ہندوستان
مودی ٹرمپ سے ڈرتے ہیں: راہل گاندھی

نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح سے مسٹر مودی امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی بے تکی باتوں پر خاموشی اختیار کرلیتے ہیں اس سے لگتا ہے کہ وہ ان سے خوفزدہ ہیںوزیر اعظم پر براہ راست حملہ کرتے ہوئے مسٹر گاندھی نے جمعرات کو سوشل میڈیا ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، “وزیر اعظم مودی مسٹر ٹرمپ سے خوفزدہ ہیں۔ وہ مسٹر ٹرمپ کو یہ فیصلہ کرنے اور اعلان کرنے کی اجازت دیتے ہیں کہ ہندوستان روس سے تیل نہیں خریدے گا۔”
انہوں نے کہا کہ حیرت کی بات یہ ہے کہ مسٹر مودی ان سے بات کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن امریکی صدر انہیں نظر انداز کر دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر مودی “بار بار نظر انداز کرنے کے باوجود مبارکباد کے پیغامات بھیجتے رہتے ہیں۔ وزیر خزانہ کا دورہ امریکہ منسوخ کر دیا گیا۔ شرم الشیخ میں شامل نہیں ہوئے۔ آپریشن سندور پر ان کی مخالفت نہیں کرتے۔”
کانگریس کے کمیونیکیشن ڈپارٹمنٹ کے انچارج جیرام رمیش نے بھی مسٹر مودی پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ نے پانچ مختلف ممالک میں 51 بار دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ٹیرف اور تجارت کو دباؤ کے اوزار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے مداخلت کی اور ہندوستان کو آپریشن سندور روکنے پر مجبور کیا۔ اس کے باوجود مسٹر مودی خاموش ہیں اور کوئی جواب نہیں دیتے۔
انہوں نے کہا، “اب صدر ٹرمپ نے کل کہا کہ وزیر اعظم مودی نے انہیں یقین دلایا ہے کہ ہندوستان اب روس سے تیل درآمد نہیں کرے گا۔ ایسا لگتا ہے کہ وزیر اعظم مودی نے اپنے بہت سے اہم فیصلے امریکہ کے حوالے کر دیے ہیں۔ ان کا 56 انچ کا سینہ اب سکڑ گیا ہے۔”
یواین آئی۔الف الف
ہندوستان
موجودہ وقت میں منقسم دنیا ایک حقیقت، استحکام اور سلامتی کے لیے باہمی تعاون ضروری: جے شنکر
نئی دہلی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے منقسم دنیا کو موجودہ وقت کی حقیقت بتاتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے اجارہ داری کم ہو سکتی ہے اور مواقع وسیع ہو سکتے ہیں لیکن ساتھ ہی خبردار کیا کہ استحکام، کارکردگی اور سلامتی کے لیے اس کے خطرات سے نمٹنے کے لیے مضبوط بین الاقوامی تعاون ضروری ہے مسٹر جے شنکر نے جمعرات کو جنوبی کوریا میں جیجو امن اور خوشحالی فورم 2026 سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا انضمام اور تقسیم کے ایک پیچیدہ مرکب کا تجربہ کر رہی ہے، جسے سپلائی چینز، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور وبائی امراض، دہشت گردی اور ماحولیاتی تبدیلی جیسے سرحد پار چیلنجز متاثر کر رہے ہیں۔ انہوں نے دلیل دی کہ اسٹریٹجک مقابلہ تجارت، ٹیکنالوجی، مالیات اور کنیکٹیویٹی کے نظام کو تیزی سے متاثر کر رہا ہے، جبکہ سیاسی دباؤ اور تحفظ پسند رجحانات عالمگیریت کو کمزور کر رہے ہیں۔
وزیر خارجہ نے دہشت گردی پر “دوہرے معیار”، موسمیاتی کارروائی پر “کھوکھلے وعدوں” اور ترقی پذیر ممالک کی صنعت کاری اور مارکیٹ تک رسائی کو محدود کرنے والی پابندیوں پر بھی تنقید کی۔ ہتھیاروں سے لیس ہونے کے بڑھتے ہوئے رجحان، زیادہ خطرہ مول لینے کے رجحان اور تیز ہوتی ہوئی جیو پولیٹیکل مسابقت سے خبردار کرتے ہوئے مسٹر جے شنکر نے کہا کہ جب بڑی طاقتیں تنگ نظری پر مبنی مفادات کا تعاقب کرتی ہیں، تب ترقی پذیر ممالک پر پڑنے والے اخراجات کو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
منقسم دنیا میں تعاون کی نئی تشریح کے لیے انہوں نے پانچ ترجیحات تجویز کیں جن میں سپلائی چینز کا تنوع، بااثر ممالک کے درمیان نئی شراکت داریوں کا قیام، بین الاقوامی قانون اور اداروں کو مضبوط کرنا، گلوبل ساؤتھ کے لیے مواقع کو وسعت دینا اور اصلاح شدہ کثیر جہتی کو آگے بڑھانا شامل ہے۔ مسٹر جے شنکر نے جہاز سازی، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، صحت کی دیکھ بھال، بنیادی ڈھانچے اور دفاع سمیت مختلف شعبوں میں ہندوستان–جنوبی کوریا تعاون کو مزید گہرا بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ مضبوط دوطرفہ تعلقات عالمی استحکام اور ترقی میں تعاون فراہم کریں گے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
غلطی سے پاکستان کی فضائی حدود میں گھسا ایئر انڈیا کا طیارہ
نئی دہلی، ٹاٹا گروپ کی ہوا بازی کمپنی ایئر انڈیا کا ایک طیارہ منگل کی رات غلطی سے پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہو گیا، تاہم اس کا احساس ہوتے ہی وہ فوری طور پر واپس ہندوستانی سرحد میں لوٹ آیا ذرائع نے بتایا کہ پرواز نمبر اے آئی-479 دہلی سے امرتسر پہنچی تھی اس وقت امرتسر ہوائی اڈے پر کافی ٹریفک تھا، اس لیے اترنے کا انتظار کر رہی تمام پروازوں سے ’ہولڈ کرنے‘ کے لیے کہا گیا تھا۔ ایسی صورتحال میں طیارے آس پاس کے علاقے میں ہی چکر لگاتے ہیں۔ اسی دوران ایئر انڈیا کی یہ پرواز کچھ دیر کے لیے پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہو گئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عملے کے ارکان کو اس کا احساس ہوتے ہی انہوں نے طیارے کو واپس ہندوستانی سرحد کی طرف موڑ لیا۔ انہوں نے کہا کہ امرتسر ہوائی اڈہ پاکستانی سرحد کے کافی قریب ہے، اور کئی بار غلطی سے ایسا ہو جاتا ہے۔
واضح رہے کہ دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کی ایئرلائنز کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر رکھی ہیں۔ اس کے باوجود، خراب موسم یا اس طرح کی کسی ہنگامی صورتحال میں ہندوستان پاکستانی طیاروں کو اپنے فضائی علاقے میں داخل ہونے کی اجازت دیتا رہا ہے۔ اسی مہینے فلائی جناح ایئرلائنز اور مئی میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی ایک ایک پرواز کو ہندوستانی سرحد میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی تھی۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
اجین زمین گھپلہ میں وائٹ پیپر جاری کرکے معاملہ کی جانچ کرائے حکومت
نئی دہلی، کانگریس نے مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ موہن یادو اور ان کے خاندان پر اجین میں زمین کی خریداری میں مبینہ بے ضابطگیوں کا الزام لگاتے ہوئے اس پورے معاملے میں وائٹ پیپر جاری کر کے معاملے کی عدالتی جانچ کرانے کا مطالبہ کیا ہے کانگریس کے شعبہ مواصلات کے سربراہ پون کھیڑا اور مدھیہ پردیش کانگریس کے صدر جیتو پٹواری نے بدھ کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ وزیر اعلیٰ بننے کے بعد مسٹر یادو کے خاندان نے جو زمین خریدی ہے، اس کی بنیاد میں ترقیاتی پروجیکٹ کا خاکہ تیار کرنے کا الزام لگایا جا رہا ہے۔ پارٹی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ اور ان کے خاندان کے ارکان کی طرف سے خریدی گئی زمینوں اور بعد میں اعلان کردہ ترقیاتی منصوبوں کے درمیان تعلقات کی غیر جانبدارانہ جانچ ہونی چاہیے۔ پارٹی رہنماؤں نے کہا کہ مسٹر یادو کے خاندان نے اجین میں سینکڑوں ایکڑ زمین خریدی ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد تقریباً 168 ایکڑ زمین خریدی ہے جس میں سے 111 ایکڑ زمین اس علاقے میں واقع ہے جہاں سنگھستھ کمبھ سے جڑے ترقیاتی کام تجویز کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اجین کے جن علاقوں میں 2035 کے ماسٹر پلان کے تحت ترقیاتی کام ہونے ہیں، وہاں بھی وزیر اعلیٰ کے خاندان کی طرف سے زمین خریدے جانے کی معلومات سامنے آئی ہیں۔
کانگریس رہنماؤں نے کہا کہ اجین اور ایودھیا کروڑوں لوگوں کی عقیدت کے مراکز ہیں اور ان علاقوں سے جڑے معاملات میں مکمل شفافیت برتی جانی چاہیے۔ ان کا الزام ہے کہ وزیر اعلیٰ ہونے کے ناطے مسٹر یادو کو ترقیاتی منصوبوں اور ان سے متعلق فائلوں کی معلومات ہوتی ہیں، اس لیے اس پورے معاملے کی آزادانہ اور منصفانہ جانچ ضروری ہے۔
مسٹر کھیڑا نے کہا کہ کانگریس کو وزیر اعظم نریندر مودی سے اس معاملے میں کارروائی کی امید نہیں ہے، لیکن عوام کے سامنے حقائق کو لانا اپوزیشن کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایودھیا اور اجین سے جڑے معاملات میں بھی سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں، جن کا جواب بی جے پی کو دینا چاہیے۔
مسٹر پٹواری نے کہا کہ کانگریس نے اس معاملے میں عوامی طور پر بی جے پی، مسٹر مودی اور وزیر اعلیٰ یادو سے سوالات پوچھے ہیں، لیکن ابھی تک کوئی جواب نہیں ملا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سب کچھ شفاف ہے اور کسی قسم کا گھوٹالہ نہیں ہوا ہے تو بی جے پی کو اس پورے معاملے کی آزادانہ عدالتی جانچ سے گریز نہیں ہونا چاہیے۔
کانگریس رہنماؤں نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیر اعلیٰ یہ واضح کریں کہ 2023 کے بعد ان کے خاندان نے کتنی زمین خریدی، کیا ان زمینوں کا تعلق بعد میں اعلان کردہ ترقیاتی منصوبوں والے علاقوں سے ہے اور کیا حکومت ان منصوبوں کی وقت کی حد اور عمل کو عام کرے گی۔ پارٹی نے وزیر اعلیٰ کے خاندان کی طرف سے خریدی گئی زمینوں پر وائٹ پیپر جاری کرنے اور پورے معاملے کی عدالتی جانچ کرانے کا مطالبہ کیا۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان7 days ago‘اسلام آباد ایم او یو’ پر جے رام رمیش کا مرکز پر حملہ، کہا- مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو بڑا جھٹکا
جموں و کشمیر1 week agoگاندربل ‘انکاؤنٹر’ کے مقتول کی لاش قبر سے نکال کر اہلِ خانہ کے حوالے
تازہ ترین3 days agoٹرمپ کے بیان کے بعد ایران نے مذاکرات معطل کردیے، وفد واپس روانہ
ہندوستان1 week ago’جمہوریت کو نقصان پہنچانے کے لیے شاہ چلا رہے ہیں دھوکہ دہی پرمبنی مہم ‘: رمیش
دنیا1 week agoایرانی آرمی چیف کا دفاعی طاقت مزید بڑھانے کا اعلان
دنیا1 week agoجی سیون ممالک کا امریکہ اور ایران امن معاہدے کی حمایت کا اعلان
ہندوستان1 week ago‘ٹیلی گرام بین’ پر راہل کا مرکزی حکومت پر الزام، ”پیپر لیک مافیا پر نہیں، طالب علموں کے خلاف کارروائی کر رہی ہے حکومت“
دنیا1 week agoایران کے ساتھ معاہدہ حتمی نہیں، اگر رویہ درست نہ رہا تو حملے دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں: ٹرمپ
دنیا1 week agoمجھے حتمی معاہدہ پسند نہ آیا تو دوبارہ بمباری کی طرف واپس جا سکتے ہیں: ٹرمپ
دنیا6 days agoامریکہ اور ایران کے درمیان آج ہونے والے مذاکرات منسوخ: سوئس وزارت خارجہ
دنیا7 days agoاعلیٰ ترین قیادت کے دستخط سے معاہدے کی خلاف ورزی کی سیاسی قیمت زیادہ ہو گئی: اسماعیل بقائی
دنیا6 days agoتل ابیب کی قیادت پوری انسانیت کے لیے خطرہ بن چکی: ایران






































































































