جموں و کشمیر
میڈیکل داخلوں میں مذہبی امتیاز ناقابل قبول، آئین کی حرمت کو چیلنج کیا جا رہا ہے : عمر عبداللہ

جموں ،جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بدھ کے روزتعلیم کے شعبے میں مذہبی بنیادوں پر فیصلوں اور امتیازی رویوں پر شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئینِ ہند میں واضح طور پر ہر شہری کو مذہب، ذات یا عقیدے سے بالاتر ہو کر برابری کے حقوق دیے گئے ہیں، مگر افسوس اس بات کا ہے کہ آج ملک میں تعلیم جیسے حساس اور مقدس شعبے کو بھی مذہبی عینک سے دیکھا جانے لگا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے پونچھ میں ایک عوامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کا آئین یہ ضمانت دیتا ہے کہ ہر شہری کو جمہوریت کے تمام فوائد یکساں طور پر حاصل ہوں، لیکن موجودہ حالات اس نہج تک پہنچ چکے ہیں کہ میڈیکل کالج جیسے اعلیٰ اداروں میں بھی مذہبی بنیادوں پر امتیاز برتا جارہا ہے۔ انہوں نے افسوس کے ساتھ کہا کہ آج میڈیکل کالجوں میں یہ کہا جارہا ہے کہ یہاں مسلم یا غیر ہندو طلبہ نہیں ہونے چاہئیں۔ اگر ہم بچوں کی قابلیت اور میرٹ کو نظرانداز کرکے مذہب کی بنیاد پر فیصلے کریں گے تو پھر اس ملک کے آئین کا کیا ہوگا
یہ بیان اُس وقت سامنے آیا جب شری ماتا ویشنو دیوی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایکسیلینس میں داخلوں کے لیے مذہبی ترجیحات کی باتیں منظرعام پر آئیں۔ کچھ بی جے پی رہنماؤں نے یہ دعویٰ کیا کہ چونکہ یہ ادارہ ماتا ویشنو دیوی مندر سے ملنے والی عقیدتمندوں کی نذر و نیاز سے چلتا ہے، اس لیے ہندو پس منظر کے طلبہ کو داخلوں میں اولیت دی جانی چاہیے۔ عمر عبداللہ نے ان بیانات کو بدقسمتی اور آئین مخالف قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج تعلیم کو بھی مذہب کا رنگ دیا جارہا ہے، یہ انتہائی تشویشناک ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایسے اقدامات کو قبول کرلیا گیا تو آنے والی نسلیں اپنی قابلیت کے بجائے مذہب کی بنیاد پر جانی جائیں گی، جو نہ صرف آئین کے منافی ہے بلکہ سماجی ہم آہنگی کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔
خطاب کے دوران عمر عبداللہ نے پونچھ کے معروف تعلیمی ادارے جامع ضیاءالعلوم کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ اس بات کا زندہ ثبوت ہے کہ جہاں میرٹ، کردار اور تعلیم کو ترجیح دی جاتی ہے، وہاں طلبہ نہ صرف کامیاب ہوتے ہیں بلکہ سماج میں مثبت کردار بھی ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس جامع کے طلبہ نے یونین پبلک سروس کمیشن اور کے پی ایس جیسے سخت مقابلہ جاتی امتحانات میں نمایاں کارکردگی دکھا کر ثابت کیا کہ قابلیت مذہب سے نہیں، محنت اور راست سوچ سے پیدا ہوتی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے جامع کے سربراہ مولانا غلام قادر صاحب اور ادارے کے اساتذہ کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی خطے میں حالات نازک ہوئے—چاہے وہ فرقہ وارانہ کشیدگی ہو یا قدرتی آفت،جامع ضیاءالعلوم نے حکومت کے ساتھ مل کر امن، بھائی چارے اور انسانی خدمت کا بے مثال کردار ادا کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں ذاتی تعلق کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ ان کے والد اور دادا کے بھی مولانا غلام قادر صاحب سے گہرے روابط رہے ہیں۔
عمر عبداللہ نے ادارے کے طلبہ، اساتذہ اور علمائے کرام کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ایسے تعلیمی مراکز جموں و کشمیر کی سماجی اور اخلاقی بنیادوں کو مضبوط بناتے ہیں اور یہ ثبوت ہیں کہ تعلیم کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اس کا مقصد انسان سازی اور معاشرے کی بہتری ہے۔
یو این آئی۔ ارشید بٹ
جموں و کشمیر
سرینگر میں محرم کے جلوس میں ہزاروں لوگ شامل ہوئے
سرینگر جموں و کشمیر کے سرینگر میں بدھ کو آٹھویں محرم کے روایتی جلوس میں ہزاروں لوگ شامل ہوئے۔
انتظامیہ نے سرینگر کے اہم علاقے سے سخت سکیورٹی انتظامات کے درمیان گزرنے والے اس جلوس کو مسلسل چوتھے سال اجازت دی ہے۔ جلوس آج صبح گرو بازار سے شروع ہو کر جہانگیر چوک اور مولانا آزاد روڈ سے ہوتے ہوئے ڈلگیٹ پہنچا۔
جلوس میں مذہبی بینر لیے ہوئے لوگ طے شدہ راستے پر آگے بڑھ رہے تھے اور پیغمبر محمد کے نواسے امام حسین کی یاد میں مرثیہ اور نوحہ پڑھ رہے تھے۔ زیادہ تر کالے کپڑے پہنے ہوئے لوگوں نے کربلا میں امام حسین اور ان کے ساتھیوں کی قربانی کو خراج عقیدت پیش کیا۔ حکام نے جلوس کے لیے سکیورٹی کے وسیع انتظامات کیے تھے۔ پولیس نے مرکزی مسلح پولیس فورسز اور ٹریفک پولیس کی مدد سے کئی سطحوں والی سکیورٹی کا انتظام کیا تھا، جس میں ڈرون سے نگرانی بھی شامل تھی۔ جلوس کے راستے پر ٹریفک روک دیا گیا تھا۔
سرینگر کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) سندیپ چکرورتی نے کہا کہ پولیس نے جلوس کے شروعاتی مقام سے لے کر آخری مقام تک کے انتظامات کی باریکی سے منصوبہ بندی کی ہے۔ انہوں نے کہا، “ہمارا واحد مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ جلوس پرامن اور باوقار طریقے سے ہو۔ اس کے لیے ہمیں پولیس اور سول انتظامیہ کے ساتھ عوام کے تعاون اور حمایت کی ضرورت ہے۔”
سول انتظامیہ اور پولیس کے افسران، نیز رضاکار کئی مقامات پر پانی پلاتے ہوئے اور جلوس میں شامل لوگوں کی مدد کرتے ہوئے دیکھے گئے۔
1990 کی دہائی کے اوائل میں دہشت گردی شروع ہونے کے بعد گرو بازار-ڈلگیٹ کا روایتی جلوس تین دہائیوں سے زیادہ عرصے تک بند رہا تھا، جسے 2023 میں پھر سے شروع کیا گیا۔ حکام نے اس ہفتے کے آخر میں ہونے والے 10ویں محرم کے جلوس کے لیے بھی وسیع انتظامات کا اعلان کیا ہے۔
یو این آئی۔ ایم جے
جموں و کشمیر
اسکمز اسپتال نے خاندان سے باہر کے عطیہ دہندہ کی مدد سے پہلا اسٹیم سیل ٹرانسپلانٹ انجام دیا
سری نگر، کشمیر کے شیرِ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (اسکمز) نے طب کے شعبے میں ایک بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے پہلی بار خاندان سے باہر ایک نامعلوم عطیہ دہندہ کے اسٹیم سیلز (خون بنانے والے خلیات) استعمال کرکے تین سالہ بچے کی جان بچا لی ہے۔ یہ بچہ قوتِ مدافعت (امیونٹی) کی ایک نہایت نایاب اور جان لیوا بیماری میں مبتلا تھا، اور اس منفرد علاج نے اسے نئی زندگی عطا کی ہے۔
اس کامیاب آپریشن کی سب سے خاص بات یہ رہی کہ بچے کی جان بچانے کے لیے اسٹیم سیلز عطیہ کرنے والا شخص ہندوستان میں نہیں بلکہ پولینڈ میں ملا۔ جب بچے کے والدین یا خاندان کے کسی فرد کے اسٹیم سیلز اس سے مطابقت نہیں رکھتے تھے تو بین الاقوامی اداروں کی مدد سے دنیا بھر میں تلاش شروع کی گئی، جس کے نتیجے میں پولینڈ میں موزوں عطیہ دہندہ مل گیا۔
اسپتال کے ڈائریکٹر پروفیسر ایم اشرف غنی نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ کامیابی جرمنی کے ادارے ڈی کے ایم ایس کے عالمی نیٹ ورک کی بدولت ممکن ہوئی، جو دنیا بھر میں بلڈ کینسر اور دیگر سنگین بیماریوں کے مریضوں کے لیے عطیہ دہندگان تلاش کرتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ “جب خاندان میں کوئی مناسب عطیہ دہندہ نہیں ملتا تو ہم پوری دنیا میں مریض کے خون سے مطابقت رکھنے والے فرد کی تلاش کرتے ہیں۔ پولینڈ میں عطیہ دہندہ ملنے کے بعد وہاں سے اسٹیم سیلز کو محفوظ طریقے سے ہوائی جہاز کے ذریعے اسکمز اسپتال کشمیر لایا گیا اور بچے کے جسم میں منتقل کیا گیا۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ ملک کے چند ہی اسپتالوں میں یہ پیچیدہ علاج دستیاب ہے۔ نجی اسپتالوں میں اس علاج پر 30 سے 40 لاکھ روپے تک خرچ آتا ہے، لیکن اسکمز اسپتال نے بچے کا تقریباً مفت علاج کیا، اور خاندان کو صرف چند ضروری ادویات کی قیمت ادا کرنی پڑی۔
اسپتال کے ڈائریکٹر کے مطابق، ٹرانسپلانٹ کے بعد بچہ مکمل طور پر صحت یاب ہو چکا ہے اور اسے اسپتال سے رخصت کر دیا گیا ہے۔
اس بڑی کامیابی کے بعد ڈاکٹروں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ بھی اسٹیم سیل عطیہ دہندہ کے طور پر اپنا نام درج کرائیں، کیونکہ یہ عمل مکمل طور پر محفوظ ہے اور اس کے ذریعے کسی کی جان بچائی جا سکتی ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر شہری مرکزیت پر مبنی بہتر طرزِ حکمرانی کا ماڈل بن چکا ہے: منوج سنہا
سری نگر، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے منگل کے روز کہا کہ یہ مرکز کے زیرِ انتظام علاقہ شہری مرکزیت پر مبنی بہتر طرزِ حکمرانی (گڈ گورننس) کا ایک مثالی نمونہ بن کر ابھرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں سال 2020 میں صرف 35 آن لائن خدمات دستیاب تھیں، وہیں 2023 تک ان کی تعداد بڑھ کر 1,100 سے زیادہ ہو گئی ہے۔
مرکزی وزارتِ پنچایتی راج اور جموں و کشمیر انتظامیہ کے اشتراک سے منعقدہ ایک علاقائی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے منوج سنہا نے کہا کہ حکومت نے “پیپل فرسٹ” کے نظریے کے تحت خدمات کی فراہمی کے نظام میں وسیع اصلاحات کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنچایتی راج اداروں کو حکمرانی اور ترقی کا اہم شراکت دار بنایا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ “بلاک دیوس” اور “بیک ٹو ولیج” جیسی مہمات کے ذریعے سرکاری خدمات اور ترقیاتی منصوبوں کو عوام کی دہلیز تک پہنچانے کی کوشش کی گئی، جس سے انتظامیہ اور شہریوں کے درمیان اعتماد کے رشتے کو مضبوطی ملی ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے بتایا کہ جموں و کشمیر میں 15 ہزار سے زائد کامن سروس سینٹرز کام کر رہے ہیں، جبکہ 4,290 پنچایتوں میں سے 4,211 اس نیٹ ورک سے منسلک ہیں، جو 98.16 فیصد کوریج کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے مختلف ریاستوں سے آئے ہوئے نمائندوں سے اپیل کی کہ وہ جموں و کشمیر کے خدمات ماڈل کا مطالعہ کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاستوں کے درمیان کامیاب تجربات اور اختراعات کے تبادلے سے نچلی سطح پر بہتر طرزِ حکمرانی کو مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان6 days ago‘اسلام آباد ایم او یو’ پر جے رام رمیش کا مرکز پر حملہ، کہا- مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو بڑا جھٹکا
دنیا1 week ago‘ٹرمپ کامعاہدہ ہمیں پابند نہیں کرتا’، اسرائیلی وزیر ایران امریکہ معاہدے پر سیخ پا
جموں و کشمیر1 week agoگاندربل ‘انکاؤنٹر’ کے مقتول کی لاش قبر سے نکال کر اہلِ خانہ کے حوالے
دنیا1 week agoعین وقت پر امریکہ ایران امن معاہدے میں تاخیر اسرائیلی حملے کے سبب
دنیا1 week agoتاریخی ڈیل مکمل، امریکہ اور ایران نے جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کردی
ہندوستان1 week agoسلوواکیہ میں مودی کا ہوا شاندار استقبال
تجزیہ1 week agoسبز توانائی اور موسمیاتی بحران
دنیا7 days agoایرانی آرمی چیف کا دفاعی طاقت مزید بڑھانے کا اعلان
ہندوستان7 days ago’جمہوریت کو نقصان پہنچانے کے لیے شاہ چلا رہے ہیں دھوکہ دہی پرمبنی مہم ‘: رمیش
دنیا7 days agoجی سیون ممالک کا امریکہ اور ایران امن معاہدے کی حمایت کا اعلان
تازہ ترین2 days agoٹرمپ کے بیان کے بعد ایران نے مذاکرات معطل کردیے، وفد واپس روانہ
دنیا1 week agoامریکہ ایران معاہدے پر الیکٹرانک دستخط ٹرمپ وینس نے کئے




































































































