جموں و کشمیر
ڈاکٹر جتیندر سنگھ کی قیادت میں زیرو لائن پر ’وندے ماترم‘ مارچ

جموں،قومی ترانے ’وندے ماترم‘ کے 150 سال مکمل ہونے کی ملک گیر تقاریب کے تحت آج مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ہیرا نگر کے سرحدی گاؤں لونڈی موڑ سے بین الاقوامی سرحد (آئی بی) کے زیرو لائن تک ایک خصوصی پیدل مارچ کی قیادت کی۔
اس موقع پر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے سرحدی علاقوں کے رہائشیوں کے لیے کئی اہم اقدامات کا اعلان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت ہند نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ جن لوگوں نے بارڈر سکیورٹی فورس کو چوکیوں یا دیگر سکیورٹی ڈھانچوں کے قیام کے لیے اپنی زمین عطیہ کی تھی، انہیں مالی معاوضہ فراہم کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ضلع انتظامیہ اس اسکیم کے طریقۂ کار کو حتمی شکل دے کر زمین عطیہ کرنے والوں میں مالی امداد تقسیم کرے گی۔
’وندے ماترم‘ پیدل مارچ میں بڑی تعداد میں طلبہ، بی ایس ایف جوانوں، خواتین، نوجوانوں، عوامی نمائندوں، پولیس اور انتظامیہ کے افسران نے شرکت کی۔ مارچ پرائمری اسکول لونڈی مور سے شروع ہو کر بارڈر آؤٹ پوسٹ (بی او پی) ٹاپن پر زیرو لائن کے قریب اختتام پذیر ہوا۔
بی او پی ٹاپن پر عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ’وندے ماترم‘ محض ایک قومی گیت نہیں بلکہ ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد کا ایک تاریخی استعارہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ مادرِ وطن کو طاقت، خوشحالی اور الوہیت کی علامت کے طور پر پیش کرتے ہوئے، یہ ترانہ ملک میں اتحاد، خود داری اور بیداری کی علامت بنا۔
مرکزی وزیر نے کہا کہ اس ترانے کی تاریخی اور قومی اہمیت کے اعتراف میں وزیر اعظم نریندر مودی نے اس کے 150 سال مکمل ہونے پر ملک گیر تقریبات منانے کی ہدایت دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کٹھوعہ ضلع میں منعقدہ آج کا ’وندے ماترم‘ پدیاترا انہی قومی تقریبات کا حصہ ہے جو وزیر اعظم مودی کی قیادت میں دہلی سے شروع ہوئی ہیں۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے بی ایس ایف کے جوانوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی مستعدی اور قربانیوں کی بدولت ملک کے شہری چین کی نیند سوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس پدیاترا کا مقصد سرحدی سپاہیوں کے تئیں شکر گزاری کا اظہار کرنا ہے۔
مرکزی وزیر نے اس موقع پر یہ بھی اعلان کیا کہ حکومت نے سرحدی علاقوں میں خواتین پر مشتمل ایک نئی بٹالین تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے لیے بھرتی کا عمل جلد شروع ہوگا۔
پدیاترا سے قبل لونڈی مور کے پرائمری اسکول میں خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ اس مہم کا مقصد نئی نسل کو ’وندے ماترم‘ کے حقیقی جذبے سے دوبارہ جوڑنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ گیت صرف آزادی کی علامت نہیں بلکہ ہندوستانی تہذیب، ثقافت اور قومی تشخص کی نمائندگی کرتا ہے۔
ڈاکٹر سنگھ نے مزید کہا کہ 2014 سے وزیر اعظم مودی کی قیادت میں حکومت نے مسلسل یہ کوشش کی ہے کہ قوم کو اپنے قومی ہیروز اور شہداء کی قربانیوں سے دوبارہ روشناس کرایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سردار ولبھ بھائی پٹیل کی 150ویں اور ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کی 100ویں سالگرہ کی تقریبات اسی عزم کی علامت ہیں کہ ہندوستان اپنے ہیروز کو عزت و فخر کے ساتھ یاد رکھے۔
یو این آئی، ارشید بٹ۔ایف اے
جموں و کشمیر
امرناتھ یاترا: جموں و کشمیر پولیس کا جموں شہر میں کرایہ داروں کی تصدیق کا عمل شروع
جموں، جولائی سے شروع ہونے والی سالانہ شری امرناتھ یاترا کے پیشِ نظر، جموں و کشمیر پولیس نے جموں شہر، بالخصوص بھگوتی نگر میں واقع ‘یاتری نواس’ کے قریبی علاقوں میں کرایہ داروں کی بڑے پیمانے پر تصدیق کا عمل شروع کر دیا ہے۔سرکاری ذرائع نے بدھ کے روز بتایا کہ 3 جولائی سے یاترا کے آغاز کے پیشِ نظر سیکورٹی فورسز نے حفاظتی اقدامات کو انتہائی سخت کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں جموں پولیس شہر میں رہنے والے تمام کرایہ داروں کا ایک مکمل ڈیٹا بیس تیار کر رہی ہے، جس میں یاتری نواس کے گردونواح میں رہنے والے افراد پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔یاترا شروع ہونے سے پہلے، حساس علاقوں، یاتریوں کے ٹھہرنے کے مقامات، بڑی مارکیٹوں، لنگر خانوں اور شری امرناتھ یاتری نواس (جو کہ یاتریوں کا بنیادی بیس اسٹیشن ہے) کے ارد گرد کرایہ داروں کی تصدیق کے لیے ایک خصوصی مہم چلائی جا رہی ہے۔
بھگوتی نگر کے علاقے میں پولیس کی ٹیمیں گھر گھر جا کر کرایہ داروں کی معلومات اکٹھی کر رہی ہیں۔ اس مہم کے تحت کرایہ داروں کے نام، فون نمبر، شناختی دستاویزات (جیسے آدھار کارڈ کی تفصیلات) اور ان کے ممکنہ مجرمانہ ریکارڈ کی معلومات جمع کی جا رہی ہیں۔سرکاری ذرائع کے مطابق، جموں پولیس نے تمام اسٹیشن ہاؤس آفیسرز کو سخت ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ 30 جون 2026 تک اپنے اپنے دائرہ اختیار میں 100 فیصد کرایہ داروں کی تصدیق کے عمل کو ہر حال میں یقینی بنائیں۔دراصل، امرناتھ یاترا کے آغاز سے قبل جموں پولیس کرایہ داروں کا ایک جامع ڈیٹا بیس بنانا چاہتی ہے تاکہ علاقے میں رہنے والے کسی بھی قسم کے سماج دشمن یا ملک دشمن عناصر کی بروقت شناخت کی جا سکے۔
یواین آئی ۔م ا ع
جموں و کشمیر
کٹھوعہ میں زائرین کی بس کھائی میں جا گری؛ کم از کم 20 عقیدت مند زخمی
جموں، جموں و کشمیر کے ضلع کٹھوعہ میں بلاو کے مقام پر بدھ کے روز ایک دردناک سڑک حادثہ پیش آیا، جہاں زائرین (عقیدت مندوں) سے بھری ایک مینی بس بے قابو ہو کر گہری کھائی میں جا گری۔ اس حادثے کے نتیجے میں کم از کم 20عقیدت مند شدید زخمی ہو گئے ہیں۔پولیس ذرائع کے مطابق، یہ مینی بس سانبہ سے بلاور میں واقع مشہور ‘سکرالا ماتا مندر’ کی طرف جا رہی تھی۔ بدھ کی صبح بلاور قصبے سے محض چند کلومیٹر پہلے ہی یہ بس حادثے کا شکار ہو گئی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، ڈرائیور گاڑی کی تیز رفتاری کے باعث اس پر سے اپنا کنٹرول کھو بیٹھا، جس کے نتیجے میں بس سڑک سے نیچے گہری کھائی میں جا گری۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی مقامی پولیس کی ٹیمیں فوراً جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور مقامی لوگوں کے ساتھ مل کر بڑے پیمانے پر بچاؤ اور امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔ پولیس حکام نے بتایا ہے کہ اس واقعے میں تقریباً 20 عقیدت مند زخمی ہوئے ہیں، جنہیں فوری طور پر ملبے سے نکال کر قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔پولیس نے حادثے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ دفعات کے تحت کیس درج کر لیا ہے اور حادثے کی وجوہات کی مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔
یواین آئی ۔م ا ع
جموں و کشمیر
سرینگر میں محرم کے جلوس میں ہزاروں لوگ شامل ہوئے
سرینگر جموں و کشمیر کے سرینگر میں بدھ کو آٹھویں محرم کے روایتی جلوس میں ہزاروں لوگ شامل ہوئے۔
انتظامیہ نے سرینگر کے اہم علاقے سے سخت سکیورٹی انتظامات کے درمیان گزرنے والے اس جلوس کو مسلسل چوتھے سال اجازت دی ہے۔ جلوس آج صبح گرو بازار سے شروع ہو کر جہانگیر چوک اور مولانا آزاد روڈ سے ہوتے ہوئے ڈلگیٹ پہنچا۔
جلوس میں مذہبی بینر لیے ہوئے لوگ طے شدہ راستے پر آگے بڑھ رہے تھے اور پیغمبر محمد کے نواسے امام حسین کی یاد میں مرثیہ اور نوحہ پڑھ رہے تھے۔ زیادہ تر کالے کپڑے پہنے ہوئے لوگوں نے کربلا میں امام حسین اور ان کے ساتھیوں کی قربانی کو خراج عقیدت پیش کیا۔ حکام نے جلوس کے لیے سکیورٹی کے وسیع انتظامات کیے تھے۔ پولیس نے مرکزی مسلح پولیس فورسز اور ٹریفک پولیس کی مدد سے کئی سطحوں والی سکیورٹی کا انتظام کیا تھا، جس میں ڈرون سے نگرانی بھی شامل تھی۔ جلوس کے راستے پر ٹریفک روک دیا گیا تھا۔
سرینگر کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) سندیپ چکرورتی نے کہا کہ پولیس نے جلوس کے شروعاتی مقام سے لے کر آخری مقام تک کے انتظامات کی باریکی سے منصوبہ بندی کی ہے۔ انہوں نے کہا، “ہمارا واحد مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ جلوس پرامن اور باوقار طریقے سے ہو۔ اس کے لیے ہمیں پولیس اور سول انتظامیہ کے ساتھ عوام کے تعاون اور حمایت کی ضرورت ہے۔”
سول انتظامیہ اور پولیس کے افسران، نیز رضاکار کئی مقامات پر پانی پلاتے ہوئے اور جلوس میں شامل لوگوں کی مدد کرتے ہوئے دیکھے گئے۔
1990 کی دہائی کے اوائل میں دہشت گردی شروع ہونے کے بعد گرو بازار-ڈلگیٹ کا روایتی جلوس تین دہائیوں سے زیادہ عرصے تک بند رہا تھا، جسے 2023 میں پھر سے شروع کیا گیا۔ حکام نے اس ہفتے کے آخر میں ہونے والے 10ویں محرم کے جلوس کے لیے بھی وسیع انتظامات کا اعلان کیا ہے۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان6 days ago‘اسلام آباد ایم او یو’ پر جے رام رمیش کا مرکز پر حملہ، کہا- مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو بڑا جھٹکا
جموں و کشمیر1 week agoگاندربل ‘انکاؤنٹر’ کے مقتول کی لاش قبر سے نکال کر اہلِ خانہ کے حوالے
تازہ ترین2 days agoٹرمپ کے بیان کے بعد ایران نے مذاکرات معطل کردیے، وفد واپس روانہ
ہندوستان1 week ago’جمہوریت کو نقصان پہنچانے کے لیے شاہ چلا رہے ہیں دھوکہ دہی پرمبنی مہم ‘: رمیش
دنیا1 week agoایرانی آرمی چیف کا دفاعی طاقت مزید بڑھانے کا اعلان
دنیا1 week agoجی سیون ممالک کا امریکہ اور ایران امن معاہدے کی حمایت کا اعلان
ہندوستان1 week ago‘ٹیلی گرام بین’ پر راہل کا مرکزی حکومت پر الزام، ”پیپر لیک مافیا پر نہیں، طالب علموں کے خلاف کارروائی کر رہی ہے حکومت“
دنیا7 days agoایران کے ساتھ معاہدہ حتمی نہیں، اگر رویہ درست نہ رہا تو حملے دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں: ٹرمپ
دنیا5 days agoامریکہ اور ایران کے درمیان آج ہونے والے مذاکرات منسوخ: سوئس وزارت خارجہ
دنیا6 days agoاعلیٰ ترین قیادت کے دستخط سے معاہدے کی خلاف ورزی کی سیاسی قیمت زیادہ ہو گئی: اسماعیل بقائی
دنیا1 week agoمجھے حتمی معاہدہ پسند نہ آیا تو دوبارہ بمباری کی طرف واپس جا سکتے ہیں: ٹرمپ
دنیا1 week agoامریکہ ایران معاہدے پر الیکٹرانک دستخط ٹرمپ وینس نے کئے




































































































