تازہ ترین
مرکز کو عبادت گاہ قانون پر 12 دسمبر تک جواب دینا ہوگا، اگلی سماعت جنوری میں

نئی دہلی، 14 نومبر (یو این آئی) سپریم کورٹ نے پیر کو مرکزی حکومت کو عبادت گاہوں (خصوصی انتظامات) ایکٹ-1991 کی قانونی حیثیت کو چیلنج کرنے والی عرضی پر اپنا موقف پیش کرنے کے لیے 12 دسمبر تک کا وقت دیا ہے۔
اس ایکٹ کے تحت اجودھیا کے رام جنم بھومی کے علاوہ ملک کے تمام مذہبی مقامات کی 15 اگست 1947 سے پہلے کی حیثیت کو برقرار رکھنے کا انتظام کیا گیا ہے۔
چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ اور جسٹس جے بی پاردی والا کی بنچ نے سالیسٹر جنرل تشار مہتا کی عرضی کو منظور کرتے ہوئے 12 دسمبر تک اپنا جواب داخل کرنے کے لئے کہا۔
مرکز کا موقف پیش کرتے ہوئے مسٹر مہتا نے بنچ کو بتایا کہ اس معاملے پر ‘اعلیٰ ترین سطح’ پر بات چیت ہو رہی ہے۔ اس کے لیے اضافی وقت درکار ہے۔
سپریم کورٹ گزشتہ سال مارچ سے اس معاملے میں مرکزی حکومت کے جواب کا انتظار کر رہی ہے۔
مسٹر مہتا نے 12 اکتوبر کو عدالت عظمیٰ کو بتایا تھا کہ اجودھیا کے رام جنم بھومی تنازعہ کیس میں پانچ ججوں کی آئینی بنچ کے ذریعہ سنائے گئے 2019 کے فیصلے میں عبادت گاہوں (خصوصی دفعات) ایکٹ 1991 کی صداقت سے متعلق سوالات شامل نہیں ہیں۔
اس مذہبی مقامات کے قانون کو ایڈوکیٹ اشونی کمار اپادھیائے نے چیلنج کیا ہے۔ ان کی طرف سے پیش ہوتے ہوئے سینئر وکیل راکیش دویدی نے بنچ کو بتایا کہ 1991 کا ایکٹ برائے مذہبی مقامات کی حیثیت کو پارلیمنٹ میں ناکافی بحث کے بعد منظور کیا گیا تھا۔
اس میں ایسے معاملات شامل ہیں جن میں قومی اہمیت کے اہم سوالات شامل ہیں اور ان کا فیصلہ عدالت کو کرنا چاہیے۔
مسٹر اشونی کمار اپادھیائے کی عرضی کی مخالفت کرتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے ایک بار پھر دلیل دی ہے کہ درخواستوں پر ان کا موقف مرکزی حکومت کے داخل کردہ جواب پر منحصر ہوگا۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ وہ اس معاملے کی اگلی سماعت اگلے سال جنوری کے پہلے ہفتے میں کرے گی۔
دنیا
’ایران میں ہمارے کچھ اچھے تعلقات ہیں اس لیے کامیاب مذاکرات ہونےجا رہے‘
واشنگٹن، امریکی نائب صدر جےڈی وینس نے دعویٰ کیا ہے کہ اب ہم براہ راست ایرانی حکام سے بات کر رہے ہیں ایران میں ہمارے کچھ اچھے تعلقات ہیں اس لیے کامیاب مذاکرات ہونےجا رہے ہیں۔
امریکی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں جےڈی وینس نے کہا کہ ایرانی حکام سے بات چیت ہونے میں اندازہ ہو جاتا ہے کہ کیا حقیقت ہے اور کیا نہیں، بات چیت سے اندازہ ہو جاتا ہے ایرانی حکام کس چیز کے بارے میں سنجیدہ ہیں، مذاکرات میں ہمیں ہر طرح سےبرتری حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے معاملے پر ابھی بہت سی تفصیلات طے ہونا باقی ہیں، معاہدے پر عملدرآمد کی تصدیق کا عمل 2 مراحل پر مشتمل ہو گا۔
ان کا کہنا تھا کہ توقع ہے آبنائےہرمز طویل مدت تک بغیر فیس کھلی رہےگی اور توقع ہے کہ آبنائےہرمز طویل عرصے تک ٹول فری رہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
’تیل سے بھرے جہازوں کی آبنائے ہرمز سے آمد و رفت شروع ہو گئی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے بحری جہاز کی آمد و رفت شروع ہو گئی ہے۔
ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں امریکی صدر نے بتایا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہاز تیل سے لدے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ بحری جہاز جنوبی “ہائی وے” سے گزر ہے ہیں آبنائےہرمز کا جنوبی ہائی وے سفر کیلئے مکمل طور پر محفوظ ہے۔
‘امریکی اور ایرانی حکام نے اتوار کے روز کہا کہ وہ جنگ کے خاتمے، ایران پر امریکی ناکہ بندی ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے ایک معاہدے پر متفق ہو گئے ہیں، جس کے نتیجے میں اس اہم آبی گزرگاہ کے ذریعے تیل کی ترسیل دوبارہ شروع ہونے پر توانائی کی قیمتوں میں کمی آ سکتی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کو امید ہے کہ ایران-امریکہ امن معاہدے کو کوئی سبوتاژ نہیں کرے گا۔
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کے روز امید ظاہر کی کہ ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے طے پانے والے عبوری امن معاہدے کو ناکام بنانے کے لیے کوئی بھی فریق ایسا قدم نہیں اٹھائے گا جس سے امن عمل متاثر ہو۔
سری نگر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ معاہدے کی تفصیلات ابھی واضح نہیں ہیں اور حتمی رائے قائم کرنے سے پہلے دنیا کو مزید پیش رفت کا انتظار کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ ’’نہ آپ جانتے ہیں اور نہ میں کہ اس امن معاہدے میں کیا شامل ہے۔ فی الحال امریکہ، ایران اور پاکستان کو کسی حد تک اس کی معلومات ہوں گی۔ ہمیں جمعہ تک انتظار کرنا ہوگا۔‘‘
انہوں نے مزید کہاکہ ’’جمعہ تک ہم امید کرتے ہیں کہ کوئی بھی اس امن معاہدے کو توڑنے کی کوشش نہیں کرے گا، لیکن ہماری خواہش ہے کہ یہ جنگ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ خطے میں معمولاتِ زندگی بحال ہوں گے، جن میں آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کا دوبارہ کھلنا بھی شامل ہے، جو خلیجی کشیدگی کے باعث متاثر ہونے والا دنیا کا ایک اہم تیل بردار بحری راستہ ہے۔
عمر عبداللہ نے مزید کہا کہ ایران کو اس جنگ کے دوران شدید نقصان اٹھانا پڑا ہے اور بمباری سے ہونے والے نقصانات کا معاوضہ ملنا چاہیے۔
انہوں نے کہاکہ ’’ایران کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے۔ بمباری میں اس کے اثاثے تباہ ہوئے۔ ان کی کوئی غلطی نہیں تھی۔ انہوں نے جنگ شروع نہیں کی تھی بلکہ جنگ ان پر مسلط کی گئی تھی۔ ہمیں امید ہے کہ انہیں جو معاوضہ ملنا چاہیے، اس کا ذکر بھی کہیں نہ کہیں اس معاہدے میں ہوگا۔‘‘
دریں اثنا، رکن پارلیمنٹ اور نیشنل کانفرنس کے ناراض رہنما روح اللہ مہدی نے کہا کہ ایران کے عوام نے ہمیشہ مزاحمتی تحریکوں کی حمایت کی ہے اور جسے انہوں نے خطے میں ’’امریکہ-اسرائیل بالادستی‘‘ قرار دیا، اس کے سامنے جھکنے سے انکار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران طویل عرصے سے دباؤ اور تنازعات کا سامنا کرنے کے باوجود اپنے مؤقف پر ثابت قدم رہا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان1 week agoانڈیا اتحاد کی میٹنگ شروع، سونیا، کھرگے اور ممتا سمیت کئی اعلیٰ لیڈر شامل
دنیا1 week agoجارحیت روکیں یا طاقت کے نئے توازن کے مرحلے میں داخل ہوں: علی اکبر ولایتی کا انتباہ
دنیا4 days agoامریکہ آج رات ایران پر بڑا حملہ کرے گا: امریکی وزیر جنگ
دنیا4 days agoامریکہ کے ساتھ پائیدار معاہدہ دھمکیوں، دباؤ یا طاقت کے استعمال سے ممکن نہیں: ایرانی سفیر
جموں و کشمیر1 week agoکریری میں بابل کینال: غفلت اور بے حسی کا شکار
دنیا6 days agoاسرائیل کے موقف سے قطع نظر امریکہ ایران جوہری معاہدے پر آگے بڑھے گا: وینس
دنیا6 days agoامریکی فوج کا اپاچی ہیلی کاپٹر آبنائے ہرمز کے قریب گر کر تباہ
دنیا1 week agoدشمن کو پہلے سے زیادہ طاقتور جواب دینے کیلئے تیار ہیں: ترجمان ایرانی نیشنل سکیورٹی کمیشن
دنیا1 week agoایران کے خلاف یکطرفہ فوجی کارروائی میں امریکہ شریک نہیں ہوگا: ٹرمپ کا نیتن یاہو کو دوٹوک پیغام
دنیا1 week agoامریکہ کی متضاد پالیسیوں اور مؤقف نے سفارتی راستے کو متاثر کیا: اسماعیل بقائی
دنیا5 days agoجے ڈی وینس بھی ایران ڈیل سے متعلق ٹرمپ کا بیان ماننے پر تیار نہیں
دنیا6 days agoپاکستان کا افغانستان پر حملہ، 11 بچوں سمیت 13 افراد ہلاک





































































































