جموں و کشمیر
بارہمولہ پولیس نے کانسٹیبل کی نظرثانی درخواست مسترد کی، سزا برقرار
سری نگر، جموں و کشمیر میں بارہمولہ کی پولیس نے ایک کانسٹیبل کی نظرثانی کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے عام لوگوں کے ساتھ بدسلوکی کے معاملے میں دی گئی سزا کو برقرار رکھا ہے۔
پولیس کے مطابق تحقیقات میں پایا گیا تھا کہ پولیس پوسٹ ‘باب ریشی’ میں تعینات سید سجاد احمد مقامی دکانداروں سے رقم ادا کیے بغیر بار بار سامان لیتے تھے، جب کہ انہیں پہلے ہی اس حوالے سے تنبیہ کی جا چکی تھی۔ متعلقہ اہلکار کا یہ طرزِ عمل بار بار، دانستہ اور ایک پولیس افسر کے عہدے کے منافی تھا، جس سے عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچی۔
اس معاملے میں پہلے ‘تین سال کے لیے سالانہ تنخواہ میں اضافہ روکنے’ کی سزا دی گئی تھی، جسے نظرثانی کے بعد بھی مکمل طور پر برقرار رکھا گیا ہے۔ درخواست میں ذاتی مشکلات اور پشیمانی کا حوالہ دیا گیا تھا، لیکن کسی نئے حقیقت یا طریقہ کار کی غلطی کا سراغ نہیں ملا، جس کی بنا پر اصل حکم میں مداخلت کو مناسب نہیں سمجھا گیا۔
پولیس نے کہا کہ بدسلوکی کی سنگینی اور عوام کے بھروسے پر اس کے اثرات کو دیکھتے ہوئے یہ سزا مناسب ہے۔
بارہمولہ پولیس نے واضح کیا کہ وہ اختیارات کے غلط استعمال اور عوامی اعتماد کو متاثر کرنے والے رویے کو ہرگز برداشت نہیں کرے گی اور اس کے خلاف ‘زیرو ٹولرینس’ کی پالیسی اپنائے ہوئے ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ پولیس فورس کے اندر ایمانداری، شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنانے کے لیے سخت تادیبی کارروائی جاری رہے گی۔
یو این آئی۔ م ع
جموں و کشمیر
ای او ڈبلیو نے بیرونِ ملک ملازمت دلانے کے نام پر دھوکہ دہی کرنے والے تعلیمی مشیر کے خلاف چارج شیٹ داخل کی
سری نگر، جموں و کشمیر کی اقتصادی جرائم کی روک تھام سے متعلق شاخ (ای او ڈبلیو) نے بحرین میں ملازمت دلانے کا جھانسہ دے کر متعدد نوجوانوں سے مبینہ طور پر لاکھوں روپے کی دھوکہ دہی کرنے کے الزام میں سری نگر کے ایک تعلیمی مشیر کے خلاف چارج شیٹ عدالت میں داخل کر دی ہے۔ حکام نے جمعہ کو یہ اطلاع دی۔
سال 2021 کے اس مقدمے میں سری نگر کے جامع مسجد علاقے کے عالی کدل کے رہائشی فیاض احمد زرگر کے خلاف چیف جوڈیشل مجسٹریٹ، سری نگر کی عدالت میں دھوکہ دہی اور جعلسازی کے الزامات کے تحت چارج شیٹ پیش کی گئی ہے۔
ای او ڈبلیو کے مطابق یہ مقدمہ ایک تحریری شکایت کی بنیاد پر درج کیا گیا تھا۔ شکایت میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ ملزم سری نگر کے کران نگر میں میسرز ایچ آر چوائس انٹرنیشنل ایجوکیشن کنسلٹنسی چلاتا تھا اور اس نے شکایت کنندہ کو بحرین میں ملازمت دلانے کا جھوٹا یقین دلا کر اپنے جال میں پھنسایا۔
تحقیقات کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ ملزم نے اسی طریقۂ واردات سے متعدد دیگر ملازمت کے خواہش مند نوجوانوں کو بھی مبینہ طور پر دھوکہ دیا۔ اس پر الزام ہے کہ اس نے متاثرین سے لاکھوں روپے وصول کیے اور انہیں ملازمت کی فراہمی کا یقین دلانے کے لیے جعلی تقرری نامے، ویزے، فضائی ٹکٹ اور دیگر فرضی دستاویزات فراہم کیے۔
متاثرین کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے ان کے آن لائن انٹرویو اور طبی معائنے بھی کرائے گئے اور ان سے معاہدوں پر دستخط کروائے گئے، تاہم بعد میں نہ تو انہیں کوئی ملازمت فراہم کی گئی اور نہ ہی ان سے وصول کی گئی رقم واپس کی گئی۔
کرائم برانچ نے کہا کہ تحقیقات کے دوران تمام الزامات درست پائے گئے۔ ای او ڈبلیو کے مطابق ضروری قانونی کارروائیاں مکمل کرنے کے بعد ملزم کو چارج شیٹ کے ساتھ عدالت میں پیش کر دیا گیا ہے۔
یو این آئی۔ اے ایم۔ایف اے
جموں و کشمیر
جموں کشمیر: سخت سکیورٹی اور مذہبی جوش و خروش کے بیچ امرناتھ یاترا شروع
سری نگر، جموں کشمیر میں ہر سال ہونے والی شری امرناتھ یاترا جمعہ کو پہلگام اور بالتال، دونوں راستوں سے شروع ہوئی۔
ہزاروں یاتری پورے جوش اور سخت سکیورٹی کے درمیان مقدس گپھا کی طرف روانہ ہوئے۔
تقریباً پانچ ہزار یاتریوں کا پہلا جتھہ جمعرات کو کشمیر وادی پہنچا تھا، جسے جموں سے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا تھا۔ ننوان آدھار شیور میں، اننت ناگ کے ڈپٹی کمشنر بلال بھٹ اور ایس ایس پی اننت ناگ آمود ناگپورے نے پہلگام روٹ سے جانے والے یاتریوں کو ہری جھنڈی دکھائی اور ان کی یاترا کے محفوظ اور کامیاب ہونے کی خواہش کی۔ بالتال، گاندربل میں ہلکی بوندا باندی نے وہاں کے پرسکون ماحول کو اور بھی خوشگوار بنا دیا، جبکہ عقیدت مند گپھا مندر کی طرف اپنی یاترا جاری رکھے ہوئے تھے۔
افسران نے اس سال کی یاترا کے لیے جموں کشمیر میں اب تک کی سب سے بڑی سالانہ سکیورٹی مہم شروع کی ہے۔ محفوظ یاترا یقینی بنانے کے لیے کئی سطحوں والا سکیورٹی گھیرا، دونوں راستوں پر نو فلائی زون، واچ ٹاور، سخت نگرانی اور یاتریوں کے قافلے کی رئیل ٹائم مانیٹرنگ جیسے انتظامات کیے گئے ہیں۔ پولیس نے سبھی رجسٹرڈ سروس پرووائیڈرز (جیسے پونی رائڈرز) کو چھیڑ چھاڑ سے پاک کیو آر کوڈ والے شناختی کارڈ جاری کیے ہیں، تاکہ ان کے شناختی کارڈ کی فوراً جانچ ہو سکے اور عسکریت پسندوں کو سپورٹ اسٹاف بن کر گھسنے سے روکا جا سکے۔
اس کے علاوہ، یاتریوں، گاڑیوں اور سروس دینے والوں کے لیے آر ایف آئی ڈی ٹیگ جاری کیے گئے ہیں تاکہ ان کی رئیل ٹائم ٹریکنگ کی جا سکے۔ ساتھ ہی، سی سی ٹی وی کیمروں کا ایک بڑا نیٹ ورک دونوں یاترا راستوں پر آمد و رفت پر نظر رکھ رہا ہے۔ افسران نے کہا کہ یاترا کو خوش اسلوبی اور محفوظ طریقے سے مکمل کرانے کے لیے سبھی انتظامات کیے گئے ہیں۔ یاتریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ سکیورٹی اہلکاروں اور یاترا افسران کی ہدایات پر سختی سے عمل کریں، صرف مجاز قافلوں میں ہی سفر کریں، جائز شناختی کارڈ ساتھ رکھیں، بغیر تصدیق والی معلومات یا افواہیں نہ پھیلائیں، اور کسی بھی مشکوک سرگرمی، لاوارث چیز یا ہنگامی صورتحال کی اطلاع فوراً قریبی پولیس اہلکاروں کو دیں یا ہنگامی ہیلپ لائن کے ذریعے مطلع کریں۔
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
مذاکرات ہی واحد راستہ: جموں کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی ہند۔پاک امن عمل کی پرزور حمایت
سرینگر، جموں و کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (جے کے ایس اے) نے جمعرات کو ہند۔پاک کے درمیان تعمیری مذاکرات کی بحالی کی حمایت کی ہے اور کہا ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن، علاقائی استحکام اور مشترکہ خوشحالی صرف مسلسل سفارتی روابط، باہمی احترام اور پرامن گفتگو کے ذریعے ہی حاصل کی جا سکتی ہے۔ہندوستان کے سیکورٹی سے متعلق جائز خدشات کو تسلیم کرتے ہوئے اور ہر قسم کی دہشت گردی کی واضح الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے، جے کے ایس اے نے کہا کہ کشیدگی کو کم کرنے، ٹکراؤ کو روکنے اور پائیدار امن کے لیے سازگار ماحول تیار کرنے کے لیے بامقصد بات چیت ایک ناگزیر ذریعہ ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشیائی ممالک کے درمیان بہتر علاقائی تعاون سے تجارت، تعلیم، جدت (انوویشن)، سیاحت اور اقتصادی ترقی کو فروغ مل سکتا ہے۔ تنازع کی وجہ سے جان گنوانے والے فوجیوں، سیکورٹی اہلکاروں اور شہریوں کو سب سے بڑا خراجِ عقیدت یہ ہوگا کہ ذمہ دارانہ سفارت کاری کے ذریعے مستقبل میں انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جائے، جبکہ دہشت گردی کے خلاف سخت مؤقف پر قائم رہا جائے۔ جموں و کشمیر کے نوجوانوں کے لیے امن محض ایک خواہش نہیں بلکہ ایک ضرورت ہے۔
جموں کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے قومی کنوینر ناصر کھوہامی نے ایک بیان میں کہا کہ جموں و کشمیر کے لوگوں نے دہائیوں سے جاری تنازع کے انسانی، سماجی اور معاشی نتائج کو بھگتا ہے۔
“جب کبھی ہند۔پاک کے تعلقات خراب ہوئے ہیں، تو اس کی سب سے بڑی قیمت طلبہ، خاندانوں، تاجروں، سرحدی علاقوں کے رہائشیوں اور عام شہریوں کو ہی چکانی پڑی ہے۔ کشیدگی بڑھنے کی صورت میں تعلیم، روزگار، سیاحت، تجارت اور ترقیاتی کام متاثر ہوتے ہیں۔ اس لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ امن کو فروغ دینے، دشمنی کو کم کرنے اور ایسا ماحول بنانے کے لیے مخلصانہ کوششیں کی جائیں جہاں ترقی، تعلیم اور انسانی فلاح و بہبود کو فروغ مل سکے۔”
یواین آئی۔م ا ع
ہندوستان4 days agoکھرگے نے راجیہ سبھا رکن کے طور پر پھر سے حلف لیا
دنیا1 week agoایران مذاکرات میں غیر معمولی رعایتیں دینے پر مجبور ہوگیا ہے: ٹرمپ کا دعویٰ
دنیا1 week agoہوسکتا ہے کہ میں جلد ہی ایسی خبر دوں کہ ترکیہ خوش ہو جائے:ٹرمپ
جموں و کشمیر1 week ago“لیفٹیننٹ گورنر کی پارلیمانی کمیٹی سے اہم ملاقات؛ لداخ کے ترقیاتی اور ماحولیاتی چیلنجز پر تفصیلی بریفنگ
دنیا4 days agoمجتبیٰ خامنہ ای کا امریکہ اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کی قانونی کارروائی کا حکم
ہندوستان6 days agoآپریشن سندور میں وزیرِ دفاع کے بیان کے تناظر میں کہی جا رہی باتیں گمراہ کن اور غلط: وزارتِ دفاع
دنیا3 days agoٹرمپ کے دباؤ سے لبنان میں اسرائیلی فوجی حکمت عملی تبدیل ہوئی: یسرائیل کاٹز
دنیا1 week agoامن کے فروغ کیلئے پاکستان کی کوششیں تہذیبی و ثقافتی روایات کی عکاس ہیں: ایرانی صدر
جموں و کشمیر6 days agoآمدنی سے زیادہ اثاثوں کا معاملہ: انسداد بدعنوانی بیورو نے سابق ایڈمنسٹریٹو کلرک کے اثاثے کئے ضبط
دنیا6 days agoوینزویلا میں تباہ کن زلزلوں کے بعد اموات کی تعداد 920 سے تجاوز کرگئی
ہندوستان1 week agoپاسپورٹ فیس میں اضافے پر کانگریس کی مرکز پر تنقید ، سرجیوالا نےکہا ’مہنگائی کی نئی قسط‘
ہندوستان6 days agoسرکار کو ایندھن کی بڑھی ہوئی قیمتیں واپس لینی چاہئیں: کھرگے





































































































