ہندوستان
دہلی میں کار دھماکے میں آٹھ افراد ہلاک، 24 زخمی

نئی دہلی، قومی دارالحکومت میں لال قلعہ کے سامنے ٹریفک سگنل پر پیر کی شام ایک کار میں ہوئے زبردست دھماکے میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک جبکہ 24 دیگر زخمی ہوگئے۔
یہ دھماکہ ایک آئی20 کار میں ہوا۔ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ آس پاس کی کئی گاڑیوں میں آگ لگ گئی اور کچھ گاڑیوں کے پرخچے اڑ گئے۔ عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کی آواز کافی دور تک سنائی دی۔
دھماکے میں مرنے والوں کی شناخت کی جا رہی ہے۔
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بتایا کہ معاملے کی ہر زاویے سے گہری جانچ کی جائے گی۔
تمام امکانات کی فوری جانچ کرکے نتائج عوام کے سامنے رکھے جائیں گے۔ انہوں نے واقعے کے بعد دہلی پولیس کمشنر ستیش گولچا اور اسپیشل سیل کے انچارج سے بات کی۔ مسٹر شاہ نے کہا کہ این ایس جی اور این آئی اے کی ٹیم ایف ایس ایل کے ساتھ مل کر تحقیقات شروع کر چکی ہے۔
دھماکے کے کچھ دیر بعد ہی وزیراعظم نریندر مودی نے مسٹر شاہ سے بات کی اور صورتحال کی معلومات حاصل کیں۔ مسٹر مودی اور وزیرِ داخلہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔ وزیرِ داخلہ نے ایل این جے پی اسپتال میں جا کر زخمیوں کی عیادت کی اور اس کے بعد دھماکے کی جگہ کا معائنہ کیا۔
ایل این جے پی اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر بی ایل چودھری نے بتایا کہ اسپتال میں آٹھ لاشیں لائی گئی ہیں اور کئی زخمی ہیں۔
واقعہ کے فوراً بعد دہلی پولیس اور دیگر تحقیقاتی ایجنسیوں کے افسران موقع پر پہنچ گئے۔ سکیورٹی فورسز نے دھماکے کی جگہ کو گھیرے میں لے کر تفتیش شروع کر دی۔ آس پاس کے سی سی ٹی وی کیمروں کے فوٹیج بھی کھنگالے جا رہے ہیں۔
واقعہ کے بعد دہلی سمیت پڑوسی ریاستوں اتر پردیش اور ہریانہ کے علاوہ کچھ دیگر ریاستوں میں بھی ریڈ الرٹ جاری کر دیا گیا ہے اور سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔
مسٹر مودی، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ، وزیر صحت جے پی نڈا اور کئی دیگر رہنماؤں نے دھماکے میں جانی نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
ہندوستان آنے والے 11 جہازوں نے ہرمز عبور کیا، ہندوستان کے دس جہاز ابھی بھی خلیجی خطے میں: وزارت خارجہ
نئی دہلی مغربی ایشیا کا تنازع ختم کرنے کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان 17 جون کو ہوئے معاہدے کے بعد سے ہندوستان آنے والے 11 مختلف ٹینکروں نے آبنائے ہرمز کو بحفاظت عبور کیا ہے جبکہ ہندوستانی پرچم والے دس ٹینکر ابھی بھی خلیجی خطے میں پھنسے ہوئے ہیں اور دو جہاز ابھی ہرمز کو عبور کر کے خلیجی خطے میں داخل ہوئے ہیں ۔
وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کو یہ معلومات فراہم کیں۔ مسٹر جیسوال نے میڈیا بریفنگ میں آبنائے ہرمز کی صورتحال سے متعلق سوالوں کے جواب میں کہا کہ 17 جون کو امریکہ اور ایران کے درمیان ایک مفاہمت نامے پر دستخط کیے جانے کے بعد سے ہندوستان آنے والے کل 11 جہازوں نے ہرمز کو بحفاظت عبور کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستانی پرچم والے دس جہاز ابھی بھی خلیجی خطے میں پھنسے ہیں اور ان کی بھی جلد واپسی کی امید ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے دو اور جہاز ابھی آبنائے ہارمز عبور کر کے خلیجی خطے میں گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پتہ چلتا ہے کہ آبنائے ہرمز میں دونوں طرف سے جہازوں کی آمد و رفت شروع ہو گئی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ ہندوستان آنے والے 11 جہازوں میں سے تین ہندوستانی پرچم والے ہیں جن میں سے ہر ایک پر دو لاکھ 85 ہزار ٹن خام تیل لدا ہے۔ ایک غیر ملکی ٹینکر پر ایل پی جی اور دوسرے غیر ملکی جہاز پر خام تیل لدا ہے۔ اس کے علاوہ چھ بلک کیریئر بھی ہندوستان آ رہے ہیں جن میں کھاد لدی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ امریکہ اور ایران نے 17 جون کو مفاہمت نامے پر دستخط کیے ہیں اس میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا بھی شامل ہے۔ اس راستے سے عالمی تیل اور گیس کا تقریباً 20 فیصد حصے کا کاروبار ہوتا ہے۔ ہرمز کے کھلنے سے خام تیل درآمد کرنے والے ہندوستان سمیت کئی ممالک کو راحت ملی ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
ہند-امریکہ ٹریڈ ڈیل ملکی مفاد کے خلاف، مودی حکومت ٹرمپ کو خوش کرنے میں لگی ہے: جے رام
نئی دہلی، کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے ہند-امریکہ مجوزہ تجارتی معاہدے کے حوالے سے مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے مسٹر رمیش نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خوش کرنے کے لیے ہندوستان کے اقتصادی مفادات سے سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر دو روزہ ہندوستان دورے پر قومی راجدھانی (دہلی) میں ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 6 فروری کو ہندوستان اور امریکہ کے درمیان جاری کردہ مشترکہ بیان کے تحت امریکہ نے ہندوستانی برآمدات پر ٹیرف 25 فیصد سے گھٹا کر 18 فیصد کرنے کا وعدہ کیا تھا، جبکہ ہندوستان نے امریکی زرعی اور صنعتی مصنوعات پر ڈیوٹی ختم یا کم کرنے اور پانچ سالوں میں امریکہ سے 500 ارب ڈالر تک کی خریداری کا یقین دلایا تھا۔
کانگریس لیڈر نے کہا کہ 20 فروری کو امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کی ‘ریسیپروکل ٹیرف’ پالیسی کو غیر قانونی قرار دیا، جس سے ہندوستان کو دی گئی ٹیرف رعایت مؤثر طریقے سے ختم ہو گئی۔ اس کے بعد امریکہ نے ہندوستان سمیت تمام تجارتی شراکت داروں پر عارضی طور پر 10 فیصد ٹیرف لگا دیا اور اب ہندوستان امریکی جانچ کے دائرے میں ہے۔
کانگریس لیڈر کا الزام ہے کہ امریکہ اس جانچ کا استعمال ہندوستان پر دباؤ بنانے کے لیے کر رہا ہے تاکہ وہ مجوزہ ٹریڈ ڈیل پر دستخط کر دے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ ہندوستان کے لیے “سودا نہیں بلکہ لوٹ” ثابت ہوگا اور اس سے جموں و کشمیر، ہماچل پردیش، بہار، مدھیہ پردیش، راجستھان اور مہاراشٹر سمیت کئی ریاستوں کے کسان شدید طور پر متاثر ہوں گے۔
مسٹر رمیش نے کہا کہ جاپان اور یورپی یونین کے ساتھ معاہدے کے باوجود امریکہ نے ان پر بھی ٹیرف بڑھانے کی دھمکی دی ہے۔ ایسے میں ہندوستان کو کسی بھی ایسے تجارتی معاہدے پر دستخط نہیں کرنے چاہئیں، جو اس کے قومی مفادات کے خلاف ہو۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کو ملائیشیا سے سبق لینا چاہیے، جس نے امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد امریکہ کے ساتھ اپنی ٹریڈ ڈیل کو مسترد کر دیا۔
انہوں نے وزیر اعظم مودی پر صدر ٹرمپ کے اس دعوے پر بھی خاموشی اختیار کرنے کا الزام لگایا، جس میں امریکی صدر نے کئی بار کہا ہے کہ انہوں نے “آپریشن سندور” رکوایا تھا۔ مسٹر رمیش نے کہا کہ وزیر اعظم کو اس دعوے کی عوامی طور پر تردید کرنی چاہیے۔
یو این آئی۔ م ع
ہندوستان
سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے جج کے طور پر ترقی کے لیے جوڈیشل آفیسر کی عرضی مسترد کی، کہا کہ وہ کولیجیم کو ہدایت نہیں دے سکتے
نئی دہلی، سپریم کورٹ نے پیر کو ہماچل پردیش کے ایک جوڈیشل آفیسر کی اس عرضی کو مسترد کر دیا جس میں انہوں نے ہائی کورٹ کا جج مقرر کرنے پر غور کرنے کی استدعا کی تھی۔ عدالت نے زبانی طور پر تبصرہ کیا کہ جج کے طور پر ترقی سے متعلق معاملات میں ہائی کورٹ کولیجیم کو کوئی عدالتی ہدایت جاری نہیں کی جا سکتیدرخواست گزار اروند ملہوترا، جو اس وقت دھرم شالہ میں فیملی کورٹ کے پرنسپل جج کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں، نے دلیل دی کہ ہائی کورٹ کولیجیم نے ان سے جونیئر افسران کے ناموں کی سفارش کی تھی، جن کی ترقیوں کو بعد میں سپریم کورٹ کولیجیم نے منظوری دے دی تھی۔
درخواست گزار کی طرف سے پیش ہونے والے سینئر ایڈوکیٹ بلبیر سنگھ نے دلیل دی کہ سپریم کورٹ نے ستمبر 2024 میں ہماچل پردیش ہائی کورٹ کولیجیم کو ہدایت دی تھی کہ وہ جج کے عہدے پر ترقی کے لیے درخواست گزار اور ایک اور جوڈیشل آفیسر کے ناموں پر دوبارہ غور کرے۔
انہوں نے عرض کیا کہ جہاں دوسرے افسر کے معاملے میں اس ہدایت پر عمل کیا گیا، وہیں درخواست گزار کے سلسلے میں ایسی کوئی نظر ثانی نہیں کی گئی۔ تاہم، جسٹس بی وی ناگرتنا اور جسٹس جے مالیا باگچی کی بنچ نے اس دلیل کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ پر ایسا کوئی مواد موجود نہیں ہے جس سے یہ ظاہر ہو کہ ہائی کورٹ کولیجیم نے درخواست گزار کی امیدواری کو مسترد کر دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے درخواست گزار کے سینئر کونسل کے اس بیان کو ریکارڈ پر لیا کہ درخواست گزار دفعہ 32 کے تحت دائر کی گئی رٹ پٹیشن کی پیروی نہیں کرنا چاہتے۔ تاہم، درخواست گزار نے ہائی کورٹ کی متعلقہ اتھارٹی سے انتظامی سطح پر رجوع کرنے یا دیگر عدالتی چارہ جوئی کا راستہ اختیار کرنے کی اجازت مانگی۔ عدالت نے اس بیان کو ریکارڈ پر لیتے ہوئے عرضی کو نمٹا دیا۔
سپریم کورٹ کولیجیم نے 3 جون کو جوڈیشل افسران چراغ بھانو سنگھ، بھوپیش شرما اور یوگیش جسوال کے ناموں کو ہماچل پردیش ہائی کورٹ میں جج کے طور پر ترقی دینے کے لیے منظوری دی تھی۔
اس سے قبل، 2024 میں، ڈسٹرکٹ ججز چراغ بھانو سنگھ اور اروند ملہوترا نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ ہائی کورٹ کولیجیم نے جج کے عہدے پر ترقی کے لیے سفارشات پیش کرتے وقت ان کی میرٹ اور سینیرٹی کو نظر انداز کیا تھا۔ اس سال ستمبر میں سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو ان کی امیدواری پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایت دی تھی۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان5 days ago‘اسلام آباد ایم او یو’ پر جے رام رمیش کا مرکز پر حملہ، کہا- مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو بڑا جھٹکا
دنیا1 week ago‘ٹرمپ کامعاہدہ ہمیں پابند نہیں کرتا’، اسرائیلی وزیر ایران امریکہ معاہدے پر سیخ پا
جموں و کشمیر1 week agoگاندربل ‘انکاؤنٹر’ کے مقتول کی لاش قبر سے نکال کر اہلِ خانہ کے حوالے
دنیا1 week agoعین وقت پر امریکہ ایران امن معاہدے میں تاخیر اسرائیلی حملے کے سبب
دنیا1 week agoتاریخی ڈیل مکمل، امریکہ اور ایران نے جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کردی
ہندوستان1 week agoسلوواکیہ میں مودی کا ہوا شاندار استقبال
دنیا6 days agoایرانی آرمی چیف کا دفاعی طاقت مزید بڑھانے کا اعلان
تجزیہ1 week agoسبز توانائی اور موسمیاتی بحران
دنیا6 days agoجی سیون ممالک کا امریکہ اور ایران امن معاہدے کی حمایت کا اعلان
ہندوستان6 days ago’جمہوریت کو نقصان پہنچانے کے لیے شاہ چلا رہے ہیں دھوکہ دہی پرمبنی مہم ‘: رمیش
دنیا1 week agoامریکہ ایران معاہدے پر الیکٹرانک دستخط ٹرمپ وینس نے کئے
ہندوستان6 days ago‘ٹیلی گرام بین’ پر راہل کا مرکزی حکومت پر الزام، ”پیپر لیک مافیا پر نہیں، طالب علموں کے خلاف کارروائی کر رہی ہے حکومت“




































































































