Connect with us

تجزیہ

امریکہ-ایران جنگ نے بڑھائی عالمی غذائی تحفظ کی تشویش، زرعی تجارتی قوانین کو بدلنے کی قواعد تیز

Published

on

جینت رائے چودھری
نئی دہلی، امریکہ-اسرائیل اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ نے نہ صرف تیل کی منڈیوں کو متاثر کیا ہے، بلکہ عالمی سطح پر خوراک اور کھاد کی سپلائی چین میں بڑی رکاوٹیں پیدا کر کے مستقبل کے غذائی تحفظ (فوڈ سیکیورٹی) کے لیے بھی خطرہ پیدا کر دیا ہے۔ اس بحران کو دیکھتے ہوئے ماہرینِ اقتصادیات اور مختلف حکومتیں اب عالمی زرعی تجارتی قوانین کا ازسرِ نومسودہ تیار کرنے کی تجویزپرعمل کر رہی ہیں، تاکہ مستقبل میں اس طرح کے جھٹکوں سے نمٹا جا سکے۔


بھارتیہ ودیش ویاپار سنستھان کے سابق ڈبلیو ٹی او چیئرمین پروفیسر وشوجیت دھر نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے آمد و رفت میں آنے والی رکاوٹ نے یہ واضح کر دیا ہے کہ توانائی، کھاد اور غذائی نظام ایک دوسرے سے کتنی گہرائی سے جڑے ہوئے ہیں۔

ایل این جی کی سپلائی میں خلل اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے ہندوستان جیسے ممالک میں کھاد کی پیداوار اور قیمتوں پر براہِ راست اثر پڑا ہے۔


ممتاز ماہرینِ اقتصادیات کی جانب سے مجوزہ ‘ماڈل ٹریٹی آن ایگریکلچرل ٹریڈ’ میں یہ دلیل دی گئی ہے کہ عالمی تجارتی تنظیم کا موجودہ ڈھانچہ موسمیاتی تبدیلی، وبا اور جنگ جیسے حالات سے نمٹنے میں نااہل ثابت ہوا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ ڈھانچہ شروع سے ہی ناقص تھا اور اب عالمی سپلائی چین کے دباؤ کے ٹیسٹ میں ناکام پایا گیا ہے۔


ہندوستان اپنی ضرورت کا تقریباً پانچواں حصہ یوریا، آدھا حصہ ڈی اے پی اور تقریباً تمام پوٹاش درآمد کرتا ہے۔ خلیجی ممالک سے ہونے والی سپلائی اور سمندری راستوں میں بڑھتے ہوئے خطرات کے باعث انشورنس پریمیم اور مال برداری کی لاگت میں بھاری اضافہ ہوا ہے، جس سے کھادوں کی قیمتوں میں اچھال آیا ہے۔


حکام کے مطابق، حکومتِ ہند نے فی الحال اس جھٹکے کو کسانوں تک پہنچنے سے روکنے کے لیے اسے زیادہ سبسڈی کے ذریعے خود برداشت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اگر حکومت ایسا نہ کرتی تو زرعی پیداوار میں کمی اور خوراک کی قیمتوں میں اضافے کا سنگین خطرہ پیدا ہو سکتا تھا، جو ایک بڑا مالیاتی بحران بن جاتا۔


مجوزہ نئے معاہدے کا مقصد تجارت کے بجائے غذائی تحفظ، ماحولیاتی پائیداری اور مساوات کو ترجیح دینا ہے۔ پروفیسر دھر کے مطابق، یہ معاہدہ حکومتوں کو ملکی پیداوار بڑھانے، سپلائی چین میں تنوع لانے اور ضرورت پڑنے پر مارکیٹ میں مداخلت کرنے کا قانونی حق دینے کی وکالت کرتا ہے۔


ماہرین کا ماننا ہے کہ جنگ بندی ہونے کے باوجود، آبنائے ہرمز سے ہونے والی تجارت میں ‘وار رسک پریمیم’ مستقل طور پر شامل ہو سکتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہندوستان جیسے ممالک کے لیے توانائی اور کھاد کی قیمتیں ساختی طور پر ہمیشہ کے لیے بلند رہ سکتی ہیں۔


بدلتے ہوئے حالات کے پیشِ نظر ہندوستان اب پوٹاش اور فاسفیٹ کے لیے نئے ذرائع تلاش کر رہا ہے اور غیر ملکی معدنی اثاثوں میں سرمایہ کاری بڑھا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، ملکی یوریا کی پیداوار میں توسیع اور خلیجی خطے سے باہر طویل مدتی ایل این جی معاہدوں پر بھی توجہ مرکوز کی جا رہی ہے تاکہ بیرونی جھٹکوں کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔


موجودہ بحران نے یہ واضح کر دیا ہے کہ جب سپلائی چین بہت زیادہ ایک ہی جگہ مرکوز ہوتی ہے، تو جھٹکے صرف مقامی نہیں رہتے بلکہ عالمی سطح پر پھیل جاتے ہیں۔ نیا معاہدہ ان ساختی کمزوریوں کو دور کرنے اور بڑے زرعی کاروباروں پر لگام لگانے کا مطالبہ کرتا ہے تاکہ کسانوں کو ان کی پیداوار کی صحیح قیمت مل سکے۔


تجویز میں غذائی تحفظ کو “انسانیت کی مشترکہ تشویش” کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اس کے تحت ریاستوں کو یہ حق اور ذمہ داری ہوگی کہ وہ تجارت کو محدود کر کے بھی اپنے شہریوں کے غذائی تحفظ کو یقینی بنائیں، جو موجودہ آزادئ تجارت کے حامی ڈبلیو ٹی او قوانین سے ایک بڑی تبدیلی ہوگی۔


امریکہ-ایران جنگ نے ثابت کر دیا ہے کہ عالمی تجارت کا موجودہ ڈھانچہ اب پرانے تصورات پر ٹکا ہوا ہے۔ برلن اور برن یونیورسٹی جیسے عالمی اداروں کے محققین کی حمایت یافتہ یہ پہل آنے والی ڈبلیو ٹی او وزارتی بات چیت میں ایک اہم موضوع بننے والی ہے۔


یواین آئی ۔ایف اے

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

تجزیہ

کاربن کے اخراج، درخت کاری اور حیاتیاتی تنوع: موسمیاتی حکمتِ عملی کے درمیان توازن کی تلاش

Published

on

خصوصی مضمون: ظفر اقبال

دنیا اس وقت ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات نہ صرف واضح ہو چکے ہیں بلکہ تیزی سے شدت اختیار کر رہے ہیں، بڑھتا ہوا عالمی درجہ حرارت، شدید موسمی واقعات، گلیشیئرز کا پگھلنا، سمندری سطح میں اضافہ اور حیاتیاتی تنوع کا زوال یہ اس بات کے واضح اشارے ہیں کہ انسان کو اپنی ترقی کے ماڈل پر نظرثانی کرنا ہوگی، کاربن کے اخراج کو کم کرنا اس جدوجہد کا بنیادی جزو ہے، لیکن موجودہ صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ صرف اخراج میں کمی کافی نہیں ہوگی۔ ہمیں فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو نکالنے کے مؤثر طریقے بھی اپنانے ہوں گے۔

یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے: کیا کاربن کو ہٹانے کے لیے درخت لگانا ہمیشہ فائدہ مند ہوتا ہے؟ یا یہ بعض حالات میں ماحول کے لیے نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتا ہے؟ حالیہ سائنسی تحقیق اس پیچیدہ سوال کے کئی پہلوؤں کو اجاگر کرتی ہے، خاص طور پر جب بات حیاتیاتی تنوع (biodiversity) کی ہو۔

دنیا بھر میں انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں ہر سال تقریباً 42 ارب ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ فضا میں شامل ہو رہی ہے۔ اس میں سب سے بڑا حصہ جیواشم ایندھن (fossil fuels) جیسے کوئلہ، تیل اور گیس کے استعمال سے آتا ہے، جبکہ زمین کے استعمال میں تبدیلی—جیسے جنگلات کی کٹائی—بھی اس میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

اگرچہ مختلف ممالک نے اخراج کم کرنے کے وعدے کیے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ عالمی سطح پر اخراج میں اب بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین کا ماننا ہے کہ صرف اخراج کو کم کرنا کافی نہیں ہوگا۔ ہمیں ‘نیٹ زیرو’ کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے کاربن کو فضا سے نکالنا بھی ہوگا۔

پیرس معاہدہ عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلی کے خلاف ایک اہم قدم ہے، جس کا مقصد عالمی درجہ حرارت میں اضافے کو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود رکھنا ہے۔ اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے دنیا کو نہ صرف اخراج میں بڑی حد تک کمی لانی ہوگی بلکہ کاربن ہٹانے کی ٹیکنالوجیز اور حکمت عملیوں کو بھی بڑے پیمانے پر اپنانا ہوگا۔

لیکن یہاں ایک چیلنج ہے۔کاربن کو ہٹانے کے لیے استعمال ہونے والے طریقے خود ماحول پر منفی اثرات ڈال سکتے ہیں، خاص طور پر اگر انہیں بغیر منصوبہ بندی کے اپنایا جائے۔

کاربن کو ہٹانے کے کئی طریقے زیرِ غور ہیں، جن میں سے کچھ درج ذیل ہیں:

(اول) درخت لگانا: درخت فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں اور اسے اپنے اندر ذخیرہ کرتے ہیں۔ اس لیے درخت کاری کو سب سے قدرتی اور سستا طریقہ سمجھا جاتا ہے۔

(دوم) توانائی کی فصلیں (Bioenergy Crops): ایسی فصلیں اگائی جاتی ہیں جنہیں ایندھن کے طور پر استعمال کیا جا سکے، اور پھر ان کے جلنے سے پیدا ہونے والے کاربن کو پکڑ کر ذخیرہ کیا جائے۔

(سوم) کاربن کیپچر اور اسٹوریج (CCS): صنعتی ذرائع سے نکلنے والے کاربن کو پکڑ کر زمین کے اندر محفوظ کرنا۔

(چہارم) ڈائریکٹ ایئر کیپچر (DAC): جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے فضا سے براہِ راست کاربن کو نکالنا۔

ان میں سے سب سے زیادہ زیرِ بحث طریقہ درخت لگانا ہے، کیونکہ یہ فطری اور نسبتاً آسان ہے۔ لیکن اس کے بھی کئی پیچیدہ پہلو ہیں۔

بظاہر درخت لگانا ایک بہترین حل معلوم ہوتا ہے۔ یہ نہ صرف کاربن کو جذب کرتا ہے بلکہ مٹی کو محفوظ رکھتا ہے، پانی کے چکر کو بہتر بناتا ہے اور ماحولیاتی نظام کو مستحکم کرتا ہے۔ لیکن جب اسے بڑے پیمانے پر نافذ کیا جاتا ہے، تو اس کے منفی اثرات بھی سامنے آ سکتے ہیں۔

بڑے پیمانے پر درخت لگانے کے لیے لاکھوں مربع کلومیٹر زمین درکار ہوتی ہے۔ یہ زمین کہاں سے آئے گی؟ اکثر یہ زرعی زمین یا قدرتی گھاس کے میدان (grasslands) ہوتی ہے، جو خود بھی اہم ماحولیاتی نظام ہیں۔

اگر ایک ہی قسم کے درخت بڑے پیمانے پر لگائے جائیں (monoculture plantations)، تو یہ مقامی پودوں اور جانوروں کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ اس سے حیاتیاتی تنوع کم ہو جاتا ہے۔

کچھ درخت بہت زیادہ پانی استعمال کرتے ہیں، جس سے مقامی آبی وسائل پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ زمین کے استعمال میں تبدیلی سے مقامی لوگوں کی روزی روٹی متاثر ہو سکتی ہے، خاص طور پر کسانوں اور چرواہوں کی۔

حالیہ مطالعات میں سائنسدانوں نے مختلف موسمیاتی منظرناموں کا تجزیہ کیا تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ کاربن ہٹانے کی حکمت عملیوں کا حیاتیاتی تنوع پر کیا اثر پڑتا ہے۔

انہوں نے عالمی نقشوں کو استعمال کرتے ہوئے یہ دیکھا کہ مستقبل میں کہاں درخت لگائے جائیں گے یا توانائی کی فصلیں اگائی جائیں گی، اور یہ علاقے حیاتیاتی تنوع کے لحاظ سے کتنے حساس ہیں۔

بہت سے ایسے علاقے جہاں درخت لگانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، حیاتیاتی تنوع کے لحاظ سے نہایت اہم ہیں۔ اگر ان علاقوں میں غیر مقامی درخت لگائے جائیں، تو مقامی ماحولیاتی نظام کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔کچھ علاقوں میں درخت لگانا فائدہ مند ہو سکتا ہے، خاص طور پر جہاں پہلے جنگلات موجود تھے اور انہیں بحال کیا جا سکتا ہے۔

کاربن ہٹانے اور حیاتیاتی تنوع کے درمیان تعلق کو دو طریقوں سے دیکھا جا سکتا ہے۔درخت لگانے سے کاربن تو کم ہو سکتا ہے، لیکن حیاتیاتی تنوع متاثر ہو سکتا ہے۔ زرعی زمین کو جنگل میں تبدیل کرنے سے خوراک کی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے۔

مقامی انواع کے درخت لگانے سے دونوں اہداف حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ جنگلات کی بحالی (restoration) سے کاربن ذخیرہ بھی ہوتا ہے اور حیاتیاتی تنوع بھی بڑھتا ہے۔

ان چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے، ماہرین درج ذیل حکمت عملی تجویزکرتے ہیں۔

درخت لگاتے وقت مقامی پودوں کو ترجیح دی جائے۔حساس ماحولیاتی علاقوں کو محفوظ رکھا جائے۔مقامی لوگوں کو منصوبوں میں شامل کیا جائے تاکہ ان کے مفادات کا تحفظ ہو۔ صرف درخت لگانے پر انحصار نہ کیا جائے بلکہ مختلف طریقوں کو یکجا کیا جائے۔

موسمیاتی تبدیلی کے خلاف جنگ ایک پیچیدہ اور کثیر جہتی مسئلہ ہے۔ کاربن کو ہٹانا اس کا ایک اہم حصہ ہے، لیکن اسے اکیلے حل کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔

ہمیں ایک متوازن نقطہ نظر اپنانا ہوگا جس میں: کاربن کا اخراج (removal)، حیاتیاتی تنوع کا تحفظ، سماجی و اقتصادی انصاف سب کو یکجا کیا جائے۔

درخت لگانا ایک بہتر حل ہو سکتا ہے، لیکن یہ کوئی جادوئی حل نہیں ہے۔ اگر اسے بغیر سوچے سمجھے اپنایا جائے تو یہ ماحول کے لیے نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم سائنسی شواہد کی بنیاد پر فیصلے کریں اور ایسے اقدامات کریں جو نہ صرف کاربن کو کم کریں بلکہ زمین کے حیاتیاتی نظام کو بھی محفوظ رکھیں۔مستقبل کی کامیابی اسی میں ہے کہ ہم ترقی اور تحفظ کے درمیان توازن قائم کریں —ایسا توازن جو انسان اور فطرت دونوں کے لیے فائدہ مند ہو۔

(یواین آئی)

Continue Reading

تجزیہ

فلم گیت گایا پتھروں کے بعد جیتندر اپنی شناخت بنانے میں کامیاب ہوئے

Published

on

ممبئی، 7 اپریل (یواین آئی) بالی ووڈ کے مشہور اداکار جتیندرآج 84 سال کے ہوگئے 7 اپریل 1942 کو ایک جوہری خاندان میں پیدا ہونے والے جتیندرکا بچپن سے ہی فلموں کی جانب رجحان تھا اور وہ اداکار بننا چاہتے تھے۔ وہ اکثر گھر سے بھاگ کر فلم دیکھنے جایا کرتے تھے۔ جتیندرنے اپنے سنیما کیریئر کی شروعات 1959 میں ریلیز ہونے والی فلم نورنگ سے کی جس میں انہیں ایک چھوٹا سا کردار ادا کرنے کا موقع ملا تقریباً پانچ سال تک جتیندرفلم انڈسٹری میں اداکار کے طور پر کام حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کرتے رہے۔ 1964 میں انہیں شانتارام کی فلم گیت گایا پتھروں نے میں کام کرنے کا موقع ملا۔ اس فلم کے بعد جیتندر اپنی شناخت بنانے میں کامیاب ہوگئے۔

1967 میں جتیندرکی ایک اور سپرہٹ فلم فرض ریلیز ہوئی۔ روی کانت ناگائچ کی ہدایتکاری میں بنی اس فلم میں جتیندرنے ڈانسنگ اسٹار کا کردار ادا کیا۔ اس فلم میں ان پر فلمایا گیا گانا مست بہاروں کا میں عاشق شائقین اور سامعین کے درمیان بہت مقبول ہوا۔ اس فلم کے بعد جتیندرکو “جمپنگ جیک” کہنا شروع کر دیا گیا۔

فرض کی کامیابی کے بعد ڈانسنگ اسٹار کے طور پر جتیندرکی شبیہ بن گئی۔ اس فلم کے بعد پروڈیوسرز اور ہدایتکاروں نے بیشتر فلموں میں ان کی ڈانسنگ شبیہ کو اجاگر کیا۔ پروڈیوسروں نے جتیندرکو ایک ایسے ہیرو کے طور پر پیش کیا جو رقص کرنے میں ماہر ہو۔ ان فلموں میں ہمجولی اور کارواں جیسی سپرہٹ فلمیں شامل ہیں۔ اس دوران جتیندرنے جینے کی راہ، دو بھائی اور دھرتی کہے پکار کے جیسی فلموں میں ہلکے پھلکے کردار ادا کر کے اپنی ہمہ جہت صلاحیتوں کا بھی مظاہرہ کیا۔

سال 1973 میں ریلیز ہونے والی فلم جیسے کو تیسا کے ہٹ ہونے کے بعد فلم انڈسٹری میں ان کے نام کے ڈنکے بجنے لگے اور وہ ایک کے بعد ایک مشکل کردار ادا کرتے ہوئے فلم انڈسٹری میں اپنا مقام بناتے گئے۔ 70 کی دہائی میں جتیندرپر یہ الزام لگنے لگا کہ وہ صرف ناچ گانے سے بھرپور رومانوی کردار ہی ادا کر سکتے ہیں۔ انہیں اس شبیہ سے نکالنے میں پروڈیوسر اور ہدایتکار گلزار نے مدد کی اور ان کے ساتھ پریچے، خوشبو اور کنارا جیسی فیملی فلمیں بنائیں ۔ ان فلموں میں جتیندرکی سنجیدہ اداکاری دیکھ کر ناظرین حیران رہ گئے۔

جتیندرکے سنیما کیریئر پر نظر ڈالنے پر یہ بات سامنے آتی ہے کہ وہ ملٹی اسٹارر فلموں کا اہم حصہ رہے ہیں۔ فلم انڈسٹری کے رنگین پردے پر جیتندر اور ریکھا کی جوڑی کو خوب پسند کیا گیا۔ 80 کی دہائی میں ان کی جوڑی سری دیوی اور جیا پردا کے ساتھ بھی کافی مقبول ہوئی۔ اپنے منفرد ڈانس اسٹائل کی وجہ سے اس جوڑی کو ناظرین نے بے حد پسند کیا۔

سال1982 سے 1987 کے درمیان جتیندر نے جنوبی ہندوستان کے فلم ساز ٹی راماراو، کے باپّیا کے راگھووندرا راؤ وغیرہ کی فلموں میں بھی کام کیا۔ 2000 کی دہائی میں فلموں میں اچھا رول نہ ملنے پر انہوں نے فلموں میں کام کرنا کم کر دیا۔ اس دوران وہ اپنی بیٹی ایکتا کپور کو چھوٹے پردے پر پروڈیوسر کے طور پر قائم کرنے میں ان کے رہنما بنے رہے۔ان دنوں وہ اپنی بیٹی ایکتا کپور کو فلم پروڈکشن میں مددکر رہے ہیں۔

Continue Reading

تجزیہ

پھلوں کا بادشاہ خطرے میں: آم اور موسمیاتی تبدیلی

Published

on

خصوصی مضمون: ظفر اقبال

گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی برصغیر میں ایک خاص خوشبو فضا میں پھیلنے لگتی ہے یہ خوشبو صرف ایک پھل کی نہیں بلکہ ایک پورے موسم، ایک تہذیب اور ایک جذباتی وابستگی کی علامت ہوتی ہے یہ خوشبو آم کی ہوتی ہے آم کو بجا طور پر“پھلوں کا بادشاہ”کہا جاتا ہے یہ صرف ذائقے میں لاجواب نہیں بلکہ ہماری ثقافت، معیشت اور روزمرہ زندگی کا ایک اہم حصہ ہےلیکن آج یہ بادشاہ ایک خاموش خطرے سے دوچار ہے۔ موسمیاتی تبدیلی، جو دنیا بھر میں قدرتی نظاموں کو متاثر کر رہی ہے، اب آم کی کاشت اور پیداوار کو بھی اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔ یہ مسئلہ محض زرعی نہیں بلکہ معاشی، ماحولیاتی اور ثقافتی بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔

آم صرف ایک زرعی پیداوار نہیں بلکہ ایک جذباتی تجربہ ہے۔ بچپن کی گرمیوں کی چھٹیاں، گھر میں آموں کی پیٹیاں، ٹھنڈے آم کھانے کی خوشی، آم کے شیک اور آچار یہ سب ہماری یادوں کا حصہ ہیں۔

دیہی علاقوں میں آم کے باغات نہ صرف خوبصورتی کا منظر پیش کرتے ہیں بلکہ لاکھوں لوگوں کے لیے روزگار کا ذریعہ بھی ہیں۔ کسان، مزدور، ٹرانسپورٹر، تاجرسب کی معیشت کسی نہ کسی طرح آم سے جڑی ہوئی ہے۔

ہندوستان دنیا کا سب سے بڑا آم پیدا کرنے والا ملک ہے، جہاں لاکھوں ہیکٹر زمین پر آم کی کاشت کی جاتی ہے اور کروڑوں ٹن پیداوار حاصل ہوتی ہے۔ اسی طرح پاکستان، بنگلہ دیش اور دیگر جنوبی ایشیائی ممالک میں بھی آم اہم زرعی فصل ہے۔

آم کا درخت بظاہر مضبوط نظر آتا ہے، لیکن درحقیقت یہ اپنے ماحول کے حوالے سے نہایت حساس ہوتا ہے۔ اس کی نشوونما اور پھل دینے کا عمل کئی موسمی عوامل پر منحصر ہوتا ہے۔

آم کے درخت کو گرم موسم پسند ہے، لیکن ہر مرحلے کے لیے مخصوص درجہ حرارت درکار ہوتا ہے۔ پھول نکلنے کے وقت 24 سے 27 ڈگری سینٹی گریڈ بہترین سمجھا جاتا ہے۔ بہت زیادہ گرمی یا اچانک سردی نقصان دہ ثابت ہوتی ہے

آم کے درخت کو ایک معتدل سردی کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ اس میں پھول آنے کا عمل شروع ہو سکے۔ اگر سردی مناسب نہ ہو تو پھول کم نکلتے ہیں، جس سے پیداوار متاثر ہوتی ہے۔ پھول آنے اور پھل بننے کے دوران خشک موسم ضروری ہوتا ہے۔

زیادہ نمی یا بارش اس مرحلے میں بیماریوں کا سبب بن سکتی ہے۔

اگرچہ آم کو پانی کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن بارش کا وقت اور مقدار نہایت اہم ہے۔ بے وقت بارش فصل کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔

موسمیاتی تبدیلی سے مراد زمین کے درجہ حرارت، بارش کے نظام اور موسم کے عمومی پیٹرن میں طویل مدتی تبدیلیاں ہیں۔ یہ تبدیلیاں انسانی سرگرمیوں، خاص طور پر فوسل فیول کے استعمال، جنگلات کی کٹائی اور صنعتی آلودگی کے باعث تیز ہو رہی ہیں۔آم کی فصل ان تبدیلیوں سے براہ راست متاثر ہو رہی ہے کیونکہ اس کا حیاتیاتی چکر موسمی حالات سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔

.غیر متوقع بارش، پھول نکلنے کے دوران بارش آم کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔اس دوران پھول جھڑ جاتے ہیں، جرگن (pollination) متاثر ہوتا ہے، پھل بننے کا عمل رک جاتا ہے۔ یہ صورتحال کسانوں کے لیے انتہائی نقصان دہ ہوتی ہے کیونکہ ایک بار پھول ختم ہو جائیں تو پورے سیزن کی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے۔اگرچہ بارش نہ بھی ہو، تیز ہوائیں پھل کو درخت سے گرا سکتی ہیں۔کچے پھل گر جاتے ہیں، پیداوار میں نمایاں کمی آتی ہے۔

زیادہ نمی آم کے باغات میں بیماریوں کو بڑھاتی ہے، جیسے:فنگس، اینتھراکنوز (Anthracnose)، پاؤڈری میلڈیو۔یہ بیماریاں نہ صرف پیداوار کم کرتی ہیں بلکہ پھل کے معیار کو بھی متاثر کرتی ہیں۔ زیادہ گرمی یا غیر معمولی درجہ حرارت آم کے درخت کے قدرتی چکر کو بگاڑ دیتا ہے۔ پھول جلدی یا دیر سے آتے ہیں، پھل صحیح طرح نہیں بنتا، ذائقہ اور معیار متاثر ہوتا ہے

پہلے جہاں بارش کا ایک متوازن نظام ہوتا تھا، اب وہ بے ترتیب ہو چکا ہے۔کبھی شدید بارش، کبھی طویل خشک سالی،یہ غیر یقینی صورتحال کسانوں کے لیے منصوبہ بندی کو مشکل بنا دیتی ہے۔موسمیاتی تبدیلی کا سب سے زیادہ اثر کسانوں پر پڑتا ہے۔

جب فصل خراب ہوتی ہے تو کسان کو براہ راست مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔قرض بڑھ جاتے ہیں، آمدنی کم ہو جاتی ہے۔مسلسل نقصان اور غیر یقینی حالات کسانوں کے ذہنی سکون کو متاثر کرتے ہیں۔

آم کی پیداوار کم ہونے سے اس سے جڑے دیگر شعبے بھی متاثر ہوتے ہیں، جیسے: مزدور، ٹرانسپورٹ، مارکیٹ،آم کے باغات صرف زرعی زمین نہیں بلکہ ایک مکمل ماحولیاتی نظام ہوتے ہیں۔

یہ پرندوں اور کیڑوں کے لیے مسکن فراہم کرتے ہیں، زمین کی زرخیزی کو برقرار رکھتے ہیں، درجہ حرارت کو متوازن رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ جب یہ باغات متاثر ہوتے ہیں تو پورا ماحولیاتی توازن بگڑ جاتا ہے۔

آم ہماری ثقافت کا اہم حصہ ہے۔ مہمان نوازی میں آم پیش کرنا،آم کی مختلف اقسام پر فخر، ادبی اور شعری حوالوں میں آم،اگر آم کی پیداوار کم ہو جاتی ہے تو یہ ثقافتی روایات بھی متاثر ہوں گی۔

اس آفت سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم جدید زرعی تکنیک، ڈرپ اریگیشن، موسمی پیشگوئی کا استعمال، بیماریوں کے خلاف بہترا سپرے وغیرہ استعمال کریں۔ سائنسدان ایسی اقسام تیار کر رہے ہیں جو زیادہ گرمی برداشت کر سکیں، بیماریوں کے خلاف مزاحمت رکھتی ہوں۔ پانی کا بہتر استعمال: پانی کے ذخائر اور مؤثر آبپاشی کے نظام اپنانا ضروری ہے۔

حکومت کو چاہیے کہ کسانوں کو مالی مدد ے، تحقیق میں سرمایہ کاری کرے، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے منصوبے بنائے۔

عوامی شعور: لوگوں کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھنی چاہیے: ماحول دوست طرز زندگی اپنانا، درخت لگانا، وسائل کا محتاط استعمال

اگر موسمیاتی تبدیلی پر قابو نہ پایا گیا تو آنے والے برسوں میں آم کی پیداوار مزید متاثر ہو سکتی ہے قیمتیں بڑھ سکتی ہیں، معیار کم ہو سکتا ہے، کچھ اقسام ناپید بھی ہو سکتی ہیں۔لیکن اگر بروقت اقدامات کیے جائیں تو اس بحران کو کم کیا جا سکتا ہے۔

آم صرف ایک پھل نہیں بلکہ ہماری زندگی، معیشت اور ثقافت کا اہم حصہ ہے۔ موسمیاتی تبدیلی نے اس“بادشاہ”کو خطرے میں ڈال دیا ہے، اور یہ خطرہ صرف کسانوں تک محدود نہیں بلکہ ہم سب کے لیے ہے۔یہ وقت ہے کہ ہم سنجیدگی سے اس مسئلے کو سمجھیں اور اجتماعی طور پر اس کا حل تلاش کریں۔ اگر ہم نے آج اقدامات نہ کیے تو ممکن ہے کہ آنے والی نسلیں آم کو صرف کہانیوں اور کتابوں میں ہی دیکھیں۔

آم کی خوشبو، اس کا ذائقہ اور اس سے جڑی یادیں ہماری شناخت کا حصہ ہیں اور اس شناخت کو بچانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

(یواین آئی)

Continue Reading
Advertisement
دنیا1 hour ago

ضرورت پڑنے پر طاقت کا استعمال کیا جائے گا، پیٹ ہیگسی

جموں و کشمیر2 hours ago

بارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا

دنیا3 hours ago

لبنان میں حزب اللہ کے اہداف پرآئی ڈی ایف کے فضائی حملے، 380 سے زیادہ مقامات کو نشانہ بنایا

دنیا17 hours ago

ایران مذاکرات پر وائٹ ہاؤس کا بیان، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی

دنیا17 hours ago

اپنے رہنماؤں کے قتل کا ذمے دار امریکہ و اسرائیل کو ٹھہرائیں گے: ترجمان ایرانی وزارت خارجہ

دنیا17 hours ago

اگر ایران نے معاہدہ نہیں کیا تو امریکی افواج دوبارہ جنگی کارروائیاں کرنے کیلئے تیار ہیں: امریکی وزیر جنگ

دنیا18 hours ago

ایران کو دہشتگرد کہنے والے خود دہشت گرد ہیں: صدر مسعود پزشکیان

جموں و کشمیر18 hours ago

جموں کشمیر: کالج پکنک پر جا رہی 20 سالہ لڑکی بس سے گر کر ہلاک

دنیا19 hours ago

جنگ ہو یا جنگ بندی، ایران اور حزب اللہ ایک ہیں:باقر قالیباف

ہندوستان21 hours ago

دنیا کے لیے قابل بھروسہ سپلائی چین کو یقینی بنائیں گے ہندوستان اور آسٹریا: مودی

ہندوستان21 hours ago

سپریم کورٹ نے لازمی ووٹنگ کے مطالبے والی عرضی خارج کر دی؛ کہا- شہریوں کو ووٹ دینے کے لیے مجبور نہیں کر سکتے

پاکستان21 hours ago

فیلڈ مارشل عاصم منیر اور عباس عراقچی کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور مکمل

دنیا21 hours ago

جنگ بندی میں توسیع پر غور نہيں کر رہے، شاید اس کی ضرورت ہی نہ پڑے: ٹرمپ

دنیا21 hours ago

ایران نے آبنائے ہرمز سے متعلق بڑی پیشکش کردی

دنیا21 hours ago

امریکہ ایران جنگ بندی سے اسرائیل ناخوش ہے، اسے مذاکراتی عمل کو سبوتاژکرنےکی اجازت نہیں دینی چاہیے: ترک صدر

دنیا1 day ago

اسرائیل کا بڑا فیصلہ، لبنان میں فوجی دائرہ کار بڑھانے کا اعلان

دنیا1 day ago

ٹرمپ کا چین پر ایران کو اسلحہ دینے کا الزام، چین کی تردید

ہندوستان1 day ago

وزیر اعظم مودی نے پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کے آغاز پر خواتین کو بااختیار بنانے کی سمت ‘تاریخی قدم’ کا خیر مقدم کیا

دنیا1 day ago

اسرائیل کا ایران و لبنان میں جنگ جاری رکھنے کا اعلان، فوج مکمل تیاری کے ساتھ ہائی الرٹ پر : اہداف تیار

دنیا1 day ago

امریکی سینیٹ نے ایران پر مزید حملوں کی اجازت کی قرارداد مسترد کردی

دنیا1 day ago

ٹرمپ انتظامیہ کا سخت مؤقف، چین کے جہازوں کو بھی روکنے کا اعلان

دنیا1 day ago

وائٹ ہاؤس نے جنگ بندی میں توسیع کی خبر مسترد کر دی، مذاکرات جاری رکھنے کا عندیہ

دنیا1 day ago

روس کے یوکرین پر تازہ حملے، 12 افراد ہلاک

دنیا1 day ago

امریکہ-ایران مذاکرات میں پیش رفت، جنگ کے خاتمے کا فریم ورک قریب

دنیا1 day ago

باقر قالیباف کا امریکہ سے مطالبہ، لبنان جنگ بندی پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے

دنیا2 days ago

پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر اعلیٰ وفد کے ساتھ تہران پہنچ گئے

دنیا2 days ago

ایران کوجھکانے کی کوشش ناکام ہوگی: پزشکیان

جموں و کشمیر2 days ago

اننت ناگ: جموں و کشمیر پولیس نے کروڑوں کی جائیدادیں منجمد کر دیں

دنیا2 days ago

دبئی کا پرتعیش ’برج العرب‘ ہوٹل 18 ماہ کے لیے بند

دنیا2 days ago

’’اگر میں امریکہ کا صدر نہ ہوتا تو دنیا ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتی‘‘

جموں و کشمیر2 days ago

57 روزہ سالانہ امرناتھ یاترا کے لیے رجسٹریشن شروع

جموں و کشمیر2 days ago

جموں و کشمیر: سوپور میں جاری کریک ڈاؤن کے دوران پولیس نے مزید پانچ شرپسند گرفتار کر لیے

پاکستان2 days ago

5 ارب ڈالر کے ڈیپازٹ! سعودی عرب کا پاکستان کیلئے بڑا اعلان

پاکستان2 days ago

پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف، سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کے دورے پر

دنیا2 days ago

ایران امریکہ مذاکرات کا دوسرا راؤنڈ بھی آئندہ 2 روز میں پاکستان میں ہونے کا امکان

دنیا2 days ago

ایران کے ساتھ جنگ ختم ہونے کے قریب ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کا فاکس نیوز کو انٹرویو

دنیا2 days ago

آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے امریکہ کے بغیر بین الاقوامی بحری اتحاد تشکیل دینے کی تیاری

دنیا2 days ago

ایران پر یورینیئم افزودگی سے متعلق عائد کی جانے والی کوئی بھی پابندی ایک سیاسی فیصلہ ہو گا: رافیل گروسی

دنیا2 days ago

ایران کا جوہری بم حاصل کرنا قطعی طور پر ناقابلِ قبول : ٹرمپ

دنیا2 days ago

جے ڈی وینس کا پاکستان کی ثالثی میں مذاکرات میں زبردست پیش رفت کا اعتراف

جموں و کشمیر2 days ago

سوپور میں پولیس کی کارروائی جاری، مزید پانچ شرپسند عناصر گرفتار

دنیا2 days ago

ٹرمپ اور پوپ لیو کے درمیان جاری لفظی جنگ میں شدت

دنیا2 days ago

امریکہ کا ایران پر تیل کی پابندیوں میں عارضی نرمی ختم کرنے کا فیصلہ

دنیا2 days ago

امریکی ڈیموکریٹ سینیٹر نے ٹرمپ کے ایران میں کیے آپریشن کو بڑی ناکامی قرار دیا

دنیا2 days ago

غزہ میں اسرائیلی بربریت، کمسن بچے سمیت 10 افراد شہید

ہندوستان2 days ago

فتح گڑھ صاحب میں بس کو حادثہ، 7 مسافر جاں بحق، 21 زخمی

دنیا2 days ago

اسرائیل اور لبنان کے درمیان تین دہائیوں بعد براہِ راست مذاکرات

ہندوستان2 days ago

آؤٹر دہلی میں پلاسٹک کے کچرے کے گودام میں آگ لگنے سے تین افراد ہلاک

دنیا2 days ago

ایران میں کارروائی ابھی جاری ہے، مشن مکمل نہیں ہوا: اسرائیلی انٹیلیجنس سربراہ

دنیا3 days ago

اٹلی نے اسرائیل کے ساتھ دفاعی معاہدہ معطل کردیا

جموں و کشمیر2 months ago

ورلڈ کپ کی گونج، کشمیری ولو کے بیٹس کی مانگ میں زبردست اضافہ

اداریہ4 years ago

یوکرین کے خلاف روس کا رویہ تشویشناک : برطانیہ

جموں و کشمیر2 months ago

“وادی کشمیر میں اسرائیل اور امریکہ مخالف احتجاجی مظاہروں کی لہر”

جموں و کشمیر2 months ago

ڈیلی ویجروں کا بحران

تازہ ترین2 months ago

پاکستان نے سخت مقابلے میں نیدرلینڈز کو تین وکٹوں سے شکست دی

تازہ ترین2 months ago

لمبرداروں اور چوکیداروں کا مسائل کے حل کے لیے حکومت کو میمورنڈم

اہم خبریں4 years ago

عید کی آمد کے ساتھ ہی لوگوں کی کثیر تعداد بازاروں میں دھیکنے کو مل رہی ے۔ کھچ مناظر ان تصاویر میں

تازہ ترین2 months ago

وضاحت | وحید الرحمن پرّا کے ’’جموں و کشمیر کا مفاہمت، صدمے سے شفا اور وقار بل، 2026‘‘ کی تشریح

دنیا2 months ago

پاکستانی فوج کا افغانستان کے خلاف فضائی آپریشن شروع

تازہ ترین2 months ago

خامنہ ای کی مبینہ شہادت: کشمیر میں ریلیاں، ایم ایم یو کی مکمل ہڑتال کی کال

تجزیہ4 months ago

دہشت گردی کے بھولے ہوئے متاثرین

اہم خبریں2 months ago

وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے بجٹ 2026-27 پیش کرنے کے بعد میڈیا سے خطاب کیا

تازہ ترین4 years ago

عید کی آمد پر سرینگر کے مختلف بازاروں میں خرید و فروخت کے کھچ مناظر

تازہ ترین2 months ago

لوک سبھا کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی

کھیل2 months ago

تاریخ رقم: جموں و کشمیر نے پہلی بار رانجی ٹرافی کا خطاب اپنے سر سجایا

جموں و کشمیر2 months ago

کشمیر میں نئی ریلوے لائنوں کا سروے مکمل، حکومت کا زمین مالکان کو مکمل معاوضہ دینے کا یقین

تازہ ترین4 years ago

کشمیری کسان شہتوت کی کاشتکاروں کرتے ہوئے۔

تازہ ترین2 months ago

کشمیری کسانوں کے لیے بڑی پیش رفت، جدید ٹیکنالوجی کا آغاز

دنیا2 months ago

ایرانی میزائل کی 10 انٹرسیپٹرز کو چکمہ دیکر ہدف کو نشانہ بنانے کی ویڈیو وائرل

کھیل2 months ago

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026: آئی سی سی کے موقف کی بی سی سی آئی نے بھی تائید کر دی

دنیا2 months ago

واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ نے کھلبلی مچا دی، خلیجی اتحادیوں کا ٹرمپ کو ممکنہ تباہی سے خبردار

دنیا1 month ago

خامنہ ای کی شہادت کے بعد امام خمینی کے پوتے حسن خمینی توجہ کا مرکز

تازہ ترین2 months ago

مرکزی بجٹ خود کفیل، مضبوط اور عالمی سطح پر مسابقتی ہندوستان کے وزیراعظم مودی کے عزم کے مطابق ہے: کھنڈیلوال

تازہ ترین2 months ago

ڈنمارک میں اسرائیلی سفارت خانے کے قریب گرینڈ دھماکہ کے ملزم دو سویڈش شہریوں کو جیل

دنیا1 month ago

ٹرمپ کے مشیر کی امریکہ کو ایران جنگ سے نکلنے کی تجویز پیش

تجزیہ5 months ago

کشمیر میں بجلی نرخوں میں اضافہ عوام پر سیدھا وار

اہم خبریں2 months ago

جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں سجاد غنی لون کی دھواں دار تقریر

تازہ ترین3 months ago

امکان کی سیاست اور مفتی محمد سعید کا نظریہ

اداریہ4 years ago

بی جے پی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کررہی ہے،کمیشن میں شکایت درج کرائیں گے:اکھلیش

ہندوستان2 months ago

صدر کے خطاب میں ترقی یافتہ ہندوستان کے اہداف نمایاں: سونووال

جموں و کشمیر2 months ago

زعفران پیداوار میں کمی کا دعویٰ غلط؛ 3715 ہیکٹیر رقبہ برقرار: حکومت

جموں و کشمیر2 years ago

چین، امریکہ پاکستان کو بھارت کے خلاف مدد کررہا ے/ انٹرویو

تازہ ترین2 months ago

شوپیاں کے زینہ پور علاقے میں رہائشی مکان سے ہیروئن بر آمد، ملزم گرفتار: پولیس

ہندوستان1 month ago

گھریلو ایل پی جی سلنڈر 60 روپے اور کمرشیل سلنڈر 114.50 روپے مہنگا

دنیا1 month ago

امریکہ اور اسرائیل کا ایران پر جنگ کے آغاز کے بعد سب سے بڑا حملہ

دنیا1 month ago

ٹرمپ کی گردن پر سرخ نشان، صحت سے متعلق نئی بحث چھڑگئی

دنیا1 month ago

کیا نیتن یاہو مر چکے ہیں سرکاری اکاؤنٹ سے نیتن یاہو کی ’’چھ انگلیوں‘‘ والی ویڈیو وائرل

جموں و کشمیر2 months ago

کشمیر میں اگلے 36 گھنٹوں کے دوران ہلکے برف و باراں کا امکان

دنیا1 month ago

امریکی شہریوں کو فوری طور پر افغانستان چھوڑنے کی ہدایت

کھیل2 months ago

ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: میچ کے بائیکاٹ پر آئی سی سی کا قانون کیا کہتا ہے

دنیا3 weeks ago

امریکہ کے ایران کو بھیجے گئے 15 نکاتی امن منصوبے کی ‘شرائط’

دنیا2 months ago

بنگلہ دیش انتخابات: بی این پی کی ہندوستان، چین اور پاکستان کے ساتھ تعلقات پر واضح پالیسی :طارق رحمان

تازہ ترین2 months ago

امت شاہ کا تین روزہ دورہ جموں و کشمیر:سیاسی ملاقاتیں اور اعلیٰ سطحی سکیورٹی میٹنگیں ایجنڈے میں شامل

جموں و کشمیر2 months ago

جموں و کشمیر میں رونما ہونے والی تبدیلیوں نے مجھے بے حد متاثر کیا: سی پی رادھا کرشنن

اداریہ4 years ago

ممبئی سیریل بلاسٹ کا ملزم یو اے ای میں گرفتار

اہم خبریں6 years ago

اس صدی کے آخر تک برفانی ریچھ دنیا سے مٹ جائیں گے

جموں و کشمیر1 month ago

محبوبہ مفتی نے ایرانی سفیر کے ساتھ کشمیری طلباء کا معاملہ اٹھایا

دنیا2 months ago

ایرانیوں کو غلام بنانے کا خواب قبروں میں جائے گا: ایرانی آرمی چیف

تازہ ترین5 months ago

ستائیسویں ترمیم: پاکستان کی فوج کس طرح قانون کے ذریعے آئین پر اثرانداز ہو رہی ہے

ہندوستان1 month ago

ایئر انڈیا کی پروازیں ممنوعہ فضائی علاقے سے نہیں گزر رہی ہیں

جموں و کشمیر3 weeks ago

جموں و کشمیر میں نئی انتظامی ڈویژنز کی تجویز: چناب اور پیر پنجال کی وضاحت

جموں و کشمیر2 months ago

“وادی کشمیر میں اسرائیل اور امریکہ مخالف احتجاجی مظاہروں کی لہر”

جموں و کشمیر2 months ago

ڈیلی ویجروں کا بحران

تازہ ترین2 months ago

ایس ایم ایچ ایس اسپتال کے باہر غیر قانونی پارکنگ

تازہ ترین2 months ago

کشمیری کسانوں کے لیے بڑی پیش رفت، جدید ٹیکنالوجی کا آغاز

جموں و کشمیر2 months ago

ورلڈ کپ کی گونج، کشمیری ولو کے بیٹس کی مانگ میں زبردست اضافہ

اہم خبریں2 months ago

وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے بجٹ 2026-27 پیش کرنے کے بعد میڈیا سے خطاب کیا

اہم خبریں2 months ago

جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں سجاد غنی لون کی دھواں دار تقریر

تازہ ترین2 months ago

وضاحت | وحید الرحمن پرّا کے ’’جموں و کشمیر کا مفاہمت، صدمے سے شفا اور وقار بل، 2026‘‘ کی تشریح

جموں و کشمیر6 months ago

لیفٹنٹ گورنر نے کیا گورنمنٹ کوٹھی باغ گرلز ہائر سیکنڈری اسکول سری نگر میںDREAMا سکول پروجیکٹ کا افتتاح

جموں و کشمیر2 years ago

جموں وکشمیر کے صحت شعبے میں اہم اصلاحات لاے جارہے ے

تجزیہ2 years ago

پاکستان میں سیاسی بحران اور بینلاقوامی میڈیا کی کوریج

تازہ ترین2 years ago

8 فروری 2024 کے الیکشنز اور 1971 کے الیکشنز میں یکسانیت اور ملک کا تقسیم

تازہ ترین2 years ago

کشمیر میں عیسایت اور مسیحاؤں کے سماجی کام

تازہ ترین2 years ago

متحدہ عرب امارات کا ہندو مندر اور نریندر مودی کی لوک سبھا الیکشن مہم

تازہ ترین2 years ago

جموں وکشمیر میں الیکشنز کو کیوں التواء میں ڈالا گیا ؟

جموں و کشمیر2 years ago

بیگ کی واپسی اور پی ڈی پی کا مستقبل

تازہ ترین2 years ago

شیلاء رشید کا سفر موقعہ پرستی یا دوگلا پن

جموں و کشمیر3 years ago

جی ٹونٹی اجلاس: کشمیر میں ہڑتال قصہ پارینہ، یہاں کے لوگوں نے ہڑتالی کلچر کو مسترد کیا:مرکزی وزیر مملکت

تازہ ترین3 years ago

سری نگر جموں شاہراہ پر ٹریفک کی آمدورفت بحال

تازہ ترین3 years ago

جموں وکشمیر میں کووڈ کی نئی لہر سے بچے متاثر، یومیہ ایک سے دو کیس رپورٹ

تازہ ترین3 years ago

کپواڑہ میں کمسن بچی کے قتل کے الزام میں باپ گرفتار: ایس ایس پی کپواڑہ

تازہ ترین3 years ago

کشمیر میں رک رک کر بارشوں کا سلسلہ جاری، باغ مالکان سے باغوں کی دو پاشی نہ کرنے کی تاکید

تازہ ترین3 years ago

جائیداد ٹیکس کا فیصلہ سرکار کا ہے ہمیں اس پر عملدرآمد کرانا ہے: جی ایم سی میئر

جموں و کشمیر3 years ago

راہل گاندھی کی نا اہلی کے خلاف جموں وکشمیر میں کانگریس کا احتجاج

تازہ ترین3 years ago

کپوارہ میں ایل او سی کے نزدیک ماتا شاردا مندر کا کھل جانا ایک خوش آئند بات ہے: محبوبہ مفتی

تازہ ترین3 years ago

کشمیر: شدید زلزلے کے دوران اپنے جانوں کی پرواہ کئے بغیر ڈاکٹروں اور دیگر عملے نے خاتون کا کامیاب آپریشن کیا

تازہ ترین3 years ago

منصوبہ بند سازش کے تحت بٹہ مالو بس اسٹینڈ کو دوسری جگہ منتقل کیا گیا، رونقیں دوبارہ واپس لوٹ آئیں گی: رویندر رینا

تازہ ترین3 years ago

فرضی پی ایم او عہدیدار معاملہ: یہ انٹلی جنس کی ناکامی نہیں بلکہ فیلڈ افسر کی لاپرواہی ہے: اے ڈی جی پی کشمیر

تازہ ترین3 years ago

کشمیر اس قدر خوبصورت کہ جہاں کیمرہ رکھا جائے گا وہ فلم شوٹنگ کے لئے بہتر جگہ: بالی ووڈ ادا کار عمران خان

جموں و کشمیر3 years ago

Video ایڈیشنل ڈائریکٹر پی ایم او معاملہ:تحقیقات کے لئے سہہ رکنی ٹیم تشکیل: پولیس

جموں و کشمیر3 years ago

|Video رام بن میں ٹرک دریائے چناب میں جا گرا، بچاؤ آپریشن جاری

تازہ ترین3 years ago

تازہ ترین3 years ago

جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات کے انعقاد کے لئے قومی سیاسی جماعتوں اور الیکشن کمیشن آف انڈیا کے ساتھ ملاقی ہونگے: فاروق عبداللہ

تازہ ترین3 years ago

ویڈیو| ٹیولپ گریڈن کے بلوم کے پیچھے موجود ہیروز کو جانیں۔

جموں و کشمیر3 years ago

کشمیر سے ایم بی اے پاس آؤٹ نے غیر ملکی نسلوں کے ساتھ منفرد پولٹری فارم قائم کیا

تازہ ترین3 years ago

سری نگر کے مائسمہ میں آتشزدگی، تین دکان خاکستر

تازہ ترین3 years ago

پراپرٹی ٹیکس کے خلاف چیمبر آف کامرس نے 11مارچ کو جموں بندھ کی کال دی

تازہ ترین3 years ago

حبیبی کچن سڑک کے کنارے ایک شاہانہ ریستوراں

جموں و کشمیر3 years ago

مختلف اسامیوں کے امیدواروں کا سری نگر میں ایپ ٹک کمپنی کے خلاف احتجاج

تازہ ترین3 years ago

ڈل جھیل پر پرندوں کا جنگل سیاحوں کی توجہ کا نیا مرکز

تازہ ترین3 years ago

راہل مشتاق: غیر ملکی نسل کے مرغوں کا پالٹری فارم قائم کرنے والا نوجوان

تازہ ترین3 years ago

چھیڑ چھاڑ کا سامنا کرنے والی خواتین ہم سے رابطہ کریں۔

تازہ ترین3 years ago

شالیمار زرعی یونیورسٹی میں میلہ, ایک لاکھ لوگوں نے شمولیت اختیار کی

تازہ ترین3 years ago

ہندوستان-اٹلی نے اسٹریٹجک پارٹنرشپ کا اعلان کیا۔

تازہ ترین3 years ago

جائیداد ٹیکس کے خلاف جموں میں تاجروں کا احتجاج

تازہ ترین3 years ago

این آئی اے نے سری نگر میں العمر کے چیف مشتاق زرگر کے مکان کو قرق کر دیا

تازہ ترین3 years ago

سری نگر کے بٹہ مالو علاقے میں گاڑی کی ٹکر سے پولیس اہلکار کی رائفل سے اچانک گولی نکلی

تازہ ترین3 years ago

کشمیر میں طویل سرمائی تعطیلات کے بعد اسکول دوبارہ کھل گئے

تجزیہ3 years ago

از خود نوٹس کا فیصلہ: صدر پنجاب، گورنر خیبر پختونخوا میں انتخابات کی تاریخ کا اعلان کریں

Advertisement

Trending