تجزیہ
امریکہ-ایران جنگ نے بڑھائی عالمی غذائی تحفظ کی تشویش، زرعی تجارتی قوانین کو بدلنے کی قواعد تیز
جینت رائے چودھری
نئی دہلی، امریکہ-اسرائیل اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ نے نہ صرف تیل کی منڈیوں کو متاثر کیا ہے، بلکہ عالمی سطح پر خوراک اور کھاد کی سپلائی چین میں بڑی رکاوٹیں پیدا کر کے مستقبل کے غذائی تحفظ (فوڈ سیکیورٹی) کے لیے بھی خطرہ پیدا کر دیا ہے۔ اس بحران کو دیکھتے ہوئے ماہرینِ اقتصادیات اور مختلف حکومتیں اب عالمی زرعی تجارتی قوانین کا ازسرِ نومسودہ تیار کرنے کی تجویزپرعمل کر رہی ہیں، تاکہ مستقبل میں اس طرح کے جھٹکوں سے نمٹا جا سکے۔
بھارتیہ ودیش ویاپار سنستھان کے سابق ڈبلیو ٹی او چیئرمین پروفیسر وشوجیت دھر نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے آمد و رفت میں آنے والی رکاوٹ نے یہ واضح کر دیا ہے کہ توانائی، کھاد اور غذائی نظام ایک دوسرے سے کتنی گہرائی سے جڑے ہوئے ہیں۔
ایل این جی کی سپلائی میں خلل اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے ہندوستان جیسے ممالک میں کھاد کی پیداوار اور قیمتوں پر براہِ راست اثر پڑا ہے۔
ممتاز ماہرینِ اقتصادیات کی جانب سے مجوزہ ‘ماڈل ٹریٹی آن ایگریکلچرل ٹریڈ’ میں یہ دلیل دی گئی ہے کہ عالمی تجارتی تنظیم کا موجودہ ڈھانچہ موسمیاتی تبدیلی، وبا اور جنگ جیسے حالات سے نمٹنے میں نااہل ثابت ہوا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ ڈھانچہ شروع سے ہی ناقص تھا اور اب عالمی سپلائی چین کے دباؤ کے ٹیسٹ میں ناکام پایا گیا ہے۔
ہندوستان اپنی ضرورت کا تقریباً پانچواں حصہ یوریا، آدھا حصہ ڈی اے پی اور تقریباً تمام پوٹاش درآمد کرتا ہے۔ خلیجی ممالک سے ہونے والی سپلائی اور سمندری راستوں میں بڑھتے ہوئے خطرات کے باعث انشورنس پریمیم اور مال برداری کی لاگت میں بھاری اضافہ ہوا ہے، جس سے کھادوں کی قیمتوں میں اچھال آیا ہے۔
حکام کے مطابق، حکومتِ ہند نے فی الحال اس جھٹکے کو کسانوں تک پہنچنے سے روکنے کے لیے اسے زیادہ سبسڈی کے ذریعے خود برداشت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اگر حکومت ایسا نہ کرتی تو زرعی پیداوار میں کمی اور خوراک کی قیمتوں میں اضافے کا سنگین خطرہ پیدا ہو سکتا تھا، جو ایک بڑا مالیاتی بحران بن جاتا۔
مجوزہ نئے معاہدے کا مقصد تجارت کے بجائے غذائی تحفظ، ماحولیاتی پائیداری اور مساوات کو ترجیح دینا ہے۔ پروفیسر دھر کے مطابق، یہ معاہدہ حکومتوں کو ملکی پیداوار بڑھانے، سپلائی چین میں تنوع لانے اور ضرورت پڑنے پر مارکیٹ میں مداخلت کرنے کا قانونی حق دینے کی وکالت کرتا ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ جنگ بندی ہونے کے باوجود، آبنائے ہرمز سے ہونے والی تجارت میں ‘وار رسک پریمیم’ مستقل طور پر شامل ہو سکتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہندوستان جیسے ممالک کے لیے توانائی اور کھاد کی قیمتیں ساختی طور پر ہمیشہ کے لیے بلند رہ سکتی ہیں۔
بدلتے ہوئے حالات کے پیشِ نظر ہندوستان اب پوٹاش اور فاسفیٹ کے لیے نئے ذرائع تلاش کر رہا ہے اور غیر ملکی معدنی اثاثوں میں سرمایہ کاری بڑھا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، ملکی یوریا کی پیداوار میں توسیع اور خلیجی خطے سے باہر طویل مدتی ایل این جی معاہدوں پر بھی توجہ مرکوز کی جا رہی ہے تاکہ بیرونی جھٹکوں کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔
موجودہ بحران نے یہ واضح کر دیا ہے کہ جب سپلائی چین بہت زیادہ ایک ہی جگہ مرکوز ہوتی ہے، تو جھٹکے صرف مقامی نہیں رہتے بلکہ عالمی سطح پر پھیل جاتے ہیں۔ نیا معاہدہ ان ساختی کمزوریوں کو دور کرنے اور بڑے زرعی کاروباروں پر لگام لگانے کا مطالبہ کرتا ہے تاکہ کسانوں کو ان کی پیداوار کی صحیح قیمت مل سکے۔
تجویز میں غذائی تحفظ کو “انسانیت کی مشترکہ تشویش” کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اس کے تحت ریاستوں کو یہ حق اور ذمہ داری ہوگی کہ وہ تجارت کو محدود کر کے بھی اپنے شہریوں کے غذائی تحفظ کو یقینی بنائیں، جو موجودہ آزادئ تجارت کے حامی ڈبلیو ٹی او قوانین سے ایک بڑی تبدیلی ہوگی۔
امریکہ-ایران جنگ نے ثابت کر دیا ہے کہ عالمی تجارت کا موجودہ ڈھانچہ اب پرانے تصورات پر ٹکا ہوا ہے۔ برلن اور برن یونیورسٹی جیسے عالمی اداروں کے محققین کی حمایت یافتہ یہ پہل آنے والی ڈبلیو ٹی او وزارتی بات چیت میں ایک اہم موضوع بننے والی ہے۔
یواین آئی ۔ایف اے
تجزیہ
کاربن کے اخراج، درخت کاری اور حیاتیاتی تنوع: موسمیاتی حکمتِ عملی کے درمیان توازن کی تلاش
خصوصی مضمون: ظفر اقبال
دنیا اس وقت ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات نہ صرف واضح ہو چکے ہیں بلکہ تیزی سے شدت اختیار کر رہے ہیں، بڑھتا ہوا عالمی درجہ حرارت، شدید موسمی واقعات، گلیشیئرز کا پگھلنا، سمندری سطح میں اضافہ اور حیاتیاتی تنوع کا زوال یہ اس بات کے واضح اشارے ہیں کہ انسان کو اپنی ترقی کے ماڈل پر نظرثانی کرنا ہوگی، کاربن کے اخراج کو کم کرنا اس جدوجہد کا بنیادی جزو ہے، لیکن موجودہ صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ صرف اخراج میں کمی کافی نہیں ہوگی۔ ہمیں فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو نکالنے کے مؤثر طریقے بھی اپنانے ہوں گے۔
یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے: کیا کاربن کو ہٹانے کے لیے درخت لگانا ہمیشہ فائدہ مند ہوتا ہے؟ یا یہ بعض حالات میں ماحول کے لیے نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتا ہے؟ حالیہ سائنسی تحقیق اس پیچیدہ سوال کے کئی پہلوؤں کو اجاگر کرتی ہے، خاص طور پر جب بات حیاتیاتی تنوع (biodiversity) کی ہو۔
دنیا بھر میں انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں ہر سال تقریباً 42 ارب ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ فضا میں شامل ہو رہی ہے۔ اس میں سب سے بڑا حصہ جیواشم ایندھن (fossil fuels) جیسے کوئلہ، تیل اور گیس کے استعمال سے آتا ہے، جبکہ زمین کے استعمال میں تبدیلی—جیسے جنگلات کی کٹائی—بھی اس میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
اگرچہ مختلف ممالک نے اخراج کم کرنے کے وعدے کیے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ عالمی سطح پر اخراج میں اب بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین کا ماننا ہے کہ صرف اخراج کو کم کرنا کافی نہیں ہوگا۔ ہمیں ‘نیٹ زیرو’ کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے کاربن کو فضا سے نکالنا بھی ہوگا۔
پیرس معاہدہ عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلی کے خلاف ایک اہم قدم ہے، جس کا مقصد عالمی درجہ حرارت میں اضافے کو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود رکھنا ہے۔ اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے دنیا کو نہ صرف اخراج میں بڑی حد تک کمی لانی ہوگی بلکہ کاربن ہٹانے کی ٹیکنالوجیز اور حکمت عملیوں کو بھی بڑے پیمانے پر اپنانا ہوگا۔
لیکن یہاں ایک چیلنج ہے۔کاربن کو ہٹانے کے لیے استعمال ہونے والے طریقے خود ماحول پر منفی اثرات ڈال سکتے ہیں، خاص طور پر اگر انہیں بغیر منصوبہ بندی کے اپنایا جائے۔
کاربن کو ہٹانے کے کئی طریقے زیرِ غور ہیں، جن میں سے کچھ درج ذیل ہیں:
(اول) درخت لگانا: درخت فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں اور اسے اپنے اندر ذخیرہ کرتے ہیں۔ اس لیے درخت کاری کو سب سے قدرتی اور سستا طریقہ سمجھا جاتا ہے۔
(دوم) توانائی کی فصلیں (Bioenergy Crops): ایسی فصلیں اگائی جاتی ہیں جنہیں ایندھن کے طور پر استعمال کیا جا سکے، اور پھر ان کے جلنے سے پیدا ہونے والے کاربن کو پکڑ کر ذخیرہ کیا جائے۔
(سوم) کاربن کیپچر اور اسٹوریج (CCS): صنعتی ذرائع سے نکلنے والے کاربن کو پکڑ کر زمین کے اندر محفوظ کرنا۔
(چہارم) ڈائریکٹ ایئر کیپچر (DAC): جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے فضا سے براہِ راست کاربن کو نکالنا۔
ان میں سے سب سے زیادہ زیرِ بحث طریقہ درخت لگانا ہے، کیونکہ یہ فطری اور نسبتاً آسان ہے۔ لیکن اس کے بھی کئی پیچیدہ پہلو ہیں۔
بظاہر درخت لگانا ایک بہترین حل معلوم ہوتا ہے۔ یہ نہ صرف کاربن کو جذب کرتا ہے بلکہ مٹی کو محفوظ رکھتا ہے، پانی کے چکر کو بہتر بناتا ہے اور ماحولیاتی نظام کو مستحکم کرتا ہے۔ لیکن جب اسے بڑے پیمانے پر نافذ کیا جاتا ہے، تو اس کے منفی اثرات بھی سامنے آ سکتے ہیں۔
بڑے پیمانے پر درخت لگانے کے لیے لاکھوں مربع کلومیٹر زمین درکار ہوتی ہے۔ یہ زمین کہاں سے آئے گی؟ اکثر یہ زرعی زمین یا قدرتی گھاس کے میدان (grasslands) ہوتی ہے، جو خود بھی اہم ماحولیاتی نظام ہیں۔
اگر ایک ہی قسم کے درخت بڑے پیمانے پر لگائے جائیں (monoculture plantations)، تو یہ مقامی پودوں اور جانوروں کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ اس سے حیاتیاتی تنوع کم ہو جاتا ہے۔
کچھ درخت بہت زیادہ پانی استعمال کرتے ہیں، جس سے مقامی آبی وسائل پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ زمین کے استعمال میں تبدیلی سے مقامی لوگوں کی روزی روٹی متاثر ہو سکتی ہے، خاص طور پر کسانوں اور چرواہوں کی۔
حالیہ مطالعات میں سائنسدانوں نے مختلف موسمیاتی منظرناموں کا تجزیہ کیا تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ کاربن ہٹانے کی حکمت عملیوں کا حیاتیاتی تنوع پر کیا اثر پڑتا ہے۔
انہوں نے عالمی نقشوں کو استعمال کرتے ہوئے یہ دیکھا کہ مستقبل میں کہاں درخت لگائے جائیں گے یا توانائی کی فصلیں اگائی جائیں گی، اور یہ علاقے حیاتیاتی تنوع کے لحاظ سے کتنے حساس ہیں۔
بہت سے ایسے علاقے جہاں درخت لگانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، حیاتیاتی تنوع کے لحاظ سے نہایت اہم ہیں۔ اگر ان علاقوں میں غیر مقامی درخت لگائے جائیں، تو مقامی ماحولیاتی نظام کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔کچھ علاقوں میں درخت لگانا فائدہ مند ہو سکتا ہے، خاص طور پر جہاں پہلے جنگلات موجود تھے اور انہیں بحال کیا جا سکتا ہے۔
کاربن ہٹانے اور حیاتیاتی تنوع کے درمیان تعلق کو دو طریقوں سے دیکھا جا سکتا ہے۔درخت لگانے سے کاربن تو کم ہو سکتا ہے، لیکن حیاتیاتی تنوع متاثر ہو سکتا ہے۔ زرعی زمین کو جنگل میں تبدیل کرنے سے خوراک کی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے۔
مقامی انواع کے درخت لگانے سے دونوں اہداف حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ جنگلات کی بحالی (restoration) سے کاربن ذخیرہ بھی ہوتا ہے اور حیاتیاتی تنوع بھی بڑھتا ہے۔
ان چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے، ماہرین درج ذیل حکمت عملی تجویزکرتے ہیں۔
درخت لگاتے وقت مقامی پودوں کو ترجیح دی جائے۔حساس ماحولیاتی علاقوں کو محفوظ رکھا جائے۔مقامی لوگوں کو منصوبوں میں شامل کیا جائے تاکہ ان کے مفادات کا تحفظ ہو۔ صرف درخت لگانے پر انحصار نہ کیا جائے بلکہ مختلف طریقوں کو یکجا کیا جائے۔
موسمیاتی تبدیلی کے خلاف جنگ ایک پیچیدہ اور کثیر جہتی مسئلہ ہے۔ کاربن کو ہٹانا اس کا ایک اہم حصہ ہے، لیکن اسے اکیلے حل کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔
ہمیں ایک متوازن نقطہ نظر اپنانا ہوگا جس میں: کاربن کا اخراج (removal)، حیاتیاتی تنوع کا تحفظ، سماجی و اقتصادی انصاف سب کو یکجا کیا جائے۔
درخت لگانا ایک بہتر حل ہو سکتا ہے، لیکن یہ کوئی جادوئی حل نہیں ہے۔ اگر اسے بغیر سوچے سمجھے اپنایا جائے تو یہ ماحول کے لیے نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم سائنسی شواہد کی بنیاد پر فیصلے کریں اور ایسے اقدامات کریں جو نہ صرف کاربن کو کم کریں بلکہ زمین کے حیاتیاتی نظام کو بھی محفوظ رکھیں۔مستقبل کی کامیابی اسی میں ہے کہ ہم ترقی اور تحفظ کے درمیان توازن قائم کریں —ایسا توازن جو انسان اور فطرت دونوں کے لیے فائدہ مند ہو۔
(یواین آئی)
تجزیہ
فلم گیت گایا پتھروں کے بعد جیتندر اپنی شناخت بنانے میں کامیاب ہوئے

ممبئی، 7 اپریل (یواین آئی) بالی ووڈ کے مشہور اداکار جتیندرآج 84 سال کے ہوگئے 7 اپریل 1942 کو ایک جوہری خاندان میں پیدا ہونے والے جتیندرکا بچپن سے ہی فلموں کی جانب رجحان تھا اور وہ اداکار بننا چاہتے تھے۔ وہ اکثر گھر سے بھاگ کر فلم دیکھنے جایا کرتے تھے۔ جتیندرنے اپنے سنیما کیریئر کی شروعات 1959 میں ریلیز ہونے والی فلم نورنگ سے کی جس میں انہیں ایک چھوٹا سا کردار ادا کرنے کا موقع ملا تقریباً پانچ سال تک جتیندرفلم انڈسٹری میں اداکار کے طور پر کام حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کرتے رہے۔ 1964 میں انہیں شانتارام کی فلم گیت گایا پتھروں نے میں کام کرنے کا موقع ملا۔ اس فلم کے بعد جیتندر اپنی شناخت بنانے میں کامیاب ہوگئے۔
1967 میں جتیندرکی ایک اور سپرہٹ فلم فرض ریلیز ہوئی۔ روی کانت ناگائچ کی ہدایتکاری میں بنی اس فلم میں جتیندرنے ڈانسنگ اسٹار کا کردار ادا کیا۔ اس فلم میں ان پر فلمایا گیا گانا مست بہاروں کا میں عاشق شائقین اور سامعین کے درمیان بہت مقبول ہوا۔ اس فلم کے بعد جتیندرکو “جمپنگ جیک” کہنا شروع کر دیا گیا۔
فرض کی کامیابی کے بعد ڈانسنگ اسٹار کے طور پر جتیندرکی شبیہ بن گئی۔ اس فلم کے بعد پروڈیوسرز اور ہدایتکاروں نے بیشتر فلموں میں ان کی ڈانسنگ شبیہ کو اجاگر کیا۔ پروڈیوسروں نے جتیندرکو ایک ایسے ہیرو کے طور پر پیش کیا جو رقص کرنے میں ماہر ہو۔ ان فلموں میں ہمجولی اور کارواں جیسی سپرہٹ فلمیں شامل ہیں۔ اس دوران جتیندرنے جینے کی راہ، دو بھائی اور دھرتی کہے پکار کے جیسی فلموں میں ہلکے پھلکے کردار ادا کر کے اپنی ہمہ جہت صلاحیتوں کا بھی مظاہرہ کیا۔
سال 1973 میں ریلیز ہونے والی فلم جیسے کو تیسا کے ہٹ ہونے کے بعد فلم انڈسٹری میں ان کے نام کے ڈنکے بجنے لگے اور وہ ایک کے بعد ایک مشکل کردار ادا کرتے ہوئے فلم انڈسٹری میں اپنا مقام بناتے گئے۔ 70 کی دہائی میں جتیندرپر یہ الزام لگنے لگا کہ وہ صرف ناچ گانے سے بھرپور رومانوی کردار ہی ادا کر سکتے ہیں۔ انہیں اس شبیہ سے نکالنے میں پروڈیوسر اور ہدایتکار گلزار نے مدد کی اور ان کے ساتھ پریچے، خوشبو اور کنارا جیسی فیملی فلمیں بنائیں ۔ ان فلموں میں جتیندرکی سنجیدہ اداکاری دیکھ کر ناظرین حیران رہ گئے۔
جتیندرکے سنیما کیریئر پر نظر ڈالنے پر یہ بات سامنے آتی ہے کہ وہ ملٹی اسٹارر فلموں کا اہم حصہ رہے ہیں۔ فلم انڈسٹری کے رنگین پردے پر جیتندر اور ریکھا کی جوڑی کو خوب پسند کیا گیا۔ 80 کی دہائی میں ان کی جوڑی سری دیوی اور جیا پردا کے ساتھ بھی کافی مقبول ہوئی۔ اپنے منفرد ڈانس اسٹائل کی وجہ سے اس جوڑی کو ناظرین نے بے حد پسند کیا۔
سال1982 سے 1987 کے درمیان جتیندر نے جنوبی ہندوستان کے فلم ساز ٹی راماراو، کے باپّیا کے راگھووندرا راؤ وغیرہ کی فلموں میں بھی کام کیا۔ 2000 کی دہائی میں فلموں میں اچھا رول نہ ملنے پر انہوں نے فلموں میں کام کرنا کم کر دیا۔ اس دوران وہ اپنی بیٹی ایکتا کپور کو چھوٹے پردے پر پروڈیوسر کے طور پر قائم کرنے میں ان کے رہنما بنے رہے۔ان دنوں وہ اپنی بیٹی ایکتا کپور کو فلم پروڈکشن میں مددکر رہے ہیں۔
تجزیہ
پھلوں کا بادشاہ خطرے میں: آم اور موسمیاتی تبدیلی
خصوصی مضمون: ظفر اقبال
گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی برصغیر میں ایک خاص خوشبو فضا میں پھیلنے لگتی ہے یہ خوشبو صرف ایک پھل کی نہیں بلکہ ایک پورے موسم، ایک تہذیب اور ایک جذباتی وابستگی کی علامت ہوتی ہے یہ خوشبو آم کی ہوتی ہے آم کو بجا طور پر“پھلوں کا بادشاہ”کہا جاتا ہے یہ صرف ذائقے میں لاجواب نہیں بلکہ ہماری ثقافت، معیشت اور روزمرہ زندگی کا ایک اہم حصہ ہےلیکن آج یہ بادشاہ ایک خاموش خطرے سے دوچار ہے۔ موسمیاتی تبدیلی، جو دنیا بھر میں قدرتی نظاموں کو متاثر کر رہی ہے، اب آم کی کاشت اور پیداوار کو بھی اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔ یہ مسئلہ محض زرعی نہیں بلکہ معاشی، ماحولیاتی اور ثقافتی بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔
آم صرف ایک زرعی پیداوار نہیں بلکہ ایک جذباتی تجربہ ہے۔ بچپن کی گرمیوں کی چھٹیاں، گھر میں آموں کی پیٹیاں، ٹھنڈے آم کھانے کی خوشی، آم کے شیک اور آچار یہ سب ہماری یادوں کا حصہ ہیں۔
دیہی علاقوں میں آم کے باغات نہ صرف خوبصورتی کا منظر پیش کرتے ہیں بلکہ لاکھوں لوگوں کے لیے روزگار کا ذریعہ بھی ہیں۔ کسان، مزدور، ٹرانسپورٹر، تاجرسب کی معیشت کسی نہ کسی طرح آم سے جڑی ہوئی ہے۔
ہندوستان دنیا کا سب سے بڑا آم پیدا کرنے والا ملک ہے، جہاں لاکھوں ہیکٹر زمین پر آم کی کاشت کی جاتی ہے اور کروڑوں ٹن پیداوار حاصل ہوتی ہے۔ اسی طرح پاکستان، بنگلہ دیش اور دیگر جنوبی ایشیائی ممالک میں بھی آم اہم زرعی فصل ہے۔
آم کا درخت بظاہر مضبوط نظر آتا ہے، لیکن درحقیقت یہ اپنے ماحول کے حوالے سے نہایت حساس ہوتا ہے۔ اس کی نشوونما اور پھل دینے کا عمل کئی موسمی عوامل پر منحصر ہوتا ہے۔
آم کے درخت کو گرم موسم پسند ہے، لیکن ہر مرحلے کے لیے مخصوص درجہ حرارت درکار ہوتا ہے۔ پھول نکلنے کے وقت 24 سے 27 ڈگری سینٹی گریڈ بہترین سمجھا جاتا ہے۔ بہت زیادہ گرمی یا اچانک سردی نقصان دہ ثابت ہوتی ہے
آم کے درخت کو ایک معتدل سردی کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ اس میں پھول آنے کا عمل شروع ہو سکے۔ اگر سردی مناسب نہ ہو تو پھول کم نکلتے ہیں، جس سے پیداوار متاثر ہوتی ہے۔ پھول آنے اور پھل بننے کے دوران خشک موسم ضروری ہوتا ہے۔
زیادہ نمی یا بارش اس مرحلے میں بیماریوں کا سبب بن سکتی ہے۔
اگرچہ آم کو پانی کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن بارش کا وقت اور مقدار نہایت اہم ہے۔ بے وقت بارش فصل کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔
موسمیاتی تبدیلی سے مراد زمین کے درجہ حرارت، بارش کے نظام اور موسم کے عمومی پیٹرن میں طویل مدتی تبدیلیاں ہیں۔ یہ تبدیلیاں انسانی سرگرمیوں، خاص طور پر فوسل فیول کے استعمال، جنگلات کی کٹائی اور صنعتی آلودگی کے باعث تیز ہو رہی ہیں۔آم کی فصل ان تبدیلیوں سے براہ راست متاثر ہو رہی ہے کیونکہ اس کا حیاتیاتی چکر موسمی حالات سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔
.غیر متوقع بارش، پھول نکلنے کے دوران بارش آم کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔اس دوران پھول جھڑ جاتے ہیں، جرگن (pollination) متاثر ہوتا ہے، پھل بننے کا عمل رک جاتا ہے۔ یہ صورتحال کسانوں کے لیے انتہائی نقصان دہ ہوتی ہے کیونکہ ایک بار پھول ختم ہو جائیں تو پورے سیزن کی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے۔اگرچہ بارش نہ بھی ہو، تیز ہوائیں پھل کو درخت سے گرا سکتی ہیں۔کچے پھل گر جاتے ہیں، پیداوار میں نمایاں کمی آتی ہے۔
زیادہ نمی آم کے باغات میں بیماریوں کو بڑھاتی ہے، جیسے:فنگس، اینتھراکنوز (Anthracnose)، پاؤڈری میلڈیو۔یہ بیماریاں نہ صرف پیداوار کم کرتی ہیں بلکہ پھل کے معیار کو بھی متاثر کرتی ہیں۔ زیادہ گرمی یا غیر معمولی درجہ حرارت آم کے درخت کے قدرتی چکر کو بگاڑ دیتا ہے۔ پھول جلدی یا دیر سے آتے ہیں، پھل صحیح طرح نہیں بنتا، ذائقہ اور معیار متاثر ہوتا ہے
پہلے جہاں بارش کا ایک متوازن نظام ہوتا تھا، اب وہ بے ترتیب ہو چکا ہے۔کبھی شدید بارش، کبھی طویل خشک سالی،یہ غیر یقینی صورتحال کسانوں کے لیے منصوبہ بندی کو مشکل بنا دیتی ہے۔موسمیاتی تبدیلی کا سب سے زیادہ اثر کسانوں پر پڑتا ہے۔
جب فصل خراب ہوتی ہے تو کسان کو براہ راست مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔قرض بڑھ جاتے ہیں، آمدنی کم ہو جاتی ہے۔مسلسل نقصان اور غیر یقینی حالات کسانوں کے ذہنی سکون کو متاثر کرتے ہیں۔
آم کی پیداوار کم ہونے سے اس سے جڑے دیگر شعبے بھی متاثر ہوتے ہیں، جیسے: مزدور، ٹرانسپورٹ، مارکیٹ،آم کے باغات صرف زرعی زمین نہیں بلکہ ایک مکمل ماحولیاتی نظام ہوتے ہیں۔
یہ پرندوں اور کیڑوں کے لیے مسکن فراہم کرتے ہیں، زمین کی زرخیزی کو برقرار رکھتے ہیں، درجہ حرارت کو متوازن رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ جب یہ باغات متاثر ہوتے ہیں تو پورا ماحولیاتی توازن بگڑ جاتا ہے۔
آم ہماری ثقافت کا اہم حصہ ہے۔ مہمان نوازی میں آم پیش کرنا،آم کی مختلف اقسام پر فخر، ادبی اور شعری حوالوں میں آم،اگر آم کی پیداوار کم ہو جاتی ہے تو یہ ثقافتی روایات بھی متاثر ہوں گی۔
اس آفت سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم جدید زرعی تکنیک، ڈرپ اریگیشن، موسمی پیشگوئی کا استعمال، بیماریوں کے خلاف بہترا سپرے وغیرہ استعمال کریں۔ سائنسدان ایسی اقسام تیار کر رہے ہیں جو زیادہ گرمی برداشت کر سکیں، بیماریوں کے خلاف مزاحمت رکھتی ہوں۔ پانی کا بہتر استعمال: پانی کے ذخائر اور مؤثر آبپاشی کے نظام اپنانا ضروری ہے۔
حکومت کو چاہیے کہ کسانوں کو مالی مدد ے، تحقیق میں سرمایہ کاری کرے، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے منصوبے بنائے۔
عوامی شعور: لوگوں کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھنی چاہیے: ماحول دوست طرز زندگی اپنانا، درخت لگانا، وسائل کا محتاط استعمال
اگر موسمیاتی تبدیلی پر قابو نہ پایا گیا تو آنے والے برسوں میں آم کی پیداوار مزید متاثر ہو سکتی ہے قیمتیں بڑھ سکتی ہیں، معیار کم ہو سکتا ہے، کچھ اقسام ناپید بھی ہو سکتی ہیں۔لیکن اگر بروقت اقدامات کیے جائیں تو اس بحران کو کم کیا جا سکتا ہے۔
آم صرف ایک پھل نہیں بلکہ ہماری زندگی، معیشت اور ثقافت کا اہم حصہ ہے۔ موسمیاتی تبدیلی نے اس“بادشاہ”کو خطرے میں ڈال دیا ہے، اور یہ خطرہ صرف کسانوں تک محدود نہیں بلکہ ہم سب کے لیے ہے۔یہ وقت ہے کہ ہم سنجیدگی سے اس مسئلے کو سمجھیں اور اجتماعی طور پر اس کا حل تلاش کریں۔ اگر ہم نے آج اقدامات نہ کیے تو ممکن ہے کہ آنے والی نسلیں آم کو صرف کہانیوں اور کتابوں میں ہی دیکھیں۔
آم کی خوشبو، اس کا ذائقہ اور اس سے جڑی یادیں ہماری شناخت کا حصہ ہیں اور اس شناخت کو بچانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
(یواین آئی)
جموں و کشمیر6 days agoلداخ کو آخرکار آدھار میں علیحدہ شناخت مل گئی، ‘ریاست’ کے خانے میں جموں و کشمیر کی جگہ لے لی
ہندوستان1 week agoمغربی ایشیا کے بحران کے باعث عالمی بینک نے مالی سال 27 کے لیے ہندوستان کی شرح نمو کم کر کے 6.6 فیصد کر دی
دنیا1 week agoدنیا ایران کو آبنائے ہرمز عبور کرنے کے لیے ادائیگی قبول نہیں کرے گی: متسوتاکس
ہندوستان1 week agoہندوستان نے ایران میں مقیم اپنے شہریوں کو فوری طور پر ملک چھوڑنے کا مشورہ دیا
جموں و کشمیر1 week agoمنشیات کے کیس میں ملوث ہونے پر جموں و کشمیر میں خاتون پولیس اہلکار ملازمت سے برطرف
ہندوستان1 week agoہندوستان نے مغربی ایشیا میں جنگ بندی کا خیر مقدم کیا، مستقل امن کی اپیل
دنیا1 week agoایران کی پہلی 10 نکاتی تجویز مسترد، نئی تجاویز پر ایران اور پاکستان سے بات چیت ہورہی ہے: جے ڈی وینس
جموں و کشمیر4 days agoسوپور اسکول میں بدعنوانی کے الزامات، لیکچرر معطل
جموں و کشمیر1 week agoایل جی نے 11 اپریل سے شروع ہونے والی 100 روزہ ‘نشہ مکت جموں و کشمیر ‘ مہم کی تیاریوں کا جائزہ لیا
دنیا1 week agoایران سے دوبارہ جنگ کیلئے تیار ہیں: نیتن یاہو
دنیا4 days agoجنگ بندی برقرار ہے، ایرن میز پر واپس آئے گا: ڈونلڈ ٹرمپ
دنیا4 days agoلبنان میں اسرائیلی حملوں سے شہید افراد کی تعداد 2 ہزار سے تجاوز کر گئی












































































































