دنیا
ڈائریکٹر جنرل کریم خان کی دمشق میں احمد الشرع سے ملاقات

دمشق، شام میں 8 دسمبر 2024 کو بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے غیر ملکی وفود کے شام کے دورے جاری ہیں۔ اب بین الاقوامی فوجداری عدالت کی ٹیم ڈائریکٹر جنرل کریم خان کی قیادت میں دارالحکومت دمشق پہنچی ہے۔
شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی “سانا” نے اطلاع دی ہے کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر جنرل کریم احمد خان نے شام میں عبوری انتظامیہ کے سربراہ احمد الشرع سے ملاقات کی ہے۔ یہ ملاقات شام کے وزیر خارجہ اسعد الشیبانی کی موجودگی میں ہوئی۔
دوسری جانب بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر کریم خان کے دفتر نے کہا ہے کہ انھوں نے جمعہ کے روز شامی حکام کے ساتھ اس بارے میں بات چیت کی ہے کہ جنگی جرائم کی عدالت حکام کی جانب سے ملک میں جرائم کے مرتکب افراد کے خلاف مقدمہ چلانے کی کوششوں میں کس طرح مدد کر سکتی ہے۔
کریم خان کے دفتر نے بتایا کہ انہوں نے شام میں نئی انتظامیہ کے سربراہ احمد الشرع سے ملاقات کی۔ جس میں اس بات پر تبادلہ خیال کیا گیا کہ آئی سی سی پراسیکیوٹر جرائم کے لیے احتساب کی کوششوں میں شامی حکام کی مدد کیسے کر سکتا ہے۔ یہ بات اس وقت سامنے آئی جب کریم خان نے جمعرات کو ایک انٹرویو میں اعلان کیا کہ شام ایک رکن ریاست نہیں ہے لیکن بین الاقوامی فوجداری عدالت کے دائرہ اختیار کو پہلے قدم کے طور پر قبول کر سکتا ہے۔
کریم خان نے یہ بھی کہا کہ شام میں عبوری حکومت کی طرف سے جاری کیے گئے کچھ بیانات انصاف اور جرائم کے لیے احتساب کے لیے کھلے پن کی نشاندہی کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ ہمیں بات چیت میں حصہ لینے میں خوشی ہو رہی ہے تاکہ وہ بتائیں کہ ان کے پاس کیا اختیارات ہیں۔
مبصرین نے رپورٹ کیا ہے کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت، شام کے اپنے پہلے دورے میں، ان بڑی فائلوں کی جانچ پڑتال کا کام کرسکتی ہے جن کے تحت نئی انتظامیہ سابق حکومت کے ارکان اور رہنماؤں کے خلاف جنگی جرائم کے کمیشن میں کیس دائر کر سکتی ہے۔
یہ دورہ شام کی عبوری حکومت کے اس اعلان کے بعد کیا گیا ہے کہ وہ پرانی حکومت کے دور میں جرائم کے مرتکب افراد کا تعاقب کر رہی ہے لیکن اس مشن کو مکمل کرنے کے لیے اسے بیرونی حمایت کی ضرورت ہے۔ شامی نیٹ ورک فار ہیومن رائٹس کی جانب سے گزشتہ ماہ بشار الاسد حکومت کی جانب سے گزشتہ 14 سالوں کے دوران کیے گئے جرائم کی ابتدائی دستاویزات شائع کی گئی تھیں۔ ان دستاویز سے یہ بات سامنے آئی تھی بشار حکومت نے من مانے طریقے سے 2 لاکھ 2 ہزار افراد کو قتل کیا ہے۔ ان مقتولین میں 23 ہزار سے زیادہ بچے اور 12 ہزار سے زیادہ خواتین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ تقریباً 96 ہزار افراد کو لاپتہ کردیا گیا، ان لاپتہ افراد میں 23 سو بچے اور 57 سو خواتین شامل ہیں۔ مزید 15 ہزار افراد تشدد سے موت کے منہ میں چلے گئے ہیں۔
عبوری حکومت ان جرائم اور دیگر خلاف ورزیوں کو حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے حالانکہ اس نے پہلے ٹیلیگرام ویب سائٹ کے ذریعے اعلان کیا تھا کہ وہ شامی عوام کو اذیت دینے میں حصہ لینے والے مجرموں، قاتلوں، سکیورٹی اہلکاروں اور فوجیوں کو جوابدہ ٹھہرانے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ جنگی مجرموں کے مقدمات کی پیروی کی جائے گی اور ممالک سے کہا جائے گا کہ اگر وہ بیرون ملک فرار ہوئے ہیں تو انہیں ان کے حوالے کیا جائے۔ ملٹری آپریشنز ڈیپارٹمنٹ نے لوگوں سے ایک سے زیادہ مرتبہ اپیل کی کہ وہ اجتماعی قبروں کو نہ اکھاڑیں تاکہ شواہد کو تباہ کرنے اور مٹانے سے روکا جا سکے۔ نئی انتظامیہ نے حال ہی میں ایسی کارروائیوں کے خوف سے ان قبروں کے مقامات کو ظاہر کرنے سے بھی گریز کیا۔ اس نے بار بار جیلوں اور حراستی مراکز، خاص طور پر صیدنایا میں دستاویزات کو محفوظ رکھنے اور ان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ کرنے کی اپیل بھی کی ہے۔
یواین آئی۔ م س
دنیا
ایران ایٹمی تنصیبات کے مکمل معائنے پر رضامند ہے، ٹرمپ کا دعویٰ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اپنی ایٹمی تنصیبات کے مکمل معائنے پر رضا مند ہے۔
ایک بیان میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ دوبارہ ناکہ بندی کی ضرورت پڑی تو امریکی بحری جہاز اپنی جگہ موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران اپنی ایٹمی تنصیبات کے مکمل معائنے پر رضامند ہے، اگر تہران راضی نہ ہوتا تو مزید بات چیت ہی نہ ہوتی۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایسا نہیں لگتا کہ دوبارہ ناکہ بندی کی ضرورت پڑے گی، بحال ایرانی اثاثے امریکہ کے زیر کنٹرول بینک اکاؤنٹس میں رکھےجائیں گئے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جوہری مقامات پر آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کو آنے کی اجازت دینے کا کوئی ارادہ نہیں: اسماعیل بقائی
تہران، ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ جوہری مقامات پر آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کو آنے کی اجازت دینے کا کوئی ارادہ نہیں۔
پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا ہے کہ ایرانی وفد کی سربراہ آئی اے ای اے رافیل گروسی سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی، ایرانی جوہری مراکز کے معائنے کے لیے آئی اے ای اے کے دوروں سے متعلق کوئی واضح شیڈول طے نہیں۔
ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ اس معاملے کے حوالے سے فی الحال کوئی باقاعدہ طریقہ کار طے نہیں کیا گیا، جوہری عدم پھیلاؤ معاہدے کے بحیثیت رکن ملک ایران موجودہ اور شفاف بین الاقوامی ضابطہ کار پر عمل کرے گا۔
اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ ایران کا ردِعمل انسان کی ثابت قدمی کی کہانی ہے، یہ ردِعمل دفاع، وقار اور قومی غیرت کے تحفظ کے لیے تھا۔انہوں نے کہا ہے کہ اب ہم سب جان چکے کہ اس جنگ کا اصل مقصد ایران کی تہذیب کو ختم کرنا تھا، اب یہ مقصد تبدیل ہو کر منجمد ایرانی اثاثوں کے ذریعے امریکی کسانوں کو مالی فائدہ پہنچانے میں بدل گیا۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر ہمیں ان فنڈز کے استعمال سے متعلق کسی قسم کی پابندی کا سامنا نہیں، ہمارے اثاثے مکمل آزادی کے ساتھ استعمال کیے جائیں گے۔
اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ یورپی ممالک حالیہ برسوں میں اپنی پالیسیوں کے باعث خود کو سفارتی عمل سے الگ کر چکے، ایران پر مسلط کی گئی دونوں جنگوں کے دوران یورپی ممالک نے نامناسب مؤقف اختیار کیا، دنیا نے یورپی ممالک کا یہ طرز عمل دیکھا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ غیر ذمے دارانہ رویہ یقیناً یورپی فریقوں کی ساکھ اور حیثیت میں اضافہ نہیں کرے گا، ایران کے پاس ناقابل تردید شواہد ہیں کہ خطے کے بعض ممالک نے اسرائیل جنگ میں حصہ لیا، ان بعض ممالک کو قانونی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، ہمیں اس صورتِ حال پر افسوس ہے، اس حوالے سے جو بھی ضروری اقدام ہوگا، کریں گے۔
انہوں نے کہا ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں حالیہ مذاکرات تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہے، ڈیڑھ گھنٹے بعد مذاکرات میں وقفہ کیا گیا، وقفے کے بعد ایرانی وفد نے چار فریقی اجلاس دوبارہ شروع نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
مذاکرات کے بعد ایرانی صدر کا دورۂ پاکستان، اسلام آباد کی سفارتی اہمیت میں اضافہ
تہران، ایران کے صدر مسعود پزشکیان آج اسلام آباد پہنچ رہے ہیں جہاں وہ پاکستان کی اعلیٰ قیادت سے اہم ملاقاتیں کریں گے، ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ مذاکرات اور مشرقِ وسطیٰ میں کشیدہ صورتِ حال کے بعد یہ ان کا پہلا غیر ملکی دورہ ہے۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب سوئٹزر لینڈ میں ہونے والے اعلیٰ سطح کے مذاکرات کے بعد فریقین کے درمیان 60 روزہ فریم ورک پر پیش رفت سامنے آئی ہے جس کا مقصد ایک حتمی معاہدے کی جانب بڑھنا ہے۔
الجزیرہ نے ایرانی صدر کے پاکستانی دورے سے متعلق ایک خصوصی رپورٹ شائع کی ہے۔
الجزیرہ کے مطابق اس دورے میں دونوں ممالک تجارت، توانائی، سرحدی سیکیورٹی اور علاقائی رابطوں کو مزید مضبوط بنانے پر بات کریں گے۔
صدر پزشکیان وزیرِ اعظم شہباز شریف اور صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کریں گے، اس کے علاوہ سینیٹ اور قومی اسمبلی کی قیادت بھی ان سے ملے گی۔
الجزیرہ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے حالیہ مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کیا ہے جس کے باعث اس کی علاقائی سفارتی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔
حالیہ برسوں کے دوران پاکستان اور ایران کے تعلقات میں بہتری آئی ہے اور تعاون میں اضافہ ہوا ہے۔
دوسری جانب ایران نے بھی پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے اسے اہم سفارتی شراکت دار قرار دیا ہے۔
یاد رہے کہ 2015ء کے جوہری معاہدے کے تحت ایران نے اپنے جوہری پروگرام پر پابندیاں قبول کی تھیں تاہم 2018ء میں امریکہ کے معاہدے سے نکلنے کے بعد صورتِ حال دوبارہ کشیدہ ہو گئی تھی۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی صدر کا یہ دورہ ایران کے لیے بھی اہم ہے کیونکہ اس سے اسے عالمی سطح پر سیاسی حمایت اور معاشی ریلیف کے امکانات مضبوط بنانے میں مدد مل سکتی ہے جبکہ پاکستان کے لیے یہ خطے میں ایک ذمے دار ثالث کے طور پر ابھرنے کا موقع ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان6 days ago‘اسلام آباد ایم او یو’ پر جے رام رمیش کا مرکز پر حملہ، کہا- مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو بڑا جھٹکا
دنیا1 week ago‘ٹرمپ کامعاہدہ ہمیں پابند نہیں کرتا’، اسرائیلی وزیر ایران امریکہ معاہدے پر سیخ پا
دنیا1 week agoعین وقت پر امریکہ ایران امن معاہدے میں تاخیر اسرائیلی حملے کے سبب
جموں و کشمیر1 week agoگاندربل ‘انکاؤنٹر’ کے مقتول کی لاش قبر سے نکال کر اہلِ خانہ کے حوالے
دنیا1 week agoتاریخی ڈیل مکمل، امریکہ اور ایران نے جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کردی
ہندوستان1 week agoسلوواکیہ میں مودی کا ہوا شاندار استقبال
دنیا7 days agoایرانی آرمی چیف کا دفاعی طاقت مزید بڑھانے کا اعلان
دنیا7 days agoجی سیون ممالک کا امریکہ اور ایران امن معاہدے کی حمایت کا اعلان
ہندوستان7 days ago’جمہوریت کو نقصان پہنچانے کے لیے شاہ چلا رہے ہیں دھوکہ دہی پرمبنی مہم ‘: رمیش
تجزیہ1 week agoسبز توانائی اور موسمیاتی بحران
تازہ ترین2 days agoٹرمپ کے بیان کے بعد ایران نے مذاکرات معطل کردیے، وفد واپس روانہ
دنیا6 days agoایران کے ساتھ معاہدہ حتمی نہیں، اگر رویہ درست نہ رہا تو حملے دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں: ٹرمپ


































































































