ہندوستان
دہلی پولیس آپ کے اراکین اسمبلی اور کارکنوں کو حراست میں لے رہی ہے: کیجریوال

نئی دہلی، عام آدمی پارٹی (آپ) کے سربراہ اور دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال سمیت دیگر رہنماؤں نے جمعہ کو الزام لگایا کہ چنڈی گڑھ کے میئر کے انتخابات میں دھاندلی کی وجہ سے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے خلاف احتجاج سے پہلے دہلی پولیس اس کے اراکین اسمبلی ، کونسلروں اور پارٹی کارکنوں کو حراست میں لے رہی ہے مسٹر کیجریوال نے سوشل میڈیا ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا “آپ کے منتخب ارکین اسمبلی ، کونسلروں اور کارکنوں کو پوری دہلی میں حراست میں لیا جا رہا ہے، جو پارٹی دفتر آ رہے تھے۔ یہ کیا ہو رہا ہے۔”
بی جے پی پر جمہوری اختلاف کو دبانے کا الزام لگاتے ہوئے آپ کے لیڈر سوربھ بھاردواج نے سوال کیا کہ کیا اب ملک میں ایمرجنسی ہے اور ہم پرامن احتجاج بھی نہیں کر سکتے؟
اس دوران آپ کی لیڈرآتشی مارلینا نے دعویٰ کیا کہ دہلی بھر میں بھاری رکاوٹیں لگائی گئی ہیں اور آپ کے کارکنوں کو حراست میں لیا جا رہا ہے۔
محترمہ آتشی نے ٹویٹر پر اپنی پوسٹ میں کہا “پوری دہلی میں بھاری رکاوٹیں ہیں۔ آپ کے کارکنوں سے لدی بسوں کو روکا جا رہا ہے۔ اے اے پی پارٹی کے دفتر کے باہر سینکڑوں نیم فوجی دستے موجود ہیں۔ چنڈی گڑھ کے میئر کے انتخاب پر احتجاج سے بی جے پی اتنا خوفزدہ کیوں ہے؟
آپ کے ذرائع نے بتایا ہے کہ ان کی پارٹی آج دہلی میں بی جے پی ہیڈکوارٹر کے باہر چنڈی گڑھ کے میئر کے انتخابات میں دھاندلی کے خلاف احتجاج کرے گی۔ دہلی کے وزیر اعلی کیجریوال اور پنجاب کے وزیر اعلی بھگونت مان بی جے پی کے خلاف پارٹی کے احتجاج کی قیادت کریں گے۔
یو این آئی ۔ ع خ
ہندوستان
موہن یادو پر لگے گھوٹالوں کے الزامات پر بی جے پی کی خاموشی تشویشناک: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ موہن یادو پر لگے زمین گھوٹالے کے الزامات کو انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس سلسلے میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) خاموش ہے اور اس معاملے کے سامنے آنے کے کئی دن بعد بھی پارٹی کی اعلیٰ قیادت اس پر کوئی ردعمل نہیں دے رہی ہےکانگریس لیڈر اور مدھیہ پردیش کے سابق ایم ایل اے پروین پاٹھک نے جمعرات کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ وزیر اعلیٰ موہن یادو پر زمین گھوٹالے کے سنگین الزامات لگے ہیں، لیکن 10 دن گزر جانے کے بعد بھی بی جے پی قیادت نے اس پر کوئی ردعمل نہیں دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس مدھیہ پردیش کو کبھی خوشحال اور قابل فخر ریاست سمجھا جاتا تھا، اسے بی جے پی کے دو دہائیوں کے دور حکومت میں بدعنوانی اور گھوٹالوں نے داغدار کر دیا ہے۔ مسٹر پاٹھک نے الزام لگایا کہ مدھیہ پردیش نہ صرف راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی ورکشاپ ہے بلکہ بدعنوانی کی بھی ورکشاپ بن گیا ہے۔ انہوں نے ویاپم گھوٹالے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کا خمیازہ ریاست کے نوجوانوں نے بھگتا اور ایک پوری نسل اس سے متاثر ہوئی۔
کانگریس لیڈر نے رام مندر کے چندے میں چوری کے معاملے پر بھی بی جے پی کو نشانہ بنایا اور کہا کہ جو لوگ رام راجیہ کی بات کرتے تھے، وہ اب چندے میں مبینہ بے ضابطگیوں پر خاموش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی ملک کے ساتھ کیئے گئے اپنے وعدوں پر پوری نہیں اتری ہے اور وزیر اعظم نریندر مودی ہر کامیابی کا سہرا خود لیتے ہیں، لیکن ایسے معاملات میں خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی مسلسل نوجوانوں، روزگار اور بدعنوانی جیسے مسائل اٹھاتے رہے ہیں اور وقت بہ وقت ان کے اٹھائے گئے مسائل کی تصدیق بھی ہوتی رہی ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
کھرگے نے شمال مشرق میں تباہ کن سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ کی صورتحال پر دکھ کا اظہار کیا
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے اروناچل پردیش، آسام، میگھالیہ اور سکم میں آنے والے تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی صورتحال پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق ہونے والوں کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا ہے انہوں نے قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) حکومت پر سیلاب جیسی قدرتی آفت سے لوگوں کے تحفظ کے لیے اپنے وعدے پورے نہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے جمعرات کو کہا کہ حکومت کو متاثرہ خاندانوں کی مدد کے لیے پی ایم کیئرز فنڈ کا استعمال کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس آفت میں کئی لوگوں کی جانیں گئی ہیں اور ہزاروں خاندان بے گھر ہو کر شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کی پارٹی اس المیہ سے متاثرہ ہر شخص کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے۔
مسٹر کھرگے نے سوشل میڈیا ایکس پر لکھا کہ شمال مشرقی ریاستوں کو سیلاب سے پاک بنانے کے سلسلے میں این ڈی اے کی ‘ڈبل انجن’ حکومتوں کی جانب سے کیے گئے وعدے پورے نہیں ہوئے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سیلاب ہر سال کا مسئلہ بن گیا ہے لیکن اس سے نمٹنے کے لیے مناسب تیاری اور طویل مدتی اقدامات نہیں کیے گئے۔
انہوں نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ پی ایم کیئرز فنڈ کا فوری استعمال کر کے متاثرہ خاندانوں کو مناسب معاوضہ، جامع بازآبادکاری اور مسلسل ریلیف فراہم کرے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس آفت کو محض ایک عام امدادی مہم کے طور پر نہیں لے سکتی۔ کانگریس صدر نے امدادی اور بچاؤ کام میں مصروف مسلح افواج، نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (این ڈی آر ایف) اور اسٹیٹ ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (ایس ڈی آر ایف) کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انسانی بحران کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے اضافی اہلکاروں، وسائل اور مالی امداد کا فوری انتظام کیا جانا چاہیے تاکہ بچاؤ مہم تیز ہو، تباہ شدہ بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو ہو سکے اور کوئی بھی متاثرہ خاندان امداد سے محروم نہ رہے۔
انہوں نے کانگریس لیڈروں اور کارکنوں سے بھی سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی اور بچاؤ کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی اپیل کی ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
ہندوستان اور پاکستان کے کئی سرکردہ شخصیات کی مودی اور شریف سے بات چیت اور سفارتی تعلقات بحال کرنے کی اپیل
نئی دہلی، ہندوستان اور پاکستان کے کئی سرکردہ شخصیات کے ایک گروپ نے وزیر اعظم نریندر مودی اور پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف سے “جنوبی ایشیا میں امن، معمول کے حالات، بات چیت اور تعاون بحال کرنے کی سمت میں معنی خیز اقدامات کرنے کی اپیل کی ہے۔
دونوں ممالک کے 117 لوگوں کے دستخط والے اس مشترکہ خط میں سفارتی تعلقات بحال کرنے، منظم بات چیت، اعتماد کو مضبوط کرنے والے مسلسل اقدامات کرنے اور دونوں ممالک کے درمیان عداوت کم کرنے اور امن کو فروغ دینے کے لیے عوام کے درمیان رابطے بڑھانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس خط پر ہندوستان کے 61 اور پاکستان کے 56 لوگوں نے دستخط کیے ہیں۔ خط میں دونوں حکومتوں سے معمول کے حالات بحال کرنے کی سمت میں معنی خیز اقدامات کرنے کا اصرار کیا گیا ہے جس میں سفارتی تعلقات کی مکمل بحالی، دارالحکومت دہلی اور اسلام آباد میں ہائی کمشنروں کی دوبارہ تقرری اور دونوں ممالک کے شہریوں کے لیے باقاعدہ ویزا خدمات پھر سے شروع کرنا شامل ہے۔ انہوں نے جموں و کشمیر سمیت تمام زیر التوا مسائل پر جامع دوطرفہ بات چیت پھر سے شروع کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے اور 2004-2007 کے بات چیت کے فریم ورک پر پھر سے غور کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
خط میں کشیدگی کم کرنے، فوجی تعیناتی گھٹانے اور مسلسل بات چیت کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے، ساتھ ہی دونوں فریقوں کے “جائز سکیورٹی خدشات” کو بھی ذہن میں رکھنے کی بات کہی گئی ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ طویل عرصے سے چلے آ رہے تناؤ کی وجہ سے لاکھوں لوگ بالخصوص نوجوان ترقی، خوشحالی اور محفوظ مستقبل کے مواقع سے محروم ہو رہے ہیں۔
اس میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان مل کر دنیا کی آبادی کا تقریباً پانچواں حصہ ہیں، اور یہاں کے لوگوں کا مستقبل بداعتمادی اور تصادم کے بجائے امن، کنیکٹیویٹی اور تعاون سے طے ہونا چاہیے۔ انہوں نے تجارت اور سفر کے لیے اٹاری-واگھہ سرحد پھر سے کھولنے، سرینگر-مظفرآباد بس سروس بحال کرنے اور سفر کا وقت اور خرچ کم کرنے کے لیے تجارتی پروازوں کے واسطے فضائی حدود کھول کر فضائی رابطے بڑھانے کا اصرار کیا ہے۔ انہوں نے کرتارپور صاحب راہداری کو پھر سے شروع کرنے اور پاکستان کی نیلم وادی میں شاردا پیٹھ تک رسائی آسان بنانے کے ساتھ ساتھ سرحد کے دونوں طرف مذہبی اور ثقافتی ورثے کے مقامات تک وسیع رسائی کی بھی اپیل کی ہے۔
خط پر دستخط کرنے والے ہندوستانیوں میں نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ، پی ڈی پی صدر محترمہ محبوبہ مفتی، راجیہ سبھا ایم پی منوج جھا، کانگریس کے منی شنکر ائیر اور را کے سابق چیف اے ایس دلت شامل ہیں۔ پاکستان کی طرف سے دستخط کرنے والوں میں سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری، سفارت کار اشرف جہانگیر قاضی، نیشنل اسمبلی کے رکن اسفندیار بھنڈارا اور سائنسدان پرویز ہودبھائی شامل ہیں۔ ‘سینٹر فار پیس اینڈ پروگریس’ کی جانب سے یہ پہل ایسے وقت میں ہوئی ہے جب سرحد پار دہشت گردی اور پہلگام حملے جیسے حالیہ واقعات کی وجہ سے تناؤ بنا ہوا ہے۔ سندھ طاس معاہدے کو ملتوی کرنے کے ہندوستان کے فیصلے کے بعد پہلے سے ہی کشیدہ تعلقات مزید بگڑ گئے۔
اسلام آباد میں انٹرنیشنل انڈس واٹرز ٹریٹی کانفرنس میں اظہارخیال کرتے ہوئے، پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مبینہ طور پر ہندوستان کو “1960 کے معاہدے کو کمزور کرنے کی کوششوں” کے خلاف وارننگ دی ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ مشترکہ دریاؤں کا استعمال کبھی بھی “ہتھیار کے طور پر نہیں کیا جانا چاہیے” اور انتباہ دیا کہ پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ ڈالنے والا کوئی بھی اقدام علاقائی امن کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ ہندوستان کے اس موقف کا ذکر کرتے ہوئے کہ سرحد پار دہشت گردی کے باعث پاکستان سے بات چیت آگے نہیں بڑھ سکتی، حکام نے دہرایا کہ معنی خیز بات چیت تبھی ممکن ہے جب ماحول دہشت گردی سے پاک ہو، پاکستان دہشت گردانہ ڈھانچے کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے اور ہندوستان کے سکیورٹی خدشات کو دور کرنے کے لیے قابل اعتماد یقین دہانی کرائے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہندوستان بات چیت کی حمایت تبھی کرتا ہے جب تحمل برتنے اور دہشت گردی سے پاک ماحول کے واضح ثبوت ہوں، جس سے مستحکم اور معنی خیز تعلقات قائم ہو سکیں۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان1 week agoغلطی سے پاکستان کی فضائی حدود میں گھسا ایئر انڈیا کا طیارہ
ہندوستان3 days agoکھرگے نے راجیہ سبھا رکن کے طور پر پھر سے حلف لیا
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ میں زائرین کی بس کھائی میں جا گری؛ کم از کم 20 عقیدت مند زخمی
دنیا1 week agoہوسکتا ہے کہ میں جلد ہی ایسی خبر دوں کہ ترکیہ خوش ہو جائے:ٹرمپ
دنیا1 week agoایران مذاکرات میں غیر معمولی رعایتیں دینے پر مجبور ہوگیا ہے: ٹرمپ کا دعویٰ
ہندوستان1 week agoمان کی ویڈیو کو چھپانے کی کوشش بے نقاب، اب استعفیٰ ہی واحد متبادل : آر پی سنگھ
جموں و کشمیر6 days ago“لیفٹیننٹ گورنر کی پارلیمانی کمیٹی سے اہم ملاقات؛ لداخ کے ترقیاتی اور ماحولیاتی چیلنجز پر تفصیلی بریفنگ
دنیا1 week agoتہران کی سڑکوں پر رہبر شہید کے جنازے کی تیاری ، بینرز آویزاں
دنیا1 week agoامن کے فروغ کیلئے پاکستان کی کوششیں تہذیبی و ثقافتی روایات کی عکاس ہیں: ایرانی صدر
دنیا3 days agoمجتبیٰ خامنہ ای کا امریکہ اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کی قانونی کارروائی کا حکم
ہندوستان5 days agoآپریشن سندور میں وزیرِ دفاع کے بیان کے تناظر میں کہی جا رہی باتیں گمراہ کن اور غلط: وزارتِ دفاع
ہندوستان1 week agoاجین زمین گھپلہ میں وائٹ پیپر جاری کرکے معاملہ کی جانچ کرائے حکومت








































































































