دنیا
سلامتی کونسل نے شامی صدر اور وزیر داخلہ پر عائد پابندیاں ختم کردیں

اقوام متحدہ، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے شامی صدر احمد الشرع پر عائد پابندیاں ختم کردی ہیں، جو پیر کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کریں گے۔
خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق امریکہ کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد جمعرات کو منظور کی گئی جس کے تحت شام کے وزیر داخلہ انس خطاب پر بھی عائد پابندیاں ہٹا لی گئیں۔ اس قرارداد کے حق میں 14 ووٹ آئے جبکہ چین نے ووٹنگ میں حصہ لینے سے گریز کیا۔
واشنگٹن کئی ماہ سے 15 رکنی سلامتی کونسل پر زور دے رہا تھا کہ شام پر عائد پابندیوں میں نرمی کی جائے، امریکی صدر ٹرمپ نے مئی میں اعلان کیا تھا کہ امریکہ اپنی شام سے متعلق پالیسی میں بڑی تبدیلی لا رہا ہے اور امریکی پابندیاں ختم کی جائیں گی۔
ٹرمپ نے جمعرات کو بعد ازاں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’میرا خیال ہے کہ وہ (الشرع) بہت اچھا کام کر رہے ہیں، یہ ایک مشکل خطہ ہے اور وہ ایک سخت مزاج آدمی ہیں، لیکن میری ان سے اچھی بات چیت رہی، شام کے حوالے سے کافی پیش رفت ہوئی ہے‘، انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم نے شام پر سے پابندیاں اس لیے ہٹائیں تاکہ انہیں بحالی کا منصفانہ موقع مل سکے‘۔
13 سالہ خانہ جنگی کے بعد شام کے سابق صدر بشار الاسد کو گزشتہ دسمبر میں اسلامی گروہ حیات تحریر الشام (ایچ ٹی ایس) کی قیادت میں باغی فورسز نے ایک تیز رفتار کارروائی کے دوران اقتدار سے بے دخل کر دیا تھا۔
ایچ ٹی ایس، جسے پہلے النصرہ فرنٹ کہا جاتا تھا، القاعدہ کا شام میں باقاعدہ ونگ تھا، تاہم 2016 میں اس نے القاعدہ سے علیحدگی اختیار کرلی تھی، مئی 2014 سے یہ گروہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی القاعدہ اور داعش کی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہے۔
ایچ ٹی ایس کے کئی ارکان پر بھی اقوام متحدہ کی پابندیاں عائد ہیں جن میں سفری پابندیاں، اثاثوں کا منجمد کیا جانا اور اسلحہ کی ترسیل پر پابندی شامل ہیں، تاہم اب احمد الشرع اور انس خطاب پر عائد یہ پابندیاں ختم کر دی گئی ہیں۔
اقوام متحدہ کے نگرانوں نے اپنی جولائی کی رپورٹ میں کہا تھا کہ اس سال القاعدہ اور ایچ ٹی ایس کے درمیان کوئی ’فعال روابط‘ نظر نہیں آئے۔
چین نے قرارداد میں غیر جانب داری اختیار کی، چین کے اقوام متحدہ میں سفیر فو کانگ نے کہا کہ ان کے ملک نے اس لیے ووٹنگ سے گریز کیا کیونکہ قرارداد شام میں انسدادِ دہشت گردی اور سیکیورٹی کی صورتحال سے متعلق چینی خدشات کو مناسب انداز میں تسلیم نہیں کرتی۔
چین طویل عرصے سے شام میں ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ای ٹی آئی ایم) کے انجام کے بارے میں فکرمند رہا ہے، جس میں چین اور وسطی ایشیا سے تعلق رکھنے والے ایغور جنگجو شامل ہیں، انسانی حقوق کی تنظیمیں بیجنگ پر مسلمان ایغور اقلیت کے ساتھ وسیع پیمانے پر بدسلوکی کے الزامات عائد کرتی ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران ایٹمی تنصیبات کے مکمل معائنے پر رضامند ہے، ٹرمپ کا دعویٰ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اپنی ایٹمی تنصیبات کے مکمل معائنے پر رضا مند ہے۔
ایک بیان میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ دوبارہ ناکہ بندی کی ضرورت پڑی تو امریکی بحری جہاز اپنی جگہ موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران اپنی ایٹمی تنصیبات کے مکمل معائنے پر رضامند ہے، اگر تہران راضی نہ ہوتا تو مزید بات چیت ہی نہ ہوتی۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایسا نہیں لگتا کہ دوبارہ ناکہ بندی کی ضرورت پڑے گی، بحال ایرانی اثاثے امریکہ کے زیر کنٹرول بینک اکاؤنٹس میں رکھےجائیں گئے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جوہری مقامات پر آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کو آنے کی اجازت دینے کا کوئی ارادہ نہیں: اسماعیل بقائی
تہران، ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ جوہری مقامات پر آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کو آنے کی اجازت دینے کا کوئی ارادہ نہیں۔
پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا ہے کہ ایرانی وفد کی سربراہ آئی اے ای اے رافیل گروسی سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی، ایرانی جوہری مراکز کے معائنے کے لیے آئی اے ای اے کے دوروں سے متعلق کوئی واضح شیڈول طے نہیں۔
ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ اس معاملے کے حوالے سے فی الحال کوئی باقاعدہ طریقہ کار طے نہیں کیا گیا، جوہری عدم پھیلاؤ معاہدے کے بحیثیت رکن ملک ایران موجودہ اور شفاف بین الاقوامی ضابطہ کار پر عمل کرے گا۔
اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ ایران کا ردِعمل انسان کی ثابت قدمی کی کہانی ہے، یہ ردِعمل دفاع، وقار اور قومی غیرت کے تحفظ کے لیے تھا۔انہوں نے کہا ہے کہ اب ہم سب جان چکے کہ اس جنگ کا اصل مقصد ایران کی تہذیب کو ختم کرنا تھا، اب یہ مقصد تبدیل ہو کر منجمد ایرانی اثاثوں کے ذریعے امریکی کسانوں کو مالی فائدہ پہنچانے میں بدل گیا۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر ہمیں ان فنڈز کے استعمال سے متعلق کسی قسم کی پابندی کا سامنا نہیں، ہمارے اثاثے مکمل آزادی کے ساتھ استعمال کیے جائیں گے۔
اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ یورپی ممالک حالیہ برسوں میں اپنی پالیسیوں کے باعث خود کو سفارتی عمل سے الگ کر چکے، ایران پر مسلط کی گئی دونوں جنگوں کے دوران یورپی ممالک نے نامناسب مؤقف اختیار کیا، دنیا نے یورپی ممالک کا یہ طرز عمل دیکھا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ غیر ذمے دارانہ رویہ یقیناً یورپی فریقوں کی ساکھ اور حیثیت میں اضافہ نہیں کرے گا، ایران کے پاس ناقابل تردید شواہد ہیں کہ خطے کے بعض ممالک نے اسرائیل جنگ میں حصہ لیا، ان بعض ممالک کو قانونی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، ہمیں اس صورتِ حال پر افسوس ہے، اس حوالے سے جو بھی ضروری اقدام ہوگا، کریں گے۔
انہوں نے کہا ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں حالیہ مذاکرات تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہے، ڈیڑھ گھنٹے بعد مذاکرات میں وقفہ کیا گیا، وقفے کے بعد ایرانی وفد نے چار فریقی اجلاس دوبارہ شروع نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
مذاکرات کے بعد ایرانی صدر کا دورۂ پاکستان، اسلام آباد کی سفارتی اہمیت میں اضافہ
تہران، ایران کے صدر مسعود پزشکیان آج اسلام آباد پہنچ رہے ہیں جہاں وہ پاکستان کی اعلیٰ قیادت سے اہم ملاقاتیں کریں گے، ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ مذاکرات اور مشرقِ وسطیٰ میں کشیدہ صورتِ حال کے بعد یہ ان کا پہلا غیر ملکی دورہ ہے۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب سوئٹزر لینڈ میں ہونے والے اعلیٰ سطح کے مذاکرات کے بعد فریقین کے درمیان 60 روزہ فریم ورک پر پیش رفت سامنے آئی ہے جس کا مقصد ایک حتمی معاہدے کی جانب بڑھنا ہے۔
الجزیرہ نے ایرانی صدر کے پاکستانی دورے سے متعلق ایک خصوصی رپورٹ شائع کی ہے۔
الجزیرہ کے مطابق اس دورے میں دونوں ممالک تجارت، توانائی، سرحدی سیکیورٹی اور علاقائی رابطوں کو مزید مضبوط بنانے پر بات کریں گے۔
صدر پزشکیان وزیرِ اعظم شہباز شریف اور صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کریں گے، اس کے علاوہ سینیٹ اور قومی اسمبلی کی قیادت بھی ان سے ملے گی۔
الجزیرہ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے حالیہ مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کیا ہے جس کے باعث اس کی علاقائی سفارتی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔
حالیہ برسوں کے دوران پاکستان اور ایران کے تعلقات میں بہتری آئی ہے اور تعاون میں اضافہ ہوا ہے۔
دوسری جانب ایران نے بھی پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے اسے اہم سفارتی شراکت دار قرار دیا ہے۔
یاد رہے کہ 2015ء کے جوہری معاہدے کے تحت ایران نے اپنے جوہری پروگرام پر پابندیاں قبول کی تھیں تاہم 2018ء میں امریکہ کے معاہدے سے نکلنے کے بعد صورتِ حال دوبارہ کشیدہ ہو گئی تھی۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی صدر کا یہ دورہ ایران کے لیے بھی اہم ہے کیونکہ اس سے اسے عالمی سطح پر سیاسی حمایت اور معاشی ریلیف کے امکانات مضبوط بنانے میں مدد مل سکتی ہے جبکہ پاکستان کے لیے یہ خطے میں ایک ذمے دار ثالث کے طور پر ابھرنے کا موقع ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان5 days ago‘اسلام آباد ایم او یو’ پر جے رام رمیش کا مرکز پر حملہ، کہا- مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو بڑا جھٹکا
دنیا1 week ago‘ٹرمپ کامعاہدہ ہمیں پابند نہیں کرتا’، اسرائیلی وزیر ایران امریکہ معاہدے پر سیخ پا
دنیا1 week agoعین وقت پر امریکہ ایران امن معاہدے میں تاخیر اسرائیلی حملے کے سبب
دنیا1 week agoتاریخی ڈیل مکمل، امریکہ اور ایران نے جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کردی
جموں و کشمیر1 week agoگاندربل ‘انکاؤنٹر’ کے مقتول کی لاش قبر سے نکال کر اہلِ خانہ کے حوالے
ہندوستان1 week agoسلوواکیہ میں مودی کا ہوا شاندار استقبال
دنیا6 days agoایرانی آرمی چیف کا دفاعی طاقت مزید بڑھانے کا اعلان
دنیا6 days agoجی سیون ممالک کا امریکہ اور ایران امن معاہدے کی حمایت کا اعلان
ہندوستان6 days ago’جمہوریت کو نقصان پہنچانے کے لیے شاہ چلا رہے ہیں دھوکہ دہی پرمبنی مہم ‘: رمیش
تجزیہ1 week agoسبز توانائی اور موسمیاتی بحران
دنیا1 week agoامریکہ ایران معاہدے پر الیکٹرانک دستخط ٹرمپ وینس نے کئے
دنیا6 days agoایران کے ساتھ معاہدہ حتمی نہیں، اگر رویہ درست نہ رہا تو حملے دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں: ٹرمپ



































































































