جموں و کشمیر
دربار مو کی بحالی سے جموں کی معیشت کو نمایاں فروغ ملے گا: عمر عبداللہ

جموں، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کا کہنا ہے کہ روایتی دربار مو کی بحالی سے جہاں جموں کی معیشت مستحکم ہوگی وہیں جموں اور سری نگر کے درمیان اتحاد مزید بڑھ جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ دربار مو بند ہونے سے جموں کو دھکا لگا تھا۔
وزیر اعلیٰ نے ان باتوں کا اظہار پیر کو یہاں چار سال بعد دربار مو کی روایت بحال ہونے پر نامہ نگاروں کے ساتھ بات کرنے کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا: ‘دربا مو کی بحالی کتنی بڑی بات ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جو راستہ طے کرنے میں مجھے پانچ منٹ لگ جاتے اس کو طے کرنے میں ایک گھنٹہ لگ گیا اس قدر لوگوں میں جوش تھا’۔
ان کا کہنا تھا: ‘دربا مو بند ہونے سے جموں کو بڑا دھکا لگ گیا تھا، اس روایت کو بحال کرنا ہماری ذمہ داری تھی کیونکہ ہم نے لوگوں کے ساتھ وعدہ کیا تھا’۔
عمر عبداللہ نے کہا: ‘اب دربار مو بحال ہوا ہے، مجھے امید ہے کہ اس سے جموں و کشمیر کی معیشت کو نمایاں فروغ ملے گا’۔
انہوں نے کہا: ‘ہر چیز کو پیسوں میں تولا نہیں جا سکتا ہے جیسا کہ اس روایت کو بند کرکے کیا گیا، در بار مو جموں اور کشمیر کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑنے کا ایک طریقہ ہے، اس کو بند کرنے سے جموں و کشمیر کے اتحاد کو دھکا لگ گیا تھا’۔
ان کا کہنا تھا: ‘جموں اور کشمیر کے درمیان سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لئے دوری پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن ہم اس دوری کو دور کرنا چاہتے ہیں’۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دربار مو کی بحالی سے نہ صرف جموں کی معیشت مستحکم ہوگی بلکہ جموں اور سری نگر کے لوگوں کے درمیان اتحاد اور بھائی چارہ بھی مزید مضبوط ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ یہاں دفتر سنبھلنے میں کچھ دن لگ سکتے ہیں تاہم ملازموں کے لئے اور دیگر تمام انتظامات کئے گئے ہیں۔
یو این آئی ایم افضل
جموں و کشمیر
سی آئی کے کی سرینگر کی سینٹرل جیل میں تلاشی، دہشت گردی کیس میں ڈیجیٹل آلات برآمد
سرینگر، جموں و کشمیر پولیس کے کاؤنٹر انٹیلیجنس کشمیر (سی آئی کے) یونٹ نے ہفتہ کے روز ایک دہشت گردی سے متعلق کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں سرینگر سینٹرل جیل کے اندر تلاشی کارروائی انجام دی، جس کے دوران ڈیجیٹل آلات برآمد کیے گئے۔
پولیس کے مطابق یہ تلاشی اسپیشل کورٹ (این آئی اے ایکٹ کے تحت نامزد)، سرینگر کی جانب سے جاری وارنٹ کی بنیاد پر کی گئی۔ یہ کارروائی 2023 میں درج ایف آئی آر کے سلسلے میں کی گئی تھی، جو تعزیرات ہند کی دفعات 153-A، 505، 121 اور 120-B کے ساتھ یو اے (پی) ایکٹ کی دفعات 13 اور 39 کے تحت پولیس اسٹیشن سی آئی کشمیر میں درج ہے۔
پولیس نے بتایا کہ قابلِ اعتماد تکنیکی معلومات کی بنیاد پر، جن سے جیل کے اندر مشتبہ ڈیجیٹل سرگرمیوں کے آثار ملے تھے، جیل حکام کے ساتھ قریبی تال میل کے ذریعے مختلف بلاکس اور بیرکس میں تلاشی لی گئی۔
کارروائی کے دوران ایسے ڈیجیٹل مواصلاتی آلات برآمد اور ضبط کیے گئے جو تحقیقات سے متعلق اہم شواہد فراہم کر سکتے ہیں۔ ان آلات کا تفصیلی فرانزک معائنہ کیا جائے گا تاکہ ممکنہ روابط کا پتہ لگایا جا سکے اور کسی بڑے دہشت گرد نیٹ ورک کو بے نقاب کیا جا سکے۔
اسی دوران تحقیقاتی ایجنسی اس سکیورٹی خامی کی بھی جانچ کر رہی ہے جس کے باعث ایسے آلات کو اس ہائی سکیورٹی جیل میں داخل کیا جا سکا۔
پولیس کے مطابق اس معاملے میں ملوث سہولت کاروں اور معاونین کے کردار کی مکمل تحقیقات کی جائے گی اور قانون کے مطابق مناسب کارروائی کی جائے گی۔
یہ آپریشن اہم شواہد اکٹھا کرنے، غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنے اور حساس سکیورٹی مقامات، خصوصاً جیلوں میں مواصلاتی آلات کے غلط استعمال کو روکنے کی مسلسل کوششوں کا حصہ ہے۔
اس کا مقصد مرکز کے زیر انتظام علاقے میں دہشت گردی کے نیٹ ورک کو ختم کرنا بھی ہے، جس کے لیے دہشت گردوں کے معاونین اور اوور گراؤنڈ ورکرز (او جی ڈبلیو) کی شناخت کر کے ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
سوپور میں طلبہ احتجاج کے پرتشدد ہونے پر پولیس نے چھ افراد کے خلاف پی ایس اے کے تحت کارروائی کی
سری نگر، جموں و کشمیر کے سوپور سب ضلع میں حالیہ طلبہ احتجاج کے دوران مبینہ طور پر امن و امان میں خلل ڈالنے اور توڑ پھوڑ میں ملوث ہونے کے الزام میں پولیس نے جمعہ کو چھ افراد کے خلاف سخت پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) کے تحت مقدمہ درج کیا۔
پی ایس اے کے تحت بعض معاملات میں بغیر باضابطہ الزام یا مقدمہ کے دو سال تک حراست میں رکھا جا سکتا ہے۔
پولیس کے مطابق جن افراد کے خلاف پی ایس اے کے تحت کارروائی کی گئی ان میں سیلو کے عمر اکبر حاجم، شالپورہ کے سلمان احمد شالا، پنزی پورہ ترزو کے الطاف احمد شیخ، نصیر آباد کے مبشر احمد گلکار، آرام پورہ کے مزمل مشتاق چنگا اور چنکی پورہ کے مجید فردوس ڈار شامل ہیں۔ ان تمام افراد کو جموں خطے کی ضلع جیل بھدرواہ میں رکھا گیا ہے۔
ان افراد کو بارہمولہ کے ضلع مجسٹریٹ سے باضابطہ حراستی وارنٹ حاصل کرنے کے بعد پی ایس اے کے تحت گرفتار کیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ یہ افراد حالیہ طلبہ احتجاج کے دوران بدامنی پھیلانے، توڑ پھوڑ کرنے اور امن خراب کرنے کی کوششوں میں سرگرم تھے۔ پولیس کے مطابق “ان کی سرگرمیاں عوامی نظم و نسق اور سلامتی کے لیے سنگین خطرہ تھیں”۔ مزید یہ کہ اس واقعے میں ملوث دیگر افراد کی بھی نشاندہی کی جا رہی ہے اور ان کے خلاف بھی اسی طرح کی قانونی کارروائی، بشمول پی ایس اے کے تحت حراست، عمل میں لائی جا رہی ہے۔
گزشتہ ہفتے سوپور میں ایک خاتون طالبہ کی جانب سے ایک سینئر لیکچرر پر ہراسانی کے الزامات کے بعد شدید طلبہ احتجاج ہوا تھا۔ جموں و کشمیر حکومت نے اس سینئر لیکچرر کو معطل کر دیا تھا۔ بعد ازاں پولیس نے احتجاج کے دوران توڑ پھوڑ میں ملوث کئی افراد کو گرفتار بھی کیا۔
سوپور پولیس نے واضح کیا کہ ضلع میں امن و استحکام کو متاثر کرنے والی کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کے لیے زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی جائے گی۔ پولیس نے سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ حساس حالات کا فائدہ اٹھانے یا عوامی نظم و نسق میں خلل ڈالنے کی کسی بھی کوشش پر فوری اور سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
عوام، خاص طور پر نوجوانوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ایسی غیر قانونی سرگرمیوں سے دور رہیں اور شرپسند عناصر کے بہکاوے میں نہ آئیں۔ والدین اور سماجی رہنماؤں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ نوجوانوں کی رہنمائی کریں اور انہیں مثبت سرگرمیوں میں مصروف رکھیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
نشہ مکت مہم: 12 دنوں میں کئی منشیات اسمگلر گرفتار، کروڑوں مالیت کی منشیات ضبط: جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا
جموں، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعہ کو کہا کہ “نشہ مکت ابھیان” کے تحت نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور صرف 12 دنوں میں کئی گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں جبکہ کروڑوں روپے مالیت کی منشیات ضبط کی گئی ہیں۔
ریاسی ضلع میں “ڈرگ فری جموں و کشمیر مہم” کا آغاز کرنے کے بعد ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے منشیات کے استعمال کے خلاف اجتماعی سماجی ردعمل کی اپیل کی اور خبردار کیا کہ یہ لعنت معاشرے کی بنیادوں کو اندر سے کھوکھلا کر رہی ہے۔
انہوں نے کمیونٹیز، اداروں اور افراد سے اپیل کی کہ وہ منشیات کے خلاف اس جنگ میں متحد ہوں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 12 دنوں سے پورے مرکز کے زیر انتظام علاقے میں منشیات کے خلاف ایک اجتماعی تحریک ابھری ہے اور لوگ اس خطے کو منشیات سے پاک بنانے کے عزم پر قائم ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ 11 سے 22 اپریل کے درمیان جموں ڈویژن میں بڑی تعداد میں مقدمات درج کیے گئے اور کئی منشیات اسمگلروں کو گرفتار کیا گیا۔ تقریباً 3 کروڑ روپے مالیت کی منشیات ضبط کی گئی، جبکہ تقریباً 1 کروڑ روپے کی منقولہ و غیر منقولہ جائیدادیں بھی ضبط کی گئیں۔
کارروائیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ منشیات اسمگلروں کی جائیدادیں مسمار کی گئی ہیں، 187 ڈرائیونگ لائسنس اور چار گاڑیوں کی رجسٹریشن منسوخ کی گئی ہیں، جبکہ 48 منشیات فروشوں کے خلاف مالی تحقیقات شروع کی گئی ہیں۔
کیمسٹ دکانوں کا معائنہ کیا گیا اور 15 لائسنس منسوخ کیے گئے۔ منشیات کے عادی افراد کو بحالی مراکز میں بھیجا گیا اور انہیں مشاورت فراہم کی گئی۔
جاری۔یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر1 week agoجموں کشمیر: کالج پکنک پر جا رہی 20 سالہ لڑکی بس سے گر کر ہلاک
دنیا5 days agoمیناب اسکول کے شہید بچوں کے والدین کا پوپ لیو کو خط
دنیا1 week agoدشمن ایرانی قوم کو جھکانے کی حسرت اپنے ساتھ قبر میں لے جائیں گے: ایرانی آرمی چیف
جموں و کشمیر1 day agoپہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
جموں و کشمیر1 week agoبارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا
دنیا1 week agoٹرمپ کا دماغی توازن ٹھیک نہیں، عہدے کے قابل نہیں رہے:س یاسمین انصاری
دنیا1 week agoضرورت پڑنے پر طاقت کا استعمال کیا جائے گا، پیٹ ہیگسی
دنیا1 week agoاسرائیل پر قدرت کا قہر، شہد کی مکھیوں کے جھنڈ کا حملہ
دنیا4 days agoایرانی یورینیم کی بازیابی طویل اور مشکل ہوگی: ٹرمپ
جموں و کشمیر4 days agoایک سال بعد بھی بائیسرن چراگاہ بدستور بند
دنیا1 week agoکویت ایئرویز کا ڈھاکہ کے لیے پروازیں دوبارہ شروع کرنے کا اعلان
ہندوستان1 week agoاسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کا ہندوستان کی جانب سے خیر مقدم، امن کی سفارتی کوششوں کی حمایت





































































































