کرنے کے علاوہ علاقائی مسائل کو بھی سامنے لایا جاسکے اور اس کے آسان حل نکالنے کی کوشش کی جائے۔ اس سے مذہبی مقامات پر دیگر عقائد کے لوگوں کے داخلے پر پابندی کے لئے کٹرپسندوں کی جانب سے چلائی جانے والی مہم کا بھی جواب دینے میں مدد ملے گی۔
تعمیر کے اعتبار سے ایک مسجد میں 4 اہم عناصر ہوتے ہیں جن میں نماز کا ہال، ایک محراب جو قبلہ کی نشاندہی کرتا ہے۔ ایک مینار جو اذان دینے کے لئے ہوتی ہے اور ایک حوض جہاں وضو کیا جاتا ہے۔ مسجد کا رخ جانب کعبۃ اللہ ہوتا ہے اور اسی کو قبلہ کہیتے ہیں جس طرف مسلمان پانچ وقت اپنا منہ کرکے نماز ادا کرتے ہیں۔
عرب طرز کی مساجد ابتدائی دور کی مساجد ہیں جو امیہ اور عباسیہ کے دورخلافت میں تعمیر کی گئیں۔ یہ مساجد مربع شکل کی یا مستطیل شکل کی ہوتی تھیں۔ اور ان کے ساتھ صحن بھی ہوتا تھا۔ نماز کے ہال پر چھت ہوتی تھی۔ تاریخی طور پر مشرق وسطی اور بحرہ روم کے علاقوں میں گرم موسم کے دوران صحن کو بھی عبادت کے لئے استعمال کیا جاتا تھا جہاں جمعہ کی نماز کے وقت بڑی تعداد میں آنے والے لوگ عبادت کرتے تھے۔ تاہم عرب منصوبہ میں سادگی کی وجہ سے مزید تعمیراتی اختراع کے لئے مواقع محدود ہوگئے تھے۔
فارسیوں (ایرانیوں) نے سب سے پہلے عرب طرز تعمیر سے کنارہ کشی اختیار کی۔ انہوں نے اپنی مساجد کے طرز تعمیر میں پارتھیائی اور ساسانی طرز کو استعمال کرنا شروع کیا چنانچہ اسلامی طرز تعمیر میں اس طرح کی مسجدوں میں گنبد، دروں اور محرابوں کا اضافہ دیکھا گیا، جسے ایوان بھی کہا جاتا ہے۔
سلجوق حکمرانوں کے دور میں 4 ایوانوں کا اہتمام شروع کیا گیا۔ اس طرز تعمیرمیں صحن کے کنارے مسجد ہوتی تھی اور صحن میں داخلہ کے لئے چاروں طرف دروازے نصب کیے جاتے تھے تاکہ مختلف سمتوں سے آنے والے مقتدی مسجد میں آسانی سے رسائی پاسکیں۔ فارسیوں نے مسجد کے ڈیزائن میں باغات کا اضافہ متعارف کرایا۔ جلد ہی دنیا بھر میں فارسی طرز کی مساجد کی تعمیر میں اؔضافہ ہوا۔ بعد میں تیمور اور مغل حکمرانوں نے اسی طرز کی مساجد تعمیر کروائیں۔
سلطنت عثمانیہ نے 15 ویں صدی میں مسجد کے وسط میں مرکزی گنبد کو متعارف کروایا۔ ان مساجد میں عبادت کے ہال کے اوپر مرکز میں ایک بڑا گنبد ہوتا تھا۔ ایک بڑے مرکزی گنبد کے اضافہ کے علاوہ چھوٹے گنبدوں کی موجودگی بھی تعمیرات میں شامل کی گئی۔ مسجد کے بقیہ حصہ میں ان گنبدوں کو تعمیر کیا جاتا تھا جہاں عبادت نہیں ہوتی تھی۔ اس طرز تعمیرنے بازنطین مہمانوں کو کافی متاثر کیا جو اپنی تعمیرات میں بڑے مرکزی گنبدوں کا استعمال کرتے تھے۔ نئی دہلی کے مالویہ نگر کی کھڑکی مسجد کی تعمیر میں 81 سے زیادہ گنبد موجود ہیں۔
جنوب مشرقی ایشیاء میں مساجد کی تعمیر عام طور انڈونیشیا کے جاوا کے طرز تعمیر کی عکاسی کرتی ہے جو عظیم تر مشرق وسطی میں پائی جانے والی مساجد سے قدرے مختلف ہیں۔ اسی طرح یوروپ اور شمالی امریکہ میں بھی مساجد کی تعمیر مغربی طرز کی جھلک پیش کرتی ہے۔ چند مساجد قدیم گرجا گھر یا دیگر عمارتوں میں بھی قائم کی گئی ہیں جو پہلے غیرمسلموں کے زیراستعمال ہوا کرتی تھیں۔ افریقہ میں زیادہ تر مساجد قدیم طرزِ تعمیر پر بنائی گئی تھیں۔ تاہم نئی مساجد کو مشرق وسطی کے طرز تعمیر پر ہی بنایا جا رہا ہے۔
تاریخی طور پر ہندوستان میں متعدد مساجد کی تعمیر مغل دور میں کئی گئی تاہم حالیہ عرصے میں زیاہ دتر مساجد سادہ طرز تعمیر پر تیار کی گئی ہیں۔ جب سے بیرون ملک ملازمت کرنے والے تارکین وطن کی جانب سے عطیات کا سلسلہ شروع ہوا تب سے ہندوستان میں مساجد کی تعمیر متمول ہوگئی۔ ہر مسجد کی تعمیر دوسرے سے الگ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور مسجد کی تعمیر اس علاقے یا کسی ایک شخص کی انفرادی فکر کی عکاسی کرتی ہے۔
ایک اختراعی مسجد
گجرات کے آرکٹکٹ قطب منڈوی والا نے مسجد کی ڈیزائن کا ایک نیا رجحان شروع کیا ہے۔ 2018 میں پہلی مرتبہ انہوں نے کانپور کے جارج مئو میں گلشن ہاؤزنگ سوسائٹی کے لئے گلستان مسجد کا نقشہ تیار کیا۔ یہ مسجد صرف 250 مربع میٹر کے رقبہ پر انتہائی گنجان آبادی میں تعمیر کی گئی ہے۔ اس مسجد کو ایک منصوبہ بند پراجکٹ کے طور پر تعمیر کیا گیا جس میں بڑی تعداد میں لوگ بیٹھ سکتے ہیں۔ مسجد کے انتہائی سادہ اور غیرمعمولی ڈیزائن نے سب کی توجہ اپنی طرف مبذول کرالی ہے۔ مسجد کے دونوں طرف سڑکیں ہیں اور اس کے دو باب الداخلہ ہیں۔ ایک بڑا دروازہ بیرونی سڑک پرکھلتا ہے جب کہ دوسرا دروازہ بستی کے اندر کھلتا ہے۔ مسجد کی تعمیر کے لیے علاقائی طور پر دستیاب تعمیراتی وسائل کو استعمال کیا گیا ہے۔
اس مسجد کی منصوبہ بندی حقیقی دنیا کے مختلف عقائد اور علامتوں کو ذہن میں رکھ کر کی گئی ہے۔ اصل عمارت کے اطراف مختصر صحن ہے۔ جسے گزرگاہ کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے اور یہاں وضو خانے اور لوگوں کے لئے چپل رکھنے کی جگہ بنائی گئی ہے۔ مسجد کی اصل عمارت ایک مثلث کی شکل کی ہے جو عبادت کے وقت سجدے کی حالت میں معلوم ہوتی ہے۔ بیرونی ڈیزائن انتہائی سادہ ہے اور صحن کو پودوں سے سجایا گیا ہے۔ باہر کی سمت میں مینار کے اطراف ایک حوض بھی ہے۔ مسجد کے اگلے حصہ کو جالی سے ڈھکا گیا ہے جو مغل طرز کی یاد دلاتی ہے۔ اس جالی کو قدرتی ہوا اور روشنی کے لئے لگایا گیا ہے۔ اس جالی کی وجہ سے جہاں قدرتی روشنی اور ہوا اندر آنے سے ماحول پاک و صاف ہو جاتا ہے وہیں اندر کی گرم ہوا بھی باہر آسانی سے نکل جاتی ہے۔
ایک مثالی مسجد
تاہم اس وقت جدید اور مختلف طرز تعمیر کی مساجد تیار کرنے کے علاوہ ہمیں ایک ایسی مسجد کی تعمیر پر توجہ دینی چاہیے جو برادری کے لئے بامقصد ہو۔ ہم اس بحث کو اس طرح سے آگے لے جاسکتے ہیں کہ ایک مسجد کو مسلمانوں کا کمیونٹی ریسورس سنٹر (سی آر سی ) ہونا چاہیے جہاں مسلمانوں کی آبادی موجود ہے وہاں ان مسجد / سی آر سی کو ایک ایسے مقام کے طور پر تعمیر کرنا چاہیے، جہاں مسلمان نہ صرف اپنی مذہبی ضرورتوں کے لئے بلکہ سماجی ضرورت کے لئے جمع ہوسکیں۔ مسجد میں لائبریری، کیریر کونسلنگ سنٹر بھی ہونا چاہیے، جہاں مختلف شعبوں کے ماہرین کے ذریعہ نوجوانوں کو ان کی تعلیم اور کیریر کے انتخاب کے سلسلہ میں رہنمائی کی جاسکے۔ یہاں مسائل پر تبادلہ خیال کے لئے بھی ایک مقام ہونا چاہیے جو بستی کے غریب اور بیمار افراد پر نظر رکھ سکیں اور انہیں راحت فراہم کرسکیں۔ مسجد میں ایک ایسا کمرہ بھی ہونا چاہیے جہاں میتوں کے غسل اور کفن کا بھی انتظام کیا جاسکے۔
ہمیں مقامی مساجد کو ایک ایسے مقام کے طور پر تعمیرکرنا چاہیے جو نہ صرف طرز تعمیر کے لحاظ سے بہتر ہو بلکہ تعمیر پر زیادہ خرچ بھی نہ آئے۔ مسجد کو ہمہ مقصدی مراکز میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مقامی برادری کسی نہ کسی موقع سے اس کا رخ کرسکے اور اپنی مذہبی و دیگر ضروریات کی تکمیل کرسکے۔ یہ اقدام چند یوروپی ممالک میں کچھ وقت پہلے شروع کیا گیا تھا۔ اب ہندوستان میں بھی اس طرح کی مساجد دیکھی جارہی ہیں۔ ایک مشورہ یہ بھی ہے کہ مقامی غیرمسلموں کو مسجد آنے کی دعوت دی جائے تاکہ وہ وہاں آکر مسلمانوں کو عبادت کرتے ہوئے دیکھ سکیں اور مقدس قرآن مجید کی تعلیمات سے مستفید ہوسکیں۔ ایک ایسا ماحول تعمیر کرنے کے لئے جدوجہد کرنی چاہیے جس سے غیرمسلموں میں مسلمانوں کے تعلق سے اعتماد اور بھی مضبوط ہوسکیں اور مختلف عقائد کے لوگوں کے درمیان بات چیت کا موقع فراہم کراسکے جو کہ ملک کے موجودہ حالات میں سب سے بڑی اور اہم ضرورت ہے۔اسد مرزا
اسد مرزا
(قومی آواز)
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا

بارہمولہ کے بوائز ہائر سیکنڈری اسکول میں جمعرات کے روز منشیات سے متعلق ایک بیداری پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ یہ پروگرام نشہ مکت بھارت ابھیان کے تحت سول ڈیفنس بارہمولہ کی جانب سے، ایس ڈی آر ایف/ڈیزاسٹر رسپانس ڈویژن بارہمولہ کے تعاون سے منعقد ہوا۔
اس پروگرام میں گیارہویں اور بارہویں جماعت کے طلبہ کی بڑی تعداد نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی، جو نوجوانوں میں منشیات کے استعمال اور اس کے نقصانات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی آگاہی اور تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔ پروگرام کا آغاز ایک تعارفی نشست سے ہوا جس میں مقامی اور قومی سطح پر منشیات کے بڑھتے رجحان، اہم خطراتی عوامل اور بروقت روک تھام کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔
ماہرین کی ٹیم میں ڈاکٹر بالی (ڈویژنل وارڈن، سول ڈیفنس بارہمولہ)، محترمہ روحیلا (سینئر سائیکالوجسٹ)، جناب عابد سلیم (کلینیکل سائیکالوجسٹ) اور جناب ایوب (سیکٹر وارڈن، سول ڈیفنس) شامل تھے۔ ان ماہرین نے طلبہ کو منشیات کے جسمانی، نفسیاتی اور سماجی اثرات سے آگاہ کیا اور بروقت بیداری اور احتیاطی تدابیر کی اہمیت پر زور دیا۔
اس پروگرام کا مقصد طلبہ کو منشیات کی بڑھتی ہوئی وبا کے خطرات سے آگاہ کرنا، انہیں معلومات سے بااختیار بنانا اور ایک منشیات سے پاک معاشرے کی تعمیر میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دینا تھا۔
اپنے بیان میں ڈاکٹر عنایت میر، چیف وارڈن سول ڈیفنس بارہمولہ، نے کہا کہ منشیات کی لت کو جو روایتی طور پر ایک صحت عامہ کا مسئلہ سمجھا جاتا تھا، اب ایک سنجیدہ سماجی، تزویراتی اور قومی سلامتی کے چیلنج کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر سرحدی اور حساس علاقوں میں ابھرتے رجحانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ منشیات کا پھیلاؤ محض اتفاقی نہیں بلکہ ایک منظم حکمت عملی کے تحت معاشروں کو اندر سے کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جو ہائبرڈ جنگ کا حصہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ منشیات کے منظرنامے میں تبدیلی فردی مسئلے سے بڑھ کر اجتماعی کمزوری کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ نوجوانوں کی صلاحیتوں کا زوال، سماجی ڈھانچے کی کمزوری اور انسانی کمزوریوں کا استعمال اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ معاشرتی استحکام کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس تناظر میں منشیات کا پھیلاؤ ایک ایسا ہتھیار بن چکا ہے جو کم نظر آتا ہے مگر اس کے اثرات انتہائی گہرے ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر میر نے زور دیا کہ منشیات کی لت کو صرف طبی مسئلہ سمجھنے کے بجائے ایک سماجی اور تزویراتی خطرہ سمجھا جائے جس کے لیے فوری اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قوم کی طاقت صرف اس کی سرحدوں میں نہیں بلکہ اس کے معاشرے کی صحت، مضبوطی اور یکجہتی میں ہوتی ہے۔ نوجوانوں کا تحفظ، سماجی ہم آہنگی کا فروغ اور منشیات کے نیٹ ورکس کا خاتمہ قومی سلامتی کے اہم تقاضے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ خاموش وبا ایک مستقل خطرے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
پروگرام کے اختتام پر طلبہ اور ماہرین کے درمیان ایک باہمی تبادلہ خیال ہوا، جس میں اجتماعی ذمہ داری، باشعور فیصلے اور نوجوانوں کی فعال شرکت کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
اہم خبریں
عالمی توانائی بحران کے خدشات کے باوجود دہلی کے گردواروں میں لنگر کی روایت جاری

امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور عالمی توانائی بحران کے باعث شہر میں کُکنگ گیس کی قلت کے خدشات بڑھنے کے باوجود دہلی کے گردواروں نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کے لنگر خانے چوبیس گھنٹے جاری رہیں گے اور صدیوں پرانی لنگر کی روایت کسی بھی صورت میں متاثر نہیں ہونے دی جائے گی۔
قومی دارالحکومت کے اہم گردواروں، جن میں گردوارہ رکاب گنج صاحب، گردوارہ بنگلا صاحب اور گردوارہ سیس گنج صاحب شامل ہیں، کے کمیونٹی کچن ہر ہفتے تقریباً 40 ہزار افراد کو کھانا فراہم کرتے ہیں جبکہ ہفتے کے آخر میں یہ تعداد ایک لاکھ سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ ان گردواروں کی انتظامیہ اور رضاکاروں نے فیصلہ کیا ہے کہ لنگر سیوا مسلسل جاری رکھی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے گیس کے استعمال میں احتیاط، پائپ لائن گیس کی فراہمی اور ہنگامی منصوبہ بندی جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ کوئی بھی زائر بھوکا واپس نہ جائے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کمرشل ایل پی جی سلنڈروں کی کمی کے باعث شہر کے کئی ہوٹل اور ریستوران اپنے کام بند کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں جبکہ متعدد دیگر بندش کے دہانے پر ہیں۔
خبر رساں ایجنسی یو این آئی (UNI) سے بات کرتے ہوئے گردوارہ حکام نے یقین دلایا کہ سپلائی میں مشکلات کے باوجود لنگر میں کھانے کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے گی۔
گردوارہ انتظامیہ کے رکن ہرمیّت سنگھ کالکا نے بتایا کہ گردواروں کے کچن پائپ نیچرل گیس (PNG) کی پائپ لائن سے منسلک ہیں، اس لیے فی الحال ایندھن کی کوئی فوری کمی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا:
“جب کووڈ-19 کے دوران پوری دنیا بند تھی، تب بھی ہم نے تمام انتظامات سنبھالے اور اس وقت بھی لنگر سیوا چوبیس گھنٹے جاری رکھی۔ مارچ کے آخر اور اپریل میں ہمارے دو بڑے پروگرام بھی طے ہیں جن میں بیساخی بھی شامل ہے۔”
کالکا نے مزید بتایا کہ اگرچہ کچن پائپ نیچرل گیس پر چل رہے ہیں، لیکن احتیاط کے طور پر کمرشل گیس سلنڈروں کا ذخیرہ بھی رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا:
“تمام انتظامات کے باوجود ہم نے سیواداروں کو ہدایت دی ہے کہ وسائل کا ضیاع نہ ہو۔ ہم ہر چیز کو بہتر طریقے سے سنبھال رہے ہیں اور ابھی تک کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔”
احتیاطی اقدام کے طور پر گردوارہ انتظامیہ نے وزارتِ پٹرولیم و قدرتی گیس کو بھی خط لکھا ہے تاکہ گیس سلنڈروں کی فراہمی بلا تعطل جاری رکھی جا سکے اور لنگر سیوا میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کے نام لکھے گئے خط میں کالکا نے کہا کہ دہلی سکھ گردوارہ مینجمنٹ کمیٹی کے زیر انتظام تمام تاریخی گردواروں میں روزانہ عقیدت مندوں کو لنگر پیش کیا جاتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے:
“دنیا میں موجودہ جنگی صورتحال کے باعث گیس ایجنسیوں کی جانب سے سلنڈروں کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے جس سے گردواروں میں لنگر کی تقسیم متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔”
انہوں نے وزارت سے اپیل کی کہ ڈی ایس جی ایم سی (DSGMC) کو گیس سلنڈروں کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ تاریخی گردواروں میں لنگر کی روایت بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہ سکے۔
(مصنف: پرویندر سندھو)
تازہ ترین
خامنہ ای کی مبینہ شہادت: کشمیر میں ریلیاں، ایم ایم یو کی مکمل ہڑتال کی کال

سری نگر، یکم مارچ: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی مبینہ شہادت کے بعد اتوار کو وادی کشمیر کے مختلف علاقوں میں اسرائیل مخالف مظاہرے پھوٹ پڑے۔ شیعہ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے اور ایران میں مبینہ مشترکہ امریکا–اسرائیل حملے کے خلاف احتجاج کیا۔

سری نگر کے تاریخی گھنٹہ گھر کے سامنے بڑی تعداد میں مظاہرین جمع ہوئے۔ شرکاء نے آیت اللہ خامنہ ای کی تصاویر، ایرانی پرچم اور سرخ، سیاہ و زرد بینرز اٹھا رکھے تھے۔ مرد و خواتین نے امریکا اور اسرائیل مخالف نعرے بازی کی اور ایران کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
اسی طرح سونہ وار میں اقوامِ متحدہ کے دفتر کے باہر بھی احتجاجی دھرنا دیا گیا۔ بدگام اور سری نگر کے دیگر شیعہ اکثریتی علاقوں میں بھی اسی نوعیت کی ریلیاں نکالی گئیں۔
مقررین نے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای، جو 1980 کی دہائی میں سری نگر کا دورہ کر چکے تھے، کشمیر کے شیعہ مسلمانوں میں خاص احترام رکھتے تھے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق حملے میں ان کے اہلِ خانہ بھی جاں بحق ہوئے۔
صدر نیشنل کانفرنس اور سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے واقعے کو خطے کے امن کے لیے تشویشناک قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے بردباری کی اپیل کی۔

وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر عمر عبداللہ نے ایران کی صورتحال پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے عوام سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا:
“ہمیں یقینی بنانا ہوگا کہ جموں و کشمیر میں سوگ منانے والوں کو پُرامن انداز میں غم منانے دیا جائے۔ پولیس اور انتظامیہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور طاقت یا غیر ضروری پابندیوں سے گریز کریں۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ جموں و کشمیر حکومت، حکومتِ ہند کی وزارتِ خارجہ کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ ایران میں مقیم کشمیری شہریوں اور طلبہ کی سلامتی یقینی بنائی جا سکے۔
چیف آف پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے “تاریخ کا افسوسناک اور شرمناک موڑ” قرار دیا اور انصاف کے حق میں آواز اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

آل جموں و کشمیر شیعہ ایسوسی ایشن نے اپنے بیان میں خامنہ ای کے اہلِ خانہ کی وفات پر تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ “یہ نقصان گہرا ہے مگر ہمارا عزم مضبوط ہے۔”
کشمیر کے میرواعظ اور مذہبی رہنما میرواعظ عمر فاروق نے اتوار کو اس واقعے پر گہرے صدمے اور غم و غصے کا اظہار کیا اور اسے مسلم دنیا کو ہلا دینے والا سانحہ قرار دیا۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام مبینہ قتل، ایران کے خلاف جاری کارروائیوں اور میناب میں معصوم طالبات کے مبینہ قتل کی مذمت کرتے ہیں۔
“ہم اس بربریت پر انتہائی رنجیدہ اور مشتعل ہیں۔ اس غم کی گھڑی میں ہمارے دل ایران کے ثابت قدم عوام کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ اللہ مظلوموں کو طاقت دے، شہداء کے درجات بلند کرے اور ذمہ داران کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لائے۔”

میرواعظ نے اسے مسلم اُمہ کے اتحاد کا لمحہ قرار دیتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ اختلافات سے بالاتر ہو کر یکجہتی اور پُرامن احتجاج کا مظاہرہ کریں۔
اسی دوران متحدہ مجلس علماء (ایم ایم یو) نے پیر کے روز مکمل ہڑتال کی کال دی ہے۔ میرواعظ نے عوام سے اپیل کی کہ ہڑتال کو نظم و ضبط اور مکمل پُرامن انداز میں منایا جائے تاکہ اجتماعی احتجاج اور یکجہتی کا مؤثر اظہار ہو سکے۔
“ہڑتال کی کال کو منظم اور غیر پُرتشدد طریقے سے منایا جائے تاکہ اجتماعی احتجاج اور یکجہتی درج ہو سکے۔”
حساس صورتحال کے پیش نظر ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نالین پربھات اور آئی جی پی کشمیر وی کے بردی نے مختلف علاقوں کا دورہ کر کے سیکورٹی کا جائزہ لیا۔
پولیس کے مطابق اضافی نفری تعینات کی گئی ہے، سی سی ٹی وی نگرانی بڑھائی گئی ہے اور مشترکہ کنٹرول روم سے مسلسل مانیٹرنگ جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ احتجاج مجموعی طور پر پُرامن رہے اور شہریوں کے جذبات کا احترام کیا جائے گا، تاہم قانون و نظم برقرار رکھنا اولین ترجیح ہے۔
حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ افواہوں سے گریز کریں اور امن و امان کو برقرار رکھنے میں انتظامیہ کا ساتھ دیں۔

ہندوستان5 days agoکھرگے نے راجیہ سبھا رکن کے طور پر پھر سے حلف لیا
دنیا1 week agoایران مذاکرات میں غیر معمولی رعایتیں دینے پر مجبور ہوگیا ہے: ٹرمپ کا دعویٰ
دنیا1 week agoہوسکتا ہے کہ میں جلد ہی ایسی خبر دوں کہ ترکیہ خوش ہو جائے:ٹرمپ
دنیا5 days agoمجتبیٰ خامنہ ای کا امریکہ اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کی قانونی کارروائی کا حکم
جموں و کشمیر1 week ago“لیفٹیننٹ گورنر کی پارلیمانی کمیٹی سے اہم ملاقات؛ لداخ کے ترقیاتی اور ماحولیاتی چیلنجز پر تفصیلی بریفنگ
ہندوستان7 days agoآپریشن سندور میں وزیرِ دفاع کے بیان کے تناظر میں کہی جا رہی باتیں گمراہ کن اور غلط: وزارتِ دفاع
دنیا4 days agoٹرمپ کے دباؤ سے لبنان میں اسرائیلی فوجی حکمت عملی تبدیل ہوئی: یسرائیل کاٹز
جموں و کشمیر7 days agoآمدنی سے زیادہ اثاثوں کا معاملہ: انسداد بدعنوانی بیورو نے سابق ایڈمنسٹریٹو کلرک کے اثاثے کئے ضبط
دنیا1 week agoایران نے اسرائیلی فوجی طیاروں کیلئے سخت انتباہ جاری کردیا
دنیا1 week agoامن کے فروغ کیلئے پاکستان کی کوششیں تہذیبی و ثقافتی روایات کی عکاس ہیں: ایرانی صدر
ہندوستان5 days agoزمین گھپلے کے مبینہ معاملے پر کانگریس کا مدھیہ پردیش کے وزیرِ اعلیٰ سے استعفیٰ کا مطالبہ
دنیا2 days agoایران کی اقوام متحدہ کو اسرائیل کی جانب سے سپریم لیڈر کو قتل کی کھلی دھمکی پر وارننگ


































































































