جموں و کشمیر
کشمیر میں نئی ریلوے لائنوں کا سروے مکمل، حکومت کا زمین مالکان کو مکمل معاوضہ دینے کا یقین
جموں، جموں و کشمیر حکومت نے جمعرات کو اسمبلی میں کہا ہے کہ وادی کشمیر میں مجوزہ ریلوے توسیعی منصوبوں کے سلسلے میں ناردرن ریلوے کی جانب سے فائنل لوکیشن سروے مکمل کیا جا رہا ہے اور منصوبے منظور ہونے کی صورت میں زرعی اور باغیاتی اراضی متاثر ہونے پر زمین مالکان کو قانون کے مطابق مکمل معاوضہ فراہم کیا جائے گا۔
یہ بات لولاب کے رکن اسمبلی کے ایک سوال کے تحریری جواب میں وزیر ٹرانسپورٹ نے بتائی۔
حکومت نے واضح کیا کہ وادی میں متعدد نئی ریلوے لائنوں کے لیے زمین کی ضرورت کا تخمینہ لگایا جا چکا ہے اور ان راستوں کی حد بندی متعلقہ ضلعی انتظامیہ سے مشاورت کے بعد طے ہو چکی ہے۔ وزیر کے مطابق اگر یہ منصوبے باضابطہ طور پر منظور ہوتے ہیں تو حصولِ اراضی کے دوران درختوں، ڈھانچوں اور زرعی زمین کے نقصان کے عوض زمین مالکان کو قابلِ اطلاق قوانین کے تحت ادائیگی کی جائے گی۔
جواب میں بتایا گیا کہ جیسے ہی ان منصوبوں کو مرکزی حکومت کی منظوری ملے گی، ماحولیات کے تحفظ سے متعلق تمام تخفیفی اقدامات اختیار کیے جائیں گے تاکہ جنگلاتی کمی، مٹی کے کٹاؤ، پانی کے وسائل پر اثرات اور ماحولیاتی توازن کو ممکنہ نقصان سے بچایا جا سکے۔ حکومت نے کہا کہ ان منصوبوں کے دوران ریلوے لائن کی تیاری، سرنگوں کی کھدائی اور تعمیراتی سرگرمیوں سے وادی کی زراعت اور ماحولیات پر کم سے کم اثر یقینی بنانے کے لیے مرکزی حکومت، ریلوے حکام اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مربوط رابطہ جاری رکھا جائے گا۔
حکومت نے یہ بھی بتایا کہ بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور کشمیر کی نازک ماحولیاتی ساخت کے تحفظ کے درمیان توازن برقرار رکھنے کے لیے ایک طویل المدتی پالیسی مرتب کی جا رہی ہے، جس کے تحت منصوبوں کی باقاعدہ نگرانی کے لیے ایک مؤثر میکانزم قائم کیا جائے گا۔
وزیر ٹرانسپورٹ نے کہا کہ تمام مجوزہ ریلوے لائنوں کو اسی اصول کے تحت آگے بڑھایا جائے گا کہ وادی کے ماحول، زراعت اور مقامی زندگی پر کم سے کم اثر پڑے، اور متاثرہ کسانوں کی مکمل بازآبادکاری حکومت کی اولین ترجیح رہے گی۔
یو این آئی ارشید بٹ،ایم افضل
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا

بارہمولہ کے بوائز ہائر سیکنڈری اسکول میں جمعرات کے روز منشیات سے متعلق ایک بیداری پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ یہ پروگرام نشہ مکت بھارت ابھیان کے تحت سول ڈیفنس بارہمولہ کی جانب سے، ایس ڈی آر ایف/ڈیزاسٹر رسپانس ڈویژن بارہمولہ کے تعاون سے منعقد ہوا۔
اس پروگرام میں گیارہویں اور بارہویں جماعت کے طلبہ کی بڑی تعداد نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی، جو نوجوانوں میں منشیات کے استعمال اور اس کے نقصانات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی آگاہی اور تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔ پروگرام کا آغاز ایک تعارفی نشست سے ہوا جس میں مقامی اور قومی سطح پر منشیات کے بڑھتے رجحان، اہم خطراتی عوامل اور بروقت روک تھام کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔
ماہرین کی ٹیم میں ڈاکٹر بالی (ڈویژنل وارڈن، سول ڈیفنس بارہمولہ)، محترمہ روحیلا (سینئر سائیکالوجسٹ)، جناب عابد سلیم (کلینیکل سائیکالوجسٹ) اور جناب ایوب (سیکٹر وارڈن، سول ڈیفنس) شامل تھے۔ ان ماہرین نے طلبہ کو منشیات کے جسمانی، نفسیاتی اور سماجی اثرات سے آگاہ کیا اور بروقت بیداری اور احتیاطی تدابیر کی اہمیت پر زور دیا۔
اس پروگرام کا مقصد طلبہ کو منشیات کی بڑھتی ہوئی وبا کے خطرات سے آگاہ کرنا، انہیں معلومات سے بااختیار بنانا اور ایک منشیات سے پاک معاشرے کی تعمیر میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دینا تھا۔
اپنے بیان میں ڈاکٹر عنایت میر، چیف وارڈن سول ڈیفنس بارہمولہ، نے کہا کہ منشیات کی لت کو جو روایتی طور پر ایک صحت عامہ کا مسئلہ سمجھا جاتا تھا، اب ایک سنجیدہ سماجی، تزویراتی اور قومی سلامتی کے چیلنج کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر سرحدی اور حساس علاقوں میں ابھرتے رجحانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ منشیات کا پھیلاؤ محض اتفاقی نہیں بلکہ ایک منظم حکمت عملی کے تحت معاشروں کو اندر سے کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جو ہائبرڈ جنگ کا حصہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ منشیات کے منظرنامے میں تبدیلی فردی مسئلے سے بڑھ کر اجتماعی کمزوری کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ نوجوانوں کی صلاحیتوں کا زوال، سماجی ڈھانچے کی کمزوری اور انسانی کمزوریوں کا استعمال اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ معاشرتی استحکام کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس تناظر میں منشیات کا پھیلاؤ ایک ایسا ہتھیار بن چکا ہے جو کم نظر آتا ہے مگر اس کے اثرات انتہائی گہرے ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر میر نے زور دیا کہ منشیات کی لت کو صرف طبی مسئلہ سمجھنے کے بجائے ایک سماجی اور تزویراتی خطرہ سمجھا جائے جس کے لیے فوری اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قوم کی طاقت صرف اس کی سرحدوں میں نہیں بلکہ اس کے معاشرے کی صحت، مضبوطی اور یکجہتی میں ہوتی ہے۔ نوجوانوں کا تحفظ، سماجی ہم آہنگی کا فروغ اور منشیات کے نیٹ ورکس کا خاتمہ قومی سلامتی کے اہم تقاضے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ خاموش وبا ایک مستقل خطرے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
پروگرام کے اختتام پر طلبہ اور ماہرین کے درمیان ایک باہمی تبادلہ خیال ہوا، جس میں اجتماعی ذمہ داری، باشعور فیصلے اور نوجوانوں کی فعال شرکت کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
جموں و کشمیر
جموں کشمیر: کالج پکنک پر جا رہی 20 سالہ لڑکی بس سے گر کر ہلاک
جموں، جموں و کشمیر کے ضلع ادھم پور میں ایک 20 سالہ لڑکی کالج پکنک پر جاتے ہوئے بس سے گر کر ہلاک ہو گئی۔
پولیس کے مطابق متوفیہ کی شناخت انجلی چودھری کے طور پر ہوئی ہے، جو جموں کے علاقے میراں صاحب کی رہائشی تھی۔
وہ ضلع ادھم پور میں کھیری کے مقام پر چلتی بس سے اچانک نیچے گر گئی۔ پولیس نے بتایا کہ “لڑکی اپنے کالج کے ساتھیوں کے ساتھ سیاحتی مقام پتنی ٹاپ (جو ادھم پور سے تقریباً 50 کلومیٹر دور ہے) پکنک منانے جا رہی تھی۔”
مقتولہ گورنمنٹ گاندھی نگر کالج فار وومین، جموں میں چوتھے سمسٹر کی طالبہ تھی۔ واقعے کے فوراً بعد پولیس اور مقامی لوگوں نے اسے ضلع اسپتال منتقل کیا، جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دیا۔
جموں و کشمیر کی وزیرِ تعلیم سکینہ اتو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’گورنمنٹ کالج فار وومین، گاندھی نگر، جموں کی چوتھے سمسٹر کی طالبہ انجلی چودھری کی المناک موت کی خبر سن کر انتہائی دکھ ہوا۔ وہ آج صبح اپنے ساتھی طلبہ کے ہمراہ پتنی ٹاپ پکنک پر جاتے ہوئے ادھم پور کے قریب ایک حادثے میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھی۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ موصولہ اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ صبح تقریباً 10:30 بجے ادھم پور سے ایک کلومیٹر پہلے پیش آیا۔
وزیرِ تعلیم نے سوگوار خاندان اور کالج کے عملے سے دلی تعزیت کا اظہار کیا اور متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ متاثرہ خاندان کو ہر ممکن امداد فراہم کی جائے۔
یو این آئی۔ م ع
جموں و کشمیر
اننت ناگ: جموں و کشمیر پولیس نے کروڑوں کی جائیدادیں منجمد کر دیں
سری نگر، اننت ناگ ضلع میں منشیات کی اسمگلنگ اور اس کے مالی نیٹ ورک کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے جموں و کشمیر پولیس نے این ڈی پی ایس ایکٹ کی دفعہ 68-ایف کے تحت چار رہائشی جائیدادیں منجمد کر دی ہیں۔
یہ جائیدادیں ان افراد سے منسلک بتائی جا رہی ہیں جو مبینہ طور پر ضلع میں غیر قانونی منشیات کے کاروبار میں ملوث ہیں۔
جاری کردہ بیان کے مطابق جن افراد کی جائیدادیں منجمد کی گئی ہیں ان کی شناخت رئیس احمد ڈار، سبزار احمد ڈار، مدثر احمد ڈار اور زاہد احمد ڈار کے طور پر ہوئی ہے، جو کہ تلخان، بیجبہارہ کے رہائشی ہیں۔ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ جائیدادیں غیر قانونی منشیات کی سرگرمیوں سے حاصل ہونے والی آمدنی سے بنائی گئی تھیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ این ڈی پی ایس ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت مجاز اتھارٹی نے ان اثاثوں کو منجمد کرنے کا حکم دیا ہے۔
منجمد کی گئی جائیدادوں کی مجموعی مالیت تقریباً 2.25 کروڑ روپے بتائی گئی ہے۔
پولیس کے مطابق یہ کارروائی جموں و کشمیر پولیس کے اس عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ منشیات کے نیٹ ورک کے مالی ڈھانچے کو ختم کرنے اور ضلع میں منشیات کے ناسور پر قابو پانے کے لیے مسلسل اقدامات جاری رکھے گی۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر6 days agoلداخ کو آخرکار آدھار میں علیحدہ شناخت مل گئی، ‘ریاست’ کے خانے میں جموں و کشمیر کی جگہ لے لی
ہندوستان1 week agoمغربی ایشیا کے بحران کے باعث عالمی بینک نے مالی سال 27 کے لیے ہندوستان کی شرح نمو کم کر کے 6.6 فیصد کر دی
دنیا1 week agoدنیا ایران کو آبنائے ہرمز عبور کرنے کے لیے ادائیگی قبول نہیں کرے گی: متسوتاکس
ہندوستان1 week agoہندوستان نے ایران میں مقیم اپنے شہریوں کو فوری طور پر ملک چھوڑنے کا مشورہ دیا
جموں و کشمیر1 week agoمنشیات کے کیس میں ملوث ہونے پر جموں و کشمیر میں خاتون پولیس اہلکار ملازمت سے برطرف
ہندوستان1 week agoہندوستان نے مغربی ایشیا میں جنگ بندی کا خیر مقدم کیا، مستقل امن کی اپیل
جموں و کشمیر4 days agoسوپور اسکول میں بدعنوانی کے الزامات، لیکچرر معطل
دنیا1 week agoایران کی پہلی 10 نکاتی تجویز مسترد، نئی تجاویز پر ایران اور پاکستان سے بات چیت ہورہی ہے: جے ڈی وینس
جموں و کشمیر1 week agoایل جی نے 11 اپریل سے شروع ہونے والی 100 روزہ ‘نشہ مکت جموں و کشمیر ‘ مہم کی تیاریوں کا جائزہ لیا
دنیا1 week agoایران سے دوبارہ جنگ کیلئے تیار ہیں: نیتن یاہو
دنیا4 days agoجنگ بندی برقرار ہے، ایرن میز پر واپس آئے گا: ڈونلڈ ٹرمپ
دنیا4 days agoلبنان میں اسرائیلی حملوں سے شہید افراد کی تعداد 2 ہزار سے تجاوز کر گئی











































































































