تازہ ترین
جنوبی کشمیر خونین جھڑپیں : مکمل رپورٹ

خبراردو:
بڈورہ جھڑپ کے 24گھنٹوں بعد ہی فوج و فورسز نے واگہامہ مرہامہ میں جنگجو مخالف آپریشن عمل میں لاکر یہاں گھر گھر تلاشی کا آغاز کیا جس دوران یہاں چھپے بیٹھے جنگجوﺅں نے فورسز پر فائرنگ شروع کردی جس کے نتیجے میں لیت پورہ خود کش حملے میں استعمال کی گئی گاڑی کا مالک جو جیش محمد نامی جنگجو تنظیم کے ساتھ وابستہ تھا، ساتھی سمیت جاں بحق ہوا جبکہ جنگجوﺅں کی فائرنگ سے ایک فوجی اہلکار ہلاک جبکہ 2دیگر گولیاں لگنے سے شدید زخمی ہوئے۔ اس دوران فورسز نے جائے جھڑپ سے مارے گئے جنگجوﺅں کی تحویل سے قابل اعتراض مواد کے ساتھ ساتھ اسلحہ و گولہ بارود بھی ضبط کیا۔ انتظامیہ نے ضلع بھر میں امن و قانون کو برقرار رکھنے کےلئے موبائل انٹرنیٹ سروس کو اگلے احکامات تک معطل رکھنے کا فیصلہ کرلیا۔ادھر جھڑپ میں مارے گئے جنگجووئں کی لاشوں کو طبی و قانونی لوازمات کے بعدہی لواحقین کے حوالے کیا جس کے بعد انہیں ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں اپنے آبائی علاقوں میں سپرد خاک کیا گیا۔
بڈورہ اننت ناگ جھڑپ کے 24گھنٹوں کے بعد ہی واگہامہ مرہامہ علاقے میں فوج اور جنگجوﺅں کے بیچ خونریز معرکہ آرائی ہوئی جس کے نتیجے میں جیش محمد کے 2جنگجوﺅں سمیت ایک فوجی اہلکار از جان ہوئے۔ تفصیلات کے مطابق فوج کی 3آر آر، ایس او جی اور سی آر پی ایف کی مشترکہ جمعیت نے مصدقہ اطلاع موصول ہونے کے بعد بجبہاڑہ اننت ناگ کے واگہامہ علاقے کو منگلوار کی علی الصبح محاصرے میں لے لیا جس کے بعد فورسز کی تلاشی پارٹی نے یہاں گھر گھر تلاشی کا سلسلہ شروع کردیا۔ معلوم ہوا کہ فورسز کواطلاع ملی تھی کہ گاﺅں میں 2سے 3جنگجو چھپے بیٹھے ہیں جو فورسز کو کافی عرصے سے مطلوب تھے۔ اس دوران سیکورٹی فورسز نے واگہامہ مرہامہ علاقے کوآنے اور جانے والے تمام راستوں کو مکمل طور پر اپنی تحویل میں لیتے ہوئے یہاں جگہ جگہ فورسز اہلکاروں کو تعینات کردیا۔مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ منگلوار کی صبح فورسز کے چاک و چوبند دستوں نے واگہامہ مرہامہ بستی کا محاصرہ کرنے کے بعد یہاں گھر گھر تلاشی کارروائی شروع کی۔ انہوں نے بتایا کہ فورسز اہلکاروں نے اس دوران رہائشی مکانات کی باریک بینی سے تلاشی لینے کےساتھ ساتھ یہاں موجود افراد خانہ سے پوچھ تاچھ کی۔ ادھر پولیس ذرائع کا کہنا تھا کہ فورسز اہلکاروں نے جونہی بستی کے اندر داخل ہوکر یہاں تلاشی کارروائی شروع کی تو اسی اثنا میں یہاں چھپے بیٹھے جنگجوﺅں نے فورسز پر جدید ہتھیاروں سے فائرنگ شروع کردی جس کا فورسز پارٹی نے بھی بھرپور جواب دیا۔
انہوں نے بتایا کہ بستی میں طرفین کے درمیان گولیوں کی گن گرج شروع ہونے کے ساتھ ہی یہاں فورسز کی بھاری کمک کو طلب کیا گیا تاکہ فرار کے تمام ممکنہ راستوںپر کڑے پہرے بٹھائے جائیں۔ معلوم ہوا کہ فورسز نے گاﺅں میں جگہ جگہ موبائل بنکروں کو تعینات کرنے کے ساتھ ساتھ کسی بھی بڑے حادثے کو ٹالنے کی خاطر جائے جھڑپ کی جانب جانے والے راستوں پر خار دار تاریں نصب کیں۔ اس دوران فورسز اہلکاروں نے یہاں جنگجوﺅں کے خلاف حتمی کارروائی کا فیصلہ کرتے ہوئے شدید فائرنگ کی جس کے بعد یہاں تلاشی کارروائی عمل میں لانے کے بعد 2جنگجوﺅں کی لاشیں برآمد کی گئیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق جائے جھڑپ پر 2جنگجوﺅں کی نعشیں برآمد کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں جنگجوﺅں کا تعلق جیش محمد نامی تنظیم سے ہے جن کی تحویل سے قابل اعتراض مواد اور اسلحہ و گولہ بارود ضبط کیا گیا۔ پولیس ترجمان کے بقول طرفین کی فائرنگ کے نتیجے میں فوج کا ایک اہلکار انیل جسوال بھی ہلاک ہوا جبکہ مزید 2فوجی اہلکا ر گولیاں لگنے کے نتیجے میں فوجی ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ زخمی ہوئے اہلکاروں کو سرینگر کے بادامی باغ فوجی ہسپتال منتقل کردیا گیا تاہم یہاں انیل جسوال نامی اہلکار زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھا۔ پولیس نے بتایا کہ جھڑپ میں دیگر زخمی اہلکاروں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
پولیس ترجمان نے جھڑپ میں مارئے گئے جنگجوﺅں میں سے ایک کی شناخت سجاد احمد بٹ عرف افضل گورو ولد محمد مقبول بٹ ساکن مرہامہ سنگم اننت ناگ اور توصیف احمد بٹ ساکن مرہامہ بجبہاڑہ کے بطور کی ہے ۔ پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ سجاد احمد نامی جنگجو کا تعلق جیش محمدسے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 14فروری 2019کو لیت پورہ اونتی پورہ میں سی آر پی ایف کانوائے پر جنگجوﺅں کی طرف سے فدائین حملے میں جو گاڑی استعمال کی گئی اُس کا مالک سجاد احمد ہی تھا جنہوں نے حملے سے قبل چند روز ہی جیش محمد کے فدائین اسکوارڑ میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔پولیس نے جاری اپنے بیان میں کہا کہ لیت پورہ حملے میں استعمال کی گئی گاڑی کا مالک سجاد احمد اپنے ساتھی سمیت واگہامہ جھڑپ میں مارا گیا۔انہوں نے بتایا جھڑپ میں مارے گئے دوسرے جنگجو کو سجاد احمد ساکن مرہامہ نے ہی شامل کروایا تھا۔پولیس کے بقول مارے گئے جنگجو پولیس کو کافی عرصے سے مطلوب تھے جو پولیس، سی آر پی ایف، سیکورٹی تنصیبات اور عام شہریوں پر حملوں اور زیادتیوں میں ملوث تھے۔انہوں نے کہا کہ جھڑپ میں مارا گیا جنگجو سجاد احمد پولیس کو لیت پورہ حملے میں مطلوب تھا جس میں سی آر پی ایف کے 40اہلکار موقعے پر ہی ہلاک ہوگئے تھے۔انہوں نے بتایا کہ لیت پورہ حملے کی تحقیقات کے دوران کاس بات کا خلاصہ ہوا کہ حملے میں جو ماروتی ایکو گاڑی بارود سے بھری استعمال کی گئی تھی ، کا مالک سجاد احمد ساکن مرہامہ تھا۔ تحقیقات کے دوران جونہی سجاد کا نام سامنے آگیا اور اس کی اطلاع میڈیا میں شائع کی گئی تو سجادعین اُسی وقت انڈر گراﺅنڈ ہوگیا اور اس طرح انہوں نے جیش محمد نامی جنگجو تنظیم میں شمولیٹ اختیار کرلی۔
پولیس کے بقول سجاد کی اے کے 47رائفل سمیت تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی جس پر یہ تحریر درج تھی کہ انہوں نے جیش میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔انہوںنے بتایا کہ جھڑپ میں مار اگیا دوسرا جنگجو توصیف احمد ساکن مرہامہ نے سجاد کو جنگجوﺅں کی صف میں شامل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔دونوں جنگجو اُس گروپ سے منسلک تھے جو پولیس، سی آر پی ایف، آرمی، سیکورٹی تنصیبات اور عام شہریوں پر حملوں میں زیادتوں میں ملوث تھے۔ مارے گئے دونوں جنگجوﺅں کے خلاف کئی مقدمات درج ہیں جن میںایف آئی آر نمبر 16/2018 اور 28/2019 شامل ہیں جو لیت پورہ حملے سے متعلق ہیں۔ ادھرفورسز کی جانب سے محاصرہ عمل میں لائے جانے کے بعد انتظامیہ نے ضلع بھر میں امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے کےلئے موبائل انٹرنیٹ سروس کو منقطع کردیا ہے۔ معلوم ہوا کہ منگلوار کی صبح ضلع کے حدود میں موبائل انٹرنیٹ سروس کو معطل کیا گیا۔ ادھر جاں بحق جنگجوﺅں کی یاد میں ضلع کے مختلف علاقوں میں مکمل ہڑتال سے معمولات کی زندگی ٹھپ ہوکر رہ گئی جس دوران یہاں تجارتی، کاروباری، نجی اور غیر سرکاری سرگرمیاں مانند پڑگئیں۔
عینی شاہدین کے بقول ہڑتال کی وجہ سے سڑکوں پر گاڑیوں کی روانی بھی متاثر ہوئی۔ادھر جھڑپ میں مارے گئے جنگجوﺅں کو پولیس نے طبی و قانونی لوازمات کی ادائیگی کے بعد ہی لواحقین کے حوالے کردیا جس کے بعد انہیں آبادئی علاقوں میں پہنچاکر یہاں لوگوں کی بڑی تعداد کی موجودگی میں سپرد لحد کیا گیا۔ عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ واگہامہ جھڑپ میں جارے گئے دونوں جنگجوﺅں کو جوہی آبائی علاقوں کو پہنچایا گیا تو یہاں مرد و خواتین کےساتھ ساتھ نوجوانوں کی بڑی تعداد نے سڑکوں پر نکل کر فورسز کارروائی کےخلاف جم کر نعرے بازی کی۔ اس موقعے پرلوگوں کا بھاری رش دیکھتے ہوئے جاں بحق جنگجوﺅں کا کئی مرتبہ جنازہ پڑھایا گیا جس کے بعد انہیں اسلام و آزادی کے فلک شگاف نعروں کے بیچ سپرد لحد کیا گیا۔
دنیا
ایران کا امریکہ کو دوبارہ انتباہ، آبنائے ہرمز میں مداخلت پر فوری جواب کی دھمکی
تہران، ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے امریکہ کو ایک بار پھر خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی امریکی مداخلت کا فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا، یہ بیان دوحہ میں امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ تکنیکی بات چیت کے بعد سامنے آیا ہے۔
خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹر کے کمانڈر میجر جنرل علی عبداللہی نے جمعرات کو جاری بیان میں کہا کہ ایران اپنے دشمنوں، خصوصاً امریکہ اور اسرائیل کو خبردار کرتا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی غلطی نہ کریں۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں امریکی مداخلت کا فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا، جبکہ تمام بحری جہاز تہران کی جانب سے مقرر کردہ سمندری راستے استعمال کرنے کے پابند ہیں۔
تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق علی عبداللہی نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کی فضائی حدود میں امریکی موجودگی خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کی سرزمین کو نشانہ بنانے والی کسی بھی کارروائی یا خطرے کی صورت میں ایرانی مسلح افواج بھرپور جواب دیں گی۔
ایرانی کمانڈر نے سابق رہبرِ انقلاب علی خامنہ ای کی دفاعی حکمت عملی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے میزائل اور ڈرون صلاحیتوں میں نمایاں پیش رفت کے ساتھ اپنی قومی سلامتی کو مضبوط بنایا ہے۔
یہ انتباہ دوحہ میں قطر اور پاکستان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان دو روزہ تکنیکی بات چیت کے بعد سامنے آیا ہے، جسے دونوں جانب سے مثبت قرار دیا گیا تھا۔
قطر اور پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور جلد متوقع ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد مواقع پر کہہ چکے ہیں کہ جب تک ناگزیر نہ ہو، امریکہ ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی نہیں کرے گا، جبکہ واشنگٹن کا مقصد ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو بغیر کسی رکاوٹ یا فیس کے یقینی بنانا ہے۔
یواین آئی۔ م س
ہندوستان
سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے پر سال بھر پروگرام منعقد کریں گے ہندوستان اور جاپان
نئی دہلی، ہندوستان اور جاپان اگلے سال سفارتی تعلقات کے قیام کے 75 برس مکمل ہونے کے موقع پر ‘انڈیا-جاپان ایئر آف شیئرڈ ہورائزنز’ منائیں گے۔
وزارت خارجہ نے جمعرات کو بتایا کہ دونوں ممالک نے اسٹریٹجک، ثقافتی، اقتصادی، سائنسی اور عوامی تعلقات کو مضبوط بنانے کے مقصد سے سال بھر مختلف پروگرام منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان پروگراموں میں انڈیا-جاپان ویک (28 اپریل 2027 سے)، نوجوانوں پر مبنی ثقافتی تبادلہ، منگا-اینیمی-گیمنگ شراکت داری، پالیسی مذاکرات (شیئرڈ فیوچر-75)، آرٹ اینڈ کلچر پروگرام، بدھ مت یاترا پہل، کھیلوں میں تعاون، تجارت اور علاقائی شراکت داری نیز لوپیکس قمری مشن سمیت سائنس اور ٹیکنالوجی کے تعاون کو فروغ دینے والے اقدامات شامل ہیں۔
دونوں ممالک نے کہا ہے کہ یہ تقریبات دونوں ممالک میں بڑے پیمانے پر ہوں گی اور ان میں نوجوانوں کی سرگرم شرکت کو یقینی بنایا جائے گا۔
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
جاپان کی ‘موگامی’ پیشکش: اسٹریٹجک موقع یا مقامی بحری منصوبوں سے توجہ ہٹانے کی کوششَ
نئی دہلی، جاپان نے ایشیا میں اپنے اہم ترین اسٹریٹجک شراکت دار ہندوستان کو جدید ‘موگامی کلاس’ اسٹیلتھ فریگیٹ کی ٹیکنالوجی منتقل کرنے کی پیشکش کی ہے اس پیشکش کے تحت جنگی جہاز کے ڈیزائن اور پروڈکشن کے مکمل حقوق بھی ہندوستان کو دیے جائیں گے یہ تجویز، جس پر دونوں ممالک کے حکام گزشتہ کچھ عرصے سے غور و خوض کر رہے ہیں، ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جاپانی وزیر اعظم تاکائیچی نے جمعرات کو وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ دفاعی اور تکنیکی تعاون کو مزید فروغ دینے کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا۔
تاہم، ہندوستانی دفاعی منصوبہ سازوں کے لیے مسئلہ یہ ہے کہ یہ تجویز ہندوستان کے نیول ماڈرنائزیشن کے ایک نازک موڑ پر آئی ہے۔ ہندوستانی بحریہ پہلے ہی ‘پروجیکٹ 17اے’ کے ذریعے مقامی جنگی جہازوں کے ڈیزائن میں خطیر سرمایہ کاری کر چکی ہے، جس کے تحت کئی ‘نیلگیری کلاس’ اسٹینتھ فریگیٹس زیر تعمیر ہیں۔ بحری انٹیلی جنس کے سابق ڈائرکٹر کموڈور رنجیت رائے (ریٹائرڈ) نے یو این آئی کو بتایا کہ ہندوستان مستقل طور پر اپنے مقامی پروجیکٹ 17اے فریگیٹس کی صلاحیتوں کو بڑھا رہا ہے اور اسے بیرون ملک سے جنگی جہاز درآمد کرنے کی بہت کم ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ “ان کی صلاحیتیں کچھ بھی ہوں، اس مرحلے پر فریگیٹس درآمد کرنا ہمارے پروڈکشن پلانز کو متاثر کرے گا اور ملک کی مقامی جہاز سازی کی صلاحیتوں کو نقصان پہنچائے گا۔”
تاہم، سفارتی اور تزویراتی نقطۂ نظر سے جاپان کی یہ پیشکش اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ٹوکیو اب اپنے جدید بحری جنگی پلیٹ فارم برآمد کرنے کے لیے تیار ہے اور ہندوستان کو طویل مدتی تزویراتی مینوفیکچرنگ شراکت دار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ اگر اسے قبول کر لیا جاتا ہے تو ہندوستان کے جہاز ساز ادارے جیسے کولکاتہ میں قائم ‘گارڈن ریچ شپ بلڈرز اینڈ انجینئرز’ یا ممبئی کا ‘مزاگاؤں ڈاک شپ بلڈرز لمیٹڈ’ مقامی طور پر جاپانی ڈیزائن کردہ فریگیٹس تیار کر سکتے ہیں۔ رپورٹوں کے مطابق، اس معاہدے میں بڑے پیمانے پر ٹیکنالوجی کی منتقلی، ڈیزائن کی ملکیت اور ہندوستان کے ‘برہموس’ سپرسونک کروز میزائل جیسے ہتھیاروں کا سسٹم شامل کرنا ممکن ہو سکے گا۔
انسٹی ٹیوٹ آف ڈیفنس اسٹڈیز کے سابق سینئر فیلو راجارام پانڈا کے مطابق “جاپان کی یہ پیشکش اس لیے غیرمعمولی اہمیت رکھتی ہے کہ یہ ٹوکیو کی دفاعی برآمدی پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد کئی دہائیوں تک جاپان نے فوجی سازوسامان کی برآمد پر تقریباً مکمل پابندیاں عائد کر رکھی تھیں۔”
اسٹرے ٹیجک اعتبار سے یہ پیشکش ہند۔ بحرالکاہل خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے بحری اثر و رسوخ کے تناظر میں نئی دہلی اور ٹوکیو کے امن و استحکام برقرار رکھنے کے مشترکہ عزم کی عکاس ہے۔ دونوں ممالک علاقائی سلامتی میں بحری تعاون کو کلیدی اہمیت دیتے ہیں، جب کہ جدید ‘اسٹیلتھ فریگیٹس’ کی مشترکہ تیاری سے نہ صرف دفاعی تعاون کو نئی جہت ملے گی بلکہ دفاعی صنعت میں باہمی انضمام بھی مضبوط ہوگا، جو مشترکہ فوجی مشقوں اور سفارتی ہم آہنگی سے کہیں آگے کی پیش رفت ہوگی۔
تاہم، دفاعی حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ دونوں ہی جدید اسٹینتھ فریگیٹس ہیں، لیکن موگامی اور نیلگیری کلاسیز کو مختلف آپریشنل حکمت عملیوں کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
پروجیکٹ 17اے کے تحت تیار کردہ ہندوستانی نیلگیری کلاس اسٹینتھ فریگیٹ، جیسے کہ ‘آئی این ایس تاراگیری’ جسے دو ماہ قبل بحریہ میں شامل کیا گیا تھا، بنیادی طور پر بھاری بھرکم ہتھیاروں سے لیس ایک کثیر المقاصد جنگی جہاز ہے، جسے بحری تجزیہ کار “پاکٹ ڈسٹرائر” کہتے ہیں۔
تقریباً 6,670 ٹن وزنی یہ اسٹیلتھ جنگی جہاز 32 باراک-8 فضائی دفاعی میزائلوں اور آٹھ برہموس سپرسونک کروز میزائلوں سے لیس ہے۔ دفاعی ذرائع کا کہنا ہے کہ جدید ایم ایف-اسٹار راڈار اور اینٹی سب میرین وارفیئر نظام سے آراستہ یہ مقامی جنگی جہاز طویل المدت اور شدید بحری جنگی کارروائیوں کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
اس کے برعکس جاپانی موگامی کلاس فریگیٹ وزن میں کم (تقریباً 5,500 ٹن) اور زیادہ آٹومیٹڈ ہے، جس کے لیے نیلگیری کلاس کے 226 عملے کے مقابلے میں صرف 90 اہلکاروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ حکام نے بتایا کہ ” جاپان یا دیگر مغربی ممالک کے برعکس ہماری بحریہ میں تربیت یافتہ افرادی قوت کا کوئی مسئلہ نہیں ہے، اس لیے صرف آٹومیشن ہمارے لیے بہت بڑا پلس پوائنٹ نہیں ہے، حالاں کہ ہمیں اس کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ جہاں جاپانی جہاز ہمارے مقابلے میں آگے ہیں، وہ یہ ہے کہ ان کے موگامی کلاس فریگیٹس کا راڈار سگنیچر (راڈار کی نظروں سے بچنے کی صلاحیت) ہمارے جہاز سے زیادہ بہتر ہے، لیکن اسے مستقبل کے ماڈلز میں ٹھیک کیا جا سکتا ہے۔” ہندوستان نے ہمیشہ ایسے بھاری ہتھیاروں سے لیس جہازوں کو ترجیح دی ہے، جو دشمن کے پانیوں میں آزادانہ طور پر کام کر سکیں، جبکہ “جاپان نے ایسے انتہائی خودکار اور لچکدار پلیٹ فارمز پر توجہ مرکوز کی ہے جو افرادی قوت کی ضرورت کو کم کرتے ہوئے کارکردگی کو بڑھاتے ہیں”۔
حکام کا کہنا ہے کہ جاپان کی یہ پیشکش ہندوستان کے مقامی بحری جہاز سازی پروگرام کے حوالے سے بھی اہم سوالات پیدا کرتی ہے۔ ان کے مطابق، “پروجیکٹ 17اے جدید جنگی جہازوں کے ڈیزائن اور تیاری میں ملک کی کئی دہائیوں کی مہارت کا مظہر ہے۔” انہوں نے کہا کہ ہندوستان اب غیر ملکی ڈیزائن پر انحصار کرنے کے بجائے مقامی سطح پر جدید جنگی جہاز تیار کرنے کی صلاحیت حاصل کر چکا ہے، جن میں ملکی اور بین الاقوامی ٹیکنالوجیز کا امتزاج موجود ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ کسی نئی غیر ملکی فریگیٹ کلاس کو شامل کرنے سے نہ صرف الگ لاجسٹک اور دیکھ بھال کا نظام قائم کرنا پڑے گا بلکہ عملے کی تربیت اور سپلائی چین کا نیا ڈھانچہ بھی تشکیل دینا ہوگا۔ اگرچہ ان جنگی جہازوں کی تیاری ہندوستان میں ہوگی، تاہم، جاپانی ساختہ پرزوں اور مخصوص ٹیکنالوجی پر طویل المدت انحصار برقرار رہے گا۔ حکام کے مطابق ہندوستانی شپ یارڈز اس وقت ڈسٹرائرز، فریگیٹس، آبدوزوں اور طیارہ بردار جہازوں سمیت کئی اہم منصوبوں پر بیک وقت کام کر رہے ہیں، اس لیے غیر ملکی ڈیزائن کے لیے پیداواری صلاحیت مختص کرنے سے مقامی بحری پروگراموں کی رفتار متاثر ہونے کا خدشہ ہے، الا یہ کہ اس عمل کی انتہائی محتاط منصوبہ بندی کی جائے۔
یو این آئی۔ م ع
ہندوستان1 week agoغلطی سے پاکستان کی فضائی حدود میں گھسا ایئر انڈیا کا طیارہ
ہندوستان4 days agoکھرگے نے راجیہ سبھا رکن کے طور پر پھر سے حلف لیا
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ میں زائرین کی بس کھائی میں جا گری؛ کم از کم 20 عقیدت مند زخمی
دنیا1 week agoایران مذاکرات میں غیر معمولی رعایتیں دینے پر مجبور ہوگیا ہے: ٹرمپ کا دعویٰ
دنیا1 week agoہوسکتا ہے کہ میں جلد ہی ایسی خبر دوں کہ ترکیہ خوش ہو جائے:ٹرمپ
جموں و کشمیر6 days ago“لیفٹیننٹ گورنر کی پارلیمانی کمیٹی سے اہم ملاقات؛ لداخ کے ترقیاتی اور ماحولیاتی چیلنجز پر تفصیلی بریفنگ
ہندوستان1 week agoمان کی ویڈیو کو چھپانے کی کوشش بے نقاب، اب استعفیٰ ہی واحد متبادل : آر پی سنگھ
ہندوستان5 days agoآپریشن سندور میں وزیرِ دفاع کے بیان کے تناظر میں کہی جا رہی باتیں گمراہ کن اور غلط: وزارتِ دفاع
دنیا4 days agoمجتبیٰ خامنہ ای کا امریکہ اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کی قانونی کارروائی کا حکم
دنیا1 week agoتہران کی سڑکوں پر رہبر شہید کے جنازے کی تیاری ، بینرز آویزاں
ہندوستان1 week agoاجین زمین گھپلہ میں وائٹ پیپر جاری کرکے معاملہ کی جانچ کرائے حکومت
دنیا1 week agoامن کے فروغ کیلئے پاکستان کی کوششیں تہذیبی و ثقافتی روایات کی عکاس ہیں: ایرانی صدر







































































































