تازہ ترین
شمسی توانائی میں ہندوستان کی ترقی دنیا کے لیے بحث کا موضوع: مودی

نئی دہلی، 26 مارچ (یو این آئی) وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے شعبے میں ہندوستان کی ترقی پوری دنیا میں بحث کا موضوع ہے اور ہر ہندوستانی شمسی توانائی کی اہمیت کو سمجھ رہا ہے مسٹر مودی نے اتوار کے روز آکاشوانی پر اپنے ماہانہ پروگرام من کی بات کے 99ویں ایڈیشن میں ملک سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پوری دنیا صاف ستھری توانائی، قابل تجدید توانائی کی بات کر رہی ہے۔ پوری دنیا کے لوگ یقینی طور پر اس شعبے میں ہندوستان کی غیر معمولی کامیابی کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ ہندوستان نے شمسی توانائی کے شعبے میں ایک بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے لوگوں کا سورج کے ساتھ صدیوں سے ایک خاص رشتہ رہا ہے۔ سورج کی طاقت کے بارے میں ہمارے پاس جو سائنسی سمجھ رہی ہے، سورج کی پوجا کی جو روایت رہی ہے، وہ دوسری جگہوں پر کم ہی نظر آتی ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ آج ہر ملک کا شہری شمسی توانائی کی اہمیت کو سمجھ رہا ہے اور صاف ستھری توانائی میں اپنا تعاون دینا چاہتا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ‘سبکا پریاس’ کا یہ جذبہ آج ہندوستان کے شمسی مشن کوآگے بڑھا رہا ہے۔ مہاراشٹر کے پُنے میں ایم ایس آر اولیو ہاؤسنگ سوسائٹی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس سوسائٹی کی عام استعمال کی اشیاء جیسے پینے کا پانی، لفٹ اور لائٹس شمسی توانائی پر چل رہی ہیں اور یہ سالانہ تقریباً 90 ہزار کلو واٹ بجلی پیدا کر رہی ہے اور ہر ماہ 40,000 روپئے کی بچت بھی ہو رہی ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ دیو ہندوستان کا پہلا ضلع بن گیا ہے جس نے پورے دن کی ضروریات کے لیے 100فیصد صاف توانائی کا استعمال کیا ہے۔ اس سے بجلی کی خریداری پر خرچ ہونے والے تقریباً 52 کروڑ روپے کی بچت بھی ہوئی ہے اور ماحولیات کا بھی تحفظ ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ پونے اور دیو کی طرح ملک بھر میں کئی دیگر مقامات پر بھی یہ کوششیں ہو رہی ہیں۔
دنیا
اقوامِ متحدہ آبنائے ہرمز میں پھنسے ملاحوں کو نکالے گا
لندن، اقوام متحدہ کی بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن (آئی ایم او) امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ کی وجہ سے خلیجی خطے میں پھنسے ہوئے 11,000 سے زیادہ ملاحوں کو نکالنے کی تیاری کر رہی ہے۔
آئی ایم او کے سیکرٹری جنرل آرسینیو ڈومینگیز نے کہا کہ ’بڑے پیمانے پر آپریشن‘ ایران، عمان، امریکہ، خطے کے دیگر ساحلی ممالک اور سمندری صنعت کے ساتھ مل کر کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا، ’’ہم نے ضروری حفاظتی ضمانتیں حاصل کر لی ہیں اور ان کارروائیوں کے لیے محفوظ بحری آمدورفت کے حالات کی مکمل تصدیق کر لی ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کے لیے گزشتہ ہفتے ایک عبوری معاہدے پر دستخط ہوئے تھے، تاہم مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی مختلف شقوں پر امریکہ اور ایران کے درمیان اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔
امریکہ کا مؤقف ہے کہ معاہدے میں یہ ضمانت شامل ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کا معائنہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کرے گی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’’ایران نے مستقبل میں طویل مدت تک اعلیٰ ترین سطح کے جوہری معائنوں پر مکمل رضامندی ظاہر کر دی ہے، جس سے ’جوہری دیانت داری‘ یقینی بنے گی۔‘‘
مسٹر ٹرمپ کی اس پوسٹ سے کچھ وقت پہلے ایران نے کہا تھا کہ گزشتہ برس امریکہ اور اسرائیل کی بمباری کا نشانہ بننے والے جوہری مراکز کا معائنہ اقوامِ متحدہ کی جوہری نگرانی کی ایجنسی نہیں کر سکے گی۔
اس کے جواب میں ایک امریکی عہدیدار نے کہا، ’’ ایرانیوں نے اپنے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کے باقیات کے مؤثر آئی اے ای اے معائنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ ایرانی حکومت جاپنے گھریلو لوگوں کے لئے جو کہنا چاہے کہہ سکتی ہے۔
ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے منگل کو پاکستان کے دورے کے دوران کہا کہ ایران “کسی بھی حالت میں اپنی دفاعی صلاحیتوں پر کسی کے ساتھ بات چیت نہیں کرے گا۔”
جاری یواین آئی۔الف الف
جموں و کشمیر
اسکمز اسپتال نے خاندان سے باہر کے عطیہ دہندہ کی مدد سے پہلا اسٹیم سیل ٹرانسپلانٹ انجام دیا
سری نگر، کشمیر کے شیرِ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (اسکمز) نے طب کے شعبے میں ایک بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے پہلی بار خاندان سے باہر ایک نامعلوم عطیہ دہندہ کے اسٹیم سیلز (خون بنانے والے خلیات) استعمال کرکے تین سالہ بچے کی جان بچا لی ہے۔ یہ بچہ قوتِ مدافعت (امیونٹی) کی ایک نہایت نایاب اور جان لیوا بیماری میں مبتلا تھا، اور اس منفرد علاج نے اسے نئی زندگی عطا کی ہے۔
اس کامیاب آپریشن کی سب سے خاص بات یہ رہی کہ بچے کی جان بچانے کے لیے اسٹیم سیلز عطیہ کرنے والا شخص ہندوستان میں نہیں بلکہ پولینڈ میں ملا۔ جب بچے کے والدین یا خاندان کے کسی فرد کے اسٹیم سیلز اس سے مطابقت نہیں رکھتے تھے تو بین الاقوامی اداروں کی مدد سے دنیا بھر میں تلاش شروع کی گئی، جس کے نتیجے میں پولینڈ میں موزوں عطیہ دہندہ مل گیا۔
اسپتال کے ڈائریکٹر پروفیسر ایم اشرف غنی نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ کامیابی جرمنی کے ادارے ڈی کے ایم ایس کے عالمی نیٹ ورک کی بدولت ممکن ہوئی، جو دنیا بھر میں بلڈ کینسر اور دیگر سنگین بیماریوں کے مریضوں کے لیے عطیہ دہندگان تلاش کرتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ “جب خاندان میں کوئی مناسب عطیہ دہندہ نہیں ملتا تو ہم پوری دنیا میں مریض کے خون سے مطابقت رکھنے والے فرد کی تلاش کرتے ہیں۔ پولینڈ میں عطیہ دہندہ ملنے کے بعد وہاں سے اسٹیم سیلز کو محفوظ طریقے سے ہوائی جہاز کے ذریعے اسکمز اسپتال کشمیر لایا گیا اور بچے کے جسم میں منتقل کیا گیا۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ ملک کے چند ہی اسپتالوں میں یہ پیچیدہ علاج دستیاب ہے۔ نجی اسپتالوں میں اس علاج پر 30 سے 40 لاکھ روپے تک خرچ آتا ہے، لیکن اسکمز اسپتال نے بچے کا تقریباً مفت علاج کیا، اور خاندان کو صرف چند ضروری ادویات کی قیمت ادا کرنی پڑی۔
اسپتال کے ڈائریکٹر کے مطابق، ٹرانسپلانٹ کے بعد بچہ مکمل طور پر صحت یاب ہو چکا ہے اور اسے اسپتال سے رخصت کر دیا گیا ہے۔
اس بڑی کامیابی کے بعد ڈاکٹروں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ بھی اسٹیم سیل عطیہ دہندہ کے طور پر اپنا نام درج کرائیں، کیونکہ یہ عمل مکمل طور پر محفوظ ہے اور اس کے ذریعے کسی کی جان بچائی جا سکتی ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر شہری مرکزیت پر مبنی بہتر طرزِ حکمرانی کا ماڈل بن چکا ہے: منوج سنہا
سری نگر، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے منگل کے روز کہا کہ یہ مرکز کے زیرِ انتظام علاقہ شہری مرکزیت پر مبنی بہتر طرزِ حکمرانی (گڈ گورننس) کا ایک مثالی نمونہ بن کر ابھرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں سال 2020 میں صرف 35 آن لائن خدمات دستیاب تھیں، وہیں 2023 تک ان کی تعداد بڑھ کر 1,100 سے زیادہ ہو گئی ہے۔
مرکزی وزارتِ پنچایتی راج اور جموں و کشمیر انتظامیہ کے اشتراک سے منعقدہ ایک علاقائی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے منوج سنہا نے کہا کہ حکومت نے “پیپل فرسٹ” کے نظریے کے تحت خدمات کی فراہمی کے نظام میں وسیع اصلاحات کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنچایتی راج اداروں کو حکمرانی اور ترقی کا اہم شراکت دار بنایا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ “بلاک دیوس” اور “بیک ٹو ولیج” جیسی مہمات کے ذریعے سرکاری خدمات اور ترقیاتی منصوبوں کو عوام کی دہلیز تک پہنچانے کی کوشش کی گئی، جس سے انتظامیہ اور شہریوں کے درمیان اعتماد کے رشتے کو مضبوطی ملی ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے بتایا کہ جموں و کشمیر میں 15 ہزار سے زائد کامن سروس سینٹرز کام کر رہے ہیں، جبکہ 4,290 پنچایتوں میں سے 4,211 اس نیٹ ورک سے منسلک ہیں، جو 98.16 فیصد کوریج کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے مختلف ریاستوں سے آئے ہوئے نمائندوں سے اپیل کی کہ وہ جموں و کشمیر کے خدمات ماڈل کا مطالعہ کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاستوں کے درمیان کامیاب تجربات اور اختراعات کے تبادلے سے نچلی سطح پر بہتر طرزِ حکمرانی کو مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان6 days ago‘اسلام آباد ایم او یو’ پر جے رام رمیش کا مرکز پر حملہ، کہا- مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو بڑا جھٹکا
دنیا1 week ago‘ٹرمپ کامعاہدہ ہمیں پابند نہیں کرتا’، اسرائیلی وزیر ایران امریکہ معاہدے پر سیخ پا
جموں و کشمیر1 week agoگاندربل ‘انکاؤنٹر’ کے مقتول کی لاش قبر سے نکال کر اہلِ خانہ کے حوالے
دنیا1 week agoعین وقت پر امریکہ ایران امن معاہدے میں تاخیر اسرائیلی حملے کے سبب
دنیا1 week agoتاریخی ڈیل مکمل، امریکہ اور ایران نے جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کردی
ہندوستان1 week agoسلوواکیہ میں مودی کا ہوا شاندار استقبال
دنیا7 days agoایرانی آرمی چیف کا دفاعی طاقت مزید بڑھانے کا اعلان
ہندوستان7 days ago’جمہوریت کو نقصان پہنچانے کے لیے شاہ چلا رہے ہیں دھوکہ دہی پرمبنی مہم ‘: رمیش
تجزیہ1 week agoسبز توانائی اور موسمیاتی بحران
دنیا7 days agoجی سیون ممالک کا امریکہ اور ایران امن معاہدے کی حمایت کا اعلان
دنیا1 week agoامریکہ ایران معاہدے پر الیکٹرانک دستخط ٹرمپ وینس نے کئے
تازہ ترین2 days agoٹرمپ کے بیان کے بعد ایران نے مذاکرات معطل کردیے، وفد واپس روانہ



































































































