جموں و کشمیر
جموں و کشمیر کے رہنماؤں نے امریکہ–ایران جنگ بندی کا خیرمقدم کیا، گلیوں میں جشن
سرینگر، جموں و کشمیر کے سیاستدانوں نے بدھ کے روز امریکہ–ایران جنگ بندی کا خیرمقدم کیا۔ یونین ٹیریٹری اور لداخ کے کئی حصوں میں جشن منایا گیا۔
جنگ بندی کے اعلان نے وادی کشمیر اور کرگل ضلع میں جذباتی ردعمل کو جنم دیا، جہاں بڑی تعداد میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے، نعرے لگائے اور اسے ایران کی “فتح” قرار دیا۔ کچھ علاقوں میں رہائشیوں نے خوشی کے اظہار کے لیے پٹاخے بھی چھوڑے۔
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جنگ کے نتیجے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے اس جنگ سے کیا حاصل کیا۔
انہوں نے ایک پوسٹ میں لکھاکہ “تو جنگ بندی ایک آبنائے کو دوبارہ کھولنے دیتی ہے، جو جنگ شروع ہونے سے پہلے سب کے لیے آزادانہ دستیاب تھی۔ آخر یہ 39 روزہ جنگ امریکہ کے لیے کیا لے کر آئی #UnjustWar”
نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کبھی حل نہیں ہوتی بلکہ صرف تباہی لاتی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جاری سفارتی کوششیں دیرپا امن کی راہ ہموار کریں گی۔
انہوں نے کہا کہ تنازع نے جموں و کشمیر کے لوگوں کو بھی متاثر کیا ہے، خاص طور پر وہ جو خلیجی ممالک میں کام کرتے ہیں اور اپنے خاندانوں کو ترسیلات بھیجتے ہیں۔ ان کی زندگیاں ہل گئی ہیں اور استحکام کب آئے گا اس پر غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے ایران کی “بہادری” کی تعریف کی کہ اس نے امریکہ اور اسرائیل کو مذاکرات کی میز پر لایا۔ انہوں نے پاکستان کے کردار کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ دنیا کو تباہی کے دہانے سے واپس لانے میں اس کی کوششوں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
حریت چیئرمین میر واعظ عمر فاروق نے کہا کہ دو ہفتے کی جنگ بندی امن کی طرف ایک خوش آئند قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ تصادم کے بجائے مکالمہ کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی (جے کے پی سی سی) کے صدر طارق کارا نے جنگ بندی کو “دانشمندانہ اور بروقت قدم” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ لمحہ ظاہر کرتا ہے کہ پائیدار اثر صرف طاقت سے نہیں بلکہ صبر اور عزم سے بنتا ہے۔
آل پارٹی سکھ کوآرڈینیشن کمیٹی کے چیئرمین جگموہن سنگھ رائنا نے بھی جنگ بندی کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ یہ عالمی امن کے لیے مثبت پیش رفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کی شدت کا اثر کشمیر جیسے علاقوں پر پڑتا، خاص طور پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور قلت کے حوالے سے۔
یواین آئی۔ ظا
جموں و کشمیر
اپنی پارٹی نے ریاستی درجہ کی بحالی کی حمایت برقرار رکھتے ہوئے این سی کے دہلی احتجاج سے دور رہنے کا اعلان کیا
سری نگر، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) اور پیپلز کانفرنس کے بعد اپنی پارٹی نے بھی نیشنل کانفرنس (این سی) کی جانب سے 20 جولائی کو نئی دہلی کے جنتر منتر پر ریاستی درجہ کی بحالی کے مطالبے کے حق میں مجوزہ دھرنے میں شریک نہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم پارٹی نے جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ بحال کرنے کے مطالبے کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔
یہ فیصلہ ہفتہ کو سری نگر میں اپنی پارٹی کے مرکزی دفتر میں منعقدہ سینئر قیادت کے اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس کے بعد پارٹی صدر الطاف بخاری نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ریاستی درجہ کی بحالی جموں و کشمیر کے عوام کی خواہشات کی عکاس ہے اور ان کی جماعت اس مطالبے کی مکمل حمایت کرتی ہے، لیکن غور و خوض کے بعد متفقہ طور پر طے کیا گیا ہے کہ وہ نیشنل کانفرنس کے دہلی احتجاج کا حصہ نہیں بنیں گے۔
الطاف بخاری نے کہا کہ اپنی پارٹی کا ماننا ہے کہ جموں و کشمیر کے عوام کو درپیش مسائل، ان کی جائز شکایات، ریاستی درجہ کی بحالی اور دیگر آئینی حقوق جیسے مطالبات احتجاج یا محاذ آرائی کے بجائے حکومت ہند کے ساتھ بامعنی مذاکرات کے ذریعے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کا یقین بات چیت اور مفاہمت پر ہے، نہ کہ احتجاج اور تصادم پر۔
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ دلانا اپنی پارٹی کے قیام کے روز اول سے اس کے بنیادی ایجنڈے کا حصہ رہا ہے۔ 8 مارچ 2020 کو پارٹی کے قیام کے وقت ہی عوام کے حقوق، ریاستی درجہ کی بحالی، زمین اور سرکاری ملازمتوں پر مقامی لوگوں کے خصوصی حقوق کے تحفظ اور دیگر آئینی و جمہوری حقوق کے لیے جدوجہد کا عہد کیا گیا تھا۔
مسٹر بخاری نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی نئی دہلی کے ساتھ تصادم کی راہ اختیار کی گئی، جموں و کشمیر کے عوام اپنے حقوق سے محروم ہوتے گئے۔ اسی لیے ان کی جماعت کا ماننا ہے کہ عوام کے حقوق اور امنگوں کے حصول کے لیے تعمیری رابطہ اور بامعنی مذاکرات ہی سب سے مؤثر راستہ ہیں۔
انہوں نے ریاستی درجہ کی بحالی کے معاملے پر نیشنل کانفرنس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس نے اس اہم معاملے پر دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ وسیع مشاورت سے گریز کیا۔
یو این آئی۔ م س
جموں و کشمیر
جموں سے 3,600 سے زائد ۔امرناتھ یاترا کے زائرین کا نیا جھتہ روانہ
جموں، سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان ہفتہ کے روز جنوبی کشمیر کے ہمالیہ میں واقع غار کے دونوں بنیادی کیمپوں کے لیے جموں کے بھگوتی نگر یاتری نواس بیس کیمپ سے امرناتھ یاترا کے 3,600 سے زائد زائرین کا ایک نیا جھتہ روانہ ہوا۔
حکام نے بتایا کہ 3,632 زائرین آج علی الصبح جموں بیس کیمپ سے 148 گاڑیوں کے قافلے میں روانہ ہوئے جس میں ہلکی اور بھاری گاڑیاں شامل تھیں۔ اس جھتے میں 1,008 زائرین بالتل اور 2,624 پہلگام کے لیے شامل تھے۔ وہ ایک کثیر سطحی حفاظتی نظام کے تحت یاترا کے لیے روانہ ہوئے، جس میں سول انتظامیہ، پولیس، سکیورٹی فورسز اور امرناتھ شرائن بورڈ کے درمیان مربوط انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ یاترا محفوظ، مامون اور خوش اسلوبی سے جاری رہے۔ امرناتھ یاترا نے محض 15 دنوں میں 3.5 لاکھ کا ہندسہ عبور کر کے ایک نیا تاریخی ریکارڈ قائم کیا ہے۔ جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے 2 جولائی کو جموں سے یاترا کے پہلے جھتے کو ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا تھا۔
یو این آئی۔ ایم جے
جموں و کشمیر
امرناتھ یاترا: جموں و کشمیر کے ادھم پور میں سڑک حادثے میں پانچ زائرین زخمی
جموں، جموں و کشمیر کے ضلع ادھم پور میں جکھانی کے پاس ہفتہ کے روز ایک گاڑی کے حادثے کا شکار ہو جانے سے کم از کم پانچ امرناتھ یاتری زخمی ہو گئے۔
پولیس نے بتایا کہ ایک ایس یو وی گاڑی، جو آج صبح جموں سے سری نگر کی طرف جانے والے قافلے کا حصہ تھی، جکھانی علاقے میں سڑک کے کنارے کھڑے ایک ڈمپر سے ٹکرا گئی۔
جموں-سری نگر قومی شاہراہ پر یاترا کی ڈیوٹی پر مامور پولیس، فوج اور نیم فوجی دستوں نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا۔پولیس نے بتایا کہ تمام پانچوں زخمی افراد کی حالت مستحکم ہے۔
دریں اثنا، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے صورتحال کا جائزہ لیا۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنر ادھم پور منگا شیرپا اور طبی حکام سے بات کی اور گورنمنٹ میڈیکل کالج، ادھم پور میں زیر علاج زخمیوں کو بہترین ممکنہ طبی دیکھ بھال فراہم کرنے کی ہدایت دی۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر ادھم پور اور طبی حکام سے بات کی اور آج صبح سویرے ادھم پور کے جکھانی کے پاس سڑک کے حادثے میں زخمی ہونے والے امرناتھ جی یاترا کے زائرین کی صحت کے بارے میں دریافت کیا۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان4 days agoپیپر لیک کے خلاف جنتر منتر پر احتجاج کر رہے طلبہ کے نام تھرور کا کھلا خط
دنیا4 days agoاگلے ہفتے ایران کے بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنائیں گے، ٹرمپ
دنیا2 days agoہرمز جنگ سے پہلے والی حالت میں نہیں آئے گی، ایران
ہندوستان5 days agoہندستان نے سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کی امیدواری پیش کی، کہا وہ محفوظ اور خوشحال دنیا کے لیے پرعزم
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر کنٹرول کی جنگ میں ایران اور عمان آمنے سامنے
دنیا1 week agoایران نے اقوام متحدہ سے امریکہ کے احتساب کا مطالبہ کر دیا
دنیا4 days agoامریکہ نے ایران کی 130 ملین ڈالر سے زائد مالیت کی کرپٹو کرنسی منجمد کردی
دنیا4 days agoامریکی ناکہ بندی سے قبل ایران سے وابستہ 9 جہازوں نے آبنائے ہرمز عبور کی
دنیا1 week agoوینزویلا میں تباہ کن زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 4 ہزار سے تجاوز کر گئی، ہنگامی امداد کی اپیل
ہندوستان5 days agoخردہ مہنگائی 17 مہینے کی بلند ترین سطح پر، کانگریس نے مرکزی حکومت پر عوام پر بوجھ بڑھانے کا لگایا الزام
دنیا5 days agoامریکی صدر ٹرمپ کا ایران پر مزید شدید حملوں کا اعلان
جموں و کشمیر1 day agoجموں سے 3,600 سے زائد ۔امرناتھ یاترا کے زائرین کا نیا جھتہ روانہ








































































































