دنیا
فرانس کی عدالت نے شام کے سابق صدر بشارالاسد کے نئے وارنٹ گرفتاری جاری

پیرس، فرانس کی عدالت نے شام کے سابق صدر بشارالاسد کے نئے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ وارنٹ گرفتاری دو تفتیشی میجسٹریٹ کی طرف سے جاری کیے گئے ہیں۔
فرانس کے ذرائع کے مطابق بشارالاسد کے یہ وارنٹ گرفتاری جنگی جرائم کی بنیاد پر جاری کیے گئے ہیں۔ اں ذرائع کا کہنا ہے یہ دوسرا موقع ہے کہ فرانس میں بشار الاسد کے گرفتاری وارنٹ جاری کیے گئے ہیں۔
واضح رہے بشارالاسد کی حکومت کا شام کی اپوزیشن سے تعلق رکھنے والی فورسز نے آٹھ دسمبر کو تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا۔ بشار الاسد ملک سے فرار ہو چکے ہیں اور اپوزیشن نے نئی حکومت بنا لی ہے۔
وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کے بعد بشارالاسد اس خطے کے دوسرے بڑے لیڈر ہیں جن کو جنگی جرائم میں وارنٹ گرفتاری کا سامنا ہوا ہے۔ ان سے پہلے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے اپنے سابق وزیر دفاع یواو گیلنٹ سمیت بین الاقوامی فوجداری عدالت نے وارنٹ گرفتاری جاری کر رکھے ہیں۔ البتہ فرق یہ ہے کہ بشارالاسد کے وارنٹ گرفتاری ایک ملک کی عدالت نے جاری کیے ہیں اور جنگی جرائم میں مطلوب نیتن یاہو کے بین الاقوامی فوجداری عدالت نے وارنٹ جاری کر رکھے ہیں۔
ان ذرائع کے مطابق بشارالاسد پر الزام ہے کہ وہ فوج کے کمانڈر انچیف تھے اور شامی فوج نے 2017 میں شام کے ایک شہر دراء میں بمبای کر کے ایک شہری کو ہلاک کر دیا تھا۔ تاہم ان ذرائع نے بمباری سے مارے جانے والے شہری کا نام ظاہر نہیں کیا ہے۔
معلوم ہوا ہے کہ وارنٹ جاری کرنے کی بنیاد 59 سالہ فرانسی شہریت رکھنے والے شامی صلاح ابو نابوت کی ہلاکت کی تفتیش بنی ہے۔ جسے سات جون 2017 کو ہلاک کیا گیا تھا۔ شامی فوج نے اس کے گھر پر ہیلی کاپٹروں سے گولہ باری کی تھی۔
فرانس کی عدالت سمجھتی ہے کہ اس بمباری کا حکم بشارالاسد نے دیا تھا ور اس کے لیے گولہ بارود و دیگر وسائل بھی اسی کی وجہ سے فراہم ہوئے تھے۔
اس مقدمے میں شام کی فوج کے چھ سینیئر افسروں کے پہلے ہی فرانس کی عدالت گرفتاری وارنٹ جاری کر چکی ہے۔ بمباری کے اس واقعے کی تحقیقات 2018 سے شروع ہوئی تھیں۔
بمباری سے ہلاک ہونے والے فرانسیسی شہری کے بیٹے عمر ابو نابوت نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ‘ یہ کیس انصاف کے لیے ایک طویل لڑائی کے خاتمے کی نمائندگی کرتا ہے، جس کے لیے میرے خاندان اور مجھے شروع سے ہی یقین تھا۔ امید ہے اب مقدمے کی سماعت ہوگی، مجرم جہاں بھی ہوں گے گرفتار ہوں گے اور ہمیں انصاف ملے گا۔’
یاد رہے فرانس میں حکام نے نومبر 2023 میں بشار الاسد کے خلاف 2013 میں کیمیائی حملوں کے سلسلے میں گرفتاری کا پہلا وارنٹ جاری کیا تھا۔ امریکی انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق اس کیمیائی حملے میں ایک ہزار سے زائد افراد سارین گیس سے ہلاک ہوئے تھے۔
یواین آئی۔ م س
دنیا
سعودی اور ایرانی وزرائے خارجہ کا رابطہ، ایران۔امریکہ مذاکرات پر تبادلۂ خیال
ریاض، سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اور ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان ٹیلی فون پر رابطہ ہوا، جس میں ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات اور خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
دونوں وزرائے خارجہ نے گفتگو کے دوران ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات کی تازہ ترین پیش رفت اور طے شدہ مفاہمتوں پر عمل درآمد کا جائزہ لیا۔
اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن و استحکام کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھنے اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کی اہمیت پر زور دیا۔
انہوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ سیاسی مذاکرات اور سفارت کاری ہی ایسے مؤثر ذرائع ہیں جو خطے کے ممالک اور عوام کے مشترکہ مفادات کے تحفظ اور پائیدار استحکام کو یقینی بنا سکتے ہیں۔
ادھر ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق عباس عراقچی نے سعودی وزیر خارجہ کو امریکہ کے ساتھ جاری مذاکرات کے مختلف مراحل اور حالیہ پیش رفت سے بھی آگاہ کیا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مذاکراتی عمل کے حوالے سے تہران کے مؤقف اور آئندہ کے لائحہ عمل پر بھی تفصیلی بریفنگ دی۔
سعودی عرب نے اس موقع پر ایران اور امریکہ کے درمیان ایک جامع اور مستقل معاہدے تک پہنچنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسا معاہدہ خطے میں سلامتی اور استحکام کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔
یواین آئی۔ م س
دنیا
ایران میں اسٹار لنک ڈیوائسز کے ذریعے حکومت مخالف مہم ناکام رہی، نفتالی بینیٹ کا دعویٰ
تل ابیب، سابق اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران میں کر کے حکومت مخالف مظاہروں کو ہوا دینے کا منصوبہ ناکام ہو گیا۔
مقبوضہ بیت المقدس میں خطاب کرتے ہوئے نفتالی بینیٹ نے کہا کہ اسرائیلی حکومت کی منصوبہ بندی تھی کہ ایران میں انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کے دوران اسٹار لنک ڈیوائسز کے ذریعے مواصلاتی سہولت فراہم کر کے حکومت مخالف احتجاج کو منظم کیا جائے۔
ان کے مطابق یہ منصوبہ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکا اور بدترین ناکامی سے دوچار ہوا۔
سابق اسرائیلی وزیراعظم نے دعویٰ کیا کہ یہ منصوبہ وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت کے دور میں تیار کیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ ایران اس سے قبل بھی اسرائیل پر ایسے الزامات عائد کرتا رہا ہے کہ وہ ملک کے اندر عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے خفیہ سرگرمیوں میں ملوث ہے۔
نفتالی بینیٹ کے بیان کو اس حوالے سے پہلی مرتبہ کسی اہم اسرائیلی سیاسی شخصیت کی جانب سے ایسے منصوبے کے دعوے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
اسرائیلی یا دیگر آزاد ذرائع سے اس دعوے کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی ہے، جبکہ ایران کی جانب سے بھی اس بیان پر فوری طور پر کوئی ردعمل جاری نہیں کیا گیا۔
یواین آئی۔ م س
دنیا
لبنان۔اسرائیل مذاکرات کا پانچواں دور، جنگ بندی اور انخلا پر بات چیت جاری
واشنگٹن، لبنان اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں کمی اور طویل مدتی سکیورٹی و سیاسی مفاہمت کی کوششوں کے تحت دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا پانچواں دور امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں شروع ہوگیا، تاہم اسرائیلی انخلا اور حزب اللہ کے ہتھیاروں سے متعلق اختلافات بدستور برقرار ہیں۔
سفارتی ذرائع کے مطابق مذاکرات میں دونوں ممالک کے سیاسی اور فوجی حکام امریکی سرپرستی میں شریک ہیں، جبکہ واشنگٹن جنوبی لبنان میں مستقل استحکام اور سکیورٹی انتظامات کو حتمی شکل دینے کے لیے کوششیں کر رہا ہے۔
اقوام متحدہ میں اسرائیل کے مندوب نے جاری مذاکرات کو نتیجہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی ثالثی میں ہونے والے رابطوں سے کئی دیرینہ مسائل کے حل کی راہ ہموار ہو رہی ہے۔
امریکی ذرائع کے مطابق مذاکرات کے پانچویں دور کے دوسرے روز کا ماحول پہلے دن کے مقابلے میں زیادہ مثبت رہا اور جنگ بندی، اسرائیلی انخلا اور مجوزہ سکیورٹی انتظامات کے نفاذ کے طریقہ کار پر پیش رفت دیکھنے میں آئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ لبنانی وفد جنوبی لبنان میں مکمل جنگ بندی، اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا اور اس کے لیے واضح ٹائم فریم کے مطالبے پر قائم ہے۔
دوسری جانب مذاکرات میں ممکنہ مفاہمتوں پر عمل درآمد کے لیے انتظامی اور عملی طریقہ کار پر بھی تفصیلی غور کیا جا رہا ہے، جہاں بات چیت عمومی اصولوں سے آگے بڑھ کر جنگ بندی، نگرانی اور انخلا کے عملی مراحل تک پہنچ چکی ہے۔
امریکی حکام کے مطابق لبنانی فوج کو نئے سکیورٹی انتظامات نافذ کرنے کے لیے حکومتی حمایت حاصل ہے اور واشنگٹن لبنانی فوج کو ان علاقوں کی سکیورٹی سنبھالنے کے لیے مرکزی ادارہ تصور کرتا ہے جہاں سے اسرائیلی افواج مستقبل میں انخلا کر سکتی ہیں۔
اگرچہ اسرائیلی انخلا کے وقت اور طریقہ کار پر اختلافات برقرار ہیں، تاہم امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ مذاکراتی ماحول پہلے کے مقابلے میں زیادہ امید افزا ہے۔
اس سے قبل لبنانی صدر جوزف عون نے واضح کیا تھا کہ لبنان اپنی سرزمین سے ہر قسم کی غیر ملکی فوجی موجودگی کے خاتمے اور مکمل خودمختاری کی بحالی سے کم کسی حل کو قبول نہیں کرے گا۔
ادھر اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اپنے حالیہ بیان میں کہا تھا کہ لبنان میں اسرائیل کا مشن ابھی مکمل نہیں ہوا اور جنوبی لبنان میں قائم سکیورٹی زون اس وقت تک برقرار رہے گا جب تک اسرائیل کو لاحق خطرات مکمل طور پر ختم نہیں ہو جاتے۔
اسرائیل بدستور اس بات پر زور دے رہا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے میں حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا شامل ہونا چاہیے، جبکہ حزب اللہ اس مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے حکومتِ لبنان سے براہ راست مذاکرات ترک کرنے اور مسئلے کے حل کے لیے ایران۔امریکہ سفارتی عمل پر انحصار کرنے کا مطالبہ کر چکی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ دنوں میں جنوبی لبنان میں نسبتاً سکون کے باعث مذاکرات میں محدود پیش رفت کی امید پیدا ہوئی ہے، تاہم لبنانی حکام کو خدشہ ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان وسیع تر علاقائی مذاکرات میں لبنانی معاملہ شامل ہونے سے بیروت کی اپنی ترجیحات متاثر ہو سکتی ہیں۔
یواین آئی۔ م س
ہندوستان7 days ago‘اسلام آباد ایم او یو’ پر جے رام رمیش کا مرکز پر حملہ، کہا- مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو بڑا جھٹکا
جموں و کشمیر1 week agoگاندربل ‘انکاؤنٹر’ کے مقتول کی لاش قبر سے نکال کر اہلِ خانہ کے حوالے
تازہ ترین3 days agoٹرمپ کے بیان کے بعد ایران نے مذاکرات معطل کردیے، وفد واپس روانہ
ہندوستان1 week ago’جمہوریت کو نقصان پہنچانے کے لیے شاہ چلا رہے ہیں دھوکہ دہی پرمبنی مہم ‘: رمیش
دنیا1 week agoایرانی آرمی چیف کا دفاعی طاقت مزید بڑھانے کا اعلان
دنیا1 week agoجی سیون ممالک کا امریکہ اور ایران امن معاہدے کی حمایت کا اعلان
ہندوستان1 week ago‘ٹیلی گرام بین’ پر راہل کا مرکزی حکومت پر الزام، ”پیپر لیک مافیا پر نہیں، طالب علموں کے خلاف کارروائی کر رہی ہے حکومت“
دنیا1 week agoایران کے ساتھ معاہدہ حتمی نہیں، اگر رویہ درست نہ رہا تو حملے دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں: ٹرمپ
دنیا1 week agoمجھے حتمی معاہدہ پسند نہ آیا تو دوبارہ بمباری کی طرف واپس جا سکتے ہیں: ٹرمپ
دنیا6 days agoامریکہ اور ایران کے درمیان آج ہونے والے مذاکرات منسوخ: سوئس وزارت خارجہ
دنیا7 days agoاعلیٰ ترین قیادت کے دستخط سے معاہدے کی خلاف ورزی کی سیاسی قیمت زیادہ ہو گئی: اسماعیل بقائی
دنیا1 week agoامریکہ ایران معاہدے پر الیکٹرانک دستخط ٹرمپ وینس نے کئے






































































































