تازہ ترین
سماجی سرگرمیوں کے نام پر دہشت گردی سے جڑا نیٹ ورک بے نقاب، 12 مشتبہ افراد گرفتار: سی آئی کے

سری نگر، کاؤنٹر انٹیلی جنس کشمیر نے وادی کشمیر میں سماجی سرگرمیوں کے پردے میں کام کرنے والے ایک مبینہ دہشت گرد معاون نیٹ ورک کے خلاف بڑی کارروائی انجام دیتے ہوئے مختلف اضلاع میں بیک وقت چھاپے مارے۔ اس کارروائی کو ملک دشمن عناصر کے لیے ایک فیصلہ کن دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔
سی آئی کے کے مطابق یہ کارروائی ایف آئی آر نمبر 03/2023 کے سلسلے میں انجام دی گئی، جو پولیس اسٹیشن سی آئی کے سری نگر میں تعزیرات ہند کی دفعات 505 اور 153-اے کے علاوہ غیر قانونی سرگرمیاں (انسداد) ایکٹ یو اے پی اے کی دفعات 13 اور 18 کے تحت درج ہے۔ چھاپوں کے لیے این آئی اے ایکٹ کے تحت نامزد خصوصی جج، سری نگر کی عدالت سے باقاعدہ تلاشی وارنٹ حاصل کیے گئے تھے۔
تحقیقات کے دوران موصول خفیہ اطلاعات میں انکشاف ہوا کہ جموں و کشمیر میں بعض افراد سماجی ذرائع ابلاغ، سوشل میڈیا، انسانی حقوق، ماحولیاتی تحفظ اور خواتین کو بااختیار بنانے جیسے پلیٹ فارمز کا سہارا لے کر ایسے اقدامات انجام دے رہے تھے جو ہندوستان کی خودمختاری، سالمیت اور سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ مزید تصدیق میں ان افراد کے علیحدگی پسند گروہوں اور کالعدم دہشت گرد تنظیموں سے مبینہ روابط بھی سامنے آئے ہیں۔
سی آئی کے کا کہنا ہے کہ تفتیش میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ان میں سے بعض مشتبہ افراد خفیہ اور انکرپٹڈ ایپلیکیشنز کے ذریعے پاکستان میں موجود دہشت گرد ہینڈلرز سے رابطے میں تھے۔ ان پر الزام ہے کہ وہ جھوٹے بیانیے پھیلانے، دہشت گردوں اور دہشت گردی کی تشہیر کرنے، نوجوانوں کو انتہاپسندی کی جانب مائل کرنے اور جموں و کشمیر میں امن و امان کو نقصان پہنچانے کی منظم کوششوں میں ملوث رہے ہیں۔
ان اطلاعات کی بنیاد پر سری نگر، بارہمولہ، اننت ناگ، پلوامہ، کپواڑہ، بڈگام اور شوپیان اضلاع میں واقع 12 مقامات پر تلاشی لی گئی، جس دوران 12 مشتبہ افراد کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا۔ کارروائی کے دوران قابلِ اعتراض ڈیجیٹل مواد بھی برآمد کیا گیا، جن میں 10 موبائل فون، ایک لیپ ٹاپ اور 14 سم کارڈز شامل ہیں، جنہیں فرانزک جانچ کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق اس کارروائی کے نتیجے میں ایک خطرناک خفیہ نیٹ ورک کو توڑنے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے، جو سماجی مقاصد کی آڑ میں دہشت گرد ایجنڈے کو آگے بڑھا رہا تھا۔ ضبط شدہ ڈیجیٹل شواہد سے سازش کی مزید پرتیں کھلنے کی توقع ہے اور آئندہ دنوں میں مزید گرفتاریوں کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا رہا۔
سی آئی کے نے واضح کیا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں تاکہ سازش کے مکمل دائرہ کار، دیگر ملوث افراد اور سرحد پار بیٹھے دہشت گرد و علیحدگی پسند ہینڈلرز کے ساتھ رابطوں کی کڑیوں کو بے نقاب کیا جا سکے۔ ادارے نے قومی سلامتی کے خلاف سرگرم تمام عناصر کے خلاف سخت کارروائی جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ہوشیار رہیں اور امن و امان برقرار رکھنے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کریں۔
یو این آئی، ارشید بٹ
ہندوستان
مغربی بنگال میں بی جے پی حکومت بننے سے شہریوں کو آیوشمان بھارت کا فائدہ ملے گا: مودی
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کو کہا کہ مغربی بنگال میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت بننے کے بعد اب ریاست کے لوگوں کو آیوشمان بھارت صحت بیمہ اسکیم کا فائدہ مل سکے گا انہوں نے زور دے کر کہا کہ نئی ’ڈبل انجن حکومت‘ مرکزی فلاحی پروگراموں کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنائے گی مسٹر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا، “مغربی بنگال کے میرے بھائیوں اور بہنوں کی فلاح اولین ترجیح ہے۔ مجھے بہت خوشی ہے کہ ریاست کے لوگوں کو آیوشمان بھارت تک رسائی حاصل ہوگی، جو دنیا کی سب سے بڑی صحت کی دیکھ بھال کی اسکیم ہے اور معیاری اور سستی طبی خدمات کو یقینی بناتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ڈبل انجن حکومت مرکزی اسکیموں کی بلا رکاوٹ فراہمی کو یقینی بنائے گی۔”
وزیر اعظم کا یہ بیان مغربی بنگال میں بی جے پی کی جانب سے باضابطہ طور پر اقتدار سنبھالنے کے بعد سامنے آیا ہے۔ ریاست میں ترنمول کانگریس کی 15 سالہ حکومت ختم ہو گئی اور سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی قیادت والی حکومت اقتدار سے باہر ہو گئی۔ بی جے پی نے آیوشمان بھارت کے نفاذ اور مرکز کے ساتھ بہتر تال میل کو اپنے انتخابی مہم کا اہم موضوع بنایا تھا اور سابقہ ترنمول حکومت پر سیاسی وجوہات کی بنا پر کئی مرکزی اسکیموں کو روکنے کا الزام عائد کیا تھا۔
آیوشمان بھارت، جسے سرکاری طور پر پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا کہا جاتا ہے، معاشی طور پر کمزور خاندانوں کوسیکنڈری اور ٹرٹیری اسپتالوں میں بھرتی ہونے کے لئے فی خاندان پانچ لاکھ روپے تک سالانہ صحت بیمہ کوریج فراہم کرتی ہے۔ ترنمول حکومت کے دوران مغربی بنگال اس اسکیم سے باہر رہا تھا اور اس کی جگہ اپنی صحت بیمہ اسکیم ’سواستھیہ ساتھی‘ چلا رہا تھا، جسے محترمہ بنرجی حکومت نے ایک زیادہ جامع متبادل کے طور پر پیش کیا تھا۔
یواین آئی۔الف الف
دنیا
برطانوی کابینہ اجلاس میں کیئر اسٹارمر کی سیاسی قسمت کا فیصلہ متوقع
لندن، کیئر اسٹارمر پر استعفے کے لیے دباؤ میں اضافہ ہو گیا ہے جبکہ آج ہونے والے کابینہ اجلاس میں ان کے سیاسی مستقبل پر اہم فیصلہ متوقع ہے برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق نائب وزیر اعظم ڈیوڈ لیمی نے بھی وزیر اعظم سے استعفے کے لیے واضح ٹائم ٹیبل دینے کا مطالبہ کر دیا ہے اس سے قبل وزیر داخلہ شبانہ محمود بھی کیئر اسٹارمر کو اقتدار کی منظم منتقلی کا طریقہ کار طے کرنے کا مشورہ دے چکی ہیں۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ کابینہ کے اجلاس میں وزیر اعظم سے مستعفی ہونے کے وقت سے متعلق بات کی جائے گی اور اس حوالے سے حتمی مؤقف سامنے آ سکتا ہے۔
دوسری جانب کیئر اسٹارمر نے مستعفی ہونے والے وزارتی معاونین کی جگہ نئی تقرریاں بھی کر دی ہیں۔
برطانوی رکن پارلیمنٹ افضل خان نے کہا کہ لیبر پارٹی کی عوامی مقبولیت میں نمایاں کمی آئی ہے جبکہ حالیہ بلدیاتی انتخابات میں بھی پارٹی کو متعدد نشستوں سے ہاتھ دھونا پڑا۔
یواین آئی۔ م س
دنیا
صومالی قزاقوں نے تیل بردار جہاز کی رہائی کے لیے تاوان کی رقم بڑھا کر 10 ملین ڈالر کر دی
قاہرہ، ایم ٹی یوریکا کے اغوا کا بحران اس وقت مزید سنگین ہو گیا جب صومالی قزاقوں نے جہاز کے عملے کی رہائی کے لیے تاوان کی رقم بڑھا کر 10 ملین ڈالر کر دی رپورٹس کے مطابق تیل بردار جہاز پر 8 مصری شہری بھی سوار ہیں جبکہ مذاکرات میں تعطل اور رابطے منقطع ہونے کے بعد یرغمالیوں کے اہل خانہ میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے جہاز پر اغوا ہونے والے تھرڈ انجینئر محمد راضی عبدالمنعم المحسب کے بھائی احمد راضی نے بتایا کہ جہاز یمن جا رہا تھا اور کھلے سمندر میں انتظار کے دوران صومالی قزاقوں نے اس پر حملہ کر کے قبضہ کر لیا اور اسے صومالیہ کی طرف لے گئے۔
انہوں نے کہا کہ چند روز قبل ان کے بھائی کی مختصر فون کال موصول ہوئی تھی جس میں بتایا گیا کہ جہاز کی مالکانہ کمپنی اور قزاقوں کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
احمد راضی کے مطابق ابتدائی طور پر قزاقوں نے 3 ملین ڈالر تاوان طلب کیا تھا تاہم بعد میں اس رقم کو بڑھا کر 10 ملین ڈالر کر دیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ بعد میں ان کے بھائی نے دوبارہ رابطہ کر کے کہا کہ جہاز پر حالات تیزی سے خراب ہو رہے ہیں اور عملے کی جان خطرے میں ہے۔
دوسری جانب محمد راضی عبدالمنعم کی اہلیہ امیرہ محمد نے بتایا کہ جہاز کو 2 مئی کو صومالی قزاقوں نے اغوا کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ جہاز کی مالکانہ کمپنی مطلوبہ تاوان ادا کرنے سے انکار کر رہی ہے جس کے باعث بحران مزید پیچیدہ ہو گیا ہے جبکہ یرغمالیوں سے رابطہ بھی ممکن نہیں رہا۔
اہل خانہ نے مصری حکام اور بین الاقوامی اداروں سے فوری مداخلت کرتے ہوئے محبوس افراد کی بحفاظت رہائی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
یواین آئی۔ م س
جموں و کشمیر1 week agoجموں میں ہوٹل کے بیسمنٹ سے مشتبہ حالات میں نوجوان لڑکی کی لاش برآمد
دنیا4 days agoامریکی کانگریس میں پاکستان کے حق میں بڑی قرارداد منظور
ہندوستان7 days agoغیر آئینی طریقوں سے پارٹیوں کو توڑنا جمہوری ڈھانچے پر براہ راست حملہ ہے: بھگونت مان
دنیا1 week agoصدر ٹرمپ کے اعلان کے بعد خام تیل کی قیمتیں کم ہو گئیں
دنیا4 days agoامریکہ ایران جنگ ختم ہوگئی تب بھی تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا امکان جاری رہے گا
ہندوستان7 days agoوزیراعظم مودی نے یو اے ای میں ڈرون حملے کی مذمت کی، مغربی ایشیا میں سفارت کاری اور سمندری سلامتی کی حمایت کی
ہندوستان5 days agoآپریشن سندور نے درست اور فیصلہ کن کارروائی سے ہندستان کی سلامتی پالیسی میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا:سیتا رمن
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر پولیس نے سری نگر میں منشیات فروش کی غیر قانونی عمارت مسمار کر دی
دنیا1 week agoایرانی فوج کی آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو وارننگ
ہندوستان5 days agoراجناتھ سنگھ نے ‘آپریشن سندور’ کو قومی عزم اور تیاری کی مضبوط علامت قرار دیا
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر منڈلاتا امریکی طیارہ پراسرار طور پر اچانک آسمان سے غائب، کہاں گیا
ہندوستان7 days agoہندوستان نے فجیرہ حملے کی سخت مذمت کی، مسائل کے حل کے لیے سفارت کاری پر زور دیا










































































































