دنیا
ایران کے ساتھ معاہدہ ممکن لیکن انتہائی مشکل ہے: ایٹمی توانائی ایجنسی
میونخ، بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ اس کے جوہری پروگرام سے متعلق معائنہ کے عمل پر معاہدہ ممکن ہے لیکن “انتہائی مشکل” ہے۔ رافیل گروسی نے میونخ سکیورٹی کانفرنس کے دوران کہا کہ اقوام متحدہ کی ایجنسی اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی اور امریکہ کی شمولیت والی جون کی جنگ کے بعد ایران واپس آگئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم مجموعی طور پر ہر چیز کا معائنہ کرنے میں کامیاب رہے ہیں سوائے ان مقامات کے جن پر بمباری کی گئی تھی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ تہران کے ساتھ کسی ایسے معاہدے تک پہنچنا جو بین الاقوامی ایجنسی کو مطمئن کرے، مکمل طور پر ممکن ہے لیکن بہت مشکل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم دوبارہ کام کرنے اور ایک طرح کا مکالمہ قائم کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ یہ سچ ہے کہ یہ مثالی نہیں ہے، پیچیدہ ہے اور انتہائی مشکل ہے لیکن یہ موجود ہے۔ میرے خیال میں اس وقت بڑا مسئلہ یہ جاننا ہے کہ مستقبل کے لیے ان مراحل کا تعین کیسے کیا جائے ۔ ہم بخوبی جانتے ہیں کہ کس چیز کی تصدیق کرنی ہے اور اسے کیسے کرنا ہے۔
رافیل گروسی کے یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب واشنگٹن اور تہران نے 6 فروری کو سلطنت عمان کی میزبانی میں ہونے والے مذاکرات کے پہلے دور کے بعد بات چیت جاری رکھنے کے اپنے ارادے کا اعلان کیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایران کو اس صورت میں انتہائی تکلیف دہ نتائج کی دھمکی دی تھی اگر اس نے اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں معاہدے کو قبول نہ کیا۔
بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی اور ایران کے درمیان تعلقات بڑھتی ہوئی کشیدگی کا شکار ہیں۔ خاص طور پر جون 2025 میں ایران کی جوہری تنصیبات پر اسرائیلی اور امریکی حملوں کے بعد تہران کی جانب سے تعاون معطل کرنے کے بعد یہ کشیدگی بڑھی ہے۔ ان حملوں میں ایران کے نطنز، فورڈو اور اصفہان جیسے اہم مقامات کے معائنے میں رکاوٹ ڈالی ہے۔
ایجنسی ایران پر یورینیم کی افزودگی بڑھانے اور شفافیت کی کمی کا الزام لگاتی ہے جبکہ تہران جوہری ہتھیار تیار نہ کرنے کے اپنے عزم کی تصدیق کرتا ہے۔ واضح رہے آخری بار جب ایجنسی نے ایران کے اعلیٰ افزودہ یورینیم کے ذخائر کی تصدیق کی تھی وہ کم از کم 8 ماہ پہلے کی بات ہے۔ ایجنسی کے رہنما خطوط بتاتے ہیں کہ یہ کام ماہانہ بنیادوں پر کیا جانا چاہیے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
امریکہ ایران معاہدہ کیوں تعطل کا شکار؟ بڑی رکاوٹیں کونسی ہیں
واشنگٹن، امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدہ تاحال کئی اہم نکات پر اختلافات کے باعث تعطل کا شکار ہے، جبکہ عالمی نظریں دونوں ممالک کے آئندہ اقدامات پر مرکوز ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ٹرمپ کے ایران کی جانب سے پیش کی گئی حالیہ تجاویز سے متفق ہونے کے امکانات کم ہیں، کیونکہ ان میں جنگ بندی کے بدلے جوہری پروگرام پر کوئی بڑی رعایت شامل نہیں۔ ایران کا نیوکلیئر پروگرام اہم تنازعات میں سرِفہرست ایران کا جوہری پروگرام ہے، جہاں امریکہ چاہتا ہے کہ تہران مکمل طور پر اپنا نیوکلیئرپروگرام ختم کر دے، جبکہ ایران کا مؤقف ہے کہ ایسی پابندیاں محدود مدت کے لیے ہونی چاہئیں۔
یورینیئم ذخائر یورینیئم کے ذخائر بھی ایک بڑا مسئلہ ہیں، امریکہ چاہتا ہے کہ ایران کے تقریباً 400 کلو گرام افزودہ یورینیئم کا مکمل کنٹرول اسے دیا جائے، تاہم تہران نے اس مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔
دوسری جانب آبنائے ہرمز بھی کشیدگی کا مرکز بنی ہوئی ہے، جہاں ایران نے پابندیاں برقرار رکھی ہوئی ہیں اور ان کا خاتمہ امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے سے مشروط کیا ہے، جبکہ امریکہ کا کہنا ہے کہ معاہدے تک ناکہ بندی جاری رہے گی۔
ایرانی حکام نے معاہدے کے لیے معاشی پابندیوں کے خاتمے اور تقریباً 20 ارب ڈالرز کے منجمد اثاثے بحال کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ نقصانات کا ازالہ مزید برآں ایران نے امریکی و اسرائیلی حملوں سے ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے تقریباً 279 ارب ڈالرز ہرجانے کا مطالبہ کیا ہے، جو مذاکرات میں ایک اور بڑی رکاوٹ بن گیا ہے۔
ایران کا علاقائی اثر و رسوخ علاقائی اثر و رسوخ بھی ایک حساس معاملہ ہے، جہاں امریکہ چاہتا ہے کہ ایران لبنان میں حزب اللّٰہ اور غزہ میں حماس سمیت اپنے اتحادیوں کی حمایت محدود کرے، جبکہ ایران اس مؤقف سے متفق نہیں۔ ماہرین کے مطابق ان بنیادی اختلافات کے حل کے بغیر کسی جامع معاہدے تک پہنچنا فی الحال مشکل دکھائی دیتا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
آبنائے ہرمز پر جاری کشمکش کے سبب عالمی معیشت غیر یقینی صورتِحال کا شکار
تہران، خلیج میں واقع اہم گزرگاہ آبنائے ہرمز جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور ایل این جی کی ترسیل ہوتی ہے، حالیہ جنگی صورتِ حال کے باعث عالمی معیشت کے لیے بڑا چیلنج بن گئی ہے اور تاحال مکمل طور پر محفوظ قرار نہیں دی جا سکی۔
رپورٹس کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی اور جنگ کے آغاز کے بعد اس گزرگاہ میں بحری آمد و رفت شدید متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں تقریباً 2 ہزار جہاز خلیج میں پھنس گئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حتیٰ کہ اگر راستہ کھول بھی دیا جائے تو بھی خطرات مکمل طور پر ختم نہیں ہوں گے۔ امریکی حکام کے مطابق سمندر میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو صاف کرنے میں کم از کم 6 ماہ لگ سکتے ہیں، جبکہ بعض تجزیہ کاروں کے نزدیک مکمل طور پر خطرہ ختم کرنا تقریباً ناممکن ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب انشورنس کمپنیوں نے بھی صورتِ حال کو انتہائی غیر یقینی قرار دیتے ہوئے جنگی خطرات کی انشورنس معطل یا مہنگی کر دی ہے۔ ماہرین کے مطابق پہلے جہاں انشورنس کی لاگت جہاز کی مالیت کا تقریباً 0.25 فیصد تھی، وہ اب بڑھ کر 1 سے 5 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس راستے کو دوبارہ محفوظ قرار دینے کے لیے ضروری ہے کہ فریقین کے درمیان مستقل جنگ بندی، واضح سیکیورٹی ضمانتیں، بارودی سرنگوں کی مؤثر صفائی اور بحری راستوں پر مکمل کنٹرول قائم ہو۔
ماہرین کے مطابق صرف عارضی جنگ بندی کافی نہیں ہوگی بلکہ طویل عرصے تک بحری آمد و رفت کا بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہنا ضروری ہے تاکہ انشورنس کمپنیاں اعتماد بحال کر سکیں۔ یاد رہے کہ انٹرنیشنل انرجی ایجنسی نے اس صورتِ حال کو عالمی تاریخ میں تیل کی فراہمی میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا ہے، جو 1970ء کی دہائی کے آئل بحران سے بھی زیادہ سنگین ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
کیا مشکل وقت میں روس ایران کیلئے معاشی سہارا بنے گا
ماسکو، آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے باعث ایران کو شدید معاشی دباؤ کا سامنا ہے جس کے بعد تہران روس کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر توجہ دے رہا ہے۔
حالیہ دنوں میں ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے سینٹ پیٹرزبرگ میں روسی صدر ولادیمیر پیوتن سے ملاقات کی جہاں دونوں ممالک نے باہمی تعاون پر بات چیت کی۔ الجزیرہ میں شائع کیے گئے ایک تجزیے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران اور روس کے درمیان تجارت میں اضافہ ہوا ہے، تجارت کا یہ حجم 2024ء میں تقریباً 4.8 ارب ڈالرز تک پہنچ گیا تھا لیکن یہ اب بھی محدود ہے، دونوں ممالک زیادہ تر ایک جیسی مصنوعات بناتے ہیں جس سے تجارتی امکانات محدود رہتے ہیں۔
روس اور ایران کے درمیان تجارت کا بڑا ذریعہ ‘انٹرنیشنل نارتھ ساؤتھ ٹرانسپورٹ کوریڈور’ ہے جو بحیرۂ کیسپیئن کے ذریعے سامان کی ترسیل ممکن بناتا ہے، تاہم بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ راستہ آبنائے ہرمز کا مکمل متبادل نہیں بن سکتا کیونکہ سمندری راستہ سستا اور تیز ہے اور ایران کی 90 فیصد تجارت اسی پر منحصر ہے۔
الجزیرہ کے مطابق روس مختصر مدت کے لیے ایران کو کچھ سہارا دے سکتا ہے جیسے کہ خوراک اور صنعتی سامان کی فراہمی لیکن طویل مدت میں وہ ایران کی ضروریات پوری نہیں کر سکتا، خاص طور پر تیل کی برآمدات۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ روس خود بھی معاشی دباؤ اور یوکرین جنگ کے باعث مسائل کا شکار ہے جس کی وجہ سے ایران میں بڑی سرمایہ کاری اس کے لیے آسان نہیں۔ الجزیرہ کی رپورٹ میں شائع کی گئی ماہرین کی رائے کے مطابق روس کے لیے ایران کی مدد کرنا فائدہ مند بھی ہو سکتا ہے کیونکہ اس سے عالمی تیل کی قیمتیں بلند رہ سکتی ہیں اور دونوں ممالک کا اتحاد مضبوط ہو سکتا ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مجموعی طور پر ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ روس ایران کے لیے مکمل معاشی متبادل نہیں بن سکتا بلکہ صرف عارضی مدد فراہم کر سکتا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر5 days agoپہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
دنیا1 week agoایرانی یورینیم کی بازیابی طویل اور مشکل ہوگی: ٹرمپ
جموں و کشمیر1 week agoایک سال بعد بھی بائیسرن چراگاہ بدستور بند
جموں و کشمیر1 day agoجموں و کشمیر کے لیے ترقی کا بڑا تحفہ؛ شیوراج سنگھ چوہان نے 3566 کروڑ روپے کے سڑک منصوبوں کی منظوری دے دی
دنیا1 week agoنائب امریکی صدر یران کے ساتھ اعلی سطحی مذاکرات کے لیے پاکستان روانہ — رپورٹ
ہندوستان4 days agoمئو سڑک حادثہ: میاں بیوی اور بیٹے سمیت پانچ افراد جاں بحق
ہندوستان4 days agoکیجریوال تاریخ کے سب سے شوقین شخص، نئی رہائش گاہ بھی شیش محل جیسی بنائی: پرویش سنگھ
دنیا1 week agoایرانی عوام کے حکومت کے حق میں مظاہرے، اسلحہ بردار خواتین بھی سامنے آگئیں
دنیا5 days agoایران نے روس اور دیگر ممالک کو آبنائے ہرمز کے محصولات میں استثنیٰ دیا: سفیر
دنیا1 week agoدھمکیوں کے سائے میں مذاکرات کسی صورت قبول نہیں: اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ
دنیا1 week agoایران کی تجارتی ومالی مدد ہماری پابندیوں کا سامنا کرے گی:امریکہ
دنیا4 days agoپاسداران انقلاب اور اسماعیل بقائی نے براہ راست مذاکرات یا ملاقات کے منصوبے کی تردید کردی












































































































