جموں و کشمیر
بڈگام اورنگروٹہ اسمبلی حلقہ کےلئے11نومبر کو ضمنی انتخاب:کل33 امیدواروں نے کئے کاغذات نامزدگی داخل

کوئی لاکھ پتی ،کوئی کروڑ پتی ،کوئی بینک کا مقروض ،کسی کا کوئی بینک اکاﺅنٹ نہیں
تعلیمی قابلیت:حلف ناموں کے مطابقکوئی میٹرک پاس،کوئی گریجویٹ ،کوئی I.Tتو کوئی LLMڈگری یافتہ
سری نگر: جے کے این ایس : بڈگام اسمبلی ضمنی انتخابات کےلئے اپنے کاغذات نامزدگی داخل کرنے والے نمایاں افراد میں، نیشنل کانفرنس کے امیدوار آغا سید محمود الموسوی نے سب سے زیادہ دولت کا اعلان کیا ہے اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے آغا سید منتظر مہدی کو سب سے کم قرار دیا ہے۔جے کے این ایس کے مطابق اُمیدواروںکی جانب سے کاغذات نامزدگی کیساتھ رکھے گئے حلف ناموں میں ظاہرکیاگیاہے کہ نیشنل کانفرنس کے امیدوار آغا سید محمودالموسوی نے تقریباً 14.31 کروڑ روپے کی سب سے زیادہ دولت کا اعلان کیا ہے، جس سے وہ میدان میں موجود نمایاں امیدواروں میں سب سے زیادہ دولت مند ہیں۔ایک تاجر اور سابق قانون ساز، الموسوی نے اپنے لیے 28.02 لاکھ روپے اور اپنی شریک حیات کے لیے23.58 لاکھ روپے کے منقولہ اثاثے ظاہر کیے ہیں۔ان کے حلف نامے کے مطابق، ان کے غیر منقولہ اثاثوں کی مالیت15 کروڑ روپے ہے، جس میں بڈگام میں زرعی، تجارتی اور رہائشی جائیدادیں شامل ہیں۔ آغا سید محمودالموسوی، جس نے آرٹس میںB.A کی ڈگری حاصل کی ہے، 97.69 لاکھ روپے کے واجبات اٹھائے ہوئے ہیں، بنیادی طور پر جائیداد کے خلاف قرضے، اور کاروبار، کرایہ اور پنشن سے سالانہ آمدنی 52 لاکھ روپے سے زیادہ بتائی ہے۔ان کے بعد جموں و کشمیر اپنی پارٹی کے مختار احمد ڈار ہیں، جنہوں نے 9 کروڑ روپے کے کل اثاثوں اور 6.59 کروڑ روپے کی واجبات کا اعلان کیا ہے، جس سے ان کی مجموعی مالیت تقریباً 2.37کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے۔ان کے اثاثوں میں زرعی اور غیر زرعی اراضی شامل ہیں، جب کہ ان کی واجبات زیادہ تر کاروباری قرضوں پر مشتمل ہیں۔ مختار احمدڈار نے 13.55 لاکھ روپے کی سالانہ آمدنی اور دھوکہ دہی سے متعلق ایک زیر التواءفوجداری کیس کا اعلان کیا ہے۔ اس کی اعلیٰ ترین تعلیمی قابلیت دسویں جماعت ہے۔آزاد امیدوار منتظر محی الدین، جنہیں حال ہی میں جموں و کشمیر اپنی پارٹی نے نکال دیا تھا، نے 95,000 روپے کے منقولہ اثاثے اور 1.88 کروڑ روپے کے غیر منقولہ اثاثوں کا اعلان کیا ہے، جو زیادہ تر وراثت میں ملے ہیں۔اس کے حلف نامے کے مطابق، اس کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے اور وہ پنشن کو اپنی آمدنی کا واحد ذریعہ قرار دیتا ہے۔ منتظر محی الدین نے آرٹس میںB.A کی ڈگری حاصل کی۔ایک اور آزادنذیر احمد خان، جو پیشہ سے ایک کسان ہیں، اور ڈی ڈی سی بڈگام کے سابق چیئرمین نے کل1.35 کروڑ روپے کی دولت کا اعلان کیا ہے۔ان کے منقولہ اثاثوں کی مالیت ان کے لیے23.35 لاکھ روپے اور ان کی شریک حیات کے لیے3.90 لاکھ روپے ہے، جب کہ ان کی غیر منقولہ جائیداد کی مالیت1.12 کروڑ روپے ہے، جس میں زرعی اراضی اور سری نگر میں ایک لیز پر دیا گیا رہائشی مکان شامل ہے۔اس کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے اور اس نے باغبانی اور زراعت سے حاصل ہونے والی آمدنی کو ٹیکس کے مقاصد کے لیے قابل تشخیص قرار دیا ہے۔ نذیرخان نے دسویں جماعت تک تعلیم حاصل کی ہے۔ریپبلکن پارٹی آف انڈیا (اے) کے پرویز احمد میر، ایک آئی ٹی پروفیشنل اور بزنس مین، نے 1.03 کروڑ روپے کی کل مالیت کا اعلان کیا ہے۔ان کے منقولہ اثاثے اپنے لیے2.89 لاکھ روپے اور ان کی شریک حیات کے لیے 22.22 لاکھ روپے ہیں، زیادہ تر نقدی اور سونا۔ان کے غیر منقولہ اثاثوں میں وراثت میں ملنے والا مکان شامل ہے جس کی مالیت ایک کروڑ روپے ہے اور دوسرا اس کی شریک حیات کی ملکیت ہے جس کی مالیت 1.20 کروڑ روپے ہے۔اس نے اعلان کیا کہ اس پر کوئی ذمہ داری نہیں ہے اور پیشہ ورانہ اور کاروباری منصوبوں سے اس کی سالانہ آمدنی 5 لاکھ روپے ہے۔پرویز احمد میر نے انفارمیشن ٹیکنالوجی میںB.A کی ڈگری حاصل کی ہے۔مالیاتی سپیکٹرم کے دوسرے سرے پر، بھارتیہ جنتا پارٹی کے آغا سید محسن نے تقریباً91,000 روپے کی منفی خالص مالیت کا اعلان کیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی واجبات ان کے اثاثوں سے زیادہ ہیں۔
ان کے پاس1.55 لاکھ روپے کے منقولہ اثاثے اور 2.46 لاکھ روپے کی واجبات ہیں، جس میں کوئی قابل ذکر غیر منقولہ جائیداد نہیں ہے۔اس کی سالانہ آمدنی 4.27 لاکھ روپے ہے، جو کاشتکاری سے کمائی گئی ہے اور اس پر ایک سرکاری ملازم پر حملہ اور مجرمانہ دھمکیوں سے متعلق فوجداری مقدمہ زیر التوا ہے۔ آغا سیدمحسن کی اعلیٰ ترین تعلیمی قابلیت دسویں جماعت ہے۔پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے آغا سید منتظر مہدی، جن کے پاس ایل ایل ایم کی ڈگری ہے، نے بینک ڈپازٹس میں صرف 2.37 لاکھ روپے کا اعلان کیا ہے۔عام آدمی پارٹی کی دیبا خان نے 30.95 لاکھ روپے منقولہ اثاثے بتائے ہیں، جن میں زیادہ تر زیورات ہیں، جب کہ ان کی شریک حیات نے26.89 لاکھ روپے کا اعلان کیا ہے۔ اس نے پولیٹیکل سائنس میں ماسٹر ڈگری حاصل کی ہے۔ادھر نگروٹہ اسمبلی حلقہ کے ضمنی انتخابات کے لیے نامزدگیوں کے داخل کرنے کی آخری تاریخ 20 اکتوبر تھی۔ یہاں 11 نومبر کو ووٹنگ جبکہ ووٹوں کی گنتی14 نومبر کو ہوگی۔ اس دوران4 معروف امیدواروں نے میدان میں قدم رکھا ہے جن میں بی جے پی امیدوار دیویانی رانا، جے کے این پی پی کے امیدوار اور سابق وزیر تعلیم ہرش دیو سنگھ، نیشنل کانفرنس کی نمائندہ شمیم بیگم اور آزاد امیدوار انیل شرما شامل ہیں۔
دیویانی رانا، بی جے پی کے سینئر رہنما مرحوم دیویندر سنگھ رانا کی بیٹی ہیں۔ انہوں نے امریکہ کی یونیورسٹی آف کیلی فورنیا، لاس اینجلس (UCLA) سے اکنامکس میں گریجویشن کی ہے۔ محض 30 برس کی عمر میں وہ چاروں اہم امیدواروں میں سب سے کم عمر امیدوار ہیں۔ ہرش دیو سنگھ، جن کی عمر65 برس ہے، قانون میں گریجویٹ ہیں اور انہوں نے امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی سے بین الاقوامی انسانی قانون میں ایڈوانس کورس بھی کیا ہے۔ نیشنل کانفرنس امیدوار شمیم بیگم نے جموں یونیورسٹی سے ایم اے اردو کیا ہے، جبکہ آزاد امیدوار انیل شرما نے 1989میں گورنمنٹ ہائی اسکول جندرا سے میٹرک کی تعلیم حاصل کی ہے۔
دیویانی رانا نے اپنے حلف نامے میں بتایا کہ ان کی سالانہ آمدنی مالی سال2020-21 میں5.22 لاکھ روپے تھی جو 2023-24 میں بڑھ کر 33.26 لاکھ روپے ہوگئی، تاہم 2024-25 میں کم ہوکر29.54 لاکھ روپے رہ گئی۔ ان کے پاس85,500 روپے نقد ہیں، جے اینڈ کے بینک میں 88.89 لاکھ روپے اور ایچ ڈی ایف سی بینک بہو پلازہ میں ایک لاکھ روپے جمع ہیں۔ ان کے کل منقولہ اثاثے 91.23 لاکھ روپے ہیں۔ وہTake-Oneنامی نجی نیوز چینل اورجم کش میں شیئر ہولڈر ہیں۔ ان کے نام پر نہ کوئی زمین ہے اور نہ کوئی رہائشی جائیداد، اور ان پر کوئی قرض بھی نہیں۔ہرش دیو سنگھ کے خلاف تین ایف آئی آر درج ہیں (نمبر366/2018، 121/2028، اور 34/2017 تمام ادھمپور میں)، تاہم انہوں نے انہیں سیاسی طور پر محرک قرار دیا ہے۔ ان کے پاس44 لاکھ روپے کی زرعی زمین ہے جبکہ ان کی اہلیہ منجو سنگھ کے پاس تین مقامات پر98 لاکھ روپے مالیت کی زرعی زمین ہے۔ منجو سنگھ کے منقولہ اثاثے 62.73 لاکھ روپے اور غیر منقولہ اثاثے 98 لاکھ روپے ہیں جبکہ خود ہرش دیو کے منقولہ اثاثے 11.77 لاکھ روپے کے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مالی لحاظ سے منجو سنگھ اپنے شوہر سے کہیں آگے ہیں۔نیشنل کانفرنس لیڈر شمیم بیگم کے پاس کوئی بینک ڈپازٹ نہیں، صرف 1.03 لاکھ روپے نقد رقم ہے جبکہ ان کے شوہر سردار علی کے پاس10 ہزار روپے نقد ہیں۔ انہوں نے اپنی آمدنی1.80 لاکھ روپے ظاہر کی ہے جبکہ ان کے شوہر، جو سرکاری ملازم ہیں، سالانہ 7.68 لاکھ روپے تنخواہ پاتے ہیں۔ ان کے پاس 27 تولہ سونا (تقریباً 35 لاکھ روپے) ہے، مگر کوئی زمین یا جائیداد ان کے نام پر نہیں۔آزاد امیدوار انیل شرما، جو سابق سرپنچ اور بی جے پی کے باغی رہنما ہیں، کے پاس 11.79 لاکھ روپے کے شیئرز، 10.05 لاکھ روپے مالیت کی ٹاٹا سفاری گاڑی اور 13.29 لاکھ روپے مالیت کے115 گرام سونا ہے۔
ان کی اہلیہ انجنا شرما کے پاس 310 گرام سونا (تقریباً 37.18 لاکھ روپے) ہے۔ انیل شرما کے نام پر جندرا میں زرعی زمین، چنور میں ایک کنال زمین، سیکٹر 5 اپر روپ نگر میں ایک پلاٹ، دو دکانیں اور دو مکانات ہیں جن کی کل مالیت تقریباً 3.21کروڑ روپے بتائی گئی ہے۔
ان کے منقولہ اثاثے 28.55 لاکھ اور غیر منقولہ اثاثے3.21 کروڑ روپے ہیں۔نگروٹہ اسمبلی نشست پر ہونے والے ضمنی انتخاب میں ایک طرف بی جے پی کی نوجوان امیدوار دیویانی رانا ہیں، تو دوسری جانب تجربہ کار رہنما ہرش دیو سنگھ، نیشنل کانفرنس کی زمینی سطح کی نمائندہ شمیم بیگم، اور بی جے پی کے باغی انیل شرما بطور آزاد امیدوار میدان میں ہیں۔
جموں و کشمیر
اسکمز اسپتال نے خاندان سے باہر کے عطیہ دہندہ کی مدد سے پہلا اسٹیم سیل ٹرانسپلانٹ انجام دیا
سری نگر، کشمیر کے شیرِ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (اسکمز) نے طب کے شعبے میں ایک بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے پہلی بار خاندان سے باہر ایک نامعلوم عطیہ دہندہ کے اسٹیم سیلز (خون بنانے والے خلیات) استعمال کرکے تین سالہ بچے کی جان بچا لی ہے۔ یہ بچہ قوتِ مدافعت (امیونٹی) کی ایک نہایت نایاب اور جان لیوا بیماری میں مبتلا تھا، اور اس منفرد علاج نے اسے نئی زندگی عطا کی ہے۔
اس کامیاب آپریشن کی سب سے خاص بات یہ رہی کہ بچے کی جان بچانے کے لیے اسٹیم سیلز عطیہ کرنے والا شخص ہندوستان میں نہیں بلکہ پولینڈ میں ملا۔ جب بچے کے والدین یا خاندان کے کسی فرد کے اسٹیم سیلز اس سے مطابقت نہیں رکھتے تھے تو بین الاقوامی اداروں کی مدد سے دنیا بھر میں تلاش شروع کی گئی، جس کے نتیجے میں پولینڈ میں موزوں عطیہ دہندہ مل گیا۔
اسپتال کے ڈائریکٹر پروفیسر ایم اشرف غنی نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ کامیابی جرمنی کے ادارے ڈی کے ایم ایس کے عالمی نیٹ ورک کی بدولت ممکن ہوئی، جو دنیا بھر میں بلڈ کینسر اور دیگر سنگین بیماریوں کے مریضوں کے لیے عطیہ دہندگان تلاش کرتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ “جب خاندان میں کوئی مناسب عطیہ دہندہ نہیں ملتا تو ہم پوری دنیا میں مریض کے خون سے مطابقت رکھنے والے فرد کی تلاش کرتے ہیں۔ پولینڈ میں عطیہ دہندہ ملنے کے بعد وہاں سے اسٹیم سیلز کو محفوظ طریقے سے ہوائی جہاز کے ذریعے اسکمز اسپتال کشمیر لایا گیا اور بچے کے جسم میں منتقل کیا گیا۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ ملک کے چند ہی اسپتالوں میں یہ پیچیدہ علاج دستیاب ہے۔ نجی اسپتالوں میں اس علاج پر 30 سے 40 لاکھ روپے تک خرچ آتا ہے، لیکن اسکمز اسپتال نے بچے کا تقریباً مفت علاج کیا، اور خاندان کو صرف چند ضروری ادویات کی قیمت ادا کرنی پڑی۔
اسپتال کے ڈائریکٹر کے مطابق، ٹرانسپلانٹ کے بعد بچہ مکمل طور پر صحت یاب ہو چکا ہے اور اسے اسپتال سے رخصت کر دیا گیا ہے۔
اس بڑی کامیابی کے بعد ڈاکٹروں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ بھی اسٹیم سیل عطیہ دہندہ کے طور پر اپنا نام درج کرائیں، کیونکہ یہ عمل مکمل طور پر محفوظ ہے اور اس کے ذریعے کسی کی جان بچائی جا سکتی ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر شہری مرکزیت پر مبنی بہتر طرزِ حکمرانی کا ماڈل بن چکا ہے: منوج سنہا
سری نگر، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے منگل کے روز کہا کہ یہ مرکز کے زیرِ انتظام علاقہ شہری مرکزیت پر مبنی بہتر طرزِ حکمرانی (گڈ گورننس) کا ایک مثالی نمونہ بن کر ابھرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں سال 2020 میں صرف 35 آن لائن خدمات دستیاب تھیں، وہیں 2023 تک ان کی تعداد بڑھ کر 1,100 سے زیادہ ہو گئی ہے۔
مرکزی وزارتِ پنچایتی راج اور جموں و کشمیر انتظامیہ کے اشتراک سے منعقدہ ایک علاقائی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے منوج سنہا نے کہا کہ حکومت نے “پیپل فرسٹ” کے نظریے کے تحت خدمات کی فراہمی کے نظام میں وسیع اصلاحات کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنچایتی راج اداروں کو حکمرانی اور ترقی کا اہم شراکت دار بنایا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ “بلاک دیوس” اور “بیک ٹو ولیج” جیسی مہمات کے ذریعے سرکاری خدمات اور ترقیاتی منصوبوں کو عوام کی دہلیز تک پہنچانے کی کوشش کی گئی، جس سے انتظامیہ اور شہریوں کے درمیان اعتماد کے رشتے کو مضبوطی ملی ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے بتایا کہ جموں و کشمیر میں 15 ہزار سے زائد کامن سروس سینٹرز کام کر رہے ہیں، جبکہ 4,290 پنچایتوں میں سے 4,211 اس نیٹ ورک سے منسلک ہیں، جو 98.16 فیصد کوریج کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے مختلف ریاستوں سے آئے ہوئے نمائندوں سے اپیل کی کہ وہ جموں و کشمیر کے خدمات ماڈل کا مطالعہ کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاستوں کے درمیان کامیاب تجربات اور اختراعات کے تبادلے سے نچلی سطح پر بہتر طرزِ حکمرانی کو مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
محبوبہ نے پنجاب کے وزیر اعلیٰ سے بات کر کے کشمیر کے مٹن تاجروں کی پریشانی کا معاملہ اٹھایا
سری نگر، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے منگل کو کہا کہ کشمیری مٹن تاجروں کو روکے جانے اور انہیں ہراساں کیے جانے سے متعلق رپورٹوں کے سلسلے میں انہوں نے پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان سے بات کی ہے یہ بات چیت ان رپورٹوں کے بعد کی گئی ہے جن میں کہا گیا ہے کہ مادھو پور اور شنبھو بارڈر پر ٹھیکیدار مویشی میلہ ایکٹ کے نام پر کشمیری مٹن تاجروں کو روک رہے ہیں اور انہیں ہراساں کر رہے ہیں۔ محترمہ محبوبہ نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ انہوں نے جموں و کشمیر میں جانوروں کی نقل و حمل کرنے والے مویشی تاجروں کو پیش آنے والی مشکلات کے بارے میں وزیر اعلیٰ مان سے بات چیت کی اور مسٹر مان نے اس معاملے میں فوری کارروائی کا یقین دلایا ہے۔
یہ پیش رفت جموں و کشمیر میں مٹن کی کمی کے بڑھتے ہوئے خدشات کے درمیان سامنے آئی ہے جب مٹن ڈیلرز ایسوسی ایشن کی کوآرڈینیشن کمیٹی نے دوسرے صوبوں سے مویشیوں کی درآمد کو غیر معینہ مدت کے لیے روکنے کا اعلان کیا۔
ایسوسی ایشن نے الزام لگایا ہے کہ پنجاب میں ٹھیکیدار اور مقامی حکام جموں و کشمیر جانے والے ہر اس ٹرک پر 15,000 سے 25,000 روپے تک کا غیر قانونی چارج لگا رہے ہیں جس میں جانوروں کو لے جایا جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے دہلی، راجستھان، امبالا، امرتسر اور دیگر مقامات کی منڈیوں سے جانوروں والے ٹرکوں کی لوڈنگ روک دی گئی ہے۔ کمیٹی کے ارکان نے کہا کہ پنجاب سے ہو کر جانوروں کو لے جانا جوکھم بھرا ہو گیا ہے جس کی وجہ سے تاجروں کو سپلائی تب تک روکنی پڑی ہے جب تک کہ اس مسئلے کا مستقل حل نہ نکل جائے۔
جموں و کشمیر میں ہر سال 60,000 ٹن سے زیادہ مٹن کی کھپت ہوتی ہے۔ دہلی، ہریانہ، راجستھان اور پنجاب سے روزانہ تقریباً 50 ٹرکوں میں 5,000 سے زیادہ جانور اس مرکز کے زیر انتظام علاقے میں لائے جاتے ہیں۔ تاجروں نے انتباہ دیا ہے کہ اس رکاوٹ سے شادی بیاہ کے سیزن میں سپلائی پر اثر پڑ سکتا ہے کیونکہ اس دوران مانگ میں تقریباً 30 فیصد کا اضافہ ہو جاتا ہے۔
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان6 days ago‘اسلام آباد ایم او یو’ پر جے رام رمیش کا مرکز پر حملہ، کہا- مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو بڑا جھٹکا
دنیا1 week ago‘ٹرمپ کامعاہدہ ہمیں پابند نہیں کرتا’، اسرائیلی وزیر ایران امریکہ معاہدے پر سیخ پا
جموں و کشمیر1 week agoگاندربل ‘انکاؤنٹر’ کے مقتول کی لاش قبر سے نکال کر اہلِ خانہ کے حوالے
دنیا1 week agoعین وقت پر امریکہ ایران امن معاہدے میں تاخیر اسرائیلی حملے کے سبب
دنیا1 week agoتاریخی ڈیل مکمل، امریکہ اور ایران نے جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کردی
ہندوستان1 week agoسلوواکیہ میں مودی کا ہوا شاندار استقبال
دنیا7 days agoایرانی آرمی چیف کا دفاعی طاقت مزید بڑھانے کا اعلان
ہندوستان7 days ago’جمہوریت کو نقصان پہنچانے کے لیے شاہ چلا رہے ہیں دھوکہ دہی پرمبنی مہم ‘: رمیش
تجزیہ1 week agoسبز توانائی اور موسمیاتی بحران
دنیا7 days agoجی سیون ممالک کا امریکہ اور ایران امن معاہدے کی حمایت کا اعلان
تازہ ترین2 days agoٹرمپ کے بیان کے بعد ایران نے مذاکرات معطل کردیے، وفد واپس روانہ
دنیا6 days agoایران کے ساتھ معاہدہ حتمی نہیں، اگر رویہ درست نہ رہا تو حملے دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں: ٹرمپ


































































































