جموں و کشمیر
میرواعظ عمر فاروق کا شبیر احمد شاہ اور یاسین ملک کی بگڑتی صحت پر اظہار تشویش

سری نگر میرواعظ کشمیر مولوی محمد عمر فاروق نے شبیر احمد شاہ اور محمد یاسین ملک کی بگڑتی ہوئی صحت پر شدید تشویش اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مرکزی حکومت سے انسانی بنیادوں پر فوری رہائی کی اپیل کی ہے۔
میرواعظ نے ایک بیان میں کہا کہ ان دونوں رہنماؤں کے اہلِ خانہ، جو حال ہی میں جیل میں ان سے ملے، نے ان کی صحت کے حوالے سے انتہائی تشویشناک صورتحال کی اطلاع دی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ شبیر احمد شاہ کی اہلیہ کی جانب سے موصولہ خط میں کہا گیا ہے کہ ان کی بیٹی نے ایک ماہ قبل جیل میں والد سے ملاقات کے دوران انہیں نہایت کمزور، بیمار اور طبی امداد سے محروم پایا۔ خط میں حکومت سے درخواست کی گئی ہے کہ انہیں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر گھر منتقل کیا جائے اور ان کے مکان کو ہی نظر بندی کی جگہ قرار دیا جائے تاکہ گھر والے ان کی دیکھ بھال کر سکیں۔
میرواعظ نے کہا،’یہ صورتحال نہایت افسوسناک اور تشویشناک ہے۔ میں حکومت ہند سے اپیل کرتا ہوں کہ شبیر احمد شاہ صاحب کو انسانی بنیادوں پر رہا کیا جائے یا کم از کم اہل خانہ کی درخواست کے مطابق انہیں گھر پر ہی نظر بند کیا جائے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ یاسین ملک کی والدہ اور بہن، جو حال ہی میں ان سے جیل میں ملنے گئی تھیں، نے بھی ان کی خراب صحت اور ذہنی دباؤ کے بارے میں گہری تشویش ظاہر کی ہے۔ میرواعظ نے کہا کہ مسلسل قید اور تنہائی نے یاسین ملک کی صحت پر سنگین اثرات مرتب کیے ہیں، اور ان کے لیے فوری طبی امداد ناگزیر ہے۔
انہوں نے اس بات پر گہری تشویش ظاہر کی کہ مختلف جیلوں میں بند دیگر کشمیری قیدی اور نوجوان بھی نامناسب حالات اور طبی سہولیات کی کمی کے باعث مشکلات کا شکار ہیں۔
میرواعظ نے کہا کہ یہ معاملہ سیاسی اختلافات یا نظریاتی وابستگیوں سے بالاتر، ایک انسانی اور اخلاقی مسئلہ ہے۔ انہوں نے حکومت اور عدلیہ دونوں سے اپیل کی کہ وہ قیدیوں کی صحت، انسانی حقوق اور بنیادی سہولیات کے حوالے سے ہمدردانہ رویہ اختیار کریں۔
آخر میں میرواعظ نے جموں و کشمیر اسمبلی کے تمام منتخب نمائندوںبالخصوص حکمران جماعت—سے اپیل کی کہ وہ اس انسانی مسئلے پر متحد ہو کر آواز بلند کریں، اور کشمیری قیدیوں کی رہائی اور ان کے حقوق کی بحالی کے لیے ٹھوس اقدامات کریں۔
یو این آئی۔ ارشید بٹ
جموں و کشمیر
اسکمز اسپتال نے خاندان سے باہر کے عطیہ دہندہ کی مدد سے پہلا اسٹیم سیل ٹرانسپلانٹ انجام دیا
سری نگر، کشمیر کے شیرِ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (اسکمز) نے طب کے شعبے میں ایک بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے پہلی بار خاندان سے باہر ایک نامعلوم عطیہ دہندہ کے اسٹیم سیلز (خون بنانے والے خلیات) استعمال کرکے تین سالہ بچے کی جان بچا لی ہے۔ یہ بچہ قوتِ مدافعت (امیونٹی) کی ایک نہایت نایاب اور جان لیوا بیماری میں مبتلا تھا، اور اس منفرد علاج نے اسے نئی زندگی عطا کی ہے۔
اس کامیاب آپریشن کی سب سے خاص بات یہ رہی کہ بچے کی جان بچانے کے لیے اسٹیم سیلز عطیہ کرنے والا شخص ہندوستان میں نہیں بلکہ پولینڈ میں ملا۔ جب بچے کے والدین یا خاندان کے کسی فرد کے اسٹیم سیلز اس سے مطابقت نہیں رکھتے تھے تو بین الاقوامی اداروں کی مدد سے دنیا بھر میں تلاش شروع کی گئی، جس کے نتیجے میں پولینڈ میں موزوں عطیہ دہندہ مل گیا۔
اسپتال کے ڈائریکٹر پروفیسر ایم اشرف غنی نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ کامیابی جرمنی کے ادارے ڈی کے ایم ایس کے عالمی نیٹ ورک کی بدولت ممکن ہوئی، جو دنیا بھر میں بلڈ کینسر اور دیگر سنگین بیماریوں کے مریضوں کے لیے عطیہ دہندگان تلاش کرتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ “جب خاندان میں کوئی مناسب عطیہ دہندہ نہیں ملتا تو ہم پوری دنیا میں مریض کے خون سے مطابقت رکھنے والے فرد کی تلاش کرتے ہیں۔ پولینڈ میں عطیہ دہندہ ملنے کے بعد وہاں سے اسٹیم سیلز کو محفوظ طریقے سے ہوائی جہاز کے ذریعے اسکمز اسپتال کشمیر لایا گیا اور بچے کے جسم میں منتقل کیا گیا۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ ملک کے چند ہی اسپتالوں میں یہ پیچیدہ علاج دستیاب ہے۔ نجی اسپتالوں میں اس علاج پر 30 سے 40 لاکھ روپے تک خرچ آتا ہے، لیکن اسکمز اسپتال نے بچے کا تقریباً مفت علاج کیا، اور خاندان کو صرف چند ضروری ادویات کی قیمت ادا کرنی پڑی۔
اسپتال کے ڈائریکٹر کے مطابق، ٹرانسپلانٹ کے بعد بچہ مکمل طور پر صحت یاب ہو چکا ہے اور اسے اسپتال سے رخصت کر دیا گیا ہے۔
اس بڑی کامیابی کے بعد ڈاکٹروں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ بھی اسٹیم سیل عطیہ دہندہ کے طور پر اپنا نام درج کرائیں، کیونکہ یہ عمل مکمل طور پر محفوظ ہے اور اس کے ذریعے کسی کی جان بچائی جا سکتی ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر شہری مرکزیت پر مبنی بہتر طرزِ حکمرانی کا ماڈل بن چکا ہے: منوج سنہا
سری نگر، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے منگل کے روز کہا کہ یہ مرکز کے زیرِ انتظام علاقہ شہری مرکزیت پر مبنی بہتر طرزِ حکمرانی (گڈ گورننس) کا ایک مثالی نمونہ بن کر ابھرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں سال 2020 میں صرف 35 آن لائن خدمات دستیاب تھیں، وہیں 2023 تک ان کی تعداد بڑھ کر 1,100 سے زیادہ ہو گئی ہے۔
مرکزی وزارتِ پنچایتی راج اور جموں و کشمیر انتظامیہ کے اشتراک سے منعقدہ ایک علاقائی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے منوج سنہا نے کہا کہ حکومت نے “پیپل فرسٹ” کے نظریے کے تحت خدمات کی فراہمی کے نظام میں وسیع اصلاحات کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنچایتی راج اداروں کو حکمرانی اور ترقی کا اہم شراکت دار بنایا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ “بلاک دیوس” اور “بیک ٹو ولیج” جیسی مہمات کے ذریعے سرکاری خدمات اور ترقیاتی منصوبوں کو عوام کی دہلیز تک پہنچانے کی کوشش کی گئی، جس سے انتظامیہ اور شہریوں کے درمیان اعتماد کے رشتے کو مضبوطی ملی ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے بتایا کہ جموں و کشمیر میں 15 ہزار سے زائد کامن سروس سینٹرز کام کر رہے ہیں، جبکہ 4,290 پنچایتوں میں سے 4,211 اس نیٹ ورک سے منسلک ہیں، جو 98.16 فیصد کوریج کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے مختلف ریاستوں سے آئے ہوئے نمائندوں سے اپیل کی کہ وہ جموں و کشمیر کے خدمات ماڈل کا مطالعہ کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاستوں کے درمیان کامیاب تجربات اور اختراعات کے تبادلے سے نچلی سطح پر بہتر طرزِ حکمرانی کو مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
محبوبہ نے پنجاب کے وزیر اعلیٰ سے بات کر کے کشمیر کے مٹن تاجروں کی پریشانی کا معاملہ اٹھایا
سری نگر، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے منگل کو کہا کہ کشمیری مٹن تاجروں کو روکے جانے اور انہیں ہراساں کیے جانے سے متعلق رپورٹوں کے سلسلے میں انہوں نے پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان سے بات کی ہے یہ بات چیت ان رپورٹوں کے بعد کی گئی ہے جن میں کہا گیا ہے کہ مادھو پور اور شنبھو بارڈر پر ٹھیکیدار مویشی میلہ ایکٹ کے نام پر کشمیری مٹن تاجروں کو روک رہے ہیں اور انہیں ہراساں کر رہے ہیں۔ محترمہ محبوبہ نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ انہوں نے جموں و کشمیر میں جانوروں کی نقل و حمل کرنے والے مویشی تاجروں کو پیش آنے والی مشکلات کے بارے میں وزیر اعلیٰ مان سے بات چیت کی اور مسٹر مان نے اس معاملے میں فوری کارروائی کا یقین دلایا ہے۔
یہ پیش رفت جموں و کشمیر میں مٹن کی کمی کے بڑھتے ہوئے خدشات کے درمیان سامنے آئی ہے جب مٹن ڈیلرز ایسوسی ایشن کی کوآرڈینیشن کمیٹی نے دوسرے صوبوں سے مویشیوں کی درآمد کو غیر معینہ مدت کے لیے روکنے کا اعلان کیا۔
ایسوسی ایشن نے الزام لگایا ہے کہ پنجاب میں ٹھیکیدار اور مقامی حکام جموں و کشمیر جانے والے ہر اس ٹرک پر 15,000 سے 25,000 روپے تک کا غیر قانونی چارج لگا رہے ہیں جس میں جانوروں کو لے جایا جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے دہلی، راجستھان، امبالا، امرتسر اور دیگر مقامات کی منڈیوں سے جانوروں والے ٹرکوں کی لوڈنگ روک دی گئی ہے۔ کمیٹی کے ارکان نے کہا کہ پنجاب سے ہو کر جانوروں کو لے جانا جوکھم بھرا ہو گیا ہے جس کی وجہ سے تاجروں کو سپلائی تب تک روکنی پڑی ہے جب تک کہ اس مسئلے کا مستقل حل نہ نکل جائے۔
جموں و کشمیر میں ہر سال 60,000 ٹن سے زیادہ مٹن کی کھپت ہوتی ہے۔ دہلی، ہریانہ، راجستھان اور پنجاب سے روزانہ تقریباً 50 ٹرکوں میں 5,000 سے زیادہ جانور اس مرکز کے زیر انتظام علاقے میں لائے جاتے ہیں۔ تاجروں نے انتباہ دیا ہے کہ اس رکاوٹ سے شادی بیاہ کے سیزن میں سپلائی پر اثر پڑ سکتا ہے کیونکہ اس دوران مانگ میں تقریباً 30 فیصد کا اضافہ ہو جاتا ہے۔
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان6 days ago‘اسلام آباد ایم او یو’ پر جے رام رمیش کا مرکز پر حملہ، کہا- مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو بڑا جھٹکا
دنیا1 week ago‘ٹرمپ کامعاہدہ ہمیں پابند نہیں کرتا’، اسرائیلی وزیر ایران امریکہ معاہدے پر سیخ پا
دنیا1 week agoعین وقت پر امریکہ ایران امن معاہدے میں تاخیر اسرائیلی حملے کے سبب
جموں و کشمیر1 week agoگاندربل ‘انکاؤنٹر’ کے مقتول کی لاش قبر سے نکال کر اہلِ خانہ کے حوالے
دنیا1 week agoتاریخی ڈیل مکمل، امریکہ اور ایران نے جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کردی
ہندوستان1 week agoسلوواکیہ میں مودی کا ہوا شاندار استقبال
دنیا7 days agoایرانی آرمی چیف کا دفاعی طاقت مزید بڑھانے کا اعلان
دنیا7 days agoجی سیون ممالک کا امریکہ اور ایران امن معاہدے کی حمایت کا اعلان
ہندوستان7 days ago’جمہوریت کو نقصان پہنچانے کے لیے شاہ چلا رہے ہیں دھوکہ دہی پرمبنی مہم ‘: رمیش
تجزیہ1 week agoسبز توانائی اور موسمیاتی بحران
تازہ ترین2 days agoٹرمپ کے بیان کے بعد ایران نے مذاکرات معطل کردیے، وفد واپس روانہ
دنیا6 days agoایران کے ساتھ معاہدہ حتمی نہیں، اگر رویہ درست نہ رہا تو حملے دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں: ٹرمپ



































































































