تازہ ترین
سلام انسانیت کے محافظو سلام


مصنف:الطاف جمیل ندوی
دنیا میں اب ایک کلچر سا بن گیا ہے کہ کسی کی خدمات کے اعتراف کے بطور ہم اسے یادگار بنانے کے لئے ایک دن مقرر کر جائیں جو کسی خاص شعبہ سے وابستہ محنت و مشقت برداشت کرنے کے لئے انہیں خراج تحسین پیش کرنے کے لئے مخصوص ہو آج کل وبائی آفت کی اس مارا ماری صورت حال جس کے خوف سے کلیجہ منہ کو آتا ہے اس کڑے وقت میں جو طبقہ سب سے آگئے کھڑا ہے آہنی زندگی آرام و سکون کو بلا کر اپنے گھر سے دور اپنے بچوں کی کلکاریاں سننے کو ترسنے کے باوجود اپنے کام میں مگن ہے وہ ہے شعبہ طب سے وابستہ طبی عملہ جو اپنی خدمات کو انجام دیتے ہوئے اپنی زندگیوں سے بھی کچھ اطباء اور نیم طبی عملہ کہی ایک جگہوں پر ہاتھ دھو بیٹھے ہیں آج کے دن کی مناسبت سے ہم نے بھی سوچا چلو انہیں خراج تحسین پیش کیا جائے کیوں کہ آج ڈاکٹروں کا قومی دن منایا جارہا ہے۔ انسانیت کے لئے ڈاکٹروں اور Physicians کی کڑی محنت پر ان کا شکریہ ادا کرنے کے لئے ہر سال پہلی جولائی کو یہ دن منایا جاتا ہے۔ اس سال Doctor’s Day کا موضوع ہے ”کووڈ19سے ہونے والی ہلاکتوں کو کم کرنا“۔
آج جبکہ پوری دنیا کورونا وائرس وبا کے خلاف لڑ رہی ہے‘ ڈاکٹروں کی اہمیت کو پہلے سے کہیں زیادہ تسلیم کیا گیا ہے۔ یہ دن اُن تمام ڈاکٹروں کا شکریہ ادا کرنے کیلئے ہے‘ جو اپنی صحت پر اپنے مریضوں کی صحت کو ترجیح دیتے ہیں اور چوبیس گھنٹے انہیں طبی خدمات فراہم کرتے ہیں۔ ڈاکٹروں کا پہلا قومی دن جولائی 1991 میں منایا گیا تھا۔ بھارت میں یہ دن ڈاکٹر Bidhan Chandra Roy کی سالگرہ کے ساتھ ساتھ برسی کے طور پر منایا جاتا ہے۔ ڈاکٹر Roy بھارت کے مشہور ڈاکٹر اور مغربی بنگال کے سابق وزیراعلیٰ تھے وبا کے چلتے ڈاکٹر صاحبان اور نرسز نے جو ان تھک محنت کی اس کا صلہ ہم انہیں کہاں دے پائیں گئے صلہ رب الکریم کے پاس ہے انکی محنت ان کی کاوشوں کا کسی نے کیا خوب کہا ہے
Some heroes don’t wear caps, we call them doctors
کسی نامعلوم شخص کی طرف سے ڈاکٹرز کی شان میں کہا گیا یہ یک سطری جملہ ایسا ہے جسے ہم سب اپنی زندگیوں میں کبھی نہ کبھی محسوس کرتے ہیں۔ بے شک ڈاکٹرز ہماری زندگی میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انسان کی پیدائش سے لے کر موت تک، دونوں واقعات کی تصدیق یہی کرتے ہیں۔ مرض کیسا ہی خطرناک کیوں نہ ہو، اللہ کے حکم سے یہ ڈاکٹرز ہی ہیں جو علاج کرکے ہمیں شفایاب کرتے ہیں۔ یہ بے غرض لوگ ہیں جو ہم سب کے فائدے کےلیے اس خطرناک وبا کے دنوں میں نہ صرف اپنے آپ کو بلکہ اپنے پیاروں کو بھی خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
دنیا بھر کے مختلف ممالک مختلف تاریخوں میں ڈاکٹرز کا دن مناتے ہیں تاکہ ان فرشتوں کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں خراجِ تحسین پیش کیا جا سکے۔ مگر سال 2020 میں اس وبا کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے اور اس دوران اپنی قیمتی جانوں کے نذرانے پیش کرنے کے بعد یہ مستحق ہیں کہ کسی خاص دن نہیں بلکہ ہمیشہ ان کی خدمات کو تسلیم کیا جائے اور ان کا شکریہ ادا کیا جائے
قومی یومِ اطباء
اگر چہ ہمارے ہاں ان Anniversaries کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور ہو بھی کیونکر جب کہ ہم ایک ایسی امت کے اجزائے تراکیبی ہیں جس کا مقصدِ وجود ہی پوری کائنات کی بھلائی ہو۔ہمیں ایک ایسے بلند و بالا نصب العین سے متصف کیا گیا کہ رہتی دنیا تک ہم ہی مِشعَلِ راہ بننے کے اہل ہیں ہمیں کہا گیا کہ،کنتم خیر امة اخرجت للناس، گویا سارے جہاں کا درد ہمارے سینوں میں بھردیا گیا اور اب ہم ہی ہیں جو اس کا درماں تلاش کریں لیکن اس مطلب یہ نہیں کہ ہم قوم کے ان جانبازوں کو کسی مقام کے قابل نہ سمجھیں مشکل حالات میں اپنی جانوں کو بے خطر آزامئشوں کی بٹھیوں میں یہ جان کر بھی ڈالتے ہیں کہ وہ شاید اپنی عزیز جانوں سے ہی ہاتھ دھو بیٹھے۔ہمیں اپنے آقا صلى الله عليه و سلم نے صاف صاف یہ بات سکھادی کہ اہلِ زمین کے احسانات کبھی فراموش نہ کرنا۔
تو یہی ہے وہ بات جس کی بدولت جب آج اقوامِ غیر اپنے اطباء کو ان کی جانفشانی کے عوض یاد کرتے ہیں تو ہمیں تو بدرجہء اولیٰ یہ فریضہ انجام دینا ہے کہ اپنے ان عظیم لوگوں کو شاباشی دیں ان کی پیٹھ تھپتھپائیں جو آج کے ان ناگفتہ بہ حالات میں اپنی زندگیوں کی پرواہ کئے بغیر انسانیت کو اس عالمی وباء سے بچانے کے لئے دن رات کوشش کرتے ہیں۔
مجھے شدت سے اس بات کا احساس ہے کہ ہم ان کے احسانات کا بدلہ نہیں چکاپائے بلکہ افسوس اس بات کا ہے کہ ہم ان کے ساتھ ناروا سلوک کرتے ہیں کہی بار ہم نے انہیں خون کے آنسو رلایا ہے اور ان کے احسانات کا وہ صلہ دیا کہ یہ ہی نہیں بلکہ ہر صاحب فہم شرم سار ہوگیا اور ہمارے لئے سوہان روح بن گیا کئی بار ان کے بچے آنسو آنکھوں میں سجا کر کہتے ہیں بابا مت جائیں آج پر یہ اپنے فرائض کے تئیں ہلکی سی غفلت کے بھی روادار نہیں ہوتے ہمارے ہاں تو اس کی اور زیادہ افادیت بڑھ جاتی ہے جب یہ ہڑتال ہو کرفیو ہو یا کتنے بھی نامساعد حالات ہوں اپنے گھروں سے نکل جاتے ہیں تو ان کے اہل خانہ انتہائی غم و اندوہ کی حالت میں ان کی واپسی کے لئے پریشان رہتے ہیں آج اس وبائی صورت حال میں ہمارے عزیز محترم جہانگیر احمد ندوی حفظہ اللہ اپنے چھوٹے بھائی کے تجربات بتاتے ہیں جو اپنی آنکھوں دیکھا حال کچھ یوں بیان کرتے ہیں ندوی صاحب کہتے ہیں کہ
مجھے اپنے چھوٹے برادر کے توسط سے یہ تکلیف دہ معلومات حاصل ہوئی کہ Isolation Wards میں تعینات طبی و نیم طبی عملہ اپنی پہچان اس خوف سے مخفی رکھتے ہیں کہ کہیں ان کے عزیز و اقارب کے ساتھ لوگ ناروا سلوک نہ کریں بہت افسوس ہوا یہ سن کر کہ ہم کس قدر گرچکے ہیں کہ اپنے محسنوں کو احسان کے بدلہ اپنی شناخت چھپانی پڑھ رہی ہے کیسی عبرت ناک صورت حال ہے کہ ہم اپنے ہی محسنون کے تئیں بجائے ان کی دلیری و جرآت کا اعتراف کرتے ان سے کچھ ایسا وطیرہ اختیار کرتے ہیں کہ وہ ہم سے خوف محسوس کرتے ہیں اس وبا کے چلتے تو ہمیں ان کا ممنون ہونا چاہئے تھا پر ہم واقف ہیں کہ کہی ایک مقامات پر ڈاکٹر حضرات کو گالی گلوچ سے بھگایا گیا اور ان کی تذلیل کی گی
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے لئے آہنی کلیجہ بنانے والے ان اطباء حضرات اور نیم طبی عملہ کو اس نازک مرحلہ پر ساتھ دیں ان کی ہمت باندھیں ان کی کمر تھپتھپائیں اور انہیں سلامِ عزیمت و عقیدت پیش کریں تاکہ فہ فخر کے ساتھ سر اُٹھاکر انسانیت کو اس وبا سے باہر نکالنے کے لئے کام کرسکیں اور انہیں فخر محسوس ہو کہ ہم واقعی قوم کی امیدوں پر کھرےاترے ہیں چین جہاں اس وبا کی ابتداء ہوئی ایسی بھی تصاویر سامنے آئیں کہ ڈاکٹر لوگ جب اپنے گھروں کو روانہ ہوئے تو انہیں ملائیں پہنائیں گئی مختلف ممالک میں ان کے جرآت مندانہ اقدامات کے اعتراف کرتے ہوئے ان کی عزت افزائی کے لئے مختلف طریقوں سے انہیں احساس دلایا گیا کہ واقعی آپ سب قوم کے سب سے پیارے ہو
یہاں لوگ صرف غیض و غضب کرنا اچھا سمجھتے ہیں مانا کہ اس شعبہ سے وابستہ عملہ جو ہے ان میں بھی ہزاروں خامیاں ہیں پر یہ کیا کم ہے کہ اپنی زندگی اپنی خوشیاں اپنے گھریلو معاملات کو بلا کر یہ آج کھڑے ہیں یہ آج پوری جرآت سے اس مصیبت میں کام کر رہے ہیں ہمیں شکایت ہوسکتی ہے ان خونی بھیڑیون سے جو اس عظیم شعبہ سے وابستہ ہوکر اپنی دنیا بنانے میں مگن ہیں پر ہم نے بھی دیکھا ہوگا کہ کچھ اطباء حضرات ایسے بھی ہیں جنہیں دیکھ کر یا جن کو سن کر ہی سکون سا آتا ہے کہ یہ ضروری میرے مرض کا علاج کرے گا جنہوں نے کٹھن اور صبر آزما حالات میں بھی اپنے کام کے تئیں غفلت نہیں کی ہم نے دیکھا کہ ان کی آنکھیں بھی اپنے بیمار کی موت پر بھیگ جاتی ہیں جب یہ علاج و معالجہ کے سلسلے میں انتھک محنت کرکے کہتے ہیں NO MORE تو یقین کریں سب سے زیادہ دکھ انہیں کو ہوتا ہے کیونکہ یہ زندگی کے آخری مرحلہ پر اس بیمار کو بچانے کے لئے اپنی پوری قوت صرف کردیتے ہیں اور اس کے کرب کو انہیں لمحات میں جان کر اپنی مقدور بھر کوشش کرنے کے باجود بھی جب بیمار زندگی کی جنگ ہار جاتا ہے تب ان کی بے بسی ان کی بے کسی قابل دید ہوتی ہے اور NO MORE کہنا ان کے لئے سب سے زیادہ اذیت ناک ہوتا ہے اور سر جھکا کر سامنے سے گزر جاتے ہیں جیسے سب سے بڑے گناہگار یہی ہوں
چلئے ہم ان کی خدمات کا اعتراف کرنے کے لئے انہیں ایک بار دل سے سلام کہتے ہیں ان کے ہاتھ چوم لیتے ہیں کہ آئے مسیحا جا اللہ تیری دنیا و آخرت تیرے لیے وجہ تسکین قلب و جگر بنا دے
سلام اے انسانیت کے محافظو سلام
آج میری طرف سے اپنے ان محسنوں کے نام
آج دل میں اک ہوک سی اٹھی یہ سوچ کر سوچا
کہ ارے کون لوگ ہیں یہ اتنی بڑی بڑی ڈگریاں لے کر
بھی اسپتال میں بیمار کو سہارا دیتے ہیں
کیا یہ بہت غریب ہیں کہ انہیں جیب خرچ بھی نہیں
کیا انہیں کھانے کو بھی کچھ ملتا نہیں
کیسے لوگ ہیں یہ دو پیسوں کے لئے موت سے آنکھیں ملا رہے ہیں انہیں کیا ڈر نہیں لگتا کیا انہیں اپنوں کی یاد نہیں آتی ان کے بچے نہیں ہیں کیا کیا ان کا دل نہیں ہے جو بچنے کی خواہش نہیں مچلتی
یہ اپیلیں کر کیوں رہے ہیں خود گھروں میں کیوں نہیں رہتے یہ کیا بات ہوئی خود اسپتال میں پیسہ کما کر ہمیں گھر رہنے کا کہہ رہے ہیں یہ کیا بات ہوئی اسپتال میں ہزاروں لوگوں کے ساتھ دعوتیں اڑا رہے ہیں
تو یاد آیا
اصل میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے تو
یہ ہمارے اصلی ہیرو ہیں
یہ ہمارے اصلی جانباز ہیں
یہ ہمارے اصلی خیر خواہ ہیں
ان کے دل میں پر صرف اپنوں کے لئے نہیں دڑھکتے
بلکہ انسانیت کے لئے
ان کے ارمان بھی مچلتے ہیں جینے کے پر یہ اپنے ارمان دفن کردیتے ہیں
یہ ذرق برق لباس کا شوق تو رکھتے ہیں پر بیمار کے لئے ہلکا پھلکا ہی ہیں لیتے ہیں
انہیں بھوک لگتی ہے پر مریض کو دیکھ کے ہی مر جاتی ہے
یار
دل کرتا ہے آج تک سیلوٹ کرنا نہیں سیکھا
پر دل سے انکو سیلوٹ کرنے کو جی چاہتا ہے
کیوں کہ اب انہوں نے دل میں جگہ بنا لی ہے
تم جیو اس مشکل وقت میں
پوری قوم تمہارے لئے دعا گو ہے
تم جیت جاؤ یہ بازی
ہزاروں نگاہیں منتظر تک رہی ہیں
سلام تمہاری ہمت و شجاعت کو یہ دل تم پر قربان ہوئے جارہا ہے آئے ملت کے خیر خواہو تم سلامت رہو
اب میرے
دوستو پلیز
سب کے سب
انہیں ایک سیلوٹ دل سے ہی کردو
کومنٹ میں کسی ساتھی ڈاکٹر کو ایڈ کرکے
دل سے سلام و سیلوٹ کرے
(بشکریہ الطاف جمیل ندوی )
جموں و کشمیر
عمر نے ریاست کا درجہ بحال کرنے کے حوالے سے احتجاجی مظاہرے کے لئے انڈیا اتحاد سے حمایت طلب کی
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ نے قومی دارالحکومت میں اپوزیشن جماعتوں کے ‘انڈیا’ اتحاد کے رہنماؤں سے ملاقات کرکے ریاست کا درجہ بحال کرنے کے حوالے سے احتجاجی مظاہرے کے لیے حمایت طلب کی ہے۔
مسٹر عبداللہ نے پیر کے روز نئی دہلی میں منعقدہ انڈیا اتحاد کی میٹنگ میں یہ معاملہ اٹھایا اور اتحاد کے شراکت داروں سے قومی دارالحکومت میں ہونے والے پارٹی کے مجوزہ احتجاج میں شریک ہونے کی درخواست کی۔ انڈیا اتحاد کی اس میٹنگ میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی سربراہ محبوبہ مفتی نے بھی شرکت کی۔
نیشنل کانفرنس نے یہاں ایک بیان میں کہا، ’’آج ہونے والی انڈیا اتحاد کی میٹنگ میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے تمام شرکاء سے کہا کہ جب ہم ریاستی درجہ کی بحالی کے لیے دہلی میں احتجاج کرنے آئیں گے تو وہ جموں کسمیر نیشنل کانفرنس کے ساتھ جڑیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اس سلسلے میں تمام رہنماؤں کو الگ الگ خطوط بھی ارسال کریں گے۔‘‘
یواین آئی۔الف الف
دنیا
اختلافات کے برعکس ترک-ہند تعلقات اچھے ہونے چاہیئے:فیدان
انقرہ، ترک وزیر خارجہ خاقان فیدان نے ترکیہ اور ہندوستان کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے پر زور دیا ہے اور یہ دلیل دی ہے کہ پاکستان کے ساتھ انقرہ کے قریبی تعلقات کی وجہ سے پیدا ہونے والے اختلافات کو ان دونوں علاقائی طاقتوں کے درمیان تعاون کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔
پچھلے ہفتے سنگاپور میں چھٹے ‘آئی آئی ایس ایس رافلز م لیکچر سے خطاب کرتے ہوئے فیدان نے کہا کہ ترکیہ اور ہندوستان کے درمیان کوئی بڑے دوطرفہ تنازعات نہیں ہیں اور دونوں کے پاس مثبت تعلقات برقرار رکھنے کی مضبوط وجوہات موجود ہیں۔
لیکچر کے بعد سوال و جواب کے ایک سیشن میں فیدان نے کہا کہ ہم واقعی ہندوستان کے ساتھ بہترین تعلقات قائم کرنا چاہتے ہیں۔ ہندوستان کے ساتھ ہماری کوئی سرحد نہیں ہے اور نہ ہی ہندوستان کے ساتھ ہمارا کوئی حل طلب دوطرفہ مسئلہ ہے۔
” انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ترکیہ اور ہندوستان کی کوئی آپسی جنگی تاریخ نہیں ہے بلکہ اس کے بجائے ان کے پاس اچھے تعلقات رکھنے کی ہر بہترین وجہ موجود ہے۔
ترک وزیر خارجہ نے پاکستان کے ساتھ انقرہ کے دیرینہ تعلقات کا دفاع کیا اور انہیں تاریخی یکجہتی پر مبنی قرار دیا، جبکہ اس بات پر زور دیا کہ ان تعلقات کو نئی دہلی کے ساتھ تعاون میں رکاوٹ کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
فیدان نے کہا کہ ترکیہ واحد ملک نہیں ہے جس کے پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اور بعض مخصوص مسائل پر پاکستان کے ساتھ تاریخی یکجہتی موجود ہے۔
واضح رہے کہ تعلقات میں یہ مشکل موڑ مئی 2025 میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان چار روزہ جنگ کے بعد آیا تھا۔
نئی دہلی نے اس بحران کے دوران ہندوستانی حملوں کی ترک مذمت اور پاکستان کے لیے حمایت کے اظہار پر اعتراض اٹھایا تھا۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ ترکیہ ان پہلے ممالک میں شامل تھا جس نے 22 اپریل 2025 کو ہندوستان کے کشمیر کے علاقے پہلگام میں شہریوں پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے کی مذمت کی تھی جس کے بعد یہ جنگ شروع ہوئی تھی۔
ترک وزارت خارجہ نے اسی دن ایک بیان جاری کرتے ہوئے اسے ایک “گھناؤنا حملہ” قرار دیا تھا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران نے اسرائیل پر حملے روکنے کا اعلان کردیا
تہران، ایرانی خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر نے اسرائیل کے خلاف مسلح افواج کی کارروائیاں روکنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ لبنان کے مظلوم عوام کی حمایت میں صہیونی حکومت کو دردناک جواب دے دیا گیا ہے۔
خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ایرانی مسلح افواج نے جنوبی لبنان اور بیروت کے جنوبی علاقے الضاحیہ پر اسرائیلی حملوں اور مبینہ جارحیت کا جواب دے دیا ہے، جس کے بعد فوجی کارروائیاں روک دی گئی ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل اور اس کے حامیوں کو اس جواب سے سبق سیکھنا چاہیے، تاہم اگر جارحیت اور اشتعال انگیز کارروائیاں جاری رہیں تو پہلے سے زیادہ شدید اور تباہ کن اقدامات کیے جائیں گے۔
اس سے قبل پاسداران انقلاب نے گزشتہ روز شمالی اسرائیل میں واقع اسرائیلی ایئر بیس پر بیلسٹک میزائل حملوں کی ذمہ داری قبول کی گئی تھی۔
ایرانی پاسداران انقلاب گارڈز کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی نیوتم ایئر بیس، تل انوف پر حملے کیے ہیں، اسرائیلی ایئر بیس پر حملے ایران میں ریڈار مقامات کو نشانہ بنانے کے جواب میں کیے گئے، کسی بھی صورتِ حال اور تمام محاذوں پر وسیع آپریشنز کے لیے تیار ہیں۔
خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹرز کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے کہا کہ ایرانی مسلح افواج نے مقبوضہ علاقوں میں اہم اور حساس اہداف کے خلاف کامیاب کارروائیاں کیں، جن کے نتیجے میں دشمن کو بھاری اور مہنگا نقصان اٹھانا پڑا۔
انہوں نے امریکہ اور اسرائیل کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور خطے کی مزاحمتی قوتیں کسی بھی دباؤ یا دھمکی کے سامنے سر نہیں جھکائیں گی، اور اگر جارحیت جاری رہی تو اس کا زیادہ سخت جواب دیا جائے گا۔
ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ 8 اپریل کو ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان نافذ ہونے والی جنگ بندی تمام محاذوں پر جنگ بندی سے مشروط تھی، جبکہ اسرائیل پر لبنان میں کارروائیاں جاری ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا1 week agoایران نے صدر پزشکیان کے استعفی کی خبروں کی تردید کی
جموں و کشمیر5 days agoسری نگر: نیشنل کانفرنس اور حمایتی آزاد ارکانِ اسمبلی کا سرپرازنگ اجلاس، اہم فیصلے متوقع
ہندوستان5 days agoمودی حکومت میں تعلیمی نظام ہوا تباہ، آکانکشا کی موت اسی ناکامی کا نتیجہ: راہل گاندھی
کھیل6 days agoعاقب نبی اور ذیشان انصاری سمیت چھ کھلاڑی بطور نیٹ بولرز ہندوستانی ٹیم میں شامل
دنیا4 days agoایرانی سپریم لیڈر سے ملاقات باعث اعزاز ہوگی: صدر ٹرمپ
دنیا6 days agoجنگ بندی کے دوران ایرانی فوجی صلاحیتوں میں اضافہ ہوا: پاسدارانِ انقلاب
دنیا6 days agoلبنان پر حملے بند نہ ہوئے تو سنگین نتائج ہوں گے: ابراہیم عزیزی
دنیا3 days agoایران کے پاس 21 سے 22فیصد میزائل باقی ہیں، معاہدے کے سوا اس کے پاس کوئی راستہ نہیں: ٹرمپ
جموں و کشمیر2 days agoجموں و کشمیر میں منشیات کی تجارت کی ہر کڑی توڑ رہے ہیں: لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا
دنیا1 week agoہرمزگان کمیونیکیشن ٹاور پر حملے کے بعد ایران کے کویت میں امریکی فوجی اڈے پر حملے میں 7 افراد زخمی
دنیا5 days agoامریکہ اب ایران کے خلاف دوبارہ جنگ نہیں کرےگا: ٹرمپ نے مشیروں کو آگاہ کردیا
دنیا6 days agoامریکی سفارت کاری نہیں، میزائلوں کی زبان سمجھتے ہیں: ایران







































































































