ہندوستان
دہشت گردی کی مالی معاونت کی جانچ: ای ڈی نے الفلاح یونیورسٹی سے وابستہ کئی مقامات پر چھاپے مارے

نئی دہلی، دہلی دھماکہ معاملے میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے ہریانہ کے فرید آباد میں واقع الفلاح یونیورسٹی اور دہلی کے اوکھلا میں واقع اس کے دفتر سمیت 25 سے زیادہ مقامات پر چھاپے مارے ہیں۔
یہ کارروائی دہلی میں لال قلعے کے قریب ہوئے دھماکے سے منسلک منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی بڑے پیمانے پر کی جانے والی تحقیقات کا حصہ ہے۔ اس دھماکے میں 15 افراد کی موت ہوگئی تھی۔
ای ڈی کی ٹیموں نے منگل کی صبح 5:15 بجے شروع ہوئے ایک آپریشن میں الفلاح یونیورسٹی کے اوکھلا دفتر سمیت دہلی-این سی آر کے مختلف مقامات پر چھاپے مارے۔ جانچ کا مقصد اُس مالیاتی نیٹ ورک کا سراغ لگانا ہے جس نے دھماکہ کرنے والوں کی مدد کی تھی۔
یہ معاملہ اُس وقت سامنے آیا جب الفلاح یونیورسٹی سے وابستہ ایک ڈاکٹر، ڈاکٹر عمر نبی کی شناخت اُس آئی 20 کار کے ڈرائیور کے طور پر ہوئی جس میں دھماکہ ہوا تھا۔ ابتدا میں یونیورسٹی نےخود کوڈاکٹر عمر نبی سے الگ کر لیا تھا، لیکن بعد ازاں دہلی کرائم برانچ اور ہریانہ پولیس کی تفتیش میں ادارے کے اندر بڑے پیمانے پر مالی دھوکہ دہی کا انکشاف ہوا۔ اس کے بعد ای ڈی نے مداخلت کرتے ہوئے منی لانڈرنگ کی جانچ شروع کی۔
اس کارروائی نے مالی دھوکہ دہی کے ایک پیچیدہ نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا ہے۔ حکام نے تصدیق کی ہے کہ الفلاح گروپ سے منسلک کم از کم نو فرضی کمپنیاں ایک ہی پتے پر رجسٹرڈ ہیں اور سبھی تفتیش کے دائرے میں ہیں۔
ای ڈی کے ایک سینئر افسر نے کہا،’’الفلاح ٹرسٹ اور اس سے وابستہ اداروں کے کردار پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ ہم اُن اہم افسران کی جانچ کر رہے ہیں جو مالیات اور انتظامیہ کی نگرانی کرتے ہیں۔‘‘
تحقیقات میں یونیورسٹی کے یو جی سی (یو جی سی)اور این اے اے سی(این اے اے سی)سے منظوری کے دعوؤں میں ابتدائی طور پر تضاد پایا گیا۔ ان پہلوؤں کی متعلقہ انضباطی اتھارٹیز سے تصدیق کی جا رہی ہے۔ پولیس کی ایف آئی آر کی بنیاد پر ای ڈی کی جانچ اب صرف دہشت گردی سے متعلق تفتیش نہیں رہی بلکہ یہ ایک پیچیدہ مالیاتی دھوکہ دہی اور منی لانڈرنگ کے معاملے کی شکل اختیار کر چکی ہے، جو ادارے کے مالی جرائم اور دھماکے کے ملزمین کی سرگرمیوں کے درمیان گہرے رابطے کی نشاندہی کرتی ہے۔
یو این آئی – م ک۔ایس وائی۔
ہندوستان
ڈی آر ڈی او نے مقامی گلائیڈ ہتھیاروں کے نظام ‘ٹارا’ کا کامیاب تجربہ کیا
نئی دہلی، دفاعی تحقیقی اور ترقیاتی تنظیم (ڈی آر ڈی او) اور ہندوستانی فضائیہ نے پہلے مقامی گلائیڈ ہتھیاروں کے نظام ‘ٹیکٹیکل ایڈوانسڈ رینج آگمنٹیشن’ (ٹارا) کا کامیاب تجربہ کیا ہے ٹی اے آر اے ایک ماڈیولر رینج توسیعی کِٹ ہے، جو ہندوستان کا پہلا دیسی ساختہ گلائیڈ ویپن سسٹم ہے۔ یہ بغیر رہنمائی والے وارہیڈز کو ہدف پر درست نشانہ لگانے والے گائیڈڈ ہتھیاروں میں تبدیل کرتا ہے۔
ٹی اے آر اے کو ریسرچ سینٹر امرات (آر سی آئی) حیدرآباد نے ڈی آر ڈی او کی دیگر تجربہ گاہوں کے ساتھ مل کر تیار کیا ہے، تاکہ کم لاگت والے ہتھیار کی تباہ کن صلاحیت اور درستگی میں اضافہ کرکے زمینی اہداف کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا جا سکے۔ یہ جدید کم لاگت والے نظاموں سے لیس بھارت کا پہلا گلائیڈ ہتھیار ہے۔اس کِٹ کی تیاری ڈیولپمنٹ کم پروڈکشن پارٹنرز (ڈی سی پی پی) اور دیگر ہندوستانی صنعتوں کے اشتراک سے کی گئی، جنہوں نے اس کی پیداوار کا عمل بھی پہلے ہی شروع کر دیا ہے۔
وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے اس سے پہلے، فضائی تجربے پر ڈی آر ڈی او، ہندوستانی فضائیہ، ڈی سی پی پی اور صنعت سے وابستہ اداروں کو مبارکباد دی اور اسے بھارت کی مقامی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کی سمت میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔
دفاعی تحقیق و ترقی کے محکمے کے سکریٹری اور ڈی آر ڈی او کے چیئرمین سمیر وی کامت نے بھی کامیاب فضائی تجربے سے وابستہ ٹیموں کو مبارکباد پیش کی۔
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
بی جے پی دورِ حکومت میں خواتین کے خلاف جرائم میں اضافہ، دھامی حکومت عصمت دری کے ملزمان کو بچا رہی ہے: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے کہا ہے کہ ملک میں خواتین کے خلاف جرائم بڑھ رہے ہیں۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (این سی آر بی) کے مطابق ان کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت ان جرائم پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے۔
مہیلا کانگریس کی صدر الکا لامبا نے جمعہ کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی خواتین کو تحفظ دینے کا دعویٰ کرتی ہے لیکن سب سے زیادہ جرائم بی جے پی کے زیرِ اقتدار ریاستوں میں ہی ہو رہے ہیں۔ بی جے پی کی حکومت والی ریاستیں جیسے اتر پردیش، راجستھان اور مہاراشٹر خواتین کے خلاف جرائم کے اعداد و شمار میں ملک میں سرفہرست ہیں۔ اتراکھنڈ میں انکیتا بھنڈاری کے ساتھ بی جے پی لیڈروں نے عصمت دری کی اور اسے قتل کر دیا، لیکن اس کی کہیں کوئی شنوائی نہیں ہو رہی۔
مہیلا کانگریس کی صدر نے اتراکھنڈ حکومت پر عصمت دری کے ملزمان کو بچانے کا الزام لگایا اور کہا کہ وہاں دسویں جماعت میں پڑھنے والی ایک بچی کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے اور حکومت جرم کرنے والے اپنے لیڈروں کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اتراکھنڈ پولیس خود متاثرہ خاندان پر دباؤ ڈال رہی ہے۔ متاثرہ خاندان کے ارکان پر سمجھوتہ کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ پولیس انہیں کیس ختم کرنے کے لیے کہہ رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خاندان کو 50 لاکھ روپے دے کر معاملے کو رفع دفع کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور یہ پیشکش کرنے والے بی جے پی کے بڑے لیڈر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کے آنے کے بعد نیشنل کرائم بیورو کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں عصمت دری کے واقعات میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور بی جے پی کی ریاستوں میں یہ اضافہ سب سے زیادہ ہے، اس لیے بی جے پی حکومت کو اس کا جواب دینا چاہیے۔ مہیلا کانگریس کی صدر نے دعویٰ کیا کہ ملک میں ہر 70 منٹ میں ایک خاتون عصمت دری کا شکار ہو رہی ہے اور یہ سب اس بی جے پی حکومت میں ہو رہا ہے جو خود کو خواتین کی محافظ حکومت قرار دیتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ خواتین کے تحفظ کا دعویٰ کرنے والی بی جے پی کو بتانا چاہیے کہ مجرموں کے خلاف کس سطح پر کارروائی ہوئی ہے اور قصورواروں کو سزا کیوں نہیں دی گئی؟ انہوں نے مزید کہا کہ اتر پردیش، راجستھان، مہاراشٹر، مدھیہ پردیش، بہار، ہریانہ اور دہلی جیسی ریاستوں میں خواتین کے خلاف واقعات ہوتے ہیں لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوتی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بی جے پی حکومت میں دلت خواتین کے ساتھ سب سے زیادہ جرائم ہو رہے ہیں اور ایک اعداد و شمار کے مطابق ہر روز تقریباً 10 دلت خواتین کے ساتھ عصمت دری کے واقعات پیش آ رہے ہیں، لیکن ان جرائم کے حوالے سے کہیں کوئی انصاف نہیں مل رہا۔
یواین آئی۔ایف اے
ہندوستان
آپریشن سندور:مسلح افواج کی کامیابیوں کو خراجِ تحسین، حکومت کی پالیسیوں پر کانگریس کی تنقید
نئی دہلی، کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے جمعرات کو یہاں جاری ایک بیان میں کہا، ’’آج آپریشن سندور کی پہلی برسی ہے یہ موقع ہماری مسلح افواج کی بہادری، جرأت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سلام پیش کرنے کا ہے، لیکن اس کے ساتھ کچھ اہم حقائق کو فراموش نہیں کیا جا سکتا اور انہیں یاد رکھنا بھی ضروری ہے انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال 10 مئی کو جنگ بندی کا پہلا اعلان امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کیا تھا اور اس کا سہرا صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی مداخلت کو دیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد ٹرمپ نے مختلف مواقع پر فوجی کارروائی رکوانے کا دعویٰ دہرایا، لیکن وزیر اعظم نریندر مودی نے عوامی طور پر کبھی اس دعوے کی تردید نہیں کی۔
جئے رام رمیش نے کہا کہ اس کے بعد 30 مئی کو سنگاپور میں چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انل چوہان نے اعتراف کیا تھا کہ ابتدائی مرحلے میں بعض حکمتِ عملی کی غلطیوں کی وجہ سے ہندستان کو نقصان اٹھانا پڑا، تاہم بعد میں حکمتِ عملی میں بہتری لا کر پاکستان کے اندر درست کارروائیاں کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ 10 جون 2025 کو جکارتہ میں ہندستانی سفارت خانے کے ڈیفنس اتاشی نے بھی یہ تسلیم کیا تھا کہ سیاسی قیادت کی جانب سے مقرر کردہ حدود کے باعث ہندستان نے اپنے کچھ طیارے کھو دیے تھے۔
کانگریس لیڈر نے کہا کہ 4 جولائی 2025 کو نائب سربراہِ فوج لیفٹیننٹ جنرل راہل نے پاکستان کی کارروائیوں میں چین کے کردار کی طرف اشارہ کیا تھا۔ ان کے مطابق چین نے پاکستان کو سازوسامان، گولہ بارود، سیٹلائٹ تصاویر اور ریئل ٹائم ٹارگٹنگ میں مدد فراہم کی۔ کانگریس نے الزام لگایا کہ اس کے باوجود مودی حکومت چین کے معاملے میں نرم رویہ اپنائے ہوئے ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندستان کی وسیع سفارتی مہم کے باوجود پاکستان عالمی سطح پر اس طرح تنہا نہیں ہوا، جیسے 2008 کے ممبئی حملوں کے بعد ہوا تھا۔ کانگریس نے کہا کہ پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر کو امریکی قیادت کی جانب سے مسلسل حمایت اور اہمیت حاصل ہو رہی ہے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ کارگل جنگ کے بعد اُس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کی حکومت نے اسٹراٹیجک امور کے ماہر کے۔ سبرامنیم کی سربراہی میں کارگل جائزہ کمیٹی تشکیل دی تھی، جس نے مستقبل کے لیے تجاویز پیش کرتے ہوئے اپنی رپورٹ پارلیمنٹ میں جمع کرائی تھی۔ کانگریس نے مطالبہ کیا کہ آپریشن سندور سے متعلق واقعات کا بھی اسی طرز پر جامع جائزہ لیا جانا چاہیے۔
یو این آئی۔ ایم جے
دنیا1 day agoامریکی کانگریس میں پاکستان کے حق میں بڑی قرارداد منظور
دنیا1 week agoایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا یوم مزدور پر پیغام
جموں و کشمیر5 days agoجموں میں ہوٹل کے بیسمنٹ سے مشتبہ حالات میں نوجوان لڑکی کی لاش برآمد
دنیا1 week agoہم کسی پاگل کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے نہیں دیں گے: ٹرمپ
ہندوستان1 week agoشاہ کے دورہ لداخ پر کانگریس کا نشانہ، تاریخی بدھ باقیات کا کیا ذکر
دنیا1 week agoایران میں آپریشن ختم ہونے کے بعد تیل کی قیمتیں گِر جائیں گی، ٹرمپ
دنیا1 week agoامریکی وزیر دفاع کی کانگریس میں سخت تقریر، ایران سے جنگ میں اسلحہ کی قلت کا اعتراف
دنیا5 days agoصدر ٹرمپ کے اعلان کے بعد خام تیل کی قیمتیں کم ہو گئیں
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز کو آبنائے ٹرمپ قرار دینے پر ایرانی وزیر خارجہ کا امریکی صدر کو جواب
ہندوستان4 days agoغیر آئینی طریقوں سے پارٹیوں کو توڑنا جمہوری ڈھانچے پر براہ راست حملہ ہے: بھگونت مان
دنیا1 day agoامریکہ ایران جنگ ختم ہوگئی تب بھی تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا امکان جاری رہے گا
دنیا7 days agoایران کے ساتھ جنگ ختم ہو گئی: وائٹ ہاؤس










































































































