دنیا
خلیجی جنگ نے ہندوستان کی توانائی کی شہ رگ کو جھنجھوڑا، 100 ڈالر فی بیرل تیل کا خطرہ
جینت رائے چودھری
نئی دہلی، ہندوستان کی وہ کمپنیاں جو ایل این جی استعمال کرتی ہیں، سپلائی میں کٹوتی اور قدرتی گیس کی بلند قیمتوں کے لیے تیار ہو رہی ہیں یہ گیس ان کے ٹربائنز، آرک فرنسز، اسمیلٹرز اور دیگر بھاری مشینری کو چلانے کے ساتھ ساتھ کھاد اور پیٹرو کیمیکل کمپنیوں کے لیے فیڈ کے طور پر استعمال ہوتی ہے قطر، جو ہندوستان کی ایل این جی سپلائی کا 40 فیصد سے زیادہ فراہم کرتا ہے، نے پیر کو ایرانی ڈرون حملوں کے بعد اپنے راس لفان کمپلیکس میں مائع قدرتی گیس کی سہولتیں بند کرنے کا اعلان کیا۔
وہیں ویری لارج آئل ٹینکرز (وی ایل سی سی) کے لیے شپنگ قیمت، جو 20 لاکھ بیرل تیل مغربی ایشیا سے ہندوستان، جاپان، کوریا اور چین لے جا سکتے ہیں، ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے: 423,736 امریکی ڈالر، جو 94 فیصد زیادہ ہے۔
لندن اسٹاک ایکسچینج گروپ کے مطابق خلیج میں جنگ ہندوستان کو ایک پرانے لیکن اب تک حل نہ ہونے والے مخمصے کا سامنا کروا رہی ہے کہ کس طرح تیل سے مالا مال مغربی ایشیا میں جنگ کے دوران اپنی توانائی کی شہ رگ کو محفوظ بنایا جائے۔ نئی دہلی کا ردعمل خاموش ہنگامی منصوبہ بندی ہے تاکہ کسی آنے والے تیل کے جھٹکے سے بچا جا سکے، ساتھ ہی یہ یقین دہانی بھی دی جا رہی ہے کہ اس کا انرجی ایکسپوژر ہندوستان کی توانائی کی بھوکی معیشت کو متاثر نہیں کرے گا۔
تقریباً 60 فیصد ہندوستان کی ایل این جی درآمدات اور نصف خام تیل کی درآمدات (تقریباً 2.5 سے 2.7 ملین بیرل فی دن) آبنائے ہرمز سے گزرتی ہیں، جو عمان اور ایران کے درمیان ایک تنگ آبی راستہ ہے۔
شپنگ لاگت اور ایل این جی بندش کے علاوہ ہندوستان کو بڑھتی ہوئی خام تیل کی قیمتوں کا بھی سامنا ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت منگل کو دوپہر 2 بجے ہندوستانی وقت کے مطابق 79 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جو ایک ماہ پہلے 66 ڈالر تھی، اور اندازہ ہے کہ دن کے اختتام تک 80 ڈالر تک پہنچ جائے گی۔
کموڈٹی ٹریڈرز کا کہنا ہے کہ اگر جنگ جاری رہی تو خام تیل کی قیمتیں جمعہ تک “100 ڈالر کے قریب” پہنچ سکتی ہیں۔
خلیج سے خام اور گیس سپلائی میں طویل رکاوٹ ہندوستان کی معیشت میں گونج پیدا کرے گی، قیمتوں، انشورنس لاگت اور لاجسٹک پیچیدگی کو تقریباً راتوں رات بڑھا دے گی۔
ہندوستان کا خلیج میں ہلچل سے سامنا نیا نہیں ہے۔ ہر بار جب خطہ لرزتا ہے، چاہے عراق کی جنگیں ہوں، اسرائیل اور لبنان کے درمیان جھڑپیں، یا یمن میں حوثی حملے، ایشیائی تیل مارکیٹیں جھٹکے محسوس کرتی ہیں۔
ملک زیادہ تر توانائی خلیجی پروڈیوسرز جیسے عراق، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور کویت سے درآمد کرتا ہے۔
نئی دہلی کے لیے بڑا خطرہ سپلائی کا مکمل کٹ جانا نہیں ہے، جو کہ غیر ممکن ہے، بلکہ وہ سلسلہ وار رکاوٹیں ہیں جو جنگ کے بعد آتی ہیں: اچانک قیمتوں میں اضافہ، شپنگ تاخیر، زیادہ انشورنس پریمیم اور فریٹ لاگت، جو ہندوستان کی برآمدی طاقت کے طور پر مسابقت کو کمزور کرتی ہیں۔
ان جھٹکوں کو کم کرنے کے لیے ہندوستان نے پچھلے چند سالوں میں خاموشی سے اپنی توانائی کا نقشہ دوبارہ بنایا ہے۔ گزشتہ چار سالوں سے رعایتی روسی خام تیل ایک اہم بفر رہا ہے جب بھی خلیجی جنگ یا دیگر رکاوٹوں کی وجہ سے کمزور ہوا۔
ذرائع نے کہاکہ “ہندوستان اب روس سے خریداری بڑھانے کے طریقے تلاش کر رہا ہے”، ساتھ ہی واشنگٹن کے ساتھ ممکنہ پابندیوں میں نرمی پر سفارتی بات چیت بھی کر رہا ہے تاکہ اسپاٹ کارگو خریدے جا سکیں۔
وہیں ریفائنرز نے اپنی درآمدات کا دائرہ وسیع کیا ہے، امریکہ، وینزویلا، افریقہ اور دیگر غیر خلیجی پروڈیوسرز سے درآمدات بڑھا دی ہیں۔
یہ تنوع ہندوستانی کمپنیوں کو زیادہ آزادی دیتا ہے کہ وہ دباؤ کے وقت اپنے خام تیل کے شیڈول کو دوبارہ ترتیب دے سکیں۔ تقریباً 258 ملین میٹرک ٹن سالانہ ریفائننگ صلاحیت کے ساتھ ا ہندوستان مختلف قسم کے خام تیل کو پروسیس کر سکتا ہے، ہلکے خام سے لے کر سب سے بھاری تک۔ یہ تکنیکی برتری کسی ایک اسپلائر پر انحصار کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
دنیا
ہماری تلوار ہمیشہ آبنائے ہرمز پر لٹکتی رہے گی، معاہدے پر دستخط چند روز میں ڈیجیٹل طریقے سے ہوں گے، عباس عراقچی
تہران، ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز اب پہلے کی طرح نہیں ہوگا، ہماری تلوار ہمیشہ اس پر لٹکتی رہے گی اور جب بھی ضروری ہوا ہماری مسلح افواج آبنائے ہرمز میں داخل ہو جائیں گی۔ انھوں نے کہا معاہدے پر دستخط ڈیجیٹل طریقے سے آئندہ چند روز میں ممکن ہے۔
عباس عراقچی نے کہا آبنائے ہرمز پر عالمی قوانین کے مطابق قانونی نظام نافذ ہوگا، کوئی ٹیکس نہیں لیا جائے گا لیکن جہازوں کو دی جانے والی سہولیات کے اخراجات وصول کیے جائیں گے، آبنائے پر نئے قواعد و ضوابط کا نفاذ اگلے 60 دنوں میں کیا جائے گا، تمام جہازوں کو نئے قواعد کے مطابق گزرنا ہوگا، تجارتی اور عسکری بحری جہازوں کے لیے علیحدہ علیحدہ قوانین ہوں گے۔
ایرانی میڈیا سے گفتگو میں انھوں نے کہا معاہدے میں 14 نکات ہیں، حتمی شکل دینے کے بعد ایک ایک نکتہ بیان کروں گا، معاہدے کے بعض دشمن بھی ہیں جن میں سرفہرست اسرائیل ہے، اس وجہ سے میڈیا پر اس معاہدے کے نکات ابھی بیان نہیں کروں گا، معاہدے کا وہ متن جو میڈیا پر گردش کر رہا ہے اس کی تصدیق نہیں کرتا، فی الحال امریکی حکام اور ہم نے بھی میڈیا پر زیر گردش نکات کی تصدیق نہیں کی، معاہدے میں ایسا نہیں ہوتا کہ ایک طرف 100 فی صد رضا مند ہو اور دوسرے کے پاس کچھ بھی نہ ہو۔
عباس عراقچی نے کہا پہلے مرحلے کے وعدوں پر عمل نہ ہوا تو دوسرے مرحلے کی طرف نہیں جائیں گے، ہمیں امریکہ ا میں ایسی مخلوق کا سامنا ہے جو اپنے وعدوں پر عمل نہیں کرتی، امریکی وعدہ خلافیوں کا ہمیں پہلے بھی تجربہ ہے، ان کا راستہ بند کرنا ہوگا، وعدہ خلافی امریکی ذات کا حصہ ہے، یہ عمل درآمد میں ہزاروں مشکلات لاتے ہیں، امریکی وعدوں پر عمل کے دوران ہمیں مختلف تحفظات کی توقع رکھنی چاہیے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ نے کہا بہت جلد ایران اور عمان مل کر آبنائے ہرمز کے کنٹرول کا مشترکہ اعلامیہ جاری کریں گے، معاہدے کے مطابق سمندری محاصرے کا مکمل خاتمہ اور ہمارے منجمد اثاثے بحال ہوں گے۔ معاہدے میں آبنائے ہرمز اور محاصرے کا ذکر کیا گیا ہے، ایران کی تعمیر نو اور اقتصادی مسائل کا ذکر بھی معاہدے میں شامل ہے، مختلف نکات مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں بیان ہوں گے، ایران کے منجمد اثاثوں کو بحال کرنے کا طریقہ کار معاہدے میں شامل ہے۔
انھوں نے کہا ایران کی سیکیورٹی کونسل مذاکراتی عمل سے بخوبی آگاہ ہے، میٹنگز میں یہ موضوعات کئی دفعہ زیر بحث لائے جا چکے ہیں، سیکیورٹی کونسل کی طرف سے مختلف کمیٹیاں مذاکراتی عمل کو دیکھ رہی ہیں، جہاں بھی ضروری ہو وہ سیکیورٹی کونسل کو رپورٹ پیش کرتی ہیں، کونسل میں معاہدے کے متن کے حامی و مخالف افراد موجود ہیں، فیصلہ اجتماعی رائے سے ہوگا اور اس کے بعد اعلان کر دیا جائے گا۔
وزیر خارجہ نے کہا دشمن جب جنگ سے ناامید ہو گیا تو اس نے مذاکرات کی درخواست کی، جنگ شروع کرنے سے پہلے وہ چاہتا تھا کہ مذاکرات کے ذریعے اپنے ہدف تک پہنچ سکے، دشمن ہماری استقامت سے ناامید ہو گیا تو اس نے جنگ شروع کر دی، جب جنگ میں بھی دیکھ لیا کہ وہ کسی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے گا تو پھر ناامید ہو کر اس نے مذاکرات کی درخواست کر دی۔
انھوں نے ایرانی عوام کے عزم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا دشمن سمجھ رہا تھا کہ ایران کو جھکنے پر مجبور کر دے گا لیکن اسے ایرانی افواج اور عوام کا سامنا کرنا پڑا، ہم مسلح افواج، ایرانی عوام کے مرہون منت ہیں جو روز اسکوائر پر آتے رہے، ہمیں تنہا نہیں چھوڑا، کسی قسم کا خلا سفارت کاری اور میدان جنگ میں موجود نہیں، سفارت کاری اور میدان جنگ دونوں ایک ہی ہدف کے لیے آگے بڑھ رہے ہیں، سفارتکاری اور میدان جنگ کے کمانڈروں کے ساتھ میڈیا اور عوام کا اضافہ ہوا۔
عباس عراقچی نے کہا سفارت کاری کا فریضہ میدان جنگ کی کامیابیوں کو نافذ کرنا ہے، مذاکراتی ٹیم بھی میدان جنگ پر بھروسہ رکھتی ہے اور ہم نے یہی کام انجام دیا ہے، ہم میدان جنگ کے فاتح ہیں، بعض ممالک کے حکام نے مجھے کہا ہم ایران کو اس طرح نہیں پہچانتے تھے، بعض ممالک کے حکام نے کہا ایران نے سب کو حیرت میں ڈال دیا اور زیادہ طاقت کے ساتھ جنگ سے باہر نکلا، میں ان حکام کے نام بھی لے سکتا ہوں جنھوں نے میرے ساتھ یہ باتیں کی ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
شہید علی خامنہ ای کی نماز جنازہ کی تاریخ کا اعلان
تہران، ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی نماز جنازہ کی تاریخ کا اعلان کردیا گیا ہے۔
ایرانی میڈیا رپورٹ کے مطابق 4 اور 5 جولائی کو الوداعی مراسم تہران میں مصلیٰ امام خمینی کمپلیکس میں ہوں گے جبکہ شہید علی خامنہ ای کی نماز جنازہ 6 جولائی کو تہران اور 7 جولائی کو قم میں ادا کی جائے گی اور
جولائی کو شہید سید علی خامنہ ای کی مشہد میں تدفین کی جائے گی۔9
ایرانی میڈیا کے مطابق خامنہ ای 28 فروری 2026 کو تہران میں ان کے کمپاؤنڈ پر ہونے والی شدید بمباری میں شہید ہوئے تھے۔ حملے کا الزام امریکہ اور اسرائیل پر عائد کیا گیا تھا، جبکہ ایرانی سرکاری میڈیا نے اگلے روز ان کی شہادت کی تصدیق کی تھی۔
رپورٹس کے مطابق اس حملے کے بعد ایران میں سیاسی اور مذہبی سطح پر اہم تبدیلیاں رونما ہوئیں اور خامنہ ای کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا رہبرِ اعلیٰ مقرر کیا گیا۔
چند روز قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا تھا کہ حملے کے روز وہ بھی خامنہ ای کے دفتر میں موجود تھے، تاہم وہ محفوظ رہے۔
واضح رہے کہ خامنہ ای کئی دہائیوں تک ایران کے سب سے بااثر سیاسی اور مذہبی رہنما رہے اور ملکی و علاقائی پالیسیوں میں مرکزی کردار ادا کرتے رہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
امریکہ ایران معاہدے پر کل دستخط نہیں ہوں گے: ایرانی وزارت خارجہ
تہران، ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے پر کل بروز اتوار دستخط نہیں ہوں گے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے اپنے حالیہ بیان میں کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر اتوار کے روز دستخط نہیں ہوں گے، تاہم انہوں نے آنے والے دنوں میں اس کے امکان کو مسترد نہیں کیا۔
پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والی اس دستاویز کا حوالہ دیتے ہوئے اسماعیل بقائی نے بتایا کہ زیر غور اسلام آباد ایم او یو جنگ کے خاتمے پر مرکوز ہے اور اس مرحلے پر یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ جوہری معاملے پر کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔
اسماعیل بقائی نے مزید بتایا کہ ہمیں ایم او یو پر دستخط کے صحیح وقت کا انتظار کرنا ہوگا، اگرچہ یہ کل نہیں ہوگا لیکن آنے والے دنوں میں ایسا ہونے کے امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ تاہم دوسرے فریق کے غیر مستحکم رویے کے باعث ہمیں اس عمل کے حوالے سے کسی بھی بیان بازی میں محتاط رہنا ہوگا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان6 days agoانڈیا اتحاد کی میٹنگ شروع، سونیا، کھرگے اور ممتا سمیت کئی اعلیٰ لیڈر شامل
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر میں منشیات کی تجارت کی ہر کڑی توڑ رہے ہیں: لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا
دنیا6 days agoجارحیت روکیں یا طاقت کے نئے توازن کے مرحلے میں داخل ہوں: علی اکبر ولایتی کا انتباہ
دنیا1 week agoایران کے آبنائے ہرمز کی جانب ڈرون فائرنگ، امریکہ کا گورک اور جزیرہ قشم میں ریڈار پر حملہ
دنیا1 week agoایران کے پاس 21 سے 22فیصد میزائل باقی ہیں، معاہدے کے سوا اس کے پاس کوئی راستہ نہیں: ٹرمپ
دنیا1 week agoلبنانی صدر اپنے ساتھ کھڑے لوگوں کو بیچتے ہیں: اسماعیل بقائی
دنیا6 days agoامریکہ کی متضاد پالیسیوں اور مؤقف نے سفارتی راستے کو متاثر کیا: اسماعیل بقائی
دنیا3 days agoامریکہ آج رات ایران پر بڑا حملہ کرے گا: امریکی وزیر جنگ
دنیا3 days agoامریکہ کے ساتھ پائیدار معاہدہ دھمکیوں، دباؤ یا طاقت کے استعمال سے ممکن نہیں: ایرانی سفیر
جموں و کشمیر1 week agoکریری میں بابل کینال: غفلت اور بے حسی کا شکار
ہندوستان1 week agoکاکروچ جنتا پارٹی پریشان لوگوں کی آواز ہے : ابھجیت دیپکے
دنیا6 days agoدشمن کو پہلے سے زیادہ طاقتور جواب دینے کیلئے تیار ہیں: ترجمان ایرانی نیشنل سکیورٹی کمیشن








































































































