ہندوستان
ڈاکٹر سہیل رسول میر کی تحریریں کشمیر کی قبائلی تاریخ کی عکاس
خصوصی مضمون: پروندر سَندھو
نئی دہلی، قبائلی برادری کی روایات، ثقافت اور ان کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو قریب سے سمجھنے والے اور کشمیر میں سرحد کے قریب پرورش پانے والے مصنف اور ماہرِ عمرانیات ڈاکٹر سہیل رسول میر کا کہنا ہے کہ ایسے وقت میں جب یہ علاقہ تبدیلی کے دور سے گزر رہا ہے، اس طرح کی دستاویز بندی انتہائی ضروری ہے، ڈاکٹر میر کہتے ہیں کہ ’’میں سرحد کے پاس ایک قصبے میں رہتا ہوں، لیکن قبائلی برادریوں کی منفرد ثقافت، طرزِ زندگی اور ان کے حالاتِ زندگی نے میرے لکھنے کے انداز اور دنیا کو دیکھنے کے نظریے کو جلا بخشی ہے۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ کس طرح جغرافیہ اور زندگی کے تجربات نے ان کی تعلیم اور تحقیق کی سمت متعین کی۔
ڈاکٹر میر نے گزشتہ 12 برسوں میں جموں و کشمیر اور لداخ کے قبائلی علاقوں میں ’ایتھنو گرافک فیلڈ ورک‘ میں خود کو پوری طرح وقف کردیا ہے۔ ان کے مطالعے نے قبائل، سرحدی علاقوں اور نسلی سماجیات کے درمیان ایک خاص جگہ بنائی ہے۔
ان کے اہم تحقیقی کاموں میں وائسز اکراس دی پیر پنجال، دی ہینڈ بک آف درد آریئنز اور کلچرل انسائیکلوپیڈیا آف درد ٹرائب شامل ہیں۔ یہ کتابیں جموں و کشمیر اور لداخ کی قبائلی برادریوں کی تاریخ، ثقافت اور زندہ روایات کو دستاویزی شکل میں محفوظ کرتی ہیں۔
انہوں نے یو این آئی کے ساتھ خصوصی گفتگو میں کہا کہ ’’میری تحقیق نے مجھے قبائلی برادریوں کے قریب کیا اور یہی تعلق مجھے آگے بڑھنے کی تحریک دیتا ہے۔ تحقیق کے دوران منفرد قبائلی ثقافت سے مسلسل وابستگی اور تجربات نے میری کہانی بیان کرنے کی صلاحیت کو متاثر کیا۔ خاص طور پر حساس یا تنازعات سے متعلق موضوعات پر کام کرتے وقت عمرانیاتی سمجھ مجھے جذبات اور حقیقت پسندی کے درمیان توازن قائم رکھنے میں مدد دیتی ہے۔‘‘
کشمیر سے بطور مصنف اپنی شناخت بنانے میں درپیش مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر میر نے کہا کہ تحقیق کے تئیں ان کا جوش اور لگن انہیں آگے بڑھنے میں مدد دیتا ہے۔
اپنے موضوع کے انتخاب کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ’’قبائلی زندگی کے غیر معروف سماجی و ثقافتی تجربات سے میرا تعلق مجھے ان موضوعات کی تحقیق پر آمادہ کرتا ہے۔‘‘ ان کے مطابق جب علاقہ تیزی سے تبدیلی سے گزر رہا ہو تو اس طرح کی دستاویز بندی بے حد اہم ہو جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کی تحقیق کا مقصد یہ ہے کہ آنے والی نسلوں کے لیے جموں و کشمیر اور لداخ کی دیسی ثقافتوں کو محفوظ کرنا ہے تاکہ پرانی ثقافتی وراثت کی جھلک برقرار رہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تنازعات سے متاثر علاقوں کے بارے میں لکھنے کے ساتھ خاص ذمہ داریاں بھی عائد ہوتی ہیں۔ ایک محقق کے طور پر وہ اپنے لوگوں کی حقیقی حالت کو سمجھنے اور اپنی تحریروں کے ذریعے اسے پیش کرنے کو ضروری سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق ان کی تحریریں تجربات اور تحقیق پر مبنی ہوتی ہیں اور وہ صرف وہی بیان کرتے ہیں جو قبائلی معاشرے میں حقیقتاً ہو رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ’’بطور محقق میرا اولین مقصد تعصبات کو ختم کرنا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ادب نے معاشروں اور تہذیبوں کو متاثر کیا ہے اور سچ کو محفوظ رکھنے کی روایت ہمیشہ مخلص اور ایماندار مصنفین کی کاوشوں سے برقرار رہی ہے۔‘‘
ڈاکٹر میر فی الحال ایک نئی کتاب ’’کشمیر تھرو ولیجز فرام پاسٹ ٹو پریزنٹ‘‘ پر کام کر رہے ہیں، جو کشمیری دیہاتوں کا انسان شناسی نقطۂ نظر سے جائزہ پیش کرتی ہے۔اس منصوبے کا مقصد کشمیری روایات، ماحول اور تاریخ کے تنوع اور وسعت کو اجاگر کرنا ہے۔ ان کے مطابق کشمیر کے دیہاتوں میں کشمیر کی اصل جھلک مل سکتی ہے اور یہ پروجیکٹ صدیوں پرانی کشمیری وراثت کو دوبارہ دیکھنے کی ایک کوشش ہے۔‘‘
آخر میں ڈاکٹر میر نے کہا کہ ’’ میں یقینا اپنے تحقیقی کام میں نئی اصناف اور اسلوب آزمانے کی کوشش کروں گا، تعلیمی حلقوں میں جدت پسندی قابلِ قبول بھی ہے اور اسے سراہا بھی جاتا ہے۔‘‘
یو این آئی۔ م ع
ہندوستان
‘اسلام آباد ایم او یو’ پر جے رام رمیش کا مرکز پر حملہ، کہا- مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو بڑا جھٹکا
نئی دہلی، کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے امریکہ اور ایران کے درمیان ہوئے 14 نکاتی ‘اسلام آباد مفاہمت نامے (ایم او یو)’ پر مرکزی حکومت کی خارجہ پالیسی پر حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مودی حکومت کے لیے ایک بڑا جھٹکا ہے انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کو ‘اسلام آباد ایم او یو’ کہا جانا پاکستان کے بڑھتے ہوئے علاقائی اور عالمی کردار کو ظاہر کرتا ہے اور یہ وزیر اعظم نریندر مودی کی خارجہ پالیسی کے لیے شدید جھٹکا ہے۔ مسٹر رمیش نے کہا کہ سال 2008 کے ممبئی دہشت گردانہ حملوں کے بعد اس وقت کے وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے پاکستان کو عالمی سطح پر الگ تھلگ کر دیا تھا، لیکن اب پاکستان مغربی ایشیا کے جیو پولیٹیکل اور سکیورٹی نظام میں زیادہ اثر و رسوخ والا کردار ادا کر رہا ہے، جس کے ہندوستان کے لیے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر یہ ایم او یو اپنے الفاظ اور جذبے کے مطابق نافذ ہوتا ہے تو یہ ایک اہم پیش رفت ہوگی، حالانکہ اس کے ‘میمورنڈم آف مس انڈراسٹینڈنگ’ میں تبدیل ہونے کا خدشہ بھی برقرار ہے۔ ان کے مطابق، اگلے 60 دن اس معاہدے کی کامیابی کے لحاظ سے بے حد اہم ہوں گے۔
کانگریس لیڈر نے دعویٰ کیا کہ اس معاہدے سے ایران کو کئی اہم اور غیر متوقع فوائد ملے ہیں اور اس نے اپنی مزاحمت اور استقامت کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک نے احتیاط کے ساتھ اس معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے، لیکن وہ اپنے اسٹریٹجک تعلقات کا جائزہ بھی لے سکتے ہیں۔
مسٹر رمیش نے اسے اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کی سفارتی شکست قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ وزیر اعظم مودی اب بھی اسرائیل کی پالیسیوں کی حمایت میں کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے تئیں حکومت کا یہ رخ ہندوستان کے مفادات کے لیے مہنگا ثابت ہو رہا ہے۔
انہوں نے امریکہ کے کردار پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف شروع کی گئی فوجی مہمات اپنے اعلان کردہ مقاصد حاصل نہیں کر سکی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے وزیر اعظم مودی پر امریکی صدر کے تئیں خوش
خوشامد پسندی کا الزام لگاتے ہوئے مرکز حکومت کی خارجہ پالیسی کی نکتہ چینی کی۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
سربراہ اجلاس سے الگ برطانیہ، عرب امارات، جاپان، کوریا اور مصر کے لیڈروں سے کی مودی نے بات
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے فرانس کے ایویاں میں جی-7 سربراہ اجلاس سے الگ برطانیہ کے وزیر اعظم سر کیر اسٹارمر اور متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان سے منگل کو دوطرفہ ملاقات کی مسٹر مودی نے جنوبی کوریا کے صدر لی جے-میونگ، جاپان کی وزیر اعظم سنائے تاکائیچی، کینیا کے صدر ولیم روٹو اور مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی سے بھی الگ الگ ملاقات کے دوران دوطرفہ اور عالمی اہمیت کے مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔ مسٹر اسٹارمر اور مسٹر مودی نے گزشتہ سال باہمی دوروں کے بعد سے ہندوستان-برطانیہ تعلقات میں مضبوط رفتار کا جائزہ لیا اور ’ویژن 2035‘ کے تمام اہم ستونوں—تجارت اور اقتصادی ترقی، دفاع اور سکیورٹی، ماحولیاتی کارروائی اور گرین انرجی، ٹیکنالوجی اور اختراع نیز تعلیم اور لوگوں کے باہمی تعلقات—میں ہوئی پیش رفت کا خیرمقدم کیا۔ دونوں رہنماؤں نے جامع اقتصادی اور تجارتی معاہدے کے جلد نافذ ہونے کی امید ظاہر کی۔ انہوں نے مضبوط تعلیمی شراکت داری پر اطمینان کا اظہار کیا اور بنگلورو میں یونیورسٹی آف لیورپول کی طرف سے اپنا کیمپس قائم کرنے اور ممبئی میں یونیورسٹی آف یارک اور یونیورسٹی آف برسٹل کے کیمپس کھولنے کے لیے حال ہی میں ہوئی پیش رفت کا ذکر کیا۔
دونوں رہنماؤں نے مغربی ایشیا اور یوکرین سمیت باہمی دلچسپی کے علاقائی اور عالمی حالات پر خیالات کا تبادلہ کیا۔ انہوں نے ہندوستان-برطانیہ جامع اسٹریٹجک پارٹنرشپ کو مزید مضبوط کرنے کے اپنے مشترکہ عزم کو دہرایا۔ مسٹر مودی اور مسٹر آل نہیان کے درمیان اس سال یہ تیسری ملاقات تھی جس سے ہندوستان-یو اے ای کی مضبوط اور متحرک اسٹریٹجک شراکت داری کا پتہ چلتا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے اس سال جنوری میں صدر آل نہیان کے دورۂ ہندوستان اور مئی میں وزیر اعظم مودی کے دورۂ متحدہ عرب امارات کے نتیجے میں ٹیکنالوجی، تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور دفاع کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون میں ہوئی پیش رفت اور مثبت تبدیلیوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے باہمی دلچسپی کے علاقائی اور عالمی حالات پر بھی خیالات کا تبادلہ کیا۔
وزیر اعظم نے مغربی ایشیا کے خطے میں مستقل امن، سکیورٹی اور استحکام کو فروغ دینے کے لیے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام کی اہمیت پر زور دیا۔ دونوں فریقین نے آبنائے ہرمز سے مسلسل بلا رکاوٹ، محفوظ اور پرامن آمد و رفت اور تجارت جاری رکھنے کی اپیل کی۔ وزیر اعظم نے صدر آل نہیان کو اس سال کے آخر میں ہندوستان کی میزبانی میں ہونے والے برکس بربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے مدعو کیا۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
‘ٹیلی گرام بین’ پر راہل کا مرکزی حکومت پر الزام، ”پیپر لیک مافیا پر نہیں، طالب علموں کے خلاف کارروائی کر رہی ہے حکومت“
نئی دہلی، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے مبینہ ’ٹیلی گرام بین‘ کے تعلق سے مرکزی حکومت پر الزام لگایا ہے کہ پیپر لیک روکنے کے نام پر حکومت اصل قصورواروں کے بجائے طالب علموں کو نشانہ بنا رہی ہے مسٹر گاندھی نے کہا کہ لاکھوں طالب علم برسوں سے ٹیلی گرام کا استعمال پڑھائی، نوٹس، ٹیسٹ سیریز، مباحثہ اور مسابقتی امتحانات کی تیاری کے لیے کرتے ہیں۔ ایسے میں اس سہولت کو بند کرنا پیپر لیک کا حل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ حکومت چور کو پکڑنے کے بجائے متاثرہ کے گھر پر تالا لگا رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ قدم نہ تو مؤثر ہے اور نہ ہی پیپر لیک روکنے کا مستقل علاج۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر اس سے بھی مسئلے کا حل نہیں ہوا تو کیا اگلی پابندی واٹس ایپ پر لگائی جائے گی
کانگریس لیڈر نے کہا کہ امتحان کے دوران طالب علموں کی سخت تلاشی، جیبیں کاٹ کر جانچ اور سوالناموں کو فضائیہ (ایئرفورس) سے بھیجنے جیسے اقدامات محض دکھاوا ہیں۔ ان کے مطابق، حکومت پیپر لیک کے اصل مسئلے پر کارروائی کرنے سے بچ رہی ہے، جبکہ پیپر لیک مافیا نوجوانوں کے مستقبل سے لگاتار کھلواڑ کر رہا ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی سے اپیل کی کہ دکھاوٹی اقدامات کے بجائے پیپر لیک مافیا پر سخت کارروائی کی جائے، طالب علموں پر نہیں۔ مسٹر گاندھی نے انتباہ دیا کہ اگر نوجوانوں کی آواز نہیں سنی گئی تو ملک کا نوجوان اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کرنا جانتے ہے۔
یو این آئی ایف اے
جموں و کشمیر1 week agoاین سی ایل ٹی نے سراج العلوم کے لیے عبوری لیکویڈیٹر مقرر کر دیا، اثاثے منجمد
ہندوستان1 week agoفضائیہ کا مال بردار طیارہ حادثے کا شکار، پانچ اہلکار شہید
دنیا6 days ago‘ٹرمپ کامعاہدہ ہمیں پابند نہیں کرتا’، اسرائیلی وزیر ایران امریکہ معاہدے پر سیخ پا
ہندوستان3 days ago‘اسلام آباد ایم او یو’ پر جے رام رمیش کا مرکز پر حملہ، کہا- مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو بڑا جھٹکا
دنیا1 week agoامریکہ نے ایران کے جوہری مواد پر قبضے کیلئے زمینی کارروائی کا منصوبہ بنالیا تھا تاہم ٹرمپ پیچھے ہٹ گئے: امریکی میڈیا
دنیا1 week agoایران معاہدے سے متعلق ٹرمپ کے مؤقف پر نیتن یاہو کا ردِعمل سامنے آگیا
دنیا6 days agoعین وقت پر امریکہ ایران امن معاہدے میں تاخیر اسرائیلی حملے کے سبب
دنیا6 days agoتاریخی ڈیل مکمل، امریکہ اور ایران نے جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کردی
دنیا4 days agoایرانی آرمی چیف کا دفاعی طاقت مزید بڑھانے کا اعلان
جموں و کشمیر1 week agoشمالی کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریب پی او جے کے کا 19 سالہ نوجوان گرفتار
دنیا1 week agoامریکہ ایران معاہدے پر کل دستخط نہیں ہوں گے: ایرانی وزارت خارجہ
دنیا4 days agoجی سیون ممالک کا امریکہ اور ایران امن معاہدے کی حمایت کا اعلان





































































































