جموں و کشمیر
جموں و کشمیر میں 511 بے زمین افراد کو فی فرد 5 مرلہ اراضی فراہم: حکومت

سری نگر، جموں و کشمیر حکومت نے بدھ کے روز ایوان میں کہا کہ جموں و کشمیر 511 بے زمین افراد کو مکانات کی تعمیر کے لیے فی فرد پانچ مرلہ اراضی فراہم کی گئی ہے، جبکہ اسکیم کے تحت 2,568 درخواستیں مختلف بنیادوں پر مسترد کر دی گئی ہیں حکومت نے ایوان میں ایک سوال کے جواب میں کہا: ‘جموں وکشمیر میں کل 511 بے زمین افراد کو فی فرد 5 مرلہ اراضی فراہم کی گئی ہے جس میں سے کشمیر میں کل 234 اور صوبہ جموں میں 277 استفادہ کنندگان کو یہ زمین فراہم کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ضلع بانڈی پورہ میں سب سے زیادہ 109 استفادہ کنندگان کو زمین فراہم کی گئی ہے اور ضلع بارہمولہ میں 61، ضلع اننت ناگ میں 30 افراد کو اراضی فراہم کی گئی ہے جبکہ صوبہ جموں میں ضلع راجوری میں 48 افراد کو، ضلع ڈوڈہ میں 68 اور ضلع کشتواڑ میں 55 افراد کو مکانوں کی تعمیر کے لئے اراضی فراہم کی گئی ہے تاہم شوپیاں، بڈگام اور رام بن اضلاع میں کسی کو یہ زمین فراہم نہیں کی گئی ہے۔
حکومت نے کہا کہ اس اسکیم کے تحت 2 ہزار 5 سو 68 درخواست دہندگان کو زمین کی الاٹمنٹ سے انکار کردیا گیا۔
انہوں نے کہا: ضلع راجوری میں سب سے زیادہ 1 ہزار 2 سو 45 درخواست مسترد کئے گئے جبکہ اننت ناگ میں 286،ضلع رام بن میں 162 اور ضلع اودھم پور میں 146 درخواست متسرد کر دئے گئے۔
ان کا کہنا ہے کہ درخواستوں کے مسترد ہونے کی وجوہات میں درخواست دہندگان کی اہلیت کے معیار پر پورا نہ اترنا، موجودہ رہائشی اراضی کے مالک ہونا ، جنگلات یا رکھ اور کھیتوں کے علاقوں میں رہائش پذیر ہونا یا پہلے سے ہی پانچ مرلہ سے زیادہ زمین کے مالک ہونا، شامل ہیں۔
یو این آئی ایم افضل
جموں و کشمیر
کشمیر کو ریاست کا درجہ نہ دینا ’سزا‘ کے مترادف: عمر عبداللہ
سری نگر، وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر الزام لگایا کہ وہ جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ دینے میں تاخیر کر رہی ہے اور اسے عوام کے ووٹ دینے کی “سزا” کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
وزیر اعلیٰ کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب اپوزیشن لیڈر سنیل شرما نے عبداللہ حکومت پر “کام نہ کرنے، بدعنوانی اور غلط ترجیحات” کے الزامات عائد کیے تھے۔
اپوزیشن لیڈر نے جمعہ کو کہاکہ “ریاست کا درجہ اپنے وقت پر ملے گا، لیکن اسے کسی ایک لیڈر کے وزیر اعلیٰ بننے سے جوڑ کر نہیں دیکھا جا سکتا۔”
اس کے جواب میں مسٹر عبداللہ نے کہا کہ حال ہی میں راجوری ضلع کے نوشہرہ علاقے میں منعقد ایک بڑے پروگرام سے بی جے پی بے چین ہو گئی ہے اور اب وہ کھل کر یہ تسلیم کر رہی ہے کہ ریاست کا درجہ اس لیے نہیں دیا جا رہا کیونکہ لوگوں نے نیشنل کانفرنس کو ووٹ دیا۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر کہا کہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ عوام کو ان کے ووٹ کے لیے سزا دی جا رہی ہے۔
مسٹر عبداللہ نے اپوزیشن لیڈر پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ان کی غیر موجودگی میں اسمبلی زیادہ پرسکون اور نتیجہ خیز طریقے سے چلی۔
ادھر، نیشنل کانفرنس کے ترجمان اور رکن اسمبلی تنویر صادق نے بھی اپوزیشن لیڈر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے “لاپتہ ہونے کی رپورٹ درج کرانے والے تھے۔”
اپوزیشن لیڈر مسٹر شرما نے الزام لگایا کہ حکومت کے وعدے، جیسے مفت ایل پی جی سلنڈر، 200 یونٹ بجلی اور نوجوانوں کو روزگار، اب تک پورے نہیں ہوئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انتظامیہ کمزور ہو گئی ہے اور وزراء زمینی سطح پر فعال نہیں ہیں۔
مسٹر شرما نے انتظامیہ پر بدعنوانی کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ عام کاموں کے لیے بھی لوگوں کو رشوت دینی پڑ رہی ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
پہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی

اپریل 2025 کے بائیسرن حملے کے بعد سیاحت میں نمایاں کمی
پہلگام، 23 اپریل — وادی کشمیر کا خوبصورت سیاحتی مقام پہلگام، جو عام طور پر موسمِ بہار میں سیاحوں سے بھرا رہتا تھا، اس سال ایک غیر معمولی خاموشی کا شکار ہے۔ 22 اپریل 2025 کو یہاں کے مشہور سیاحتی مقام بائیسرن میں ہونے والے حملے کے بعد سیاحوں کی آمد میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جس کے باعث سڑکیں سنسان، ہوٹل آدھے خالی، اور سیاحت پر انحصار کرنے والے سیکڑوں افراد شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔
واضح رہے کہ 22 اپریل 2025 کو ہونے والے دہشت گردانہ حملے میں 26 افراد جان بحق ہوئے تھے، جن میں زیادہ تر غیر مقامی سیاح شامل تھے۔
پہلگام کے دورے کے دوران مقامی سیاحتی شعبے کی ایک تشویشناک تصویر سامنے آئی۔ وہ پرکشش سڑکیں، جو عام طور پر سیاحوں کی گاڑیوں اور ہلچل سے بھرے بازاروں سے جانی جاتی تھیں، اب بڑی حد تک ویران اور مایوس کن نظر آ رہی تھیں۔ ہوٹل مالکان نے نہ ہونے کے برابر بکنگ کی اطلاع دی، ٹیکسی اڈوں پر زیادہ تر گاڑیاں خالی کھڑی تھیں، جبکہ گھوڑوں کے مالکان اور چلانے والے بے چینی سے گاہکوں کا انتظار کر رہے تھے۔
بہت سے مقامی افراد کے لیے سیاحت محض ایک موسمی کاروبار نہیں بلکہ ان کی زندگی کا سہارا ہے۔
انہی میں گھوڑا بان عبداللہ بھی شامل ہے، جو گھوڑا اڈے کے قریب خاموشی سے بیٹھا گاہکوں کا منتظر تھا، مگر کوئی آتا دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ بڑے خاندان کی کفالت اور شادی کی عمر کو پہنچتی بیٹیوں کے باعث وہ شدید فکرمند دکھائی دیا۔
“اس موسم میں سیاح بہت کم ہیں۔ ہم انہی چند مہینوں میں کام کر کے سال بھر کے اخراجات پورے کرتے ہیں۔ اگر سیاح نہیں آئیں گے تو ہم شادیوں، تعلیم اور گھریلو اخراجات کیسے چلائیں گے؟” اس نے سوال اٹھایا۔

اس کی پریشانی وادی میں پیدا ہونے والے وسیع تر بحران کی عکاسی کرتی ہے۔
گاڑی چلانے والے محمد شفیع اور غلام محمد بھی دیگر ڈرائیوروں کی طرح اڈے پر بے بسی سے انتظار کرتے نظر آئے۔ ان کی گاڑیاں کئی دنوں سے بغیر کسی بکنگ کے کھڑی ہیں۔
محمد شفیع نے کہا، “ہمارے ذمے قرضے اور ماہانہ قسطیں ہیں۔ سیاحوں کے بغیر ہر گزرتا دن ہمارے لیے مزید پریشانی کا باعث بنتا ہے۔ باہر کے لوگ سمجھتے ہیں کہ حالات معمول پر ہیں، مگر زمینی حقیقت مختلف ہے۔”
غلام محمد نے بھی اسی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بہت سے ڈرائیور اب ایندھن اور دیکھ بھال کے اخراجات پورے کرنے کے لیے بھی جدوجہد کر رہے ہیں۔
مایوس کن ماحول کے باوجود چند سیاح بھی نظر آئے۔ ایک چھوٹے گروپ کو گھوڑوں کی سواری سے لطف اندوز ہوتے دیکھا گیا، جو امید کی ایک جھلک پیش کر رہا تھا۔
کیرالہ سے آئے ایک سیاح نے کہا کہ وہ اور ان کی اہلیہ کشمیر میں خود کو محفوظ محسوس کرتے ہیں اور سیکورٹی اہلکاروں کی کوششوں کو سراہتے ہیں۔
“ہم یہاں محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔ حفاظتی انتظامات اچھے ہیں اور مقامی لوگ خوش آمدید کہتے ہیں۔ تاہم اس بار موسم کافی سخت رہا ہے۔ اپریل میں غیر معمولی بارش اور سردی ہماری توقع سے کہیں زیادہ ہے،” انہوں نے کہا۔
ان کی اہلیہ نے بھی اس بات سے اتفاق کیا کہ اگرچہ حفاظتی خدشات قابو میں ہیں، لیکن غیر موسمی بارش نے ان کے سفری منصوبوں کو متاثر کیا ہے۔
سیاحت سے وابستہ افراد کا ماننا ہے کہ صرف حفاظتی خدشات ہی نہیں بلکہ دیگر عوامل بھی سیاحوں کی کم آمد کا سبب بنے ہیں۔
ایک مقامی ہوٹل مالک گورپریہ کور نے بتایا کہ حکومت نے سیاحت کو بحال کرنے کے لیے سرمائی اور بیساکھی تہواروں کا انعقاد کیا، تاہم ان کا اثر محدود رہا۔
انہوں نے کہا، “تہوار توجہ ضرور حاصل کرتے ہیں، مگر ایسے واقعات کے بعد لوگ سفر کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔ اعتماد بحال ہونے میں وقت لگتا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ کشمیر میں طبی سیاحت کے بے پناہ امکانات موجود ہیں، جو ابھی تک پوری طرح استعمال نہیں کیے گئے۔
“ہماری آب و ہوا اور قدرتی خوبصورتی کے ساتھ، اگر صحت کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنایا جائے تو کشمیر صحت مند سیاحت کا ایک اہم مرکز بن سکتا ہے۔ ہمیں سیاحت کے شعبے کو مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے،” انہوں نے کہا۔
مقامی دکاندار عبدالمجید نے بائیسرن اور چندن واری جیسے اہم مقامات کی بندش کو سیاحوں کی کمی کی بڑی وجہ قرار دیا۔
“جب اہم سیاحتی مقامات بند ہوں تو لوگ کم ہی آتے ہیں۔ دکانوں میں گاہک نہیں ہوتے، رہنماؤں کے پاس کام نہیں ہوتا، اور گھوڑا مالکان بیکار بیٹھے رہتے ہیں—یعنی ہر کوئی متاثر ہوتا ہے،” انہوں نے کہا۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ حفاظتی جائزے کے بعد ان مقامات کو دوبارہ کھولا جائے۔
“ہم حفاظتی اقدامات کی اہمیت کو سمجھتے ہیں، مگر مکمل بندش سے سب سے زیادہ نقصان غریب لوگوں کو ہوتا ہے۔ حکومت کو متوازن حل تلاش کرنا چاہیے۔”

ادھر حکام کا کہنا ہے کہ کشمیر میں حالات معمول پر اور قابو میں ہیں۔ حفاظتی انتظامات کو مزید مضبوط بنایا گیا ہے اور سیاحوں کا اعتماد بحال کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
تاہم، پہلگام کی زمینی حقیقت ایک مختلف کہانی بیان کرتی ہے۔
کشمیر میں سیاحت، خاص طور پر پہلگام جیسے علاقوں میں، نہایت حساس شعبہ ہے۔ ایک واقعہ بھی ہزاروں خاندانوں کے لیے طویل معاشی مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔
یہاں کے لوگوں کے لیے سیاحت صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ اسکول فیس، شادی کے اخراجات، قرض کی ادائیگی اور روزمرہ ضروریات سے جڑی ہوئی ہے۔
جیسے جیسے سیاحتی موسم آگے بڑھ رہا ہے، مقامی لوگ امید کر رہے ہیں کہ سیاح دوبارہ واپس آئیں گے۔
لیکن فی الحال پہلگام میں خاموشی کسی بھی سرکاری یقین دہانی سے زیادہ بلند آواز میں سنائی دے رہی ہے۔
جب تک اعتماد مکمل طور پر بحال نہیں ہوتا، خالی سڑکیں اور پریشان چہرے اس جنتِ بے نظیر میں بگڑتے ہوئے حالات کی اصل قیمت بیان کرتے رہیں گے۔
جموں و کشمیر
منوج سنہا نے طلبہ اور اساتذہ سے قوم کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرنے کی اپیل کی
جموں، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کے روز طلبہ اور اساتذہ سے اپیل کی کہ وہ قوم کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کریں اور کلاس رومز کو آج کے بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے کے مطابق ڈھالیں۔
نگروٹا کے پنجگرین میں سوامی پرنوانند ودیامندر کے نئے اسکول کی عمارت کا افتتاح کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ہندوستان کو ایک بڑی علمی معیشت بنانے کے لیے یہ تبدیلی نہایت ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت سیوا آشرم سنگھ کے زیر انتظام چلنے والے اس اسکول کی نئی عمارت اور بنیادی ڈھانچے سے غریب اور محروم بچوں کو معیاری تعلیم حاصل ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ادارہ 2014 سے “ہر گھر شکشا” مہم کے تحت کام کر رہا ہے اور یہاں آدھے سے زیادہ طلبہ غریب خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ جب عمارت کی تمام منزلیں مکمل ہو جائیں گی تو یہاں 1500 سے زائد طلبہ تعلیم حاصل کر سکیں گے اور 100 لڑکوں کے لیے رہائشی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔
لیفٹیننٹ گورنر نے جامع تعلیم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں طلبہ میں ثقافتی شعور اور ابلاغی مہارتوں کو فروغ دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وہ تعلیم جو صرف نمبروں اور کتابی علم تک محدود ہو اور جس میں فن، کھیل اور ہنر کی کمی ہو، مستقبل کے لیے مناسب نہیں ہے۔ اساتذہ کو چاہیے کہ وہ بچوں میں تخلیقی صلاحیت، منطقی سوچ اور اخلاقی فیصلے کرنے کی صلاحیت کو پروان چڑھائیں۔
انہوں نے کہا کہ آج کی دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ جس طرح مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور آٹومیشن صنعتوں، ہسپتالوں اور اسکولوں کو تبدیل کر رہے ہیں، اس کے پیش نظر نوجوانوں کو مسلسل سیکھنے اور خود کو اپ ڈیٹ رکھنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے نئی تعلیمی پالیسی کو دیہی و شہری فرق کو کم کرنے اور ملک کی اقتصادی ترقی کو تیز کرنے کا ایک مضبوط ذریعہ قرار دیا۔
مسٹر منوج سنہا نے مزید کہا کہ حقیقی تعلیم وہی ہے جو طلبہ کو بیرونی دنیا کے لیے مہارتیں فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ اندرونی مضبوطی اور جذباتی استحکام بھی عطا کرے۔
یو این آئی۔ م ع
دنیا1 week agoدشمن ایرانی قوم کو جھکانے کی حسرت اپنے ساتھ قبر میں لے جائیں گے: ایرانی آرمی چیف
جموں و کشمیر1 week agoجموں کشمیر: کالج پکنک پر جا رہی 20 سالہ لڑکی بس سے گر کر ہلاک
دنیا4 days agoمیناب اسکول کے شہید بچوں کے والدین کا پوپ لیو کو خط
دنیا1 week agoٹرمپ کا دماغی توازن ٹھیک نہیں، عہدے کے قابل نہیں رہے:س یاسمین انصاری
جموں و کشمیر1 week agoبارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا
دنیا1 week agoضرورت پڑنے پر طاقت کا استعمال کیا جائے گا، پیٹ ہیگسی
دنیا7 days agoاسرائیل پر قدرت کا قہر، شہد کی مکھیوں کے جھنڈ کا حملہ
دنیا1 week agoامریکی سینیٹ نے ایران پر مزید حملوں کی اجازت کی قرارداد مسترد کردی
دنیا1 week agoاسرائیل کا ایران و لبنان میں جنگ جاری رکھنے کا اعلان، فوج مکمل تیاری کے ساتھ ہائی الرٹ پر : اہداف تیار
دنیا1 week ago’’اگر میں امریکہ کا صدر نہ ہوتا تو دنیا ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتی‘‘
دنیا3 days agoایرانی یورینیم کی بازیابی طویل اور مشکل ہوگی: ٹرمپ
جموں و کشمیر3 days agoایک سال بعد بھی بائیسرن چراگاہ بدستور بند










































































































