جموں و کشمیر
کپواڑہ میں غلطی سے گولی چلنے سے زخمی ہریانہ کے جوان کی موت
سرینگر، جموں و کشمیر کے ضلع کپواڑہ میں ایک کیمپ میں اپنی سروس رائفل سے غلطی سے گولی چلنے کے باعث زخمی ہوئے ہریانہ سے تعلق رکھنے والے ایک فوجی جوان کی موت ہو گئی۔ افسران نے پیر کو بتایا کہ 20 سے 25 سال کی عمر کا یہ جوان ہفتہ کی رات ہندواڑہ کے لنگاٹ علاقے میں فوجی کیمپ میں اپنی ہی سروس رائفل سے اچانک گولی چل جانے کی وجہ سے زخمی ہوگیا تھا۔ اسے ابتدائی طور پر علاج کے لیے گورنمنٹ میڈیکل کالج (جی ایم سی) ہندواڑہ لے جایا گیا تھا اور بعد ازاں بہتر علاج کے لیے سرینگر کے فوجی 92 بیس اسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں وہ دورانِ علاج دم توڑ گیا۔ اس واقعے پر فوج کی جانب سے ابھی تک کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
جموں کشمیر: سخت سکیورٹی اور مذہبی جوش و خروش کے بیچ امرناتھ یاترا شروع
سری نگر، جموں کشمیر میں ہر سال ہونے والی شری امرناتھ یاترا جمعہ کو پہلگام اور بالتال، دونوں راستوں سے شروع ہوئی۔
ہزاروں یاتری پورے جوش اور سخت سکیورٹی کے درمیان مقدس گپھا کی طرف روانہ ہوئے۔
تقریباً پانچ ہزار یاتریوں کا پہلا جتھہ جمعرات کو کشمیر وادی پہنچا تھا، جسے جموں سے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا تھا۔ ننوان آدھار شیور میں، اننت ناگ کے ڈپٹی کمشنر بلال بھٹ اور ایس ایس پی اننت ناگ آمود ناگپورے نے پہلگام روٹ سے جانے والے یاتریوں کو ہری جھنڈی دکھائی اور ان کی یاترا کے محفوظ اور کامیاب ہونے کی خواہش کی۔ بالتال، گاندربل میں ہلکی بوندا باندی نے وہاں کے پرسکون ماحول کو اور بھی خوشگوار بنا دیا، جبکہ عقیدت مند گپھا مندر کی طرف اپنی یاترا جاری رکھے ہوئے تھے۔
افسران نے اس سال کی یاترا کے لیے جموں کشمیر میں اب تک کی سب سے بڑی سالانہ سکیورٹی مہم شروع کی ہے۔ محفوظ یاترا یقینی بنانے کے لیے کئی سطحوں والا سکیورٹی گھیرا، دونوں راستوں پر نو فلائی زون، واچ ٹاور، سخت نگرانی اور یاتریوں کے قافلے کی رئیل ٹائم مانیٹرنگ جیسے انتظامات کیے گئے ہیں۔ پولیس نے سبھی رجسٹرڈ سروس پرووائیڈرز (جیسے پونی رائڈرز) کو چھیڑ چھاڑ سے پاک کیو آر کوڈ والے شناختی کارڈ جاری کیے ہیں، تاکہ ان کے شناختی کارڈ کی فوراً جانچ ہو سکے اور عسکریت پسندوں کو سپورٹ اسٹاف بن کر گھسنے سے روکا جا سکے۔
اس کے علاوہ، یاتریوں، گاڑیوں اور سروس دینے والوں کے لیے آر ایف آئی ڈی ٹیگ جاری کیے گئے ہیں تاکہ ان کی رئیل ٹائم ٹریکنگ کی جا سکے۔ ساتھ ہی، سی سی ٹی وی کیمروں کا ایک بڑا نیٹ ورک دونوں یاترا راستوں پر آمد و رفت پر نظر رکھ رہا ہے۔ افسران نے کہا کہ یاترا کو خوش اسلوبی اور محفوظ طریقے سے مکمل کرانے کے لیے سبھی انتظامات کیے گئے ہیں۔ یاتریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ سکیورٹی اہلکاروں اور یاترا افسران کی ہدایات پر سختی سے عمل کریں، صرف مجاز قافلوں میں ہی سفر کریں، جائز شناختی کارڈ ساتھ رکھیں، بغیر تصدیق والی معلومات یا افواہیں نہ پھیلائیں، اور کسی بھی مشکوک سرگرمی، لاوارث چیز یا ہنگامی صورتحال کی اطلاع فوراً قریبی پولیس اہلکاروں کو دیں یا ہنگامی ہیلپ لائن کے ذریعے مطلع کریں۔
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
مذاکرات ہی واحد راستہ: جموں کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی ہند۔پاک امن عمل کی پرزور حمایت
سرینگر، جموں و کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (جے کے ایس اے) نے جمعرات کو ہند۔پاک کے درمیان تعمیری مذاکرات کی بحالی کی حمایت کی ہے اور کہا ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن، علاقائی استحکام اور مشترکہ خوشحالی صرف مسلسل سفارتی روابط، باہمی احترام اور پرامن گفتگو کے ذریعے ہی حاصل کی جا سکتی ہے۔ہندوستان کے سیکورٹی سے متعلق جائز خدشات کو تسلیم کرتے ہوئے اور ہر قسم کی دہشت گردی کی واضح الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے، جے کے ایس اے نے کہا کہ کشیدگی کو کم کرنے، ٹکراؤ کو روکنے اور پائیدار امن کے لیے سازگار ماحول تیار کرنے کے لیے بامقصد بات چیت ایک ناگزیر ذریعہ ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشیائی ممالک کے درمیان بہتر علاقائی تعاون سے تجارت، تعلیم، جدت (انوویشن)، سیاحت اور اقتصادی ترقی کو فروغ مل سکتا ہے۔ تنازع کی وجہ سے جان گنوانے والے فوجیوں، سیکورٹی اہلکاروں اور شہریوں کو سب سے بڑا خراجِ عقیدت یہ ہوگا کہ ذمہ دارانہ سفارت کاری کے ذریعے مستقبل میں انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جائے، جبکہ دہشت گردی کے خلاف سخت مؤقف پر قائم رہا جائے۔ جموں و کشمیر کے نوجوانوں کے لیے امن محض ایک خواہش نہیں بلکہ ایک ضرورت ہے۔
جموں کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے قومی کنوینر ناصر کھوہامی نے ایک بیان میں کہا کہ جموں و کشمیر کے لوگوں نے دہائیوں سے جاری تنازع کے انسانی، سماجی اور معاشی نتائج کو بھگتا ہے۔
“جب کبھی ہند۔پاک کے تعلقات خراب ہوئے ہیں، تو اس کی سب سے بڑی قیمت طلبہ، خاندانوں، تاجروں، سرحدی علاقوں کے رہائشیوں اور عام شہریوں کو ہی چکانی پڑی ہے۔ کشیدگی بڑھنے کی صورت میں تعلیم، روزگار، سیاحت، تجارت اور ترقیاتی کام متاثر ہوتے ہیں۔ اس لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ امن کو فروغ دینے، دشمنی کو کم کرنے اور ایسا ماحول بنانے کے لیے مخلصانہ کوششیں کی جائیں جہاں ترقی، تعلیم اور انسانی فلاح و بہبود کو فروغ مل سکے۔”
یواین آئی۔م ا ع
جموں و کشمیر
ریاست کا درجہ بحال ہونے تک عمر کابینہ میں شامل نہیں ہوگی کانگریس: طارق کرّا
سرینگر، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کے صدر طارق حمید کرّا نے جمعرات کو کہا ہے کہ جب تک جموں و کشمیر کو دوبارہ مکمل ریاست کا درجہ بحال نہیں کر دیا جاتا، تب تک کانگریس عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کی کابینہ (وزراء کی کونسل) میں شامل نہیں ہوگی۔
طارق کرّا نے آج یہاں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کی اولین ترجیح جموں و کشمیر کی ریاست کا درجہ بحال کرانا ہے، نہ کہ کوئی وزیر کا عہدہ حاصل کرنا۔ انہوں نے واضح کیا، “کابینہ میں شامل ہونا ہمارا مسئلہ نہیں ہے، ہمارا اصل مسئلہ ریاست کا درجہ بحال کرانا ہے۔ اگر ہم حکومت سے باہر ہیں، تو یہ ایک اصول کی وجہ سے ہیں۔ ہم نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ جب تک مکمل ریاست کا درجہ واپس نہیں ملتا، ہم کابینہ کا حصہ نہیں بنیں گے۔ پارٹی کا یہ فیصلہ ‘اصولوں پر مبنی’ ہے۔”
انہوں نے مزید کہا، “اس کے باوجود ہم عمر عبداللہ حکومت کی مکمل حمایت کر رہے ہیں۔ جب بھی ہمیں لگے گا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت پر حملہ کر رہی ہے یا حکومت کو بی جے پی سے کوئی خطرہ ہے، تو اس وقت آپ کانگریس پارٹی کو نیشنل کانفرنس کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا پائیں گے۔”
کانگریس رہنما کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی کابینہ میں توسیع اور ردو بدل کی قیاس آرائیاں تیز ہو رہی ہیں۔ نیشنل کانفرنس کی حکومت کو باہر سے حمایت دے رہی کانگریس مسلسل یہ کہہ رہی ہے کہ ریاست کا درجہ بحال کرنا اس کا سب سے بڑا سیاسی مطالبہ ہے اور اس نے حکومت میں شمولیت کو اسی شرط سے جوڑ رکھا ہے۔ حال ہی میں عمر عبداللہ نے بھی اشارہ دیا تھا کہ کابینہ میں جلد توسیع کی جا سکتی ہے۔
طارق کرّا نے ریاست کے درجے کی بحالی کے لیے دہلی کے جنتر منتر پر دھرنے میں شامل ہونے کی نیشنل کانفرنس کی تجویز کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ کانگریس ایک سال سے زیادہ عرصے سے اس مہم کی قیادت کر رہی ہے۔ جب ان سے نیشنل کانفرنس کے اس اعلان کے بارے میں پوچھا گیا کہ وہ پارلیمنٹ کے مانسون سیشن کے پہلے دن احتجاج کے لیے ‘انڈیا الائنس’ کے اراکین اور دیگر جماعتوں کو مدعو کرے گی، تو انہوں نے کہا کہ اس پیش رفت نے کانگریس کے دیرینہ مؤقف کو درست ثابت کر دیا ہے۔
کانگریس لیڈر نے کہا، “ہم پہلے بھی جنتر منتر جا چکے ہیں۔ اگر آپ دیکھیں تو ہم نے ایک سال پہلے ‘سرینگر چلو’، ‘جموں چلو’ اور پھر ‘دہلی چلو’ کا نعرہ دیا تھا۔ اصل میں یہ ہمارے لیے خوشی کی بات ہے اور میں فخر سے کہہ سکتا ہوں کہ جو بات ہم نے ایک سال پہلے کہی تھی اور جو کام ہم نے شروع کیا تھا، آج وہ لوگ بھی اس میں شامل ہو رہے ہیں جنہیں اس وقت تھوڑی ہچکچاہٹ تھی یا کوئی مجبوری تھی۔ آج تمام لوگ اسی نکتے پر پہنچ گئے ہیں جہاں سے کانگریس پارٹی نے شروعات کی تھی۔
یواین آئی۔م اع
ہندوستان1 week agoغلطی سے پاکستان کی فضائی حدود میں گھسا ایئر انڈیا کا طیارہ
ہندوستان4 days agoکھرگے نے راجیہ سبھا رکن کے طور پر پھر سے حلف لیا
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ میں زائرین کی بس کھائی میں جا گری؛ کم از کم 20 عقیدت مند زخمی
دنیا1 week agoایران مذاکرات میں غیر معمولی رعایتیں دینے پر مجبور ہوگیا ہے: ٹرمپ کا دعویٰ
دنیا1 week agoہوسکتا ہے کہ میں جلد ہی ایسی خبر دوں کہ ترکیہ خوش ہو جائے:ٹرمپ
ہندوستان1 week agoمان کی ویڈیو کو چھپانے کی کوشش بے نقاب، اب استعفیٰ ہی واحد متبادل : آر پی سنگھ
جموں و کشمیر7 days ago“لیفٹیننٹ گورنر کی پارلیمانی کمیٹی سے اہم ملاقات؛ لداخ کے ترقیاتی اور ماحولیاتی چیلنجز پر تفصیلی بریفنگ
ہندوستان6 days agoآپریشن سندور میں وزیرِ دفاع کے بیان کے تناظر میں کہی جا رہی باتیں گمراہ کن اور غلط: وزارتِ دفاع
دنیا4 days agoمجتبیٰ خامنہ ای کا امریکہ اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کی قانونی کارروائی کا حکم
دنیا1 week agoتہران کی سڑکوں پر رہبر شہید کے جنازے کی تیاری ، بینرز آویزاں
ہندوستان1 week agoاجین زمین گھپلہ میں وائٹ پیپر جاری کرکے معاملہ کی جانچ کرائے حکومت
دنیا3 days agoٹرمپ کے دباؤ سے لبنان میں اسرائیلی فوجی حکمت عملی تبدیل ہوئی: یسرائیل کاٹز





































































































