جموں و کشمیر
سیاست دان کشمیری زبان کے سب سے بڑے دشمن بن چکے ہیں: ساگر کلچرل فورم

سری نگر جموں و کشمیر اسمبلی کے جاری سیشن کے دوران اُس وقت تنازعہ کھڑا ہوگیا جب اسپیکر عبدالرحیم راتھر نے عیدگاہ سے ممبر اسمبلی مبارک گل کو کشمیری زبان میں بات کرنے سے روک دیا۔ اس فیصلے پر ریاست کی معروف ادبی و ثقافتی تنظیم ساگر کلچرل فورم کشمیر نے شدید افسوس اور ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔
تنظیم کے سرپرست اور معروف کشمیری شاعر ساگر نظیر نے اپنے ردعمل میں کہا کہ ووٹ مانگتے وقت یہی سیاسی لیڈران کشمیری زبان میں بات کرتے ہیں، کشمیری گیت گاتے ہیں اور عوام کو اپنی جانب مائل کرتے ہیں، لیکن اقتدار میں آنے کے بعد وہ انگریز بننے کی کوشش کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسپیکر کی جانب سے کشمیری زبان پر ایسی پابندی کشمیری شناخت کے منہ پر طمانچہ ہے۔ ’یہ وہی کشمیری زبان ہے جو ہماری ثقافت، تہذیب اور پہچان کی بنیاد ہے۔ اس کی توہین کسی بھی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔‘
تنظیم کے دیگر اراکین اور عہدیداران نے بھی اسپیکر کے رویے کو غیر ضروری اور افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسمبلی میں بیٹھے ممبران کو یاد رکھنا چاہیے کہ کشمیر کی 90 فیصد آبادی کشمیری زبان بولتی ہے۔ یہی عوام انتخابات کے دوران انہی لیڈروں کے حق میں کشمیری زبان میں نعرے بلند کرتے ہیں اور ان کے مشن کو کامیاب بناتے ہیں۔
ساگر کلچرل فورم نے مطالبہ کیا کہ کشمیری زبان کی ترویج و تحفظ کو ہر سیاسی جماعت کے منشور کا حصہ بنایا جائے تاکہ اس زبان کو درپیش چیلنجوں کا ازالہ ممکن ہو سکے۔
تنظیم نے اسپیکر عبدالرحیم راتھر سے اس فیصلے پر وضاحت مانگی ہے اور کہا ہے کہ اگر عوامی نمائندے ہی اپنی زبان سے دوری اختیار کریں گے تو یہ خطہ ثقافتی طور پر مزید زوال پذیر ہوجائے گا۔
یو این آئی۔ ارشید بٹ
جموں و کشمیر
سوپور میں طلبہ احتجاج کے پرتشدد ہونے پر پولیس نے چھ افراد کے خلاف پی ایس اے کے تحت کارروائی کی
سری نگر، جموں و کشمیر کے سوپور سب ضلع میں حالیہ طلبہ احتجاج کے دوران مبینہ طور پر امن و امان میں خلل ڈالنے اور توڑ پھوڑ میں ملوث ہونے کے الزام میں پولیس نے جمعہ کو چھ افراد کے خلاف سخت پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) کے تحت مقدمہ درج کیا۔
پی ایس اے کے تحت بعض معاملات میں بغیر باضابطہ الزام یا مقدمہ کے دو سال تک حراست میں رکھا جا سکتا ہے۔
پولیس کے مطابق جن افراد کے خلاف پی ایس اے کے تحت کارروائی کی گئی ان میں سیلو کے عمر اکبر حاجم، شالپورہ کے سلمان احمد شالا، پنزی پورہ ترزو کے الطاف احمد شیخ، نصیر آباد کے مبشر احمد گلکار، آرام پورہ کے مزمل مشتاق چنگا اور چنکی پورہ کے مجید فردوس ڈار شامل ہیں۔ ان تمام افراد کو جموں خطے کی ضلع جیل بھدرواہ میں رکھا گیا ہے۔
ان افراد کو بارہمولہ کے ضلع مجسٹریٹ سے باضابطہ حراستی وارنٹ حاصل کرنے کے بعد پی ایس اے کے تحت گرفتار کیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ یہ افراد حالیہ طلبہ احتجاج کے دوران بدامنی پھیلانے، توڑ پھوڑ کرنے اور امن خراب کرنے کی کوششوں میں سرگرم تھے۔ پولیس کے مطابق “ان کی سرگرمیاں عوامی نظم و نسق اور سلامتی کے لیے سنگین خطرہ تھیں”۔ مزید یہ کہ اس واقعے میں ملوث دیگر افراد کی بھی نشاندہی کی جا رہی ہے اور ان کے خلاف بھی اسی طرح کی قانونی کارروائی، بشمول پی ایس اے کے تحت حراست، عمل میں لائی جا رہی ہے۔
گزشتہ ہفتے سوپور میں ایک خاتون طالبہ کی جانب سے ایک سینئر لیکچرر پر ہراسانی کے الزامات کے بعد شدید طلبہ احتجاج ہوا تھا۔ جموں و کشمیر حکومت نے اس سینئر لیکچرر کو معطل کر دیا تھا۔ بعد ازاں پولیس نے احتجاج کے دوران توڑ پھوڑ میں ملوث کئی افراد کو گرفتار بھی کیا۔
سوپور پولیس نے واضح کیا کہ ضلع میں امن و استحکام کو متاثر کرنے والی کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کے لیے زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی جائے گی۔ پولیس نے سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ حساس حالات کا فائدہ اٹھانے یا عوامی نظم و نسق میں خلل ڈالنے کی کسی بھی کوشش پر فوری اور سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
عوام، خاص طور پر نوجوانوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ایسی غیر قانونی سرگرمیوں سے دور رہیں اور شرپسند عناصر کے بہکاوے میں نہ آئیں۔ والدین اور سماجی رہنماؤں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ نوجوانوں کی رہنمائی کریں اور انہیں مثبت سرگرمیوں میں مصروف رکھیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
نشہ مکت مہم: 12 دنوں میں کئی منشیات اسمگلر گرفتار، کروڑوں مالیت کی منشیات ضبط: جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا
جموں، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعہ کو کہا کہ “نشہ مکت ابھیان” کے تحت نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور صرف 12 دنوں میں کئی گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں جبکہ کروڑوں روپے مالیت کی منشیات ضبط کی گئی ہیں۔
ریاسی ضلع میں “ڈرگ فری جموں و کشمیر مہم” کا آغاز کرنے کے بعد ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے منشیات کے استعمال کے خلاف اجتماعی سماجی ردعمل کی اپیل کی اور خبردار کیا کہ یہ لعنت معاشرے کی بنیادوں کو اندر سے کھوکھلا کر رہی ہے۔
انہوں نے کمیونٹیز، اداروں اور افراد سے اپیل کی کہ وہ منشیات کے خلاف اس جنگ میں متحد ہوں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 12 دنوں سے پورے مرکز کے زیر انتظام علاقے میں منشیات کے خلاف ایک اجتماعی تحریک ابھری ہے اور لوگ اس خطے کو منشیات سے پاک بنانے کے عزم پر قائم ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ 11 سے 22 اپریل کے درمیان جموں ڈویژن میں بڑی تعداد میں مقدمات درج کیے گئے اور کئی منشیات اسمگلروں کو گرفتار کیا گیا۔ تقریباً 3 کروڑ روپے مالیت کی منشیات ضبط کی گئی، جبکہ تقریباً 1 کروڑ روپے کی منقولہ و غیر منقولہ جائیدادیں بھی ضبط کی گئیں۔
کارروائیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ منشیات اسمگلروں کی جائیدادیں مسمار کی گئی ہیں، 187 ڈرائیونگ لائسنس اور چار گاڑیوں کی رجسٹریشن منسوخ کی گئی ہیں، جبکہ 48 منشیات فروشوں کے خلاف مالی تحقیقات شروع کی گئی ہیں۔
کیمسٹ دکانوں کا معائنہ کیا گیا اور 15 لائسنس منسوخ کیے گئے۔ منشیات کے عادی افراد کو بحالی مراکز میں بھیجا گیا اور انہیں مشاورت فراہم کی گئی۔
جاری۔یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشمیر کو ریاست کا درجہ نہ دینا ’سزا‘ کے مترادف: عمر عبداللہ
سری نگر، وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر الزام لگایا کہ وہ جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ دینے میں تاخیر کر رہی ہے اور اسے عوام کے ووٹ دینے کی “سزا” کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
وزیر اعلیٰ کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب اپوزیشن لیڈر سنیل شرما نے عبداللہ حکومت پر “کام نہ کرنے، بدعنوانی اور غلط ترجیحات” کے الزامات عائد کیے تھے۔
اپوزیشن لیڈر نے جمعہ کو کہاکہ “ریاست کا درجہ اپنے وقت پر ملے گا، لیکن اسے کسی ایک لیڈر کے وزیر اعلیٰ بننے سے جوڑ کر نہیں دیکھا جا سکتا۔”
اس کے جواب میں مسٹر عبداللہ نے کہا کہ حال ہی میں راجوری ضلع کے نوشہرہ علاقے میں منعقد ایک بڑے پروگرام سے بی جے پی بے چین ہو گئی ہے اور اب وہ کھل کر یہ تسلیم کر رہی ہے کہ ریاست کا درجہ اس لیے نہیں دیا جا رہا کیونکہ لوگوں نے نیشنل کانفرنس کو ووٹ دیا۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر کہا کہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ عوام کو ان کے ووٹ کے لیے سزا دی جا رہی ہے۔
مسٹر عبداللہ نے اپوزیشن لیڈر پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ان کی غیر موجودگی میں اسمبلی زیادہ پرسکون اور نتیجہ خیز طریقے سے چلی۔
ادھر، نیشنل کانفرنس کے ترجمان اور رکن اسمبلی تنویر صادق نے بھی اپوزیشن لیڈر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے “لاپتہ ہونے کی رپورٹ درج کرانے والے تھے۔”
اپوزیشن لیڈر مسٹر شرما نے الزام لگایا کہ حکومت کے وعدے، جیسے مفت ایل پی جی سلنڈر، 200 یونٹ بجلی اور نوجوانوں کو روزگار، اب تک پورے نہیں ہوئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انتظامیہ کمزور ہو گئی ہے اور وزراء زمینی سطح پر فعال نہیں ہیں۔
مسٹر شرما نے انتظامیہ پر بدعنوانی کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ عام کاموں کے لیے بھی لوگوں کو رشوت دینی پڑ رہی ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر1 week agoجموں کشمیر: کالج پکنک پر جا رہی 20 سالہ لڑکی بس سے گر کر ہلاک
دنیا5 days agoمیناب اسکول کے شہید بچوں کے والدین کا پوپ لیو کو خط
دنیا1 week agoدشمن ایرانی قوم کو جھکانے کی حسرت اپنے ساتھ قبر میں لے جائیں گے: ایرانی آرمی چیف
جموں و کشمیر1 week agoبارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا
جموں و کشمیر1 day agoپہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
دنیا1 week agoٹرمپ کا دماغی توازن ٹھیک نہیں، عہدے کے قابل نہیں رہے:س یاسمین انصاری
دنیا1 week agoضرورت پڑنے پر طاقت کا استعمال کیا جائے گا، پیٹ ہیگسی
دنیا1 week agoاسرائیل پر قدرت کا قہر، شہد کی مکھیوں کے جھنڈ کا حملہ
دنیا4 days agoایرانی یورینیم کی بازیابی طویل اور مشکل ہوگی: ٹرمپ
جموں و کشمیر4 days agoایک سال بعد بھی بائیسرن چراگاہ بدستور بند
دنیا1 week agoکویت ایئرویز کا ڈھاکہ کے لیے پروازیں دوبارہ شروع کرنے کا اعلان
جموں و کشمیر5 days agoجموں و کشمیر: ادھم پور میں سڑک حادثے میں 16 افراد ہلاک، متعدد زخمی







































































































